5/6/23

ناطق گلاؤٹھی: کلام غالب کے شارح۔ مضمون نگار ابراہیم افسر

 


شعر گوئی نئے انداز کی تجدید خیال

دیکھنا چاہے تو ناطق مرا دیوان اٹھا

مذکورہ بالا شعر کے خالق ناطق گلاؤٹھی نے ہمیشہ فکری تجدید ،نئی جہت کے فروغ کو اپنے لیے سرمایۂ افتخار گردانا۔ انھوں نے اپنے احباب اور اساتذہ سے خیالات و تفکرات میں تنوع اور رنگا رنگی کا درس حاصل کرنے کے بعداپنے لیے سنگلاخ راہوں کا انتخاب کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں تازگی اور شگفتگی کااحساس قارئین کو ہوتا ہے۔ ان کی غیرت و خودداری کے سبب انھیںرونقِ بزمِ سخن، شاعرِ پر فن، عمدۃ الشعرا، پیر مغانِ خم خانۂ سخن، فخر المتاخرین، استاذ الاساتذہ جیسے القاب سے نوازا گیا۔ سیاست، صحافت، شعرو ادب ان کا اوڑھنا اوربچھونا تھا۔

مولانا ابو الحسن المعروف بہ ناطق گلاؤٹھی نے پہلے بیان یزدانی میرٹھی سے تلمذ حاصل کیا۔ بیان میرٹھی کے انتقال کے بعد داغ دہلوی کی شاگردی اختیار کی، لیکن جب داغ کا بھی انتقال ہو گیا تو ناطق نے کسی سے مشورۂ سخن نہیں کیا بلکہ کلامِ داغ کو سامنے رکھ کر مشقِ سخن کیا۔ ناطق گلاؤٹھی کے آباو اجداد کا تعلق بلند شہر کے قصبہ گلاؤٹھی سے تھا۔ ان کے والد ظہور الدین حسن میرٹھ میں وکالت کرتے تھے۔ان کے خاندان کے لوگ گلاؤٹھی کے علاوہ ناگپور(مہاراشٹر)میں بھی سکونت پذیر تھے۔ناطق گلاؤٹھی کی پیدائش ناگپور میں11نومبر 1886کواور وفات27مئی1969کوہوئی۔ناطق گلاؤٹھی کے شاگرد رشید،محمد عبدالحلیم کی اطلاع کے مطابق ان کی وفات کے بعد ناگپور میونسپل کارپوریشن نے ان کے گھر سے متصل سڑک اور خوش نما چوراہے کو ’مولانا ناطق روڈ‘ اور مولانا ناطق چوک‘ کے نام سے موسوم کیا۔1

ناگپور اور کامٹی کے علاوہ ان کی پرورش و پرداخت مغربی اتر پردیش کے مختلف شہروں میں ہوئی۔موصوف نے دارالعلوم دیوبندمیں شیخ الحدیث مولانا محمود الحسن سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد حکمت کا سبق حکیم احمد حسن سے پڑھا۔ ہاپوڑ میں اپنے خالہ زاد بھائی مولانا سید معشوق حسین اطہر ہاپوڑوی کے ساتھ اپنے ابتدائی ایام میںمشقِ سخن کیا۔ انھوں نے نوچندی میرٹھ کے مشاعروں میں متعدد بار اپنا کلام سنایا۔ الغرض، میرٹھ سے ان کا تعلق ہمیشہ بنا رہا۔ یہاں تک کہ مولانا عبدالباری آسی الدنی نے بھی ناطق گلاؤٹھی سے مشورۂ سخن کیا۔

ناطق گلاؤٹھی کو شعر و شاعری سے شغف طالب علمی کے زمانے سے رہا ہے۔ ان کا کلام رسالہ مخزن، پیسہ اخبار، عالم گیر، جلوۂ طور وغیرہ رسائل و جرائد میں شائع ہوا۔ ابتدا میں ناطق نیچرل شاعری کی جانب متوجہ ہوئے۔ اسی مناسبت سے ان کے پہلے شعری مجموعے’نطق ناطق‘ میں نیچرل نظمیں شامل ہیں۔ ’نطق ناطق‘کی چند نظموں کا ضمیمہ ’جلوۂ یار‘ میرٹھ میں مارچ 1913میں شائع ہوا تھا۔2 حالانکہ انھوں نے مولانا حالی کے درج ذیل شعر         ؎

حالی اب آؤ پیرویِ مغربی کریں

بس اتباعِ مصحفی و میر کر چکے

پر اپنی کتاب ’کلیل اور غلیل‘ میںخط کی شکل میں تنقید لکھ کر اعتراض کیا۔ اس کتاب میں موصوف نے جدید اور قدیم شاعری پر اپنے تنقیدی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ 65صفحات پر مشتمل اس کتاب کا پیش لفظ ان کے شاگرد ابو صالح محمد غضنفر حسین شاکر نائطی نے تحریر کیا۔ ان کی دیگر تصانیف میں سبع سیّارہ، کنزالمطالب اور ’دیوان ناطق‘ (مرتبہ محمد عبدالحلیم)شامل ہیں۔

 ناطق گلاؤٹھی کو جس کتاب نے عالمی شہرت عطا کی وہ کتاب ’کنز المطالب شرح دیوان غالب‘ ہے۔ موصوف نے اس کتاب کو1926میں لکھا تھا۔ غور طلب رہے کہ ناطق گلاؤٹھی نے اس شرح کو نظم طباطبائی کی شرح کے جواب میں لکھا تھا لیکن بعض وجوہات کی بنا پر یہ شرح منظرِ عام پر نہ آسکی۔لیکن والی آسی اور ساجد صدیقی کی کاوشوں سے اس شرح کو،مکتبہ دین و ادب، کچا احاطہ ،لکھنؤ سے بعض ترمیم و اضافوں کے ساتھ، غالب صدی کے موقع پر 1968میں شائع کیا گیا۔ ’کنز المطالب ‘کی اشاعت اور اس کی اہمیت و افادیت کے بارے میں خیر بہوروی رقم طراز ہیں

’’ شرح’کنز المطالب شرح دیوان غالب‘ مولانا سید ابوالحسن ناطق گلاؤٹھی کی تصنیف ہے۔ مولانا ناطق، مرزا داغ دہلوی  کے ارشد تلامذہ میں بڑے صاحب فن استاد مانے جاتے ہیں، جن کی شہرت کے لیے اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ مولانا عبدالباری آسی جیسے فاضل نے ان سے مشورۂ سخن کیا تھا۔ انھیں مولانا عبدالباری آسی کے بیٹے والی آسی ہیں جنھوں نے اپنے رفیق کار ساجد صدیقی کی شرکت میں ’مکتبہ دین و ادب‘ قائم کیا ہے اور تصنیف و تالیف کی قابل قدر خدمتیں انجام دے رہے ہیں، اب وہ اسی مکتبہ سے اسی مہینے میں ’کنزالمطالب شرح دیوان غالب‘ شائع کر رہے ہیں جس کو غالب کا مہینہ قرار دیا گیا ہے اور ملک و بیرون ملک میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ یوم غالب خصوصیت سے غالب کی صد سالہ برسی کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ ساجد صدیقی اور والی آسی مستحق مبارک باد ہیں کہ شخصیت پرستی اور مصلحت بینی کے اس دور میں ان لوگوں نے پوری ادبی دیانت کے ساتھ اس شرح کا انتساب میر و غالب کے قدر شناس علم و ادب کے محسن، مخیر و خوش مذاق رئیس جناب مقبول احمد صاحب لاری کے نام کے ساتھ کیا ہے جن کی علمی و ادبی خدمات کا ملک بھر میں چرچا ہے۔3

ناطق گلاؤٹھی کو کلام غالب سے والہانہ شغف تھا۔ ان کی نظر میں غالب کی جو شرحیں اس زمانے میں لکھی گئی تھیں وہ عیوب سے پاک نہ تھیں۔ اس لیے وہ خود چاہتے تھے کہ دیوانِ غالب کی ایسی شرح تیار کی جائے جس میں مشکل پسندی کے بجائے عام فہم اور سلیس زبان کا استعمال کیا جائے۔حالانکہ ان کے استاد بیان  میرٹھی نے بھی اپنے رسالے ’لسان الملک‘ میں دیوانِ غالب کی 13 غزلوں کی نا مکمل شرح’حل المطالب‘ 1895 میں لکھنا  شروع کی تھی۔بیان میرٹھی سے قبل شوکت میرٹھی بھی شوکت المطابع سے’ حل کلیات اردو مرزا غالب دہلوی‘ عنوان سے 1899میںشرح دیوان غالب شائع کر چکے تھے۔ حالانکہ بعض ناقدین کی نظر میں شوکت میرٹھی کی شرح کا اسلوب الجھا ہوا اور غیر سلیس ہے۔ ناطق گلاؤٹھی کے سامنے حسرت موہانی کی شرح ’دیوان غالب مع شرح‘ عبدالرحمن بجنوری کا ’محاسن کلامِ غالب‘ (مقدمہ دیوان غالب)، موہانی کی شرح دیوانِ غالب،سہا مجددی کی ’مطالب الغالب‘ ،جعفر علی خاں اثر لکھنوی کی ’مطالعۂ غالب‘ وغیرہ شرحیں موجود تھیں۔ لیکن انھیں سب سے زیادہ اعتراض نظم طباطبائی کی شرح ’شرح دیوان اردوئے غالب‘ (1900)پر تھا۔ جب انھوں نے نظم طباطبائی کی شرح کا مطالعہ کیا تو انھوں نے طباطبائی کی شرح کے حاشیوں پر نشانات قلم زد کیے۔یہیں سے ان کے ذہن میں دیوانِ غالب کی مکمل شرح لکھنے کا خیال پیدا ہوا۔شمس الرحمن فاروقی مرحوم نے ’تفہیمِ غالب‘کے دیباچے میں اس بات کی صراحت کی کہ میں نے اس کتاب میں جگہ جگہ طباطبائی سے اختلاف کیا ہے،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں طباطبائی کا احترام نہیں کرتا۔‘‘4حالانکہ شمس الرحمن فاروقی نے اپنے مقدمے میںوہی بات لکھی ہے جو ناطق گلاؤٹھی نے ’کنز المطالب‘کے مقدمے میں لکھی ہے۔ قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ فاروقی صاحب نے اپنے مقدمے میں دیوان غالب کی جن20 شروحات کا ذکر کیا ہے اس میں ناطق گلاؤٹھی کی شرح کنزالمطالب کا کہیں ذکر نہیں ہے۔شاداں بلگرامی نے بھی اپنی شرح ’روح المطالب فی شرح دیوانِ غالب[اردو]کے مقدمے میں اپنے زمانے میں لکھی گئی شرحوں پر تنقیدی نگاہ ڈالتے ہوئے نظم طباطبائی کی شرح پر سخت اعتراض کیے ہیں۔ حالانکہ انھوں نے اپنے مقدمے کے آخر میں نظم طباطبائی سے غالب کے مشکل اشعار کے معانی و مطالب نقل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔5 ناطق گلاؤٹھی نے13جون1965کو ’کنزالمطالب‘ کے دیباچے میںشرح نظم طباطبائی میں دیوان غالب کی فروگذاشتوں کے بارے میں لکھا:

’’مجھے اس شرح کے متعلق عرض حال کے طور پر یہی لکھنا ہے کہ ناگپور شہر میں داؤدی جماعت کے ایک بزرگ بھائی حسین علی نامی رہتے تھے جو کئی سال تک جماعت کے سکریٹری بھی رہے۔ یہ بزرگ صاحب علم اور ادب نواز تھے جو مجھ سے کافی محبت کرتے تھے۔ ایک بار یہ نظم طباطبائی کی تصنیف کردہ شرح دیوان غالب لے کر میرے پاس تشریف لائے اور کہا کہ دیکھیے یہ مرزا غالب کے دیوان کی کتنی اچھی شرح ہے جس سے غالب کا کلام بہت آسان ہو گیا۔ میں نے ان سے کتاب لے لی اور کئی دن تک اسے اپنے مطالعے میں رکھا تو مجھے نظر آیا کہ اگر چہ مصنف نے بڑی قابلیت کے ساتھ شرح لکھی ہے لیکن کہیں کہیں کچھ زیادتی سے بھی کام لیا ہے۔ اس بات کا میں نے حسین علی صاحب سے ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ میرا مقصد اس کتاب کو پیش کرنے سے یہی تھا کہ غالب کے ساتھ طباطبائی صاحب نے جو نا انصافی کی ہے اس پر آپ کچھ لکھیں۔ اس وقت مجھے بھی یہی خیال ہوا کہ ان کے حکم کے[کی] تعمیل کروںلیکن بعد میں مناسب یہی سمجھا کہ پورے دیوان کی شرح لکھ ڈالوں اور طباطبائی صاحب نے جو کچھ زیادتیاں کی ہیں ان کے جواب بھی دے دوں۔ جس میں طباطبائی صاحب کا ادب بھی ملحوظ رہے۔ چنانچہ میں نے قلم برداشتہ پورے دیوان کی شرح لکھ ڈالی اور جہاں طباطبائی صاحب کی نگار شات کے خلاف لکھا وہاں اس بات کا اشارا بھی نہیں کیا کہ انھوں نے اس کے متعلق کیا لکھا ہے۔‘‘6

ناطق گلاؤٹھی نے’کنز المطالب‘ کو مکمل کرنے کے بعد میرٹھ کا سفر کیا۔جہاں ان کی ملاقات رسالہ ’جلوۂ طور‘ کے مدیر شریف خاں آزاد سے ہوئی۔ ملاقات کے دوران یہ طے ہوا کہ اس شرح کو ’جلوۂ طور، میرٹھ‘ میں بالاقساط شائع کیا جائے گا۔رسالہ ’جلوۂ طور‘ میں یہ شرح ’ر‘ کی ردیف تک 1938تک شائع ہوئی۔ اس کے بعد شریف خاں آزاد کی طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے ’جلوۂ طور‘ بند ہو گیا۔اس کے بعد ناطق گلاؤٹھی کے پاس قارئین کے خطوط آنے شروع ہوئے کہ اس شرح کو آپ جلد از جلد شائع کیجیے۔ مولانا عبدالباری آسی سے اس شرح کی اشاعت کے بارے میں ناطق گلاؤٹھی نے مشورہ کیا۔ آسی صاحب نے بتایا کہ خود انھوں نے اپنی شرح دیوانِ غالب کو صدیق بک ڈپو، لکھنؤ سے شائع کرایا ہے۔ اس لیے آپ اس شرح میں غالب کے فن پر بھی بات کیجیے تو بہتر ہوگا۔ ناطق گلاؤٹھی نے مولوی عبدالحق سے اس شرح کی اشاعت کی بابت مشورہ کیا۔ عبدالحق صاحب نے انھیں تسلی دی کہ اس شرح کو انجمن ترقی اردو،شائع کر دے گی۔ لیکن نتیجہ صفر ہی رہا۔ آخر کار عبدالباری آسی کے صاحب زادے والی آسی نے ناطق گلاؤٹھی کی ’کنزالمطالب‘ کو اپنے ذاتی اشاعتی ادارے مکتبہ دین و ادب سے فروری 1968 میں  شائع کیا۔ ’کنز المطالب‘ میں غالب کی 231 غزلوں کی شرح پیش کی گئی ہے۔ کتاب کا انتساب محسن علم و ادب عالی جناب مقبول احمد صاحب لاری کے نام ہے۔ کتاب کی ضخامت498صفحات اورقیمت بارہ روپے پچاس پیسے (علاوہ ڈاک خرچ)تھی۔’کنز المطالب‘کو بابو عبدالحلیم انصاری ناگپوری نے مرتب کیا ہے۔ لیکن اس شرح میں کہیں بھی بابو عبدالحلیم انصاری کی لکھی ہوئی ایک بھی سطر نہیں ہے۔

یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ ناطق گلاؤٹھی کی کتاب ’کلیل میں غلیل‘ میں ’کنزالمطالب‘کا اشتہارشائع ہوا تھا۔ اس اشتہار میں دعوا کیا گیاہے کہ کنزالمطالب اب تک کی سب سے اعلا اور بہترین شرح ہے۔ اس شرح کے منظرِ عام پر آ جانے کے بعد کسی اور شرح کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہاں تحقیقی نکتہ یہ ہے کہ اس اشتہار کو ناطق گلاؤٹھی نے خود شائع کرایا تھا یا ان کے کسی مداح یا ناشرِ کتاب نے شائع کیا تھا۔ اس اشتہار کی زبان اور بیان میں مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہے۔ 1968 میں کنزالمطالب کے شائع ہونے کے بعد دیوانِ غالب کی بہت سی شرحیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ کنز المطالب کے شائع ہونے کے بعد کسی دوسری شرح کی ضرورت نہیں ہوگی،مبالغہ نہیں تواور کیا ہے؟۔’کلیل میں غلیل‘میں شائع اشتہار ملاحظہ کیجیے:

’’کنز المطالب شرح دیوان مروجہ غالب

مصنفہ

حضرت استاذ الاساتذہ فخر المتاخرین مرشد خم خانۂ سخن مولانا ناطق گلاؤٹھی

زیر طبع ہے

جو عنقریب منصۂ شہود پر آنے والی ہے

یہ وہ شرح ہے جو شروح سابقہ کے حق میں ناسخ کا کام دیتی ہے۔ غالب کے دیوان کی اب تک جتنی شرحیں شائع ہوئی ہیں ان میں زیادہ تر شارح کی فہم کو دخل ہے۔ مطلب، غالب کو نفسِ اشعار سے سمجھا نے کی بہت کم کوشش کی گئی ہے۔  اس لیے اس کے مطالب سلجھنے کی بجائے اور زیادہ الجھ گئے ہیں۔ حضرت ناطق گلاؤٹھی اردو کے مستند اہل زبان،مسلم استاد اور نکات شعری کے زبر دست اور ماہر نقاد ہیں۔ غالب نے جس تخیلِ بلند کے تحت شعر کہا ہے اور شعر میں جس نکتے کو اجاگر کرنا چاہا ہے، اس کی شان آپ کی اس شرح سے نگاہوں کے سامنے آ جاتی ہے۔ اوردل میں بیٹھ جاتی ہے۔ اس شرح کے بعد کسی اور شرح کی ضرورت نہیں رہتی۔ لہٰذا ہم اس کو خاتم الشروح بھی کہہ سکتے ہیں۔اردو ادب اور شعر و سخن کے شائقین اس کو قدر کی نگاہوں سے دیکھیں گے۔

ملنے کا پتا

کوثر بک ڈپو،مینا چی کوئل اسٹریٹ،بنگلور‘‘ 

محمد عبدالحلیم کی اطلاع کے مطابق ’کلیل میں غلیل‘ کی اشاعت 1950اور مطبع برقی کوثر پریس بنگلور ہے7۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا اشتہار ناطق گلاؤٹھی کی مرضی کے بغیر شائع نہ ہوا ہوگا۔کیونکہ ’کلیل میں غلیل‘ کے دیباچے میں ابو صالح محمد غضنفر حسین شاکر نائطی نے دعوا کیا ہے کہ یہ کتاب ناطق گلاؤٹھی کی ایما پر ہی ’برقی کوثر پریس،بنگلور ‘سے شائع ہورہی ہے۔

ناطق گلاؤٹھی مرزا غالب کی شاعری سے بہت متاثر تھے۔ انھوں نے غالب کی زمین پر کئی غزلیں کہی ہیں۔ انھوں نے غالب کی مشہور غزل           ؎

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

کی زمین میں مندرجہ ذیل تضمین لکھی

سن لے، کہ جا رہا ہوں اَب اَپنی خَبَر کو مَیں

لے زِندَگی سلام گیا عمَر بَھر کو مَیں

آپ اَور جِنسِ دِل کے خَرِیدار جی نہیں

پہچانتا ہوں صورَتِ اَہلِ نَظَر کو مَیں

ہر ذرّہئِ وجودِ ہے دامَن کَشِ نَظَر

بھاگوں صَنَم کَدَہ سے تَو جاؤں کِدَھر کو مَیں

کَب تَک قَدم قَدم پہ الجھتا چلے کوئی

اَب راستَہ بتا کے چَلوں راہبَر کا مَیں

رَسمِ وفا، مصِیبتِ ہَستی، بَجا درست

اَچھّا تَو اَب سے عیب سَمَجھ لوں ہنر کو مَیں

غارَتگَرِ شِکیب جَفا کار تابَہ کے

آہوں سے چِھین چِھین کے رَکھّوں اَثر کو مَیں

ناطق یہاں تَو صَبر و تَحَمّل کا وَقت ہے

غالب کے ساتھ بھیج نہ دوں نَوحَہ گَر کو مَیں!

اس کے علاوہ انھوں نے اپنے کلام میں مرزا غالب کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا          ؎

واہ رے حسنِ بیان، اللہ رے اندازِ کلام

میرزا غالب ہے ناطق، یوسفِ ثانی مجھے

’دیوانِ ناطق ‘کے صفحہ211پر ’خمسہ بر غزل مرزا غالب‘ عنوان سے تضمین شامل کی گئی ہے۔ اس کا آخری بند ملاحظہ کیجیے     ؎

المدد اے تیغِ غم، سنگ شکستن المدد

کچھ گرفتاروں کی حد ہے کچھ گرفتاری کی حد

داغِ مایوسی ہزاروں، خارِ حسرت بے عدد

دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنائیں اسد

جانتے ہیں سینۂ پرخوں کو زنداں خانہ ہم8

بہر کیف!ناطق گلاؤٹھی کی ’کنز المطالب شرح دیوان غالب‘ میں آسان زبان کے ساتھ غالب کے اشعار کی شرح پیش کی گئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دیوانِ غالب کو سمجھنے کے لیے اس شرح کا مطالعہ ناگزیر ہے۔کیونکہ اس شرح کو 1926میںضرور لکھا گیا لیکن 42سال کے بعد جب اسے شائع کیا گیا تو اس میںمولانا عبدالباری آسی کے مشوروں کے مطابق ضروری ترمیمات و اضافے کیے گئے۔ اس شرح میں جہاں ایک جانب غالب کے اشعار کی شرح ہے وہیں غالب کے فن پر بھی ضروری بحث کی گئی ہے۔

حواشی

  1.       دیوان ناطق،مرتبہ محمد عبدالحلیم،اشاعت اکتوبر1976،ص11
  2.       تذکرۂ معاصرین ازمالک رام،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی، اپریل 1972، ص 119
  3.       کنز المطالبشرح دیوان غالب،فروری1968، ص 5
  4.       تفہیم غالب، شمس الرحمن فاروقی، غالب انسٹی ٹیوٹ،نئی دہلی، چوتھا اڈیشن2019،ص18
  5.       روح المطالب فی شرح دیوان غالب(اردو)شارح سید اولاد حسین شاداں بلگرامی، دسمبر1967، ناشر شیخ مبارک علی، اندرون  لوہاری  دروازہ،لاہور، پاکستان، ص 23
  6.       کنز المطالبشرح دیوان غالب،فروری1968، ص 6
  7.       دیوان ناطق،مرتبہ محمد عبدالحلیم،اشاعت اکتوبر1976،ص13
  8.        ایضاً،ص211


Ibraheem Afsar

Ward No.:1, Mehpa Chauraha

Siwal Khas Meerut- 250501 (UP)

Mob.: 9897012528

2/6/23

قاضی عبدالستارشخصیت اور فن: محمد فیصل خان

 


قاضی عبدالستار وہ اہم نام ہے جس نے اپنے تاریخی، سماجی ناولوں اورافسانوں کے ذریعے اردو فکشن میں ممتاز اور نمایاں مقام حاصل کیا۔ قاضی عبدالستارصرف فکشن نگار کی حیثیت سے ہی نہیں پہچانے جاتے بلکہ وہ اردو ادب کے ایک بلند پایہ استاد کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ قاضی عبدالستار ایک بے باک انسان، خوش بیاں مقررکی حیثیت سے بھی مشہور ہیں۔ ہندی کے مشہور ادیب ’بابا ناگاارجن ‘نے ان کو اردو ادب کا دوسرا پریم چند کہا ہے۔قاضی عبدالستار نے اس وقت قلم اٹھایا جب ترقی پسند تحریک کا جادو اردو ادب کی دنیا میں سرچڑھ کو بول رہا تھا اور ترقی پسند تحریک سے وابستہ بڑے بڑے نامور ادیب، نقاداور فکشن نگار اردو ادب کی دنیا پر حکومت کررہے تھے۔ ایسے میں قاضی عبدالستار نے اپنی تخلیقی کاوشوں کے ذریعے اپنے لکھے کی داد ان نامور اور شہرت یافتہ ادیبوں، نقادوں اور دانشوروں سے اس طرح حاصل کی جیسے خراج وصول کیا جاتا ہے۔ قاضی عبدالستار نے اپنے تخلیقی کارناموں کی عظمت وانفرادیت کا پرچم اس طرح لہرایا جسے اردو ادب کی تاریخ فراموش نہیں کرسکتی۔ قاضی عبدالستار کی تخلیقات اردو ادب کے دیوانوں اور متوالوں کے لیے ہمیشہ مسرت و بصیرت کا سامان فراہم کرتی رہیں گی۔ ڈاکٹرعبدالغفورر قم طرازہیں:

’’اردو ادب کے ناول نگاروں میں ان کی شخصیت اس لحاظ سے ممتاز ہے کہ انھوں نے اودھ کی سماجی زندگی کے علاوہ تاریخی شخصیات و حقائق کو فنی پیرائے میں اپنے منفرد اسلوب و نگارش کے ذریعے پیش کرکے نہ صرف اردو ادب کے قارئین کی دلچسپی کا سامان مہیّا کیا ہے بلکہ حقائق و تاریخ کو بھی پکی روشنائی سے بقائے دوام بخشا ہے۔ اس کارِنمایاں سے اُنہیں بھی فیض حاصل ہوا۔ انھیں بین الاقوامی شہرت ملی۔اور دور حاضر کے ناول نگاروں میں روشنی کے مینار کہلائے۔‘‘

(قاضی عبدالستار: بحیثیت ناول نگار، مرتب ڈاکٹرعبدالغفور:دانش کدہ، دریا پور، سبزی باغ پٹنہ2016، ص291)

قاضی عبدالستار کی پیدائش 9 فروری 1933 کو ضلع سیتاپور کے ایک گاؤں مچھریٹہ کے ایک معزز خاندان میں ہوئی، گھرمیںچھبّن کے نام سے جانے جاتے تھے۔ والد کا نام ’قاضی عبد العلی‘ عرف ننھے میاں اور والدہ کا نام ــ’عالمہ خاتون‘ تھا۔ والد صاحب کو شکار کا بہت شوق تھا وہ مہینوں مہینوں شکار کی مہم سے گھر واپس نہیں آتے تھے، ان کے اس شوق کو خود قاضی صاحب نے جنون سے تعبیر کیا ہے۔

قاضی صاحب نے ہائی اسکول 1948 میں راجہ رگھو ویر دیال انٹر کالج (آرآرڈی) سے اور انٹر میڈیٹ بھی اسی کالج سے 1950 میں پاس کیا، 1952 میں لکھنؤ یونیورسٹی سے بی اے (آنرز)  اول نمبر سے پاس کیا، اور 1954 میں ایم اے کی ڈگری فرسٹ پوزیشن کے ساتھ حاصل کی جس پر انھیں بہادر شنکر دیال گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا۔ اس کے بعد قاضی صاحب نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ’ پروفیسر رشید احمد صدیقی‘ کی نگرانی میں اپنا تحقیقی مقالہ ’اردو شاعری میں قنوطیت ‘ کے موضوع پر لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری 1957 میں حاصل کی، قاضی عبد الستار کی ملازمت کا سلسلہ 1956 سے شروع ہوتا ہے۔ 1956 میں بحیثیت عارضی لکچر رقاضی عبدالستارکا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبئہ اردو میں تقررہوااوراس کے بعد 1961-62 میںیہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مستقل طور پر لکچرر مقرر ہوگئے۔1967 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ریڈر ہوئے۔ 1980 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پروفیسر ہوئے۔1988 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں صدر شعبۂ اردو کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1993 میں اپنی طویل خدمات انجام دینے کے بعد ملازمت سے سبکدوش ہو گئے۔

قاضی عبدالستار کی شخصیت پہلو دار تھی۔ ان کی زندگی میں کئی رنگ دیکھے جا سکتے ہیں،جیسے یہ بات بھی تسلیم کی جاتی ہے کہ یہ وہم پرست انسان تھے۔ نجومیوں، پنڈتوں، سجادہ نشینوں اور ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ کر قسمت کا حال بتانے والوں کی باتوں پر یقین رکھتے تھے،جن، بھوت، پری،جادو،ٹونا، ٹوٹکا وغیرہ سے خوف زدہ رہتے تھے۔ میرے استاد محترم پروفیسرابوبکر عباد اپنے مضمون ’قاضی عبدالستار شخص، فن اور اسرار‘میں لکھتے ہیں:

’’مختلف قسم کے اوہام میں مبتلا ہو جانا ان (قاضی عبدالستار) کی نفسیاتی کمزوری تھی، چنانچہ وہ ستاروں کی چال، ہاتھوں کی لکیر‘جوگی کی پیشین گوئی اور دوسرے شگون وغیرہ پر یقین رکھتے اور جن، بھوت، چڑیل سے ڈرتے تھے۔‘‘(’ایوان اردو‘ دہلی اکتوبر2019،ص 22)

قاضی صاحب نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے1947 میں شروع کیا اور صہبا تخلص اختیار کیا۔ یہ تخلص ان کے دادا کے دوست ’بابو گرچرن لال شید انبی نگری‘ نے دیا تھاجو شاعری میںان کے استادبھی تھے، لیکن جلد ہی قاضی صاحب نے شاعری ترک کر دی، اس کی کئی وجوہات بتائی گئی ہیں۔

شاعری سے دست برداری کی ایک وجہ یہ تھی کہ ان کے دادا کے دوست ’شہزاد لکھنوی‘ قاضی صاحب کو مشاعروں میں لے جاتے اور انھیں اپنی غزل دے کر زبردستی اسٹیج پر کھڑا کردیتے اور جب قاضی صاحب مصرعہ غلط پڑھتے تو وہ محفل میں ہی ترمیم کرکے درست کردیتے جس سے لوگ یہ سمجھ جاتے کہ یہ غزل قاضی صاحب کی نہیں بلکہ شہزاد لکھنوی کی ہے اس سے آپ کو رسوائی محسوس ہوتی۔ شاعری کو چھوڑنے کی ایک اور وجہ بھی ملتی ہے کہ قاضی صاحب اپنی غزلوں پر بابوگرچرن لال شیدا نبی نگری سے اصلاح لیتے تھے اور وہ شراب کے گھونٹ اور سگریٹ کے کش کے ساتھ ایسی اصلاح کرتے کہ دس منٹ میں قاضی صاحب کی غزل ان کی ہوجاتی۔ شاعری ترک کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ 1956میںقاضی صاحب مشاعرے کے لیے بارہ بنکی گئے جہاں ایک واقعہ پیش آیا جس کے بعد تو شاعری سے نفرت ہی ہوگئی۔ قاضی عبدالستار کے چہیتے شاگرد اور میرے استاد پروفیسر ابن کنول کی زبانی اس واقعہ کو خود پڑھ لیں:

’’ہوا یہ کہ بارہ بنکی کے مشاعرے میں گئے وہاں ایک رئیس کے مہمان خانہ میں آرام کررہے تھے کہ کچھ لڑکیاں ادھر کو آتی ہوئی دکھائی دیں لیکن فوراً ہی پیچھے سے ان کی ماں دوڑی ہوئی آئیں اور کہنے لگیں ’’اے لڑکیو! ادھر مت جانا ادھر وہ شاعر ٹھہرا ہوا ہے۔‘‘ قاضی صاحب نے سوچا شاعر ایسی چیز ہے کہ لوگ اپنی لڑکیوں کو بھی اس کے سامنے جانے سے روکتے ہیں اور شاعری بالکل چھوڑ دی۔‘‘

(’نذر قاضی عبدالستار‘مرتب پروفیسرمحمدغیاث الدین۔ مشمولہ ’منفرد فنکار قاضی عبدالستار‘ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی 2006، ص258)

قاضی صاحب کی طبیعت فکشن کے لیے بہت موزوں تھی جس کو انھوںنے بہت جلد ہی پہچان لیا اور متعدد تاریخی، سماجی، رومانی اورسوانحی ناول اور افسانے لکھ کر اردو ادب میںاپنی ایک منفرد جگہ بنائی۔قاضی صاحب کا پہلا افسانہ ’اندھا 1946‘ ہے جولکھنؤ کے ایک رسالے میں شائع ہوا۔ اس کے بعد قاضی صاحب نے 1962 تک افسانے نہیں لکھے بلکہ باقاعدہ افسانے کا آغاز 1964 میں ’پیتل کا گھنٹہ‘ سے ہوتا ہے۔ جو ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔ قاضی صاحب کا پہلا افسانوی مجموعہ ’پیتل کا گھنٹہ‘ ہے جس میں تین افسانے اور ایک ناولٹ شامل ہیں۔ بعد میں قاضی صاحب کے عزیز شاگرد پروفیسر محمد غیاث الدین نے 1995 ’آئینۂ ایام ‘ کے نام سے قاضی صاحب کے 28 افسانو ں کو مرتب کرکے اپنے مقدمہ کے ساتھ شائع کیاتھا۔

قاضی عبدالستار کے ابتدائی افسانوں میں اودھ کے علاقے میں رہنے والے زمین داروں کے زوال پذیر معاشرے کے ساتھ ہمدردی دیکھنے کو ملتی ہے۔انھوں نے اعلیٰ طبقے کے لوگوں کے ساتھ روایتی سلوک نہیں برتا جو خصوصاً ترقی پسند وں نے کیا کہ ان کی نظر میں ہمیشہ جاگیر دار طبقہ ہی ظالم ہوتا ہے۔ بلکہ قاضی عبدالستار درمیانی راستے کا انتخاب کرتے ہیں اور انصاف کے ساتھ دونوں پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں ایک بڑی خوبی ان کا استدلالی اندازِ بیان ہے وہ ہر کہانی کو کسی نہ کسی سچے واقعے سے جوڑ دیتے ہیں اور اس کا تعلق اکثر وبیشتر سیتاپور کے زمین دار گھرانوں سے ہوتا ہے۔ قاضی عبدالستار نے تعلقہ داروں کی زندگی کا تجربہ ہی نہیں کیا تھا بلکہ ان کا بچپن انھیں کے درمیان میں گزرا اور وہ پروان بھی انھیں کی سرپرستی میں چڑھے۔ لہٰذا جس باریکی اور گہرائی سے قاضی صاحب نے اس تہذیب کو دیکھا، سمجھا اور اپنی تخلیقات کا حصہ بنایا وہ بس انھیں ہی کا حصہ تھا جس میں وہ پوری طرح سے کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔

قاضی عبدالستار کے افسانوں میں مختلف موضوعات کی پیش کش دیکھنے کو ملتی ہے۔ان میں زمین دار طبقے کا عروج وزوال، جاگیرداری کا خاتمہ،نئی تہذیب کی آمد اورپرانی تہذیب کے مٹتے ہوئے نقوش،  دولت مندوں کی عیش پرستی، عیاشی اور بے جااسراف، غریبوں اور بے کسوں کا استحصال، تعلقہ داروں سے ہمدردی اور ان کی کمیوں کی نشان دہی، سیاسی، سماجی اور معاشرتی برائیاں، اخلاقی پستی، اعلیٰ اور اوسط طبقے کی عورتوں کے جنسی مسائل، قتل وغارت گری، اغوا، بلیک میلنگ، آبروریزی، روایتی قدروں کی بقا کے لیے خوں ریزی، مزدوروں اور کسانوں کے حالاتِ زندگی،تقسیم ہند اور ہجرت کے مسائل، فرقہ وارانہ فسادات،مغلیہ سلطنت کی شان وشوکت اور اس عہد کی عکاسی جیسے بے شمار موضوعات شامل ہیں جس کو قاضی عبدالستار نے اپنے قلم کی زینت بنایا۔ لہٰذا قاضی صاحب کے بیالیس افسانوں کو موضوعات کے لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

1      دیہاتی موضوعات سے متعلق افسانے :

 پیتل کا گھنٹہ، مالکن، روپا، لالہ امام بخش،وراثت، رضو باجی، پرچھائیاں، نازو، واپسی، دیوالی، ٹھاکردوارہ، ساملی، ایک کہانی، میراث، نومی، سینگ، کھاکھا، قد آدم مشعل، مجری، دھندلے آئینے، گرم لہو میں غلطاںاور سایہ وغیرہ اہمیت کے حامل ہیں۔

2      شہری موضوعات سے متعلق افسانے:

 سوچ، ماڈل ٹاون، پہلی موت، جنگل، مشین، ایک دن، داغ،تحریک، کتابیں، آڑے ترچھے آئینے وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔

      تاریخی موضوعات سے متعلق افسانے:

 آنکھیں، نیا قانون، سات سلام، بھولے بسرے وغیرہ اہمیت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ قاضی صاحب کے چند افسانے اور بھی ہیں جیسے   حرفوں کے صلیب، گھسو، ممواں لالہ اور بلا عنوان وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔

قاضی صاحب کا پہلا ناول’شکست کی آواز‘ہے جو1954میں شائع ہوا، اسی ناول کو ہندی میں ’پہلا اور آخری خط‘ کے نام سے 1962 میں الہ آباد سے شائع کیا گیا، یہی ناول پاکستان میں ’دودِچراغ محفل ‘ کے نام سے 1961 میں رسالہ نقوش میں لاہور سے شائع کیا گیا، اسی ناول کو مجروح سلطانپوری 1958-60کے درمیان ممبئی لے کر گئے اور کسی بڑے رسالے میں شائع کرایا۔قاضی صاحب کے ناولوں کو سماجی،رومانی،سوانحی اور تاریخی اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

قاضی صاحب کے سماجی ناولوں میں شب گزیدہ (1960)، مجو بھیا (1963)، بادل (1965)، غبار شب (1966)،  حضرت جان (1990) کا شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ قاضی صاحب کے دوناول تاجم سلطان (2005) اور آخری کہانی (2015)  ہے۔جن کاشماررومانی اورسوانحی دونوںزمروں ہوتاہے۔

قاضی صاحب کے تاریخی ناولوں میں بڑی جان ہے، وہ فن اور تاریخ دونوں کو اپنی گرفت میں رکھتے ہیں،ان میں سے کسی ایک کا دامن بھی ان کے ہاتھ سے چھوٹنے نہیں پاتا، یہی وجہ ہے کی قاضی صاحب کو تاریخ جیسے اہم موضوع کو فن پارے کی شکل دینے والوں میں ایک بلند مقام حاصل ہے اور یہی ان کی شہرت اور عظمت کا سب سے بڑا سبب ہے، قاضی صاحب کے مشہور تاریخی ناولوں میں  صلاح الدین ایوبی (1964)،  داراشکوہ (1967) اور خالد بن ولید (1995) کا شمار ہوتا ہے۔

قاضی عبد الستار ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، انھوںنے تاریخی ناولوں کے ذریعے اردو ادب میں اپنی ایک الگ شناخت بنائی ہے، قاضی صاحب نے تاریخی ناولوں کے ذریعے اس روایت کو پروان چڑھایا جس کی بنیاد ’ عبد الحلیم شرر‘ نے رکھی تھی، اس کے بعدتاریخ کو موضوع بناکر ادب کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کئی ادیبوں نے کی جیسے عزیز احمد، قرۃ العین حیدر،حیات اللہ انصاری، عبداللہ حسین،خدیجہ مستور اور قاضی عبد الستار وغیرہ کے نام قا بل ذکرہیں، مگر ان میں جو شہرت اور بلندی تاریخی ناولوں کے بنا پر قاضی صاحب کے حصے میں آئی وہ قابل غور بھی ہے اور قابل ستائش بھی۔بقول ڈاکٹر ہارون ایوب لکھتے ہیں:

’’ڈاکٹر قاضی عبدالستار نے اپنے مخصوص اسٹائل اور دلفریب اندازِ بیان سے تاریخی ناولوں میں ایک ایسے گوہر کا اضافہ کیا ہے جس کی آب و تاب کبھی ماند نہیں پڑے گی۔‘‘

( اردو ناول پریم چند کے بعد، مرتب ڈاکٹر ہارون ایوب: اردو پبلشرز تلک مارگ لکھنؤ 1978،ص236)

ان سب کے علاوہ قاضی عبدالستار کی دو تنقیدی کتابیں بھی ہیں ان میں پہلی ’اردو شاعری میں قنوطیت‘ ہے یہ ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جس کو انھوں نے 1957 میں مکمل کرلیا تھا جو 1963میں پہلی بار منظر عام پر آئی۔ اور دوسری کتاب ’جمالیات اور ہندوستانی جمالیات‘ ہے جو1973 میںشائع ہوئی، اس کے علاوہ انھوں نے دو درجن کے آس پاس تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیں۔ ان میں نثر کا عہد، مجاز کا لکھنؤ، سرسید کا اسلوب، فن افسانہ نگاری، رشید احمد صدیقی کی نثر کا آہنگ،سوانح خوانی کے آداب، ملکہ ترنم نورجہاں وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

قاضی عبدالستار کی ادبی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انھیںعلمی وادبی کاوشوں کے سلسلے میں متعدد اعزازات و انعامات سے بھی نوازا گیا۔ ہندی کے مشہور ادیب ’باباناگا ارجن‘ نے1962 میں قاضی عبدالستار کو الٰہ آباد بلایا اور ’الکا‘ ہوٹل میں ’تامپترا ایوارڈ‘ سے نوازا، شال اوڑھائی اور تقریب میں قاضی عبدالستار کے لیے کچھ تاریخی جملے کہے۔

  1.       ’’قاضی عبدالستار کے روپ میں دوسرا پریم چند پیدا ہوا‘‘
  2.       ’’ہندی ادب کے جس شخص کو دیہات پر لکھنا ہو وہ قاضی عبدالستار کو ٹیکسٹ بک کی طرح پڑھے‘‘
  3.       ’’قاضی عبدالستار Prose کا بادشاہ ہے‘‘

قاضی عبدالستار کو ’صلاح الدین ایوبی‘ لکھنے پر اس وقت کے صدر جمہوریۂ ہند جناب فخرالدین علی احمد کے ہاتھوں اردو فکشن کا پہلا ’غالب ایوارڈ‘ 1973  میں دیا گیا۔ 1974 میں ’پدم شری‘ سے سرفراز کیا گیا۔ اس کے علاوہ قاضی صاحب کو ’اعزاز میر‘1977، ’یوپی اردواکادمی‘ 1978، ’عالمی فکشن ایوارڈ‘ 1987، ’ قومی اردوایوارڈ‘ 1988، ’مہاراشٹراردوساہتیہ اکادمی گیانیشور ایوارڈ‘ 1988، ’پہلا نشانِ سرسید ایوارڈ‘ 1988، ’پہلا سدبھاؤنا کمیٹی سرسید ایوارڈ‘1996، ’بہادر شاہ ظفر ایوارڈ‘ 2002، ’عالمی اردو ایوارڈ‘ 2005، مدھیہ پردیش کی جانب سے دیا جانے والا ایوارڈ ’اقبال سمان‘2006،  ’پہلا یونیورسٹی اردو ٹیچر ایوارڈ‘2008، ’پہلا یوپی ہندی سنستھان ایوارڈ‘ 2011   جیسے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

اس طرح اردو فکشن کا ایک بلندپایہ شخص جس نے اپنی تخلیقات کے ذریعے اپنے نام کو حیاتِ جاودانی تو عطا کردی۔ مگر ’کل نفس ذائقۃ الموت‘ کی حقیقت سے خود کو محفوظ نہ کرسکااور داغِ مفارقت دیتا ہوا اس دارِ فانی سے رخصت ہوگیا۔ اس واقعے کو’ڈاکٹر پریم کمار‘ کی زبانی جس کا ترجمہ ’ڈاکٹر نثار کوثر‘ نے کیا ہے ملاحظہ فرمائیں

’’وہاں (مچھریٹہ میں)23ستمبر کو اچانک طبیعت بگڑی، جلدی جلدی کرکے سرگنگارام ہسپتال دہلی لے جایا گیا دومہینے ہسپتال کے آئی سی یو میں رہنے کے درمیان کئی مرتبہ صحت میں کمی آئی۔ کئی مرتبہ حالت سنورتی دکھائی دی لیکن 29اکتوبر2018 کو رات 2:30(ڈھائی بجے) اپنے صاحب زادے شاہ ویز کے گھر پر انھوں نے آخری سانس لی۔ اسی دن دوپہر میں انھیں علی گڑھ لایا گیا۔ جہاں شام پانچ بجے اے ایم یو کے قبرستان (منٹوئی) میں دفن کیا گیا۔‘‘

( مضمون ’تنہائی کے عاشق اور قلم کے جادو گر قاضی عبدالستار ‘ سہ ماہی فکر و نظر علی گڑھ دسمبر 2021، ص69-70)

قاضی عبدالستار کی جو شہرت اور عظمت ہے اس میں روز افزوں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے اور قوی امید ہے کہ گزرتے دنوں کے ساتھ ساتھ اس میں ایسے روشن موتی جگمگائیںگے جس کی روشنی کبھی کم نہ ہوگی۔قاضی صاحب کی شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ’محسن نقوی‘ کا یہ شعر موقع اور مناسبت کے لحاظ سے بہت موزوں معلوم ہوتا ہے           ؎

یاد آؤںگا تجھے ذہن کی ہر منزل پر

حرفِ سادہ تو نہیں ہوں کہ بھلایا جاؤں

کتابیات

  1. اردو ناول پریم چند کے بعد:مرتب ڈاکٹر ہارون ایوب، اردو پبلشرز،تلک مارگ لکھنؤ 1978
  2. قاضی عبدالستار: فکر فن اور فنکار،ڈاکٹر احمد خان،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی 2005
  3. قاضی عبدالستار:اسرار وگفتار، راشد انور راشد، عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی 2014
  4. قاضی عبدالستار :بحیثیت ناول نگار :مرتب ڈاکٹر عبدالغفور، دانش کدہ دریا پور،سبزی باغ پٹنہ 2016
  5. نذر قاضی عبدالستار، مرتب پروفیسر محمد غیاث الدین، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی پہلا اڈیشن 2006
  6. فکر ونظر (سہ ماہی )علی گڑھ دسمبر 2021
  7. ایوانِ اردو (ماہنامہ) اپریل 2019

 

M o Faisal Khan

Research Scholar Delhi University

Delhi- 110007

Mob.: 9918998144

Email.:  fk.nadwa123@gmail.com

1/6/23

اردو ناول میں ثقافتی نوحہ گری: خالد اشرف

 

ناول کو اس کی وسعت، وضاحت اور جزئیات کی بنا پر ام الاصناف کہا جاسکتا ہے۔ اس لیے ڈی ایچ لارنس (1885-1930) نے کہا تھا کہ ’’چونکہ میں ایک ناول نگار ہوں، اس لیے میں اپنے آپ کو کسی سنت، کسی فلسفی، کسی سائنس داں اور کسی بھی شاعر سے برتر سمجھتا ہوں، جو انسان کے مختلف حصوں کے ماہر ہیں، مگر پورے انسان تک نہیں پہنچتے۔ ناول ایک ایسا ارتعاش ہے جو پورے زندہ انسان کے اندر لرزش پیدا کرسکتا ہے۔ یہ ایک ایسی تخلیق ہے جو شاعری، فلسفے، سائنس یا کسی اور کتاب کے بس کی بات نہیں ہے۔‘‘

ناول کی وسعت کی بنا پر عموماً اس کو نفسیات سے زیادہ سماجیات کا آئینہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ملکوں، خطوں، طبقوں اور قوموں کی زندگی کی آئینہ داری میں انسانی  ذات کے گہرے داخلی، مسائل اس کی جنسی محرومی، اس کی تنہائی اور اس کے ارادو ںکی شکستگی جیسے داخلی مسائل کہیں دنیاوی مسائل کے بالمقابل دب جاتے ہیں۔ تاہم ایسے کامیاب ناول کا تصور نہیں کیا جاسکتا جو صرف افراد کے بجائے اقوام  اور طبقات پر مرکوز رہے اور فرد کی داخلی اتھل پتھل اور جنسی تبدیلیوں کو نظرانداز کردے۔ یعنی ایک اچھے ناول کی اچھائی یہ ہے کہ علامت اور تجرید کے جنجال میں زیادہ ملوث ہوئے بغیر انسانی زندگی کے اطراف اور داخل دونوں پر بھرپور روشنی ڈالے۔

یہاں ہم نسبتاً قریب کے زمانے کی اردو ناول نگاری کے چند شاہکاروں کا جائزہ لے کر کچھ نتائج اخذ کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان قریبی زمانوں کا سب سے بڑا نام قرۃ العین حیدر کا ہے جنھوں نے تقسیم کے زمانے میں فکشن لکھنا شروع کیا تھا اور تقریباً پچاس برس تک لکھتی رہیں۔ ان کے تھیم زیادہ متنوع نہیں تھے اور وہ زیادہ تر مشترکہ ثقافت کے زوال، ہجرت سے پیداشدہ جذباتی مسائل اور تاریخ کی بے رحم قوتوں کے آگے انسانی ارادوں کی بیچارگی وغیرہ کو موضوع بناتی رہیں۔ یہاں ان کے آخری دور کے ایک نمائندہ ناول ’گردش رنگ چمن‘ (1987) کا اجمالی جائزہ لیا جائے گا۔ یہاں پرانی اور مٹ چکی جاگیردارانہ تہذیب اور نودولتیوں کی چمک دار اور بآواز بلند تہذیب کے فرق کو سامنے رکھ کر کہانی تشکیل دی گئی ہے۔ کہانی کیا ہے، ماضی کی بازیافت بلکہ ماضی پرستی کی رام کتھا ہے جس کو شعری و شیریں زبان کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ ایک طرف عندلیب بیگ، عنبریں بیگ، منصور کا شعری اور وکی میاں ہیں تو اسپیکٹرم کے دوسرے سرے پر صاحبزادی شہوار خانم، نگار خانم اور ان کے تاجر پیشہ بھائی ہیں۔ قرۃ العین حیدر کی ہمدردیاں مٹتے ہوئے مشترکہ کلچر کے نمائندو ںکے ساتھ ہیں لیکن گھریلو ملازموں اور کھیت مزدوروں پر ڈھائے جانے والے ان کے مظالم کو وہ زیربحث نہیں لاتی ہیں۔ یہاںتک کہ واجد علی شاہ جیسے نااہل حکمراں کا دفاع تک کرتی ہیں

’’آخری مغل بادشاہ اور اودھ کے فرمانروا اگر عیش پرست، ظالم اور لغو تھے، محمد شاہ محض رنگیلے اور واجد علی شاہ صرف ناچاگایا کرتے تھے تو سارے ہندوستان میں دولت اور تجارت کی یہ فراوانی  کیسے رہی؟ سلطانِ عالم جب مٹیابرج لے جائے گئے تو اودھ کا بچہ بچہ اشکبار تھا۔ بھلا کوئی جابر اور نکمے بادشاہوں کے لیے روتا ہے؟‘‘

(گردش رنگ چمن، دہلی 1987، ص 52)

کچھ انہی نوعیت کی ثقافتی ناول نگاری انتظار حسین کیا کرتے تھے، ان کا ناول ’بستی‘ (1980) کافی حد تک ایک سیاسی قصہ تھا، لیکن قدیم ہند اسلامی ثقافت کی عکاسی کے ضمن میں ان کا تیسرا ناول نما قصہ ’تذکرہ‘ (1986) قدیم جاگیرداری ثقافت کی نوحہ گری میں قرۃ العین حیدر کو بھی پیچھے چھوڑ گیا تھا۔ ’تذکرہ‘ کی کہانی اس قدر ہے کہ اخلاق (یا انتظار حسین) مع اپنی والدہ بوجان یوپی کے ایک قصبے سے ہجرت کرکے لاہور آبستا ہے۔ ایک دن پرانے کاغذات میں اخلاق کو ایک تذکرہ ملتا ہے جس میں آبا و اجداد کے حالات درج ہیں۔ چراغ حویلی کے یہ مکین اپنے رویوں میں قدیم جاگیرداری اقدار کو جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ ان کی زندگی کے تمام معمول معین اور سخت ہیں۔ پاکستان کے قیام کے ساتھ جو معاشرتی اتھل پتھل ہوئی، اس میں یہ بزرگ اپنی جامد زندگی کے طے شدہ اصولوں کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں،لیکن وقت ان کا ساتھ نہیں دیتا

’’دنیا ناپائیدار ہے، یہاں کس چیز کو قرار ہے۔ ابھی تخت پر بیٹھے ہیں، ابھی تابوت میں لیٹے ہیں— یہ ہیچ پوچ چراغ علی اپنی مثال لاتا ہے۔ ان دو آنکھوں نے اس عمر میں کیا کیا کچھ دیکھ لیا۔ تیموری بساط کو لپیٹتے دیکھا، جہان آباد کو اجڑتے دیکھا۔ تایا حضور کو دار پر بلند ہوتے دیکھا اور اہلِ جہان آباد نے زیر آسمان کیا کیا دیکھا۔ جس بادشاہ کو تخت شاہی پر لباس شاہانہ میں رونق افروز دیکھا تھا، اسی کی ننگی لاش جمنا کی ریتی پر پڑی دیکھی۔ تایا حضور نے ایک روز یہ احوال بیان کیا اور اتنا روئے کہ ریش مبارک ان کی آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ ایسا ان پر اثر ہوا کہ جینے سے جی سرد ہوا، رنگ چہرے کا زرد ہوا۔‘‘

(تذکرہ، لاہور، 1987، ص 187)

تقریباً یہی کیفیت بوجان کی بھی تھی، وہ اخلاق کے ساتھ مجبوراً پاکستان آگئی تھیں، لیکن یہاں آکر وہ اس بادشاہ کی طرح بے بس ہوجاتی ہیں، جس کی مملکت چھن گئی ہو کیونکہ چراغ حویلی والا تحکم اور دبدبہ لاہور میں ممکن نہ تھا۔ ان سبھی عزیزوں کا المیہ یہ تھا کہ وہ لاہور کے لیے کلچر کو اپنانے کے لیے قطعاً تیار نہیں تھے اور یوپی کے جاگیردارانہ کلچر کی نام نہاد برتری کے احساس کا شکار تھے۔

یہی ثقافتی احساس برتری خدیجہ مستور کے ناول ’آنگن‘ (1962) کے کچھ کرداروں کے اطوار میں نظر آتا ہے، لیکن خود مصنفہ اس قسم کی ذہنیت کے خلاف ہیں۔ بڑے چچا کا متوسط مسلم گھرانہ قدیم جاگیرداری  نظام کے زوال کا آئینہ دار ہونے کی بنا پر داخلی و خارجی سطح پر شدید انتشار کا شکار ہے۔ اسی آنگن میں تہمینہ کو ان سخت گیر اور انسان دشمن قدروں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، جب نجابت اور اعلیٰ نسبی کے نام پر اس کو صفدر جیسے ذہین انسان سے شادی کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ اسی جاگیرداری درجہ بندی کے شکار اسرار چچا ہیں جو ایک داشتہ کی اولاد ہونے کی بنا پر مردود ہیں۔ اسرار میاں زندگی بھر سارے کنبے کی خدمت کرتے رہے، لیکن اس کے صلے میں انھیں باسی روٹیاں اورجھوٹا سالن ملتا تھا۔ کچھ اسی نوعیت کی ظالمانہ صورت حال قاضی عبدالستار، کرشن چندر اور جیلانی بانو کے ناولوں میں بھی نظر آتی ہے، تاہم خدیجہ مستور، کرشن چندر اور جیلانی بانو کا پرانی تہذیبی اقدار کے بارے میں رویہ تنقیدی ہے، تحسین آمیز نہیں۔

لیکن جاگیرداری اقدار کی پیداکردہ ثقافت کے تئیں قرۃ العین حیدر، انتظار حسین اور قاضی عبدالستار والا تحسینی رویہ نسبتاً دو نئے ناول نگاروں شمس الرحمن فاروقی اور سید محمد اشرف کے یہاں بھی نظر آتا ہے جنھوں نے اکیسویں صدی میں ناول تصنیف کیے، لیکن قدیم جاگیردارانہ کلچر کو فراموش نہ کرسکے۔

قرۃ العین حیدر کے ناولوں بالخصوص ’گردش رنگ چمن‘ اور شمس الرحمن فاروقی کے ضخیم ناول ’کئی چاند تھے سرآسماں‘ (2006) میں ثقافتی بوجھ (Cultural Load) اس قدر زیادہ ہے کہ ناول کی روانی مجروح ہوتی ہے۔ دراصل ہر ناول کسی نہ کسی حد تک اطلاعات (Informations) پر مبنی ہوتا ہے، مثال کے طور پر چارلس ڈکنس کے ناولوں کو پڑھ کر ہم وکٹورین عہد کے انگلینڈ کی عوامی زندگی کے بارے میں نہایت باریک تفصیلات سے آگاہ ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح عزیز احمد کا ناول ’آگ‘ پڑھ کر تقسیم سے قبل کے کشمیر کے افلاس اور عوامی زندگی کی ذلتوں کی جیتی جاگتی تصویریں فراہم ہوتی ہیں، لیکن ناول، کسی بھی قسم کی اطلاعات کا بار ایک حد تک ہی برداشت کرسکتا ہے، ورنہ وہ معلومات کی خشک اور بھاری بھرکم کھتونی بن جاتا ہے۔ یہی گردش رنگ چمن کے ساتھ ہوا اور یہی انجام ’کئی چاند تھے سرآسماں‘ کا ہوا،لیکن چونکہ قدیم جاگیرداری کلچر کا ایک خوشنما پہلو اردو ثقافت بھی تھی، اس لیے ان دونوں ناولوں کی کمزوریوں کو عموماً زیربحث نہیں لایا گیا۔ آئیے ’کئی چاند تھے سرآسماں‘ کے ثقافتی بوجھ کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ کی جائیں۔

ناول کے ابتدائی چہارم میں فاروقی صاحب قاری کو بتاتے ہیں کہ اٹھارہویں صدی کے کالونیل ہندوستان میں قومِ انگریز کے لیے سب سے اعلیٰ نوکریاں تھیں

’’ریزیڈنٹی/ پولیٹیکل ایجینٹی، پھر افواجِ مسلح میں افسری، پھر محاصل جن میں مالگذاریاں، کروڑ گیری پرمٹ Custom اور Excise وغیرہ۔ ریزیڈنٹی اور پولیٹکل ایجنٹی میں عموماً دس میں سے نو عہدے بہت چنیدہ فوجی افسروں سے  اور باقی غیرفوجی محاصلات کے محکموں سے پرکیے جاتے تھے۔ اپنے اپنے ضلعوں میں افسرِ محاصل و دیوانی و فوجداری یعنی کلکٹر/ ڈپٹی کمشنر کی شان سب سے اعلیٰ تھی۔ محنت کرنے اور ذمہ داری  اٹھانے کے لیے ہمہ وقت مستعد رہنا  اختیارات کا روزانہ استعمال،  مشکل معاملات سے ہر وقت نپٹنا اور کمپنی کی شان اور دبدبہ قائم رکھنا۔‘‘

(کئی چاند تھے سر آسماں، دہلی، 2006، ص 177)

فاروقی صاحب نے یقینا یہ تمام تفصیلات ریسرچ کے ذریعے  حاصل کی ہوں گی، جن کو قاری تک پہنچانا انھوں نے اس لیے ضروری سمجھا کہ قاری اٹھارہویں صدی کے سیاسی و سماجی پس منظر سے واقف ہوسکے۔

1829 کے کرسمس کا ذکر کرتے ہوئے فاروقی صاحب ’ڈالی‘ کے تحفے کی اصل بیان کرتے ہیں کہ ڈالی کا تعلق پھولوں یا پھلوں سے نہ تھا بلکہ ڈالی ان چھوٹی چھوٹی کشتیوں یا ٹوکریوں کو کہتے تھے جن میں پھل رکھ کر لائے جاتے تھے۔ عموماً دو کشتیوں یا ٹوکریوں کو ایک ساتھ باندھتے تھے اور ایک ڈالی میں ایک ہی طرح کا پھل ڈالتے تھے۔ انگریزوں کے یہاں تحفے میں پھل بھیجنے کا اتنا رواج تھا کہ آہستہ آہستہ ’ڈالی‘ کے معنی ہی ’پھلوں کا تحفہ‘ او رپھر ’تیوہاروں پر حکام کے یہاں بھیجنے کا تحفہ‘ ہوگئے۔‘‘ (کئی چاند تھے سر آسماں، ص 196)

مزید معلومات کے ضمن میں فاروقی صاحب سواریوں کے بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بناوٹ کے لحاظ سے رتھ اور پالکی بہت مشابہ تھے،  لیکن رتھ میں جگہ زیادہ ہوتی تھی اور وہ چار پہیوں کی سواری تھی جسے دو یا چار بیل کھینچتے تھے۔ اس کے برخلاف پالکی میں پہیے نہ تھے، پالکی کی طرح اسے بھی کہار اٹھاتے تھے جو عام طور پر آٹھ ہوتے تھے۔ پالکی کے  ساتھ سونٹا سردار اور کبھی کبھی چوبدار بھی ہوتے۔ پالکی ایک رتھ کی طرح چھوٹا سا حجرہ ہوتی تھی اور اس  کا دروازہ لکڑی  کا ہوتا تھا۔‘‘ (کئی چاند تھے سر آسماں، ص 234)

شمس الرحمن فاروقی اردو فارسی شعریات کے آخری بڑے اسکالر تھے۔ ان کا مطالعہ وسیع اور علم وقیع تھا۔ وہ بنیادی طور پر اردو-فارسی کلچر کے پروردہ اور نقیب تھے۔  ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ جیسا ضخیم ا ور Intense ناول ان کی تمام زندگی کی فارسی- اردو اور انگریزی علمیت کا نچوڑ تھا اور بلاشبہ وہ اپنی تمام تر علمیت کو کاغذ پر منتقل کرکے مستقبل کے لیے محفوظ کردینے کی گہری خواہش رکھتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ معلومات کو محفوظ کرنے کا یہی جذبہ ناول میں بھی اکثر نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر مولانا صہبائی کی عروض پر مہارت، میر شمس فقیر کی کتاب ’حدائق البلاغت‘ کا ترجمہ، فن معما پر ان کا ادق رسالہ ’گنجینۂ رموز‘ وغیرہ کا ذکر فاروقی صاحب نے مفصل کیا ہے۔

ایک مقام پر رفاعی سلسلے کے بارے میں فاروقی صاحب پھر معلومات کا دریا بہاتے ہیں

’’مولوی محمد نظیر رفاعی مجددی اصلاً دلی والے نہ تھے۔ وہ قوم کے شیخ فاروقی اور مولداً بڑودہ، گجرات کے تھے۔ ان کے والد شیخ دین محمد نے بڑودہ میں حضرت سید نورالدین سیف اللہ الرفاعی (دفات 1225ھ مطابق 1810) کے  دست حق پرست پر بیعت کی اور ایک مدت انہی کے آستانے پر مراقب و معتکف رہے۔ رفاعی سلسلے کے بانی شیخ احمد الرفاعی (1106-1182) عربی النسل تھے، لیکن انھوں نے عمر کا بہت بڑا حصہ جنوبی عراق کے دلدلی علاقے کی ایک چھوٹی سی بستی بطائح میں گذارا۔ وہ خود قادری سلسلے میں بیعت تھے، لیکن ان کے ماموں شیخ منصور البطائحی نے انھیں سلسلۂ رفاعیہ یا بطاالحیہ کا سجادہ اور شیخ مقرر کردیا۔ ابن خلدون نے حضرت شیخ احمد الرفاعی کا مفصل ذکر کیا ہے۔ رفاعی سلسلے کی مقبولیت مالدیپ اور سراندیپ ہوتی ہوئی ملک دکن و ہند اور جزائر لکھن دیپ تک پہنچی۔ ابن بطوطہ نے مالدیپ کی رفاعی خانقاہوں اور اس سلسلے کے فقرا کا ذکرکیا ہے۔‘‘

(کئی چاند تھے سر آسماں، ص 742)

یہ اور اسی قسم کی بہت سی تاریخی اور ثقافتی معلومات سے ناول بھرا پڑا ہے۔ فاروقی صاحب نے فکشن نگاری کا آغاز افسانوی مجموعہ ’سوار‘ (2001) سے کیا تھا اور انجام ضخیم ریسرچ ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ (2006) پر کیا اور اپنی زندگی کا تمام مطالعہ ’زوال زدہ مغلیہ عہد کی تاریخ اور اردو- فارسی شاعری کے تغیرات کے انضمام سے کیا تھا لیکن یہاں فکشن کی روانی اور زبان کی توانائی مجروح ہوئی، کیونکہ فاروقی صاحب کی زبان تخلیقی کم، تنقیدی اور محققانہ زیادہ ثابت ہوئی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ میں ’شب خون‘ کی مروجہ علامت نگاری اور تجرید یکسر غیرموجود ہے اور قصے کا سارا اسٹرکچر سادہ بیانیہ پر ٹکا ہوا ہے ،جس کو وہ ’پریم چندی بیانیہ‘ کہہ کر مذمت کیا کرتے تھے، افسوس کہ ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ میں وہی کمزوری حاوی رہی، جس کو فاروقی صاحب خود ناقابل تحسین قرار دے چکے تھے۔ الہ آباد کے ایک ادبی اجتماع میں خود انھوں نے شکایتاً کہا  تھا کہ

’’آج اردو ناولوں کی دنیا سمٹ گئی ہے۔ اطلاعات پر زیادہ لکھا جارہا ہے، لیکن اس سے بڑا سچ نہیں بنتا۔‘‘

(بحوالہ پروفیسر علی احمد فاطمی، دہلی، 2016، ص 50)

انتظار حسین، خدیجہ مستور، قرۃ العین حیدر، قاضی عبدالستار اور شمس الرحمن سبھی یوپی کے پرانے جاگیردارانہ اردو کلچر کے پر وردہ تھے اور اسی لیے انھوں نے اہم کلچرل ناول تخلیق کیے۔ اسی کلچرل تخلیقیت کو اگلی نسل کے فکشن نگار سید محمد اشرف (پ 1957) نے اپنے ناول ’آخری سواریاں‘ (2016) کے ذریعے آگے بڑھایا۔

کہانی کا راوی اپنی بیوی سے اپنے پر دادا کا روزنامچہ اور بیوہ کا ذکر کرتا ہے۔ اس روزنامچے میں عہد وسطیٰ کی جنگی فتوحات اور بالخصوص مغل خاندان کے عروج کا عقیدت مندانہ تذکرہ کیا گیا ہے اور اس عہدکی گنگا جمنی  ثقافت کے نمونے پیش کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر

’’ہمارے ملک میں خوشبو کا شوق ہمیشہ سے ہے۔ … جائفل، دارچینی، لونگ، بڑی الائچی، چھوٹی الائچی، یہ سب اشیائے خوردنی اپنے دیگر خواص کے ساتھ ساتھ خوشبو کا وصف بیش از بیش رکھتی ہیں۔ لگانے کی خوشبو یعنی عطر مختلف علاقوں کے ہوتے ہیں، مشک کشمیراور دیگر پہاڑی علاقوں کے ہرن کے نافے سے حاصل ہوتا ہے۔ عود عربوں کو بہت پسند ہے۔ عنبرمچھلی سے حاصل ہوتا ہے اور ساحلی علاقوں سے ہمارے پاس آتا ہے۔ خس کی جھاڑی ہوتی ہے۔ کیوڑے کی بال ہوتی ہے۔ یہ سہسوان میں بہت ہوتا ہے۔ گلاب اصلاً ایران کا عطرہے۔ عطر گل مٹی کے برتنوں کو ابال کر کشید کرتے ہیں۔ حنا لکھنؤ میں بہت اچھا بنتا ہے لیکن اس کے مصالحے ملک کے مختلف حصوں سے منگائے جاتے ہیں۔ اسی طرح شمامہ بھی مختلف مصالحوں سے مل کر بنتا ہے۔‘‘

(آخری سواریاں، دہلی، 2016، ص 157)

’آخری سواریاں‘ میں یوپی کے گاؤں کے بیرونی ہندو- مسلم کلچر کے انسانی مظاہر کے زیرسایہ ایک معصوم سی عشقیہ واردات بھی پہلو بہ پہلو چلتی ہے لیکن پرانی ثقافت کے جمالیاتی و انسانی پہلوؤں کے خاتمے اور اس معدوم ہوتی ہوئی ثقافت کے تحفظ کا جذبہ سید محمد اشرف کے یہاں بھی قرۃ العین حیدر اور شمس الرحمن فاروقی کے فن پاروں کی طرح ہی نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر انگریزوں کے رحم و کرم پر روز و شب بسر کرنے والے بے کس بادشاہ ظفر کی ہزیمت و ذلت کی وجوہات کا تجزیہ کرنے کے بجائے سید محمد اشرف بادشاہ کے دسترخوان کا منظر بیان کرتے ہیں

کہاریاں، کشمیر میں دوڑیں، نعمت خانہ کھڑا کیا، خاصے والیوں نے پہلے سات گز لمبا، تین گز چوڑا، چمکیلا چمڑا بچھایا، اس پر سفید دسترخوان، خاصے کے خانے چوکی پہ لگائے گئے کھانا چنا گیا۔

چپاتیاں، پھلکے، روغنی، برئی، بیسنی، خمیری نان،  شیرمال، گاؤدیدہ، کلچہ، باقرخانی، بادام، پستے، چاول، گاجر اور مصری کی روٹی، نان پنبہ، نانِ گلزار، نانِ قماش، نانِ تنکی، نان خطائی۔ یخنی پلاؤ، موتی پلاؤ، نور محلی پلاؤ، نرگس پلاؤ، سبزی پلاؤ، انناس پلاؤ، نکُتی پلاؤ، فالسی پلاؤ، آبی پلاؤ، زمردی پلاؤ، زعفرانی پلاؤ، مُزعفر، طاہری، زردہ، سوئیاں، من و سلوا، یاقوتی، فرنی، بادام کی کھیر، کدو اور کنگھی کی کھیر، نمش، شاخیں، کھجلے، قتلے، دودھ کا دُلمہ، بینگن کا دُلمہ، بادشاہ پسند کریلے، بادشاہ پسند دال،کباب  سیخ، شامی کباب، گولی کباب، تیتر، بٹیر، لوزات خطائی، حلوے، مربّے، بادام، پستے،خشخاش اور سونف کی نقل، موتی پاک، دُربہشت۔‘‘

(آخری سواریاں، دہلی، ص 193)

یہ اور اس قسم کی مزید کلچرل معلومات ہیں جنھوں نے کئی مقامات پر قصے کو بوجھل بنا دیا ہے اور واقعات کی روانی کو گزند پہنچائی ہے۔ اس قسم کی تفصیلات ’گزشتہ لکھنؤ‘ جیسی تاریخ کے لیے موزوں ہوسکتی ہیں، فکشن کے لیے نہیں۔

انیس اشفاق تنقید سے فکشن کی راہ پر آئے ہیں۔ ان کا کلچرل ناول ’خواب سراب’ 2017 میں منظرعام پر آیا تھا۔ اس میں ’امراؤ جان ادا‘ (1899) کو بنیاد بنا کر پرانی لکھنوی ثقافت کی عکاسی کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر لکھنؤ کے معروف حاجی مراد علی عرف ٹنڈے کبابی، اپنے کبابوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہیں۔ قصے میں محرم کی رسومات کا ذکر بھی بڑی وسعت کے ساتھ کیا گیا ہے، لیکن ہولی اور دیوالی یکسر ندارد ہیں۔

ایک مقام پر انیس اشفاق رقم طراز ہیں

’’میرے پاؤں اٹھتے رہے اور میں گومتی کے کنارے چلتا رہا۔ چلتے چلتے میں نے سوچا اسی طرف سے نجم النسا عرف امراؤ جان کے بابا کا بجرا دلکشا کی طرف جاتا ہوگا۔ جہاں میں تھا اسی کے آگے بیگم کوٹھی تھی، جس کے احاطے میں غدر سے کچھ پہلے شرف النسا نے ایک امام باڑہ اور مسجد بنوائی تھی۔ شرف النسا، نصیرالدین حیدر کی انگریز بلکہ ولایتی بیگم کی بڑی بہن تھیں۔ بیگم کوٹھی کے آگے دریا کے بالکل قریب سعادت علی خاں کی بنوائی ہوئی کوٹھی فرح بخش تھی۔ اسی نواح میں ان انگریز افسروں کی قیام گاہیں بھی تھیں جنھوں نے اودھ کی حکومت کو ٹھیک سے چلنے نہیں دیا تھا۔ ریزیڈنٹ نے جب ریڈنسی میں رہنا شروع کیا تو یہ تین منزلہ عمارت ریزیڈنسی کہلائی۔ یہاں طعام خانے، چوکیاں، توپ خانے اور ہسپتال، ڈاک خانہ، گرجاگھر، جیل خانہ اور مطبخ، جانورخانہ، باغات، فوارے اور بہت کچھ تھا۔ میںاس زمانے کے اس فرنگی شہر میں گھوم گھوم کر کھنڈر بن جانے والے حصوں کو دیکھتا رہا اور سوچتا رہا، غدر میں کیسا گھمسان کارن پڑا ہوگا یہاں!‘‘

(خواب سراب، لکھنؤ، 2017، ص 202)

متذکرہ بالا پانچ ناولوں کی زمرہ بندی یہاں ’کلچرل ناول‘ کے طور پر کی گئی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہر اچھا ناول ایک گھنے جنگل کی طرح ہوتا ہے جس کی اندرونی ساخت کو سمجھنا، اس کے بنیادی تھیم تک پہنچنا اور کرداروں کی داخلی نفسیات کو پہچان پانا ایک دقت طلب اور تفصیل طلب مرحلہ ہے۔ ایک مختصر مقالے میں کسی اہم ناول کے ایک سے زیادہ پہلو کا احاطہ کرنا خاصا دشوار ہے۔ یہاں متذکرہ پانچ ناولوں میں پرانی جاگیردارانہ ثقافت کی نشاندہی کرنے کا مقصد صرف اس قدر ہے کہ ان کے مصنّفین پرانے کلچر کے تئیں ایک قسم کی ناسٹلجیا کے دباؤ میں تھے، جس کی بنا پر بار بار وہ معذرت آمیز لہجے میں سنہرے ماضی Glorious Past کا سہارا لیتے ہیں۔ گویا

ہمارے سر کی پھٹی ٹوپیوں پہ طنز نہ کر

ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں

تاہم ان ناولوں کو صرف کلچرل ناول قرار دے کر مباحثے کو ختم کردینا، ان مصنّفین کے ساتھ ناانصافی ہوگی کیونکہ یہ سبھی اردو کی نئی تخلیقیت کے نمائندہ شاہکار بھی ہیں اور پرانی ثقافت کے علاوہ پرانی اور نئی زندگی کے سیکڑوں گوشوں کو منور بھی کرتے ہیں اور ع

سفینہ چاہیے اس بحر بے کراں کے لیے


Prof. Khalid Ashraf

4414/7, Darya Ganj

New Delhi- 110002

Mob.: 8800489012

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...