10/4/23

عرفان صدیقی کی شاعری میں عصری مسائل: مضمون نگار سید بصیرالحسن وفا نقوی

   انسان جب شعور کی آنکھ کھولتا ہے تو اس کے گرد وپیش لاتعداد مسائل اسے اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر وہ ان مسائل کو گہرائی سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ کائنات کا وجود مسائل کے سوا کچھ نہیں لیکن جب وہ ان پر غور و فکر کرتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ یہ مسائل زیادہ تر انسان ہی کے اعمال اور کارناموں کا نتیجہ ہیں۔وہ یہ بھی جانتاہے کہ کسی سکّے کے دو پہلو ہوتے ہیں۔جس طرح کسی دوا کا اگر فائدہ ہوتا ہے تو اس کے نقصانات بھی ہوتے ہیں۔انسان اگر کسی کے لیے مشفق،رحم دل اور مخلص ہوتا ہے تو کسی کے لیے وہ سنگ دل اور کرخت لہجے کا مالک ہوتا ہے،وہ کسی سے وفاکرتا ہے تو یہی وفا کسی کی بے وفائی کا سبب بنتی ہے کوئی اس کا دوست ہوتا ہے تو کوئی اس کا دشمن بن جاتا ہے۔وہ ترقی کرتا ہے اور چند خوشیاں اس کے دامن میں آتی ہیں تو یہی خوشیاں اس کے مخالفین اور حاسدین پیدا کردیتی ہیں۔اسی طرح کہیں اگر اسے روٹی،کپڑا اور مکان کے سلسلے سے آسودگی ہوتی ہے تو بعض مقامات پر وہ بے گھری کا احساس رکھتا ہے۔غرض کہ سیکڑوں مسائل ہیں جو اس دنیا میں انسان کو گھیرے ہوئے ہیں اور وہ ان سے پوری زندگی چھٹکارا نہیں پاسکتا۔

اہلِ ادب نے مسائلِ حیات کو جس صورت سے سمجھااوران کے بارے میںاپنے جو خیالات نثر یا شاعری کی صورت میں پیش کیے وہ بیان کرناہر کس و ناکس کے لیے آسان نہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ نہ صرف ہمارے نثر نگار بلکہ شعرا نے ہر دور میں اپنے سماج اور اپنے معاشرے کے مسائل کو اپنی تخلیقات میں پر زور طریقے سے پیش کیا ہے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ ہر دور کے ادب میں اس وقت کی زندگی کی تصویر کشی نظر آتی ہے جس دور میں وہ ادب تخلیق کیا جاتا ہے۔چاہے وہ قدیم ادب ہو،روایتی ادب ہو،ترقی پسندادب ہو،جدید غزل کا دور ہو یا مابعد جدید ادب ہو۔جو بھی بڑا شاعریا فن کار آیا اس نے اپنے مسائل کاضرور ذکر کیا ہے۔مثلاً         ؎

پیا باج پیالاپیا جائے نا

پیا باج یک تل جیا جائے نا

 

(قلی قطب شاہ)

جسے عشق کا تیر کاری لگے

اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے

 

(ولی اورنگ آبادی)

دو رنگی خوب نئیںیک رنگ ہوجا

سراپا موم ہو یا سنگ ہوجا

 

(سراج اورنگ آبادی)

    ہر دور کی زندگی میں عشق کا مسئلہ غالب رہا ہے۔عشق جہاں زندگی کو خوشیوں اور لذتوں سے بھر دیتا ہے وہیں محبوب کا فراق عاشق کے لیے قیامت بن جاتا ہے گویا کہ ہجر ایک بڑے مسئلے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ان قدیم شعرا میںقلی قطب شاہ اور ولی اورنگ آبادی کے اشعار اس بات کی دلیل ہیں کہ عشق بھی ایک مسئلہ ہے۔سراج اورنگ آبادی کا شعرزندگی کے دیگر مسئلے کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔وہ منافقت پر کاری ضرب لگاتا ہے اور انسان کی یکرنگی پر زور یتا ہے۔

زندگی کے مسائل روایتی اور کلاسیکی شعرا کے یہاں بھی بخوبی نظر آتے ہیں۔مثلاً      ؎

ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی

چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

 

(میر تقی میر)

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی

 

                       مرزا محمد رفیع سودا

سر کشی شمع کی لگتی نہیں گر ان کو بری

لوگ کیوں بزم میں گل گیر لیے پھرتے ہیں

 

                     (شیخ امام بخش ناسخ)

پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا

زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے

 

(حیدر علی آتش)

شاعری علامتوں اور استعاروں کے توسل سے اپنی بات کہتی ہے تاکہ شاعر کا شعر اپنے دور کے مسائل کی عکاسی کرتے ہوئے ہر دور میں صادق اتر سکے۔یہاں میر کا شعراس بات کا گواہ ہے کہ جہاں اس کے ذریعے وہ اپنی زندگی کی تکلیف بیان کرتے ہیں وہیں یہ شعر ہر دور میں سچا ٹھہر سکتا ہے کیوں کہ بعض دفعہ انسان مجبور ہوتا ہے وہ وہی کہتا ہے جو اس کا مالک یا آقا و سردار چاہتا ہے۔گویا کہ ظاہر و باطن میں فرق ہوتا ہے۔ سودا کا شعر بھی ایک مسئلہ بیان کرتا ہے کہ بعض دفعہ نااہل حضرات اعزاز سے نوازے جاتے ہیں اور مستحقین اپنے حق کے لیے ترستے ہیں۔اگر کوئی اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتا ہے تو اس کی آواز مخالفین کو گراں گزرتی ہے چاہے وہ زبان سے کہیں یا نہ کہیں لیکن ان کا عمل اس بات کاشاہد ہوتا ہے کہ وہ اپنے خلاف اٹھتی ہوئی آوازوں سے خائف ہیں۔اس مسئلے کو ناسخ کا شعر ظاہر کرتا ہے۔اسی طرح کبھی کبھی حق چاہنے والوں کی زبان کسی وجہ سے گنگ ہوجاتی ہے تو وہ چاہتے ہیں کہ دوسرا کوئی شخص ان کی بات صاحبِ اقتدار تک پہنچا دے لیکن ہوتا یہ ہے کہ بعض مرتبہ پیامبر نصیب نہیں ہوتا اور مستحق محروم رہ جاتا ہے۔یہ مسئلہ آتش کے شعر میں نمایاں ہے۔اسی طرح غالب اور ان کے ہمعصر شعرا کے یہاں بھی سیکڑوں مسائلِ زندگی نظر آتے ہیں۔مثلاً        ؎

قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم

گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو

 

غالب

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھاتمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی یعنی وعدہ نباہ کاتمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

 

مومن خاں مومن

    غالب کا شعر جہاں بے گھری کے مسئلے کو اٹھاتا ہے وہیں مومن کا شعر بے وفائی اور احسان فراموشی کی بات کرتا ہے۔

 ہمیں مسائلِ زندگی نہ صرف قدیم اور کلاسیکل شعرا کے یہاں نظر آتے ہیں بلکہ ترقی پسند شعرا کے یہاں تو ان مسائل کی گونج اپنے پچھلے ادوار سے زیادہ پر زور نظر آتی ہے۔مثلاً           ؎

اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہے

اک رات ہے جو کٹی نہیں ہے

مقتولوں کا قحط پڑ نہ جائے

قاتل کی کوئی کمی نہیں ہے

 

(علی سردارجعفری)

تم اتنا جو مسکرا رہے ہو

کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو

 

(کیفی اعظمی)

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

 

(فیض احمد فیض)

دل کا یہ حال کہ دھڑکے ہی چلا جاتا ہے

ایسا لگتا ہے کوئی جرم ہوا ہے مجھ سے

 

(جاں نثار اختر)

   یہاںعلی سردار جعفری کے اشعار اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ بظاہر دنیا خوش معلوم ہوتی ہے لیکن ایسا ہے نہیں یہاں قدم قدم پر قاتل نظر آتے ہیں انھیں ڈر ہے کہ کہیں مقتول کم نہ پڑ جائیں یعنی ظلم و جور حد سے زیادہ نہ بڑھ جائے۔معین احسن جذبی کے شعر میں ایک مایوسی کی لہر صاف دیکھی جا سکتی ہے جو کسی مرحلے کی ناکامی کے نتیجے میں ہوسکتی ہے۔کیفی اعظمی جھوٹی ہنسی کی نشاندہی کرتے ہیں۔جب کہ فیض بھی ناکامی کا ذکر کرتے ہیں لیکن امید ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔جاں نثاراختر کسی مرحلے کی فکر کی تکلیف کا بیان کرتے ہیں۔انھیں لگتا ہے کسی بات کی حدسے زیادہ فکر بے گناہ کو بھی احساسِ گناہ میں مبتلا کر دیتی ہے۔

اسی طرح جدید غزل گو شعرا بھی عصری زندگی کے مسائل کو فراموش نہیں کرتے۔ان کے یہاں ان مسائل کی نوعیت اپنے ماقبل شعرا سے منفرد نظر آتی ہے اس میں فرد کی تکلیف و احساسات اور اس کے مسائل پر زیادہ زور ملتا ہے۔مثلاً

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے

مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے

 

(شکیب جلالی)

لوگ ہی آن کے یکجا مجھے کرتے ہیں کہ میں

ریت کی طرح بکھر جاتا ہوں تنہائی میں

 

(ظفر اقبال)

پھر مرے انتظار میں مری نیند

میرے بستر پہ جاگتی ہوگی

 

(خلیل الرحمٰن اعظمی)

مرے خدا مجھے اتناتو معتبر کردے

میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کردے

 

(افتخار عارف)

    شکیب جلالی،ظفر اقبال اور محمد علوی کے اشعار میں فرد کی تنہائی کا ذکر ہے جو زندگی کا اہم مسئلہ ہے کبھی کبھی انسان انجمن میں رہ کر بھی خود کو اکیلا محسوس کرتا ہے یا اس کا جب کوئی احوال نہیں پوچھتا تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا وجودبے معنی ہے۔خلیل الرحمٰن اعظمی اور بشیر بدر کے اشعار انسان کی تگ و دو،بھاگ دوڑ اور معاش کے لیے جد و جہد کا ذکر کرتے ہیں۔جب کہ افتخار عارف گھر کے ماحول کو دیکھ کر یہ دعا کرتے ہیں کہ ان کا گھر اصل معنی میں گھر ہوجائے۔

    ان مثالوں سے بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ شاعری یا غزل کا کوئی دور ایسا نہیں گزرا جس میں غزل نے اپنے عصری مسائل نہ بیان کیے ہوں۔اب جبکہ مابعد جدیدیت کا دور ہے۔ ان کے دامن میں جہاں قدامت کی چاشنی،کلاسیکی غزل کی خوشبو،ترقی پسند شعرا کے نعرے اور جدید غزل کے فرد کا کرب ہے، وہیں وہ نئی نئی تراکیب و تشبیہات کے ساتھ ساتھ نئی نئی علامتوں کو تراشتے ہوئے غزل میں اپنے دور کی سچائی یعنی زندگی کے مسائل کو سمیٹنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔مثلاً           ؎

ہر گلی کوچے میں رونے کی صدا میری ہے

شہر میں جو بھی ہوا ہے وہ خطامیری ہے

 

(فرحت احساس)

ندی کنارے کھڑا پیڑ سوچ میں گم ہے

کوئی بھنور اسے برباد کر نہ جائے کہیں

 

(اسعد بدایونی)

دھند میں کھوتے ہیں منظر سارے

پیچ در پیچ دھواں ہوتا ہے

 

(جمال اویسی)

ان کے بھی ظلم کا الزام ہمارے سر ہے

جو ہمیں زہر پلاتے ہوئے مر جاتے ہیں

 

(عباس تابش)

    فرحت احساس کا شعر اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ سماج کتنا پر آشوب ہے اور اس کے باوجود اس کا اصل سبب فراموش کیا جارہا ہے۔اسعد بدایونی کے شعر میں پیڑ انسان کی علامت بن کر سامنے آتا ہے جسے معمولی سا حادثہ بھی زیرِ زمین پہنچا سکتا ہے۔جمال اویسی کا شعر عصرِ حاضر میں معدوم ہوتی حقیقتوں کی طرف اشارہ ہے،جبکہ عباس تابش شعر میں بیان کرتے ہیں کہ جو لوگ ہم پر ظلم کرتے کرتے تھک جاتے ہیں اور ہمت ہارجاتے ہیں تو ان کی ناکامی کا الزام بھی ہمارے ہی سر آتا ہے۔

اسی طرح مابعد جدید یت سے منسلک متعد دشعرا اپنے اپنے طریقے سے اپنی زندگی کی تلخ حقیقتوں کو اپنی غزل میں پیش کر رہے ہیں لیکن ان تمام آوازوں میں عرفان صدیقی کی آواز سب سے منفرد ہے۔ان کے یہاںاس سلسلے سے بالکل ایک نئی روش نظر آتی ہے۔وہ طرح طرح سے اپنے عصر کی تصویروں کو مختلف زاویوں سے پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ان کی غزل قدامت پسندی سے دور نئی اور تازہ ہوائوں کا پیغام لاتی ہے۔بقول شارب ردولوی

’’عرفان صدیقی کی شاعری اپنے عہد کی معتبر آواز ہے۔ایک ایسی آواز جس نے غزل کو فکر و اظہارکی نئی وسعتیں دیں اور جدید شاعری جو تنہائی،اداسی،اندرونی شکست و ریخت،حقیقتوں سے فرارسماجی اور تہذیبی قدروں سے انحراف کی علامت تھی،اسے عصری حسیت اور تازہ کار افکار سے اعتبار بخشا۔‘‘

(شہرِ ملالکلیاتِ عرفان صدیقی، مرتب سید محمد اشرف، عرشیہ پبلی کیشنزدہلی)

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عرفان صدیقی اپنے ہمعصرشعرا کی بھیڑ میں صاف پہچانے جاسکتے ہیں۔وہ اپنے عصر کے مسائل پر گہری نگاہ رکھتے ہیں ان کا مشاہدہ نہایت عمیق ہے۔وہ اپنی زندگی اپنے تجربات اور اپنی روزمرہ کی زندگی کو مختلف علامتوں اور استعارات کے جامے میں پیش کرنے کا فن بہترین طریقے سے جانتے ہیں۔مثلاً دیکھا جائے اور محسوس کیا جائے تو آج کے دور میں سماجی تعلقات کم سے کم ہوتے جارہے ہیں لوگ بے حسی کا لبادہ اوڑھے ہوئے معاشرے کی بد حالی دیکھتے رہتے ہیں اور افسوس نہیں کرتے۔عرفان صدیقی کہتے ہیں            ؎

زمیں پر شورِمحشر روزو شب ہوتا ہی رہتا ہے

ہم اپنے گیت گائیں یہ تو سب ہوتا ہی رہتا ہے

یعنی آج کا انسان اپنے آپ میں گم ہے وہ کسی کے رنج و غم میں اس کی مدد نہیں کرتا۔حتیٰ کہ جن افرادکو کسی زمانے میں خدمتِ خلق کا دعویٰ تھا وہ بھی خاموش ہیں           ؎

آج تک اہلِ ستم ہی سے شکایت تھی مجھے

اب مرے باب میں ہیں اہلِ وفا بھی خاموش

  گویا کہ کسی کے دکھ میں ساتھ نہ دینا آج کے دور کا ایک اہم مسئلہ ہے یعنی چاروں جانب ایک نفسا نفسی کا عالم۔شعر ہے          ؎

نہیں تھا میں بھی اتنا بے تعلق

کہ تو بھی بے خبر ایسا نہیں تھا

اور اگر کوئی کسی کو پوچھتا بھی ہے تو اس کے پیچھے مفاد ہوتے ہیں۔گویا کہ آج کی زندگی میں انسان چہرہ بدلنے میںماہر ہوچکا ہے           ؎

تم سرِ دشت و چمن مجھ کو کہاں ڈھونڈتے ہو

میں تو ہر رت میں بدل دیتا ہوں پیکر اپنے

انسان کا قدم قدم پر بدلنا اور مختلف رنگ اختیار کرنا سادہ لوح طبیعت رکھنے والوں کے لیے ایک دھوکہ اور فریب کا عمل انجام دیتا ہے۔عرفان صدیقی کہتے ہیں            ؎

میں نے کی تھی صفِ اعداسے مبارز طلبی

تیر لیکن صفِ یاراں سے نکل آیا ہے

    یعنی اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی سادہ لوح جس پر بھروسہ کرتا ہے وہی فریب دیتا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو سوال بنتا ہے کہ          ؎

واقعی کیا اسی قاتل کی طرف تو بھی ہے

تو بھی ہے،اے مری جاں تیغ بکف تو بھی ہے

    یعنی جب کوئی اپنا ہی تیغ بکف ہوتا ہے تو ایک لمحے کو تعجب ہونا واجبی ہے لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سماج میں بظاہر ہمدرد و آشنا افراد بھی دلوں میں ایک دوسرے کے لیے وہ احساس نہیں رکھتے جو ظاہر کرتے ہیں          ؎

کھلاکہ وہ بھی کچھ ایسا وفا پرست نہ تھا

چلو یہ بوجھ بھی سینے سے ہٹ گیا آخر

    لیکن کبھی کبھی اس جہان میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض افراد مروت یا مصلحت کو محبت سمجھنے لگتے ہیںجب کہ ایسا نہیں ہوتا۔شعر ہے            ؎

مروتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا

وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا

اور اگر بظاہر کوئی محبت بھی کرے تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ محبت کسی خاص مدت تک قائم رہتی ہے اورزندگی انسان کوضرورتوں اور مسائل میںاس قدر گرفتار کر دیتی ہے کہ محبت کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔عرفان صدیقی اس بات کو علامتوں کے ذریعے اس طرح کہتے ہیں            ؎

  بڑھا کے ربطِ وفااجنبی پرندوں سے

وہ ہنس اپنے وطن کو پلٹ گیا آخر

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں کوئی کتنا ہی سمجھدار یا جہاں دیدہ کیوں نہ ہو وہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کے دامِ فریب میں ضرور آتا ہے۔شعر ہے         ؎

کہیں تو لٹنا ہے پھر نقدِ جاں بچانا کیا

اب آگئے ہیں تو مقتل سے بچ کے جانا کیا

    یعنی عرفان صدیقی کاخیال ہے کہ کبھی کبھی فریب کھانے والا بخوبی جانتا ہے کہ اسے فریب دیا جا رہا ہے لیکن وہ پھر بھی کچھ سوچ کر خاموش رہتا ہے۔

دھوکہ اور فریب صرف فرد کی ذات تک ہی محدود نہیں بلکہ جب صاحبِ اقتدار افراد بھی سماج اورعوام کی توقعات پر کھرے نہیں اترتے تو ایسامحسوس ہوتا ہے کہ عوام کو ٹھگا گیا ہے۔ہم اکثر و بیشتریہ بھی دیکھتے ہیں کہ سیاست میں ایک دوسرے کی نکتہ چینی بھی کی جاتی ہے جس سے عوام میں انتشار پیدا ہوتا ہے اورقلبی و ذہنی سکون کا فقدان ہوتا ہے۔

لیکن کسی ملک کے سیاسی و سماجی حالات ایک دم تبدیل نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے بھی ایک فکر کارفرما ہوتی ہے۔شعر ہے          ؎

اچانک دوستو میرے وطن میں کچھ نہیں ہوتا

یہاں ہوتا ہے ہر اک حادثہ آہستہ آہستہ

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سیاسی و سماجی حالات کے زیرِ اثر عوام بھی اس طرف کو چل پڑتے ہیں جس طرف کی ہوا چلنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔شعر ہے         ؎

اب زباں خنجرِ قاتل کی ثنا کرتی ہے

ہم وہی کرتے ہیں جو خلقِ خداکرتی ہے

   لیکن صرف سیاست کو ہی بدلتے ہوئے معاشرے کا سبب ماننا مناسب نہیں بلکہ سماج کے مسائل اور پریشانیوں کی ذمے داری ان پر بھی ہوتی ہے جو احتجاج نہیں کرتے      ؎

بہت کچھ دوستو،بسمل کے چپ رہنے سے ہوتا ہے

فقط اس خنجرِ دستِ جفا سے کچھ نہیں ہوتا

کسی جرم کے خلاف آواز نہ اٹھانا مجرم کے حوصلے بلند کر دیتاہے جس کی وجہ سے سماج میں فساد اور تشدد عام ہو جاتا ہے۔عرفان صدیقی کہتے ہیں          ؎

آگ جلتی چھوڑ آئے ہو تو اب کیا فکر ہے

جانے کتنے شہر یہ پاگل ہوا روشن کرے

  ایسا نہیں کہ فساد برپا کرنے والوں کا کچھ نقصان نہیں ہوتا کبھی کبھی یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب فساد یا تشدد شدت اختیار کرتا ہے تو وہ بھی اس کی زد میں کسی نہ کسی صورت آ ہی جاتے ہیںجن کی وجہ سے شہر میں فساد پیدا ہواتھا۔شعر ہے          ؎

یہ شہر پھونکنے والے کسی کے دوست نہیں

کسے خیال کہ تیرا مکان بیچ میں ہے

انسان کی زندگی کا ایک بڑامسئلہ یہ بھی ہے کہ مجرم کبھی کبھی صاف بچ جاتا ہے اور انصاف دب کر رہ جاتا ہے۔فساد کرنے والے ہی بعض دفعہ صاحبِ مسند و اعزاز نظر آتے ہیں۔شعر ہے        ؎

اب ایسے شخص کو قاتل کہیں تو کیسے کہیں

لہو کا کوئی نشاں اس کی آستیں پہ نہیں

 ایسے ماحول میں حساس طبیعت رکھنے والے باشعور کو کہنا ہی پڑتا ہے          ؎

حق فتحیاب میرے خدا کیوں نہیں ہوا

تونے کہا تھا تیرا کہاکیوں نہیں ہوا

جب بظاہر تشدد ختم ہوتا ہے تو لوگوں میںامن وامان کی کوششوں کے باوجود فاصلے پیدا ہوجاتے ہیںجنھیں ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔

تشدد اور فسادات افراد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے اور نقلِ مکانی پر آمادہ کرتے ہیں کیوں کہ ان کے سامنے اس سلسلے سے زندگی کئی مسائل کھڑے کر دیتی ہے جس میں روزگار کے ساتھ ساتھ وہ قلبی سکون کے بھی متلاشی رہتے ہیں۔عرفان صدیقی ان مسائل کو طرح طرح کی علامتوں کے ذریعے سے پیش کرتے ہیں۔مثلاً        ؎

 پرندوں کی قطاریں اُڑ نہیں جاتیں تو کیا کرتیں

ہماری بستیوں میں خشک جھیلوں کے سوا کیا تھا

   یعنی انسان کے لیے جہاں نہ معیشت کے ذرائع ہوں اور نہ سکون ہو وہ وہاں سے ہجرت کرنا ہی مناسب سمجھتا ہے۔اور جب کوئی کسی کو اس سلسلے سے روکنے والا نہ ہو تو صاحبِ حس شخص کو کہنا ہی پڑتا ہے        ؎

کیسی مٹی ہے کہ دامن سے لپٹتی ہی نہیں

کیسی ماں ہے کہ جو بچوں کو جدا کرتی ہے

  لیکن نقلِ مکانی آسان نہیں ہوتی انسان کا ماضی اس کو روکنے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔

اور اگر کوئی دل پر پتھر رکھ کر اپنے گھر کی چوکھٹ کو الوداع کہتا بھی ہے تو بھی وہ اپنے گھر سے دور نہیں جاپاتا اور اپنے آپ کو مسافر ہونے کے باوجود گھر میں محسوس کرتا ہے۔شعر ہے        ؎

قدم اٹھے تو گلی سے گلی نکلتی رہی

نظر دیے کی طرح چوکھٹوں پہ جلتی رہی

    اور زندگی بھر اسے ماضی کی صدا گھر کی جانب بلاتی ہی رہتی ہے        ؎

تم پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہو آزاد

شام ہونے کو ہے،اب گھر کی طرف لوٹ چلو

اور جب وہ گھر یا وطن لوٹنے کا ارادہ کرتا ہے تو بہت دیر ہوجاتی ہے اور اس کا وطن بھی اسے اجنبی سمجھتا ہے          ؎

اجنبی جان کے کیا نام و نشاں پوچھتے ہو

بھائی ہم بھی اسی بستی کے نکالے ہوئے ہیں

وطن کو لوٹنے والا شخص اپنے ماضی میں جینا چاہتا ہے اپنے گزرے ہوئے زمانے کے ماحول کو تلاشتہ ہے بچپن کے ساتھیوں اور دوستوں کو ڈھونڈتا ہے لیکن وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔شعر ہے         ؎

مکان چھوڑ گئے لوگ،ڈھونڈتے ہو کسے

کوئی ستارہ اب اس بامِ انجمیں پہ نہیں

تشدد و فساد کے علاوہ زندگی میں دیگر مسائل بھی نظر آتے ہیں مثلاً اشیاء کا بحران یا کسی چیز کی کمی یا کسی تمنا کا پائے تکمیل تک نہ پہنچنا یا روزگار مہیا نہ ہونا۔یہ تمام مسائل بھی زندگی کے ساتھ ساتھ لگے ہوئے ہیں۔شعر ہے         ؎

مجھے الجھا دیا دانش کدوں نے صرف خوابوں میں

کوئی تعبیر رکھ دو میرے بچوں کی کتابوں میں

یعنی تعلیم گاہوں اور دانش کدوں میں صرف سنہرے خواب تو دکھائے جا سکتے ہیں کہ انسان فلاں ڈگری حاصل کرکے اتنا کما سکتا ہے یابرسرِ روزگار ہوسکتا ہے لیکن یہ سب اتنا آسان نہیں اور کبھی کبھی ایک پڑھے لکھے انسان کو اپنے خاندان کی کفالت بھی مشکل ہوجاتی ہے اور جب آسودگی اور خوشحالی کی تمنا میں مدت گزر جاتی ہے تو انسان مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔

انسان کی نا آسودگی اور معاشی پریشانیاں اسے مستقبل کی فکر کا شکار بنا دیتی ہیں         ؎

شاید کہ اتر آئے سوا نیزے پہ سورج

کل کے لیے کچھ سایۂ دیوار بچائیں

یعنی عرفان صدیقی کا خیال  ہے کہ عصرِ حاضر میں کوئی ایسا نہیں جسے مستقبل کی فکر نہ ہو کیوں کہ کوئی نہیں جانتا کہ اس کے مستقبل میں زندگی اس کے ساتھ کیا رویّہ اختیار کرے اور اسے کس چیز کی اشد ضرورت ہوجائے۔

حد سے زیادہ مستقبل کی فکر انسان کے لیے ذہنی تنائو کا باعث بن جاتی ہے اور وہ ڈپریشن میں مبتلا ہوکر بہت سے نفسیاتی امراض سے دوچار ہوجاتا ہے۔انسان پریشانیوں کے عالم میں یہ بھی سوچتا ہے کہ وہ کب تک کرب اور بے چینی کے عالم میں رہے گا کیوں کہ ہرچیز کی ایک انتہا ہے         ؎

ہوا کی زد پہ ہمارا سفر ہے کتنی دیر

چراغ ہم کس شامِ زوال ہی کے تو ہیں

مایوس کن انسان کو ہر جگہ مایوسی ہی نظر آتی ہے وہ دوسروں کو بھی دیکھتا ہے تو ان میں بھی اپنی ہی کیفیت محسوس کرتا ہے         ؎

تو یہ نہ دیکھ کے سب ٹہنیاں سلامت ہیں

کہ یہ درخت تھا اور پتیاں بھی رکھتا تھا

دھنک سے پھول سے برگِ حنا سے کچھ نہیں ہوتا

بدن صحرا ہوئے آب و ہوا سے کچھ نہیں ہوتا

ظاہر ہے مندرجہ بالا اشعار میں ایک ایسے سماج کی عکاسی ہے جس میں کوئی آسودہ حال نہیں ہر شخص کسی نہ کسی طرح اپنے ماضی سے مختلف ہے۔

 کبھی کبھی فکر و احساس کسی ایک فرد کا نہیں رہتا بلکہ پورا خاندان ایک ہی عذاب میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔شعر ہے        ؎

اگلے دن کیا ہونے والا تھا کہ اب تک یاد ہے

انتظارِ صبح میں وہ سارے گھر کا جاگنا

 انسان کی زندگی میںجب آسودگی نہیں ہوتی تو وہ احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتا ہے وہ لوگوںسے ملاقاتیں بند کر دیتا ہے اور تنہائی پسند ہوجاتا ہے اور اگر بحالتِ مجبوری کسی انجمن میں جاتا بھی ہے تو وہاں بھی خود کو اکیلا محسوس کرتا ہے

طاقِ تنہائی سے اٹھتا تھا چراغوں کا دھواں

اور مرے ہونے سے مجھ کوآشنا کرتا تھا رات

اپنے آنگن ہی میں تھا،راہ گزر میں کیا تھا

ایسا تنہا تھا میں باہر بھی کہ گھر میں کیا تھا

میں اس ہجوم میں کیوں اس قدر اکیلا ہوں

کہ جمع ہوکے بھی میزان میں نہیں آتا

مندرجہ بالا اشعار میں ظاہر ہے کہ تنہائی اور اکیلا پن جس طرح نمایاں ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ تنہائی کے عالم میں انسان کی کیا کیفیت ہوتی ہے اور وہ کس طرح خود کلامی کرتے ہوئے خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے۔

 ایسا نہیں کہ انسان کی زندگی میں تنہائی ہی صرف ایک اہم مسئلہ ہے بلکہ اس کی شہری زندگی بھی اس کے لیے مسائل کا باعث بنتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور دوسری وجوہات سے میدان اور جنگلات ختم ہوتے جارہے ہیں گائوں شہر میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں         ؎

جنگلوں میں شہر در آئے ہیں خوشحالی لیے

پیڑ گملوں میں سمٹ جائیںگے ہریالی لیے

یعنی انسانی زندگی کے لیے ہریالی اور پیڑ وں کا ہونا بہت ضروری ہے جن کاجنگلات مظہر ہیں لیکن انسان شہر بسانے کی ہوس میںجنگلوں کو ختم کر رہا ہے۔

 بڑھتی آبادی اور فیکڑیوں،کارخانوں اور موٹر گاڑیوں کے شور  شرابے اور دھوئیں نے شہروں کی فضا کو جس طرح آلودہ کیا ہے اس سے عصرِ حاضر میں کوئی ناواقف نہیںیعنی یہ بھی زندگی کا اہم مسئلہ ہے۔عرفان صدیقی کہتے ہیں            ؎

در و دیوار کی زد سے نکلنا چاہتا ہوں میں

ہوائے تازہ تیرے ساتھ چلنا چاہتا ہوں میں

شہر میں ہر شخص بھاگ دوڑ میں لگا ہوا ہے۔وہ کہیں تجارت کرتا ہے تو کہیں کسی کی نوکری کرتاہے اور صبح کا نکلا دیر رات کو تھکن کے ساتھ اپنے گھر لوٹتا ہے۔عرفان صدیقی اس مضمون کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں            ؎

دروازوں پر دن بھر کی تھکن تحریر ہوئی

مرے شہر کی شب ہر چوکھٹ کی زنجیر ہوئی

اس کے علاوہ معاشرے میں پھیلی ہوئی فحاشی بھی ایک مسئلہ ہے جس کے باعث نہ صرف نوجوان بلکہ سن رسیدہ بھی بے راہ روی کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔قدم قدم پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ انسان فحاشی اور گندگی میں ملوث ہے لیکن اسے اس بات کا احساس نہیں کہ دنیا اس کی وجہ سے کتنی پستی میں جا رہی ہے۔شعر ہے          ؎

جو دیکھ لے وہ برہنہ دکھائی دینے لگے

عجیب طرح کی تصویر میگزین میں ہے

یعنی میگزین،رسائل،اخبارات،اشہتارات غرض کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں برہنگی موجود نہ ہو اب ایسے ماحول میں انسان کا جذبات پر قابو پا لینا آسان نہیں۔

غرض کہ عرفان صدیقی کی غزل میں قدم قدم پر عصری حسیت کا احساس ہوتا ہے۔ان کے یہاں عصری مسائل جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔لیکن ایسا نہیں کہ وہ صرف مسئلہ ہی بنے رہتے ہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک پیغام بھی نظر آتا ہے اور ان کے حل کرنے کا راستہ بھی تاکہ انسان کسی طرح عصری مسائل سے ابھر کر اپنی زندگی کی روش کو باغ و بہاربنا سکے۔

 

Syed Baseerul Hasan Wafa Naqvi

Hilal House, H.No.4/114

Nagla Mallah Civil lines

Aligarh- 202002 (UP)

Mob.: 9219782014

ڈاکٹر تقی عابدی اکیلے ایک ادارے جتنا کام کر رہے ہیں: پروفیسر شیخ عقیل احمد

 

قومی اردو کونسل میں ڈاکٹر تقی عابدی کی چار کتابوں کی رونمائی

نئی دہلی: تقی عابدی پیشے سے ڈاکٹر ہونے کے باوجود ادب سے بے پناہ دلچسپی رکھتے ہیں اور آئے دن ان کی ادبی و تحقیقی کتابیں ہمیں خوشگوار حیرتوں سے دوچار کرتی رہتی ہیں ۔ اس خیال کا اظہار پروفیسر شیخ عقیل احمد نے قومی اردو کونسل کے صدر دفتر میں معروف دانشور و محقق ڈاکٹر تقی عابدی کی حال ہی میں شائع ہونے والی چار کتابوں کی رونمائی کے موقعے پر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر تقی عابدی ادب و تحقیق کے شعبے میں اکیلے جتنا کام کر رہے ہیں وہ عام طورپر پورا ایک ادارہ ہی کر سکتا ہے ۔ انھوں نے تن تنہا اتنے موضوعات پر کام کیا ہے کہ اگر صرف ان پر پی ایچ ڈی کی جائے تو اس کے لیے دسیوں لوگوں کی ضرورت ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ اردو زبان و ادب سے جنون کی حد تک تعلق رکھنے والے اور اس زبان کے تحریری و تحقیقی سرمایے میں مسلسل اضافہ کرتے رہنے والے حضرات جب تک موجود ہیں اردو زبان ترقی کرتی رہے گی اور اس کی مقبولیت و محبوبیت کا دائرہ پوری دنیا میں پھیلتا رہے گا۔ حال ہی میں ان کی چار کتابیں شائع ہوئی ہیں جن میں سے ایک حالی کی نظمیں کونسل سے طبع ہوئی ہے ، اس کے علاوہ غالب کے شاگرد بال مکند بے صبر کی گلستان ہند کو انھوں نے مرتب کیا ہے، ایک ان کے مضامین کا ضخیم مجموعہ منظر عام پر آیا ہے اور اس کے علاوہ دو جلدوں میں ’تقی عابدی: تعارف، تقریبات و تاثرات‘ کے نام سے ایک مبسوط کتاب شائع ہوئی ہےجس میں ان پر لکھی گئی تحریریں، ان سے متعلق ہونے والے پروگراموں کے اخباری رپورٹس اور تاثرات جمع کیے گئے ہیں،میں ان کتابوں کی اشاعت پر انھیں مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ وہ ایسے ہی اردو ادب و تحقیق کے ذخیرے میں اضافہ کرتے رہیں۔

ڈاکٹر تقی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر شیخ عقیل احمد کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور اپنی کتابوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان چار کتابوں میں سے ایک وہ ہے جس میں سات سو اسی سے زائد فوٹوز، سیکڑوں خبریں ،نیوز رپورٹس اور مجھ سے متعلق تحریریں اور تاثرات جمع کیے گئے ہیں۔ دوسری کتاب میرے مضامین کا مجموعہ ہے،جس میں مختلف علمی و ادبی موضوعات پر میرے تحقیقی و تنقیدی مضامین جمع ہیں۔ایک حالی کی نظموں کا انتخاب ہے،جو کونسل سے طبع ہوئی ہے۔ اور ایک اہم کتاب بلکہ دریافت غالب کے شاگرد بالمکند بے صبر کی اہم کتاب’گلستان ہند‘ کی تدوین ہے، ہم نے ان کے اس مخطوطے کو اردو کے نستعلیق رسم الخط کے علاوہ ہندی اور رومن میں میں منتقل کردیا ہے تاکہ پڑھنے والوں کو آسانی ہو۔ یہ کتاب گلستان سعدی کے طرز پر لکھی گئی ہے جس میں اسی کی طرح پند و حکایات وغیرہ لکھے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج کے دور میں اردو کے قدیم ذخیروں کی فراہمی کرکے انھیں شائع کرنا اور ڈیجیٹلائز کرنا بہت ضروری ہے تبھی ہم اپنے قدیم ادبی سرمایے کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ آخر میں پروفیسر عقیل احمد کے شکریے کے ساتھ تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔ 


6/4/23

اردو سانیٹ کا فن اور عزیز تمنائی: عزیز سہیل

اردو شعروادب کا دامن کافی وسیع ہے اردوشعری و نثری اصناف کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حصہ نظم اور حصہ نثر اورحصہ نثر کو بھی افسانوی اور غیر افسانوی ادب میں تقسیم کیا گیا ہے۔حصہ نظم میں نظم، غزل، رباعی، مرثیہ، قصیدہ، مثنوی، قطعہ، گیت، ہائیکو، دوہا، ترائیلے، ماہیا، سانیٹ وغیرہ شامل ہیں۔ حصہ نظم سے سانیٹ بھی ایک صنف ہے یہ اطالوی، مغربی صنفِ سخن ہے جو چودہ مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ اطالوی شاعر پیٹراک نے اس صنف کو تکمیل بخشی اور رواج دیا۔ اردو میں سانیٹ کو اختر شیرانی نے متعارف کروایا۔ ن م راشد، عظمت اللہ خاںنے بھی پہلے پہل سانیٹ لکھے تھے۔

سانیٹ کی تعریف اور اس صنف کی ہیئت کے متعلق پروفیسر احتشام حسین نے لکھا ہے

’’سانیٹ، غنائی داخلی شاعری کی ایک قدیم صنف ہے جس کی روایت قدیم اطالوی شعرا تک پہنچتی ہے اور غنائی شاعری، شاعری کی ان بنیادی قسموں میں سے ہے جس کی کوئی تاریخ نہیں۔ غالباً یہ انسانی جذبے کی وہ فطری پکار ہوگی جس کے لیے لفظ و حرف بھی بعد میں وضع کیے گئے ہوں گے۔ سانیٹ چودہ مصرعوں کی ایک ایسی نظم ہے جس میں ایک بنیادی جذبہ یا خیال دو ٹکڑوں میں پیش کیا جاتا ہے اس کا ہیئتی تصور مختلف اوقات میں تبدیل بھی ہوتا رہاہے لیکن کسی نہ کسی شکل میں اس کی یہ بنیادی خصوصیت برقرار رہی ہے کہ اس میں محض داخلی جذبے کو ایک مکمل خیال بناکر پیش کیا جائے اور چودہ مصرعوں کو ایسے دو بندوں میں تقسیم کیا جائے کہ اس کے پہلے آٹھ مصرعوں میں خیال کا پھیلاؤ ہو اور بعد کے چھ مصرعوں میں اس کی تکمیل۔ اس کا رواج پندرہویں صدی سے فرانس اور انگلستان میں ہوا۔‘‘1

سانیٹ اطالوی لفظ سانیٹ سے بنا ہے جس کے معنی مختصر آواز یا راگ کے ہوتے ہیں، سانیٹ دراصل ایک قسم کا راگ(نغمہ) ہے جو وحدت خیال کا مکمل ترین اظہار ہے۔ سانیٹ میں خیال کے تسلسل، زبان کی شیرینی، اظہار کی روانی کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔ سانیٹوں کی بحریںمخصوص ہیں۔ سانیٹ میں مصرعوں کی تعداد اور قافیوںکا اہتمام ہوتا ہے۔

سانیٹ کے فن کی خصوصیت، اسلوب نگاری، نظم اور غزل کے فرق کو واضح کرتے ہوئے عزیز تمنائی رقمطراز ہیں

’’سانیٹ کا فن اتنا ہی دشوار ہے جتنا کہ ایک گوہر تراش کی نفیس و نازک کاریگری، بڑے سے بڑے خیال کو ایک مختصر نظم میں سمودینا گویا سمندر کو صراحی میں بند کرنا ہے۔ کم سے کم الفاظ کا چناؤ، طریقہ اظہار میں ایجاز اور اسلوب بیان میں ارتقا کو مدنظر رکھنا یہ ساری باتیں سانیٹ کے شاعر کے لیے ضروری ہیں۔اردو زبان میں سانیٹ ایک پل ہے جو غزل اور نظم کی درمیانی خلیج کو پاٹتا ہے۔ اس میں غزل کی اشاریت،اس کا رچاؤ، اس کی گہرائی، اس کی پنہائی بھی موجود ہے اور نظم کا تسلسل، اس کی ہم آہنگی، اس کا داخلی و خارجی تناسب، اس کا محاکاتی انداز بھی۔ غزل اور نظم کی تمام اہم خصوصیات کا یہ حسین امتزاج سانیٹ کو ایک انوکھی خوبی عطا کرتاہے۔‘‘2

انگریزی ادب میں سانیٹ کو ایک خاص مقام حاصل ہے، انگریزی ادب میں سانیٹ کی تین اقسام ہیں، پٹراری سانیٹ، شیکسپی سانیٹ اور اسپنری سانیٹ۔ سانیٹ کے لیے بحر کا انتخاب ضروری ہے، بحریں طویل نہ ہوں۔ عزیز تمنائی کی سانیٹ میں درمیانی بحروں کا استعمال نظر آتا ہے،ان کی سانیٹوں میں انگریزی اد ب کی ان اقسام کی درجہ بندی نظر نہیںآتی۔

یہ صنف یوروپ میں کافی مقبول ہوئی۔ اردو ادب میں سانیٹ نئی صنف ہے، اس صنف پر کم ہی شعرا نے طبع آزمائی کی ہے۔ جن شعرا نے اس فن میں طبع آزمائی کی ہے ان میں عزیز تمنائی کانام نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ انھوں نے اس صنف کو اردو میں بام عروج پر پہنچایا ہے۔ اردوزبان وادب میں اردو سانیٹ کا پہلا مجموعہ بھی عزیز تمنائی نے ہی لکھا تھا جو’ برگ ِنو خیز‘کے نام سے جولائی 1963 میںدار التصنیف مدراس نے نوری پریس۔ مدراس سے شائع کیا تھا۔عزیز تمنانی نے اردو سانیٹ کے اس پہلے مجموعے کو’ برگ سبز‘ کے نام سے شائع کرنے کا ارداہ کیا تھا اس کے کچھ صفحات شائع بھی ہوگئے تھے لیکن ان کو اطلاع ملی کہ حیدرآباد سے اس نام سے کوئی شعری مجموعہ شائع ہوچکا ہے تب ہی انھوں نے اپنے مجموعے کانام تبدیل کردیا اور ’برگ ِنو خیز‘ کے نام سے شائع کیا۔

عزیز تمنائی کا مکمل نام عزیز الرحمن تھا اور تخلص تمنائی 19جنوری 1926 کو ولتور، مدراس(ٹاملناڈو) میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد عزیز تمنائی نے مدراس یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس میں امتیازی کامیابی حاصل کی اور شعبہ طب میں اپنی خدمات کا آغاز کردیا۔ ان کو بچپن سے ہی شعر و ادب سے دلچسپی تھی،کم عمری یعنی 13سال کی عمر 1938 سے ہی شاعری کا آغاز کردیا تھا۔ ابتدا میں انھوں نے غزلیں لکھی اورمشاعروں میں پڑھی، بعد میں نظم گوئی کی طرف متوجہ ہوئے وہ علامہ اقبال کی شاعری سے متاثر تھے، ان کے ہم عصر شعرا میں ن م راشد، میراجی،اختر شیرانی کا شمار ہوتا ہے۔

عزیز تمنائی کو مطالعے کا بے حد شوق تھا وہ بڑی گہرائی سے ادب کا مطالعہ کرتے تھے۔ انھوں نے انگریزی اور یوروپی ادب کا بھی خوب مطالعہ کیااور قدیم و جدید شاعری کی اصناف کو بھی خوب پڑھا اور متاثر ہوکر اردو میں سانیٹ لکھنے لگے۔ اردو میں سانیٹ کو وہ مقبولیت حاصل نہیں ہوئی جو یوروپ میں اس کو حاصل ہے۔ انھوں نے کچھ عرصے کے لیے سانیٹ لکھنا ترک کردیاتھا۔پھر دوبارہ سانیٹ کی طرف متوجہ ہوئے انھیں یہ صنف داخلی کیفیات کے اظہارکے لیے بہت مناسب نظر آئی اور انھوں نے اس صنف میں خوب طبع آزمائی کی اور ان کے قلم سے اردو سانیٹ کا پہلا مجموعہ ’برگ ِنو خیز‘ سابق نام ’برگ سبز‘ کو وجود حاصل ہوا۔

ڈاکٹر وزیر آغا نے اردومیں سانیٹ کے عنوان سے عزیز تمنائی کے فن سے متعلق لکھا ہے کہ

’’اردو میں سانیٹ کو اختر شیرانی اور ن، م، راشد نے رواج دیا تھا لیکن اس صنف کی مقبولیت جناب عزیز تمنائی کی مساعی کا نتیجہ ہے۔ فی الواقعہ آج اس صنف کے نام لیواؤں میں عزیز تمنائی کا نام سر فہرست ہے۔ ان کے سانیٹ فنی لحاظ سے کامیاب اور شعری کیفیات کی تازگی اور ندرت کے اعتبار سے  بہت خوبصورت ہیں۔‘‘3

اردو میں سانیٹ کو متعارف کرنے کا سہرا اختر شیرانی کو حاصل ہے ان کے ساتھ ن م راشد کا نام بھی لیا جاتا ہے۔علیم صبا نویدی نے اپنی کتاب ٹمل ناڈو کے مشاہیر ادب میں لکھا ہے کہ ’’یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سانیٹ کا اولین نمونہ پیش کرنے والے عظیم الدین احمدہیں،ان کا سانیٹ فریاد عظیم اردو کا پہلا سانیٹ ہے جو رسالہ نگار بزم کلکتہ شمارہ ما ہ اکتوبر1913 میں شائع ہوا۔

 عزیز تمنائی کی سانیٹ میں معنویت، اشاریت اور رمزیت بھی پائی جاتی ہے اس صنف میں انھوں نے استعارہ و تشبیہات کا خوب اور بہتر استعمال کیا ہے ان کی شاعری میں جدید میلانات اور اسالیب بیان اعتدال و توازن سے نظر آتے ہیں۔

عزیز تمنائی کی شاعری اور میلانات سے متعلق محمود ایازنے لکھا ہے

 ’’عزیز تمنائی کی شاعری کی عمر چالیس برس سے زیادہ ہی ہوگی۔ اس عرصے میں فکر و اظہار کی کئی تبدیلیاں اردو شاعری میں آئیں اور عزیز تمنائی ان تبدیلیوں سے غافل یا نا آشنا نہیں رہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور بے حد مقبول اور ہر دل عزیز ڈاکٹر۔ اس پیشے کی مصروفیات سے جتنا کچھ وقت مل سکتا تھا وہ انھوں نے شعرو ادب کی نذر کیا، اور اس طرح شاعری کے نئے میلانات اور اسالیب بیان سے وہ اجنبی نہیں رہے۔ آزاد نظمیں بھی انھوں نے لکھی ہیں، لیکن سانیٹ کو انھوں نے بطور خاص اپنے اظہار کے لیے منتخب کیا اور اس وفاداری کو پوری استواری سے آج تک نبا ہے جار ہے ہیں۔ ان کے سانیٹوں کا ایک مجموعہ برگ ِنو خیز کے نام سے آج سے کوئی تیس سال پہلے شائع ہوا تھا۔ اور ہندو پاک کے ادبی حلقوں میں اس کی اچھی پذیرائی ہوئی تھی۔‘‘4

عزیز تمنائی کے سانیٹوں میں جذبات اور احساسات کا برمحل اظہار ہوتا ہے،ان کے خیالات و افکار کی آمیزش کا اظہار بھی نمایاں طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ان کے سانیٹوں میں علامات و اشارے، استعارے، تشبیہات اور تمثیلوں کو خوب محسوس کیا جاسکتا ہے۔برگ نوخیز سانیٹوں کے مجموعے میں مختلف عنوانات پر کل 109 سانیٹ شامل ہیں جو عزیز تمنائی کے فن کا بھرپور اظہار ہے۔

عزیز تمنائی کے سانیٹ سے متعلق پروفیسر احتشام حسین نے لکھا ہے

’’دسمبر سنہ 1959 میں مدراس جانے اور تقریباً ایک ہفتہ قیام کرنے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ڈاکٹر عزیز الرحمن عزیز تمنائی سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان کی ذہانت، ادب نوازی اور خوش اخلاقی ہی نے اس قدر متاثر کیا کہ میں ان کی شاعری سے پوری طرح لطف اندوز ہونے کا وقت ہی نہ نکال سکا۔ اب یہ خواہش اس طرح پوری کررہاہوں کہ میرے سامنے ان کے سانیٹوں کا پہلا مجموعہ برگ سبز ہے، پڑھتا اور داد دیتا ہوں۔ ڈاکٹری کے مشغول پیشے کے ساتھ انھوں نے ذوق کی اس کلی کو بھی تازہ و شاداب رکھاہے، یہ بڑی بات ہے۔‘‘5

عزیز تمنائی نے صنف غزل سے پرے ہٹ کر سانیٹ لکھنے کی طرف توجہ کی سانیٹ کے میدان میں طبع آزمائی کے ذریعے انھوں نے ثابت کیا کہ اردو شاعری کامیدان محدود نہیں ہے سانیٹ میں بھی کھل کر اپنے خیالات و احساسات کا بھر پور اظہار کیا جاسکتا ہے یہ الگ بات ہے کہ یہ فن تھوڑا دشوار ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں ہے بڑے خیال کو ایک چودہ سطری نظم میں پیش کرنا کوئی آسان کام تو نہیں ہے۔

عزیز تمنائی کے فن پر اظہار خیال کرتے ہوئے علیم صبا نویدی رقمطراز ہیں

’’عزیز تمنائی صاحب نے سانٹیوں میں بھی آزاد فضاؤں میں سانس لیتے ہوئے اپنے طور پر کچھ کر گزرنے کی ہمت کی ہے اور بڑی حد تک کامیاب ہیں۔ ان کی سانیٹوں میں تغزل کی چاشنی بھی ہے اور غزل کا مزاج بھی۔ وہ سانیٹ کی تخلیق میں اس مقام عروج پر پہنچ گئے ہیں جہاں تک اچھے اچھوں کی رسائی اب تقریباً محال نہ سہی دشوار ضرور ہے۔ ان کے ہاں طویل بحروں کی زیادہ سانیٹں ملتی ہیں جو عزیز تمنائی کے مزاج کی پوری طرح متحمل ہیں۔ اوسط طوالت کی بحروں میں بھی کافی نکھار قائم رکھا ہے اور سانیٹ کے مزاج کو مجروح ہونے نہیں دیا ہے‘‘ برگ نوخیز کا پہلا سانیٹ نعتیہ ہے جو اعلیٰ اظہار کی شان لیے ہوئے ہے۔ 6

اپنے شعری مجموعے ’سرہانے کا چراغ ہے‘ میں عزیز تمنائی نے علامہ جمیل مظہری کے مکتوب سے اقتباس کو شامل کیا ہے جس میں علامہ جمیل مظہری نے عزیز تمنائی کے فن کا اعتراف کیا ہے اور لکھا ہے

’’آپ کا ہرا بھرا ارمغان محبت ’برگ نوخیز‘ کی صورت میں موصول ہوا، لیکن یہ دیکھ کر کہ یہ مجموعہ ہے سانیٹوں کا، پہلی نظر میں ایک وحشت سی پیدا ہوئی۔ اس لیے کہ میں ان لوگوں میں ہوں جو فن اور ادب میں یوروپ کی اندھی تقلید کو ذہنی غلامی سمجھتے ہیں۔ بہرحال بہ استکراہ تمام اس کی ورق گردانی شروع کی۔ لیکن جوں جوں ورق الٹتا گیا میری وحشت رغبت سے بدلتی گئی۔ تقریباً ہر صفحہ ر نگین نے میری نگاہوں کو کچھ دیر ٹھہرائے رکھا اور آخر میں یہ اعتراف کرنا ہی پڑا کہ تخیل کی ندرت اور فکر کی رعنائی ہر صنف میں اپنی دُنیا آپ بنا سکتی ہے۔ آپ کا دائرہ فکر جو بھی ہو، لیکن آپ ایک عظیم فنکار ہیں۔ فطرت نے آپ کے ذہن کو وہ غیر معمولی روشنی دی ہے جس کی تابش نے جگہ جگہ میری آنکھوں کو چوندھیا دیا۔ رنگ سازی اور معنی آفرینی کا ایسا حسین امتزاج دور جدید کے فن پاروں میں میری نظر سے کہیں نہیں گزرا لیکن آپ کی کہی ہوئی ہر بات سمجھ میں آگئی۔‘‘7

بہرحال اردو کی روایتی شاعری سے ہٹ کر عزیز تمنائی نے سانیٹ صنف میں بھر پور طبع آزمائی کے ذریعے یہ بات ثابت کی ہے کہ دیگر اصناف سخن میں بھی مختلف موضوعات پر آزادانہ طور پر اظہار کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے اس صنف میں خیالات کے تسلسل اور زبان کی شرینی کو ملحوظ رکھتے ہوئے سانیٹ لکھے ہیں،عزیز تمنائی کا شمار اردو کے بہترین سانیٹ نگاروں میں ہوتا ہے سانیٹ کے حوالے سے وہ ایک مستند نام ہے۔

عزیز تمنائی کے مجموعے میں سب سے پہلے نعتیہ سانیٹ کو شامل کیا گیا ہے جو ’اعتراف‘ کے عنوان سے برگ نوخیزمیں شامل ہے ملاحظہ فرمائیں۔

 تیرے دربار میں پہنچا ہوں بڑی دیر کے بعد

آستاں دیکھے بہت اونچے، بہت پاکیزہ

کھینچ کر لے گئی مجھ کو کشش حسن و جمال

 محو نظارہ رہے قلب و نظر، خواب و خیال

 میکدہ،بت کدہ، آتش کدہ، گھوم آیا ہوں

 سرحد ارض و سماوات کو چوم آیاہوں

 تیرے در لوٹ کے آیاہوں بڑی دیر کے بعد

 میری پیشانی تاباں ہے ابھی دوشیزہ

 

نغمہ و نور نے نکہت نے مجھے کھینچا تھا

 فکر نے فن نے فراست نے مجھے سینچا تھا

 عصر حاضر کے تقاضوں نے مجھے دی ترغیب

 پھربھی ہر لمحہ رہا میں تری یادوں کے قریب

 تیری رحمت کی جو ہو جائے نظر دیر نہیں

 کہتے ہیں تیرے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں

عزیزتمنائی کے اس نعتیہ سانیٹ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں کس طرح سے اعلی اظہار کو اس صنف میں ڈھالاہے ان کی سانیٹوں میں شعری کیفیت اور فکری صلاحیت کا بھرپور اظہا ر ہوتا ہے۔

عزیز تمنائی کے سانیٹ ’ابن آدم ‘ کے عنوان سے ملاحظہ فرمائیے        ؎

 صاحبو! میں کوئی درویش نہیں پیر نہیں

کس لیے کشف و کرامات کی امید فضول

 نہ ملا میری دعاؤں کو ابھی رنگ قبول

 میری باتوں میں ابھی لذت تاثیر نہیں

 آہی جاتے ہیں جو کلمات حقائق لب پر

 کیف و مستی میں کبھی حالت ہشیاری میں

 عالم خواب میں یا عالم بیداری میں

یہ نہ سمجھو کہ ہوں اک ہستی بالائے بشر

 

ابن آد م ہوں اسی خاک کا پروردہ ہوں

 جسکی عظمت سے ہوئے طور بھی فاراں بھی بلند

 جس نے پھیلائی سوئے کاہکشاں اپنی کمند

 میں اسی خاک کا اک ذرہ آوارہ ہوں

 صاحبو! واسطہ سبحہ و زنار نہ دو

 ذوق تقدیس کا مارا ہوا انسان سمجھو

عزیز تمنائی کے سانیٹ کے موضوعات کافی دلچسپ ہیں انھوں نے بڑی محنت کے ساتھ انگریزی ادب کی اس صنف کو پورے اہتمام سے اردو میں برتا ہے اور اپنے فن کے وہ نمونے پیش کیے ہیں جس سے ان کے تخلیقی ذہن،جذبات و احساسات کا بھر پور اظہار ملتا ہے۔اس فن کی بدولت عزیز تمنائی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

حواشی                      

  •        پروفیسرسید احتشام حسین،پیش لفظ،برگ نوخیز،1963
  •        عزیز تمنائی،سانیٹ کا تعارف،برگ نوخیز،1963
  •        ڈاکٹر وزیر آغا، شریک مدیر ادبی دنیا،لاہور،اردو میں سانیٹ، برگ ِنو خیز،1963
  •        محمود ایاز،حرفے چند،سرہا نے کا چراغ،ص۹
  •        پروفیسرسید احتشام حسین،پیش لفظ،برگ نوخیز،1963
  •        علیم صبا نویدی،مرتب جاوید حبیب،ٹمل ناڈو کے مشاہیر ادب،ص512
  •        اقتباس از مکتوب علامہ جمیل مظہری، پٹنہ،22 اگست1963


Dr.M A Azeez Sohail

TMRS Yakuthpura Boys1

Awaise Function Hall, Mughal Pura

Hyderabad- 500002  (Telanagana)

9110759869
 

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...