4/4/24

کتابوں سے ہی ہوتی ہے تقدیر تابندہ

 

کتابوں سے نہ صرف ملکوں اور قوموں کی تصویر بدلتی ہے بلکہ تقدیر بھی سنور جاتی ہے اور ہمارے خوابوں کو نئی تعبیر بھی ملتی ہے۔ کتابیں اس روشنی کی مانند ہیں جو ہمارے باطنی وجود کو معطر اور منور کرتی ہیں اسی لیے ہر عہد میں کتابوں کی ضرورت محسوس ہوتی رہی ہے کیونکہ کتابیں ہی ہمیںتہذیبی، ثقافتی، تاریخی، علمی اور ادبی ورثے سے جوڑتی ہیں۔ اس ورثے کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ اسی لیے قومی اردو کونسل نے اپنی تاسیس سے لے کر اب تک اس علمی اور ادبی سرمایے کے تحفظ کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور اپنے اشاعتی سلسلے کے ذریعے گھر گھر علوم و فنون کی کتابیں عوام تک پہنچانے کا کام کررہی ہے۔

قومی اردو کونسل ایک ایسا ادارہ ہے جس نے ہندوستان جیسے کثیر لسانی معاشرے میں اردو کے علمی و ادبی سرمایے کی اشاعت اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس ادارے کی کچھ ایسی اسکیمیںبھی ہیں جن سے اردو زبان کی بقا اور تحفظ کے دروازے کھلے ہیں۔ اشاعت کے باب میں قومی اردو کونسل نے امتیازی نشانات مرتسم کیے ہیں۔  اس ادارے نے اب تک ادبیات، انسائیکلوپیڈیا ، لغات، تاریخ، تعلیم و تدریس، سوانح، مونوگراف، زبان و لسانیات، سائنس/ تکنیک/ جغرافیہ، سماجیات، سیاسیات، صحافت، طب و معالجات، فلسفہ، فنون لطیفہ، قانون، کتب خانہ داری و کتابیات، معاشیات/ تجارت، نفسیات، بچوں کا ادب پر  1400 سے زائد کتابیں شائع کی ہیںمگرکتابوں کی صحیح طور پر نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے اشاعتی تسلسل کو برقرار رکھنے میں بہت سی تکنیکی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ انہی اشاعتی دشواریوں اور دقتوں کے پیش نظر گذشتہ دنوں ’اردو کتابوں کی اشاعت اور فروغ کے نئے امکانات کی تلاش‘ کے عنوان سے ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا جس میں زیادہ تر شرکا اور مقررین نے کتابوں کی فروخت کے امکانات کی تلاش کے ساتھ عملی اقدامات پر بھی زور دیا۔  میٹنگ میں جو تجاویز پیش کی گئیں ان میں یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبا کی عملی حصے داری، سینٹرل اور ڈپارٹمنٹل لائبریریوں کے ذریعے کونسل کی کتابوں کی خریداری، نصاب (Syllabus) میں ریفرنس بک اور استفادی کتابیات کی حیثیت سے کونسل کی کتابوں کی شمولیت اور جامعات کے اردو شعبہ جات میں قومی اردو کونسل کی کتابوں کی نمائش اور نئی مطبوعات پر مذاکرے کا اہتمام قابل ذکر ہیں۔ میٹنگ میں یہ بات طے پائی کہ یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرز کو ترغیب دی جائے کہ وہ اپنے تعلیمی وظائف کا ایک حصہ کتابوں کے لیے ضرور مختص کریں اور اساتذہ کلاس روم لیکچرز میں طلبا کو مطالعے کی طرف راغب کریں۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ اساتذہ کے اندر بھی کتابیں خریدنے کا رجحان عام کیا جائے۔ قومی اردو کونسل چاہتی ہے کہ کالجز /اسکولز کے اساتذہ، طلبا اور محبانِ اردو بھی کتابوں کی فروخت کے سلسلے میں تعاون فرمائیں اور اپنے احباب اور اطراف واکناف میں لوگوں کو کتابیں خریدنے کی ترغیب و تحریک دیں تاکہ قومی اردو کونسل اپنے اشاعتی سفر کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھ سکے۔ قومی اردو کونسل یہ بھی چاہتی ہے کہ ہر علاقے میں مطبوعات کونسل کی نمائش اور فروخت کا اہتمام کیا جائے، اس سلسلے میں اردو کے اداروں اور تنظیموں کی معاونت کی بھی ضرورت ہے۔ اردو ادارے اورتنظیمیں کتابوں کی فروخت اور نمائش کے تعلق سے قومی اردو کونسل کو director@ncpul.in پر تجاویز ارسال کریں تو اس کو عملی جامہ پہنانے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی۔




https://www.urducouncil.nic.in/downloads/price-list-ncpuls-publication-0

https://www.urducouncil.nic.in/e-library/pdf-book

https://www.urducouncil.nic.in/e-library/ncpul-magazines

https://www.urdu-elibrary.com/home



3/4/24

’وجود کے ٹکڑے‘ اور نسیم اقتدار علی، مضمون نگار: عشرت ناہید

 

اردو ادب میں ڈاکٹر نسیم اقتدار علی ایک محقق، خاکہ نویس، افسانہ نگار کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کرتی ہیں ان کااہم تحقیقی کارنامہ ’تذکرہ شیخ غلام محی الدین عشق و مبتلا میرٹھی ‘ ہے جس پر انھیں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی جو کتابی صورت میں 1991 میں ’ تذکرہ طبقات سخن‘ کے نام سے منظر عام پر آیا ۔ ان کے مضامین کا مجموعہ ’دیدہ و شنیدہ اور خاکوں کا مجموعہ دھوپ چھائوں چہرے 2014 میں شائع ہو کرمقبول ہوئے۔ اس سے قبل ان کا افسانوی مجموعہ وجود کے ٹکڑے کے نام سے  2007میں منظر عام پر آیا۔ جس کے متعلق وہ حرف چند میں لکھتی ہیں :

’’حقائق کی عکاسی جزئیات کا تفصیلی بیان کرداروں کو دھڑکتی زندگی دینا بلکہ بعض کو زندہ و جاوید کر دینا، ماحول کو ہمنوا بنا نا، پس منظر میں رنگ آمیزی کرنا، زبان و بیان کے ذریعہ جادو جگانے اور قاری کو پوری طرح گرفت میں لے لینا یہ بڑے فنکاروں اور ادیبوں کا کام ہے۔ میں نے تو ایک چھوٹے سے کینوس پر کچھ خاکے بنائے ہیں۔ان میں مناسب و موزوں رنگ آمیزی مجھ سے نہ ہو سکی جس کا مجھے اعتراف ہے۔‘‘ 

نسیم اقتدار علی کے نزدیک کہانیاں لکھنا ایک ایسا فن ہے جو ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں کیونکہ زبانی کہانی سنانا آسان ہے اسے تحریری شکل دینے میں بہت سارے لوازمات کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ وہ یہ تمام باتیں وہ اپنے مجموعے میں حرف چند میں لکھ تو دیتی ہیں لیکن جب ہم ان کے افسانوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو درج بالا باتیں ہمیں ان کی طبیعت کی انکساری پر ہی محمول لگتی ہیں کیونکہ ان کے افسانے سماج کی بطور خاص متوسط طبقے کی زندگیوں کو جس خوبی کے ساتھ پیش کرتے ہیں وہ انھیں ایک اچھا افسانہ نگار ثابت کرتے ہیں۔

ان کے افسانوں میں زندگی کی سچائیاں اپنی تمامتر تلخیوں کے ساتھ نظر آتی ہیں، یہ کہانیاں دراصل وہ سچائیاں ہیں جنھیں انھوں نے آنکھوںسے دیکھا ہے جو ان کے شعور میں لا شعور میں محفوظ رہیں انہی کو صفحہ قرطاس پر جمع کر دیا ہے۔یہ معاشرتی کہانیاں قاری کو نہ صرف مختلف کرداروں کی حیات کار زار کی طرف متوجہ کرتی ہیں بلکہ قاری کے ذہن کو سوچنے پر بھی مجبور کر لیتی ہیں یہی ان افسانوں کی کامیابی ہے۔

ان کے اس مجموعے میں کل 16افسانے ہیں۔ ستاروں کے کھیل،آواگون، رشیدہ آپا، وجود کے ٹکڑے، روگ، پیار کی شبنم، شادی، سراب، سفر، چیخ، نظر بند، دیوار، بدلتے رنگ،جڑیں،پٹی گلی۔

اس مجموعے کا پہلا افسانہ ستاروں سے کھیل اور ’وجود کے ٹکڑے‘ تقریباً ایک جیسے موضوع پر ہیں  دونوں میں ہی محبت کے مثلث کی کہانی کو پیش کیا گیا ہے، ستاروں کے کھیل افسانے میں تین کردار ہیں نفیسہ،تکریم اور ارشد جن کا بچپن ایک ہی گھر میں گزرتا ہے لیکن ان تینوں میں فرق یہ ہے کہ ارشد ایک یتیم بچہ ہے جسے اپنے یتیم ہونے کا اور کسی دوسرے گھر میں رہنے کا احساس بھی ہے۔جسے افسانہ نگار کچھ یوں بیان کرتی ہیں :

’’ارشد بہت سمجھدار تھا وہ اس گھر میں اپنی حیثیت سمجھتا تھا،کھیل کود میں خوشی سے اپنی ہار مان لیتا بعض دفعہ  اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی بھی خندہ پیشانی سے برداشت کر لیتا وہ جانتا تھا کہ اس کا اور تکریم کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ ‘‘ (ص  12)

تینوں ساتھ ساتھ بڑے ہوتے ہیں تینوں کی دوستی کا مثلث ہے، دونوں ہی نفیسہ سے محبت کرتے ہیں لیکن  وہ تکریم کی قسمت میں ہے کیونکہ وہ تکریم کے ٹھیکرے کی مانگ تھی، نفیسہ کو نہ پا سکنے کا ذمے دار وہ اپنی غریبی اور یتیمی کو ٹھہراتا ہے،وہ ان کے گھر سے بنا کسی کو کچھ بتائے چلا جاتا ہے۔ لیکن وہ نفیسہ کی اڈوں سے کبھی نہیں نکل پاتا ہے یہاں تک کہ نفیسہ کی شادی تکریم کے ساتھ ہو جاتی ہے لیکن وہ تکریم کی قربت کے لمحوں میں ہمیشہ اپنے محبوب کو متصور کر لیتی یوں وہ اپنے شوہر کو اور اپنی زندگی کو بظاہر اطمینان بخش ظاہر کردینے میں کامیاب رہتی  ہے۔ نفیسہ اپنے محبوب کی محبت کو کبھی بھلا نہیں پاتی ہے،اور ایک دن جب وہ ملتا ہے تو اس کے روپ کو دیکھ کر وہ چونک اٹھتی ہے،ارشد نے اپنا حلیہ پوری طرح بدلا ہواتھا  ’’اس نے اپنے چہرے سے نقلی چہرہ اتارا تو نفیسہ کا سر اتنی زور سے چکرایا کہ اگر وہ کرسی کو مضبوطی سے تھام نہ لیتی تو لڑھک کر نیچے گر جاتی،ایک عرصے بعد ارشد کو اس طرح اپنے سامنے دیکھ کر وہ کانپ گئی۔ ‘‘ (ص   14)

نفیسہ نے جب اس کے حالات جاننا چاہے تو اس کے وجود کی پرتیں بھی کھلتی گئیں کہ وہ  نفیسہ سے شادی نہ ہونے پر اتنا بد دل ہوا کہ گھر چھوڑ کر جب نکلا تو غلط راہ پر پڑ گیا، اسے عورت ذات سے ہی نفرت ہو گئی  اور اس نے عورت کو ایک کھلونے کی طرح استعمال کرنے لگا، اس کے ذہن میں یہ بات بھی رہی کہ غربت کی وجہ سے بھی وہ اپنی محبت کو پا نہ سکا اس لیے دولت کو وہ ہر طرح سے کمانے میں لگ گیا، اور آخری روپ دیکھ کر نفیسہ کو ارشد سے محبت کرنے کے جرم میں خود سے ہی نفرت سی محسوس ہونے لگی ’’ اچانک وہ گھڑی دیکھتے ہوئے بولا ’’ارے بہت دیر ہو گئی۔مجھے ابھی پلین پکڑنا ہے ‘‘ اور اس نے جیب سے رنگین شیشوں والی عینک نکال کر لگائی یہ تیز روشنیاں اس کی چندھی آنکھوں کو اور بھی چندھیائے دے رہی تھیں اور پھر اس چہرے پر خوفناک مونچھوں کا اضافہ کر کے مسکرایا ’’اب مجھے اچھی طرح پہچان لو یہ ہے میرا اصلی روپ سریندر سنگھ مشہور زمانہ اسمگلر ‘‘ نفیسہ اتنے سال جس محبت کو گلے سے لگائے ہوئے تھی اس کے اس انجام پر دل برداشتہ ہو اٹھتی ہے،اس گھنائونے روپ کو وہ برداشت نہیں کر پاتی ہے اور اپنے عزیز شوہر تک سے دور ہو جاتی ہے لیکن پھر تکریم کی محبت اسے اپنی دنیا میں کھینچ لاتی ہے۔

افسانہ رشیدہ آپا  سماج کی اس دکھتی رگ کی طرف متوجہ کرتا ہے جہاں والدین جوان بیٹیوں کی طرف سے  لا پرواہ ہو جاتے ہیں، ان کی شادی کو اپنی ذمے داری یا فرض نہیں گردانتے ایسے میں  لڑکیاں گھٹ گھٹ کر یرقان میں مبتلا ہو جاتی ہیں یا پھر باغی ہو کراپنا راستہ خود چن لیتی ہیں۔ رشیدہ آپا خوبصورت نہیں ہیں  لیکن ہنر مند ہیں، انھیں زندگی کو بھر پور طریقے سے جینے کی اور زندگی  سے وابستہ ہر خوشی کو پانے کی چاہ ہے  لیکن ان کے والد جو کہ پروفیسر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں  نہ صرف بیٹی کی طرف سے بے نیازی برتتے ہیں بلکہ ہر طرح کی پابندی میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔رشیدہ آپا چونکہ جوان ہیں ان کے اندر خواب تمنائیں اور آرزوئیں بھی جوان ہیں  وہ ایک وقت تک تو اپنے ارمانوں کو دبائے رکھتی ہیں لیکن  پھر راستے نکال ہی لیتی ہیں اور ماں باپ کے حکموں کی پرواہ کیے بنا جینا شروع کر دیتی ہیں۔یہاں تک کہ وہ کسی بھی قسم کی روک ٹوک کو برداشت نہیں کرتی ہیں اور جہاں انھیں جانا ہوتا چلی جاتیں وہ چاہے سنیما دیکھنے جانا ہو کہ مارکیٹ یا پھر محلے میں کسی کے گھر۔ان کی ودستی گھر کے پیچھے کی طرف رہنے والی ساجدہ سے ہوتی ہے اس کے گھر بہت زیادہ میل جول بڑھتا ہے، ساجدہ کے حاملہ ہونے پر وہ اس کے گھر اور بچوں کی ساری ذمے داری اپنے سر لے لیتی ہیں اسی دوران دھیرے دھیرے اس کے شوہر شاکر علی خاں کے ساتھ بھی بے تکلف ہو جاتی ہیں اور جب ساجدہ زچگی کے لیے اپنے میکے جاتی ہے تب ان کے تعلقات شاکر علی کے ساتھ اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ محلے میں رسوائی ہی نہیں ہوتی بلکہ خود رشیدہ آپا حاملہ بھی ہو جاتی ہیں۔تب ان کے والدین کو ہوش آتا ہے اور شاکر علی خاں سے منت سماجت کر تے ہیں اور رات کے اندھیرے میں ہی ان کا نکاح کرکے رشیدہ آپا کو رخصت کر دیتے ہیں۔ ادھر جب ساجدہ کو اس بات کا علم ہوتا ہے تو وہ غصے سے بھری واپس آتی ہے اور رشیدہ آپا کو گھر سے نکالنے پر مصر ہوتی ہے تب شاکر علی ساجدہ کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ رشیدہ پہلے کی طرح تمھارے ساتھ سارے کام بھی کرے گی اور تمھارے بچے بھی سنبھالتی رہے گی لیکن جب ساجدہ کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا ہے تو ایک ہی بات ایسی کہہ دیتے ہیں کہ ساجدہ چپ ہو کر بیٹھ جاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’’اب چپتی ہے کہ نہیں سوکھی جھانکر بچہ کیا پیدا کرتی ہے چھ مہینہ پلنگ توڑتی ہے نہ کسی کام کی نہ مصرف کی۔دوسرا نکاح نہ کرتا تو کیا  دنیا زمانہ میں منہ کالا کرتاپھرتا۔ ‘‘

دراصل یہ افسانہ ایک مسئلے پر سے ہی پردہ نہیں اٹھاتا ہے بلکہ شاکر علی خاں کی زندگی کی اہم ضرورت جو کہ ان کی مدقوق بیوی پوری کرنے سے قاصر تھی اسے بھی بیان کرتا ہے۔یہ افسانہ والدین کی آنکھیں کھول دینے والا افسانہ ہے کہ اگر وہ صرف اپنی زندگی کو دیکھیں گے جیسا کہ رشیدہ آپا کے ابا نے کیا تھا  پہلے تو  وہ  اپنی دنیا میں مگن رہے جب ریٹائر ہوئے تو عبادت میں لگ گئے جسے طنزیہ انداز میں مصنفہ نے لکھا ہے :

’’رشیدہ آپا کے ابا نے شادی تو کر لی تھی لیکن اپنے مشاغل میں سے کسی ایک کو طلاق نہ دی۔ یونیورسٹی سے آکر وہ زیادہ تر باہر مردانہ میں اپنی لائبریری میں رہتے اور حمیدہ خالہ اندر دالان میں تخت پر دسیوں گٹھریوں، بغچیوں میں گھری خدا معلوم کیا ادھیڑا سیا کرتیں۔

خالو اب ملازمت سے ریٹائر ہو گئے تھے اور ملازمت سے کیا ریٹائر ہوئے جیسے دنیا ہی سے ریٹائر ہو گئے اور بس اللہ میاں سے ناطہ جوڑ لیا۔ہر وقت اوراوراد وظائف  میں مشغول رہتے جیسے اتنے دنوں تک اللہ میاں کو بھلائے رکھنے کا ازالہ کر رہے ہوں۔‘‘(وجود کے ٹکڑے )

رشیدہ آپا اس طرح کے ماحول میں جوان ہوتی ہیں  ان کے رشتے آنے پر بھی  شادی کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ تب جوان لڑکی بغاوت کا راستہ اختیار کر لیتی ہے کیونکہ فطری خواہشوں  پر قابو پانا کسی جہاد سے کم نہیں ہوتا۔ اسی طرح شاکر علی خاں کی بھی اپنی ضرورتیں ہیں جنھیں ان کی بیوی پورا نہیں کر پاتی ہے۔ اس افسانے میں مصنفہ نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ایک مرد اور ایک عورت کی نفسیات کو اجاگر کر دیا ہے۔بلا شبہ ان کا یہ افسانہ ایک بہترین افسانہ ہے۔   

 افسانوی مجموعے کا جو عنوان ہے اسی نام سے یعنی ’وجود کے ٹکڑے ‘عنوان سے بھی ایک افسانہ شامل ہے۔ جو کہ  ایک نفسیاتی افسانہ ہے جس میں ایک عورت کی باطنی کیفیات کو بڑی خوبی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مرکزی کردار خالدہ اپنی بارہ سال پرانی محبت کے حصار میں زندگی گزارتی نظر آتی ہے ایک ایسی محبت جو اسے نہ مل سکی لیکن وہ اس پر اتنی زیادہ طاری رہی کہ اس کی وجہ سے خالدہ اپنی اصل زندگی سے خوشیاں کشید نہیں کر پاتی ہے وہ اپنے آپ کو ایک مشین بنائے رکھتی ہے جو فیڈ کیے ہوئے کاموں کو کرتی رہتی ہے لیکن جذباتی طور پراس کے اندر اپنے سے وابستہ رشتوں کے لیے گرمجوشی نہیں ہوتی، ان رشتوں سے وہ بیزاری محسو س کرتی ہے جبکہ وہ رشتے اس کے ساتھ خلوص رکھتے ہیں۔ارشدجو کہ اس کا شوہر ہے وہ مشرقی روایتی  شوہر ہے جو نہ صرف اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے بلکہ بہت اعتماد بھی کرتا ہے جس کا اظہار افسانے میں خالدہ کی باتوں سے ہوتا ہے،خالدہ کے تین بچے ہیں،جن کے لیے وہ سب کچھ کرتی ہے ماں ہونے کے ناطے ان کی  ضروریات کا خیال رکھتی ہے شوہر کے فرائض بھی ادا کرتی ہے لیکن اس سب کو کرتے ہوئے اسے اپنی ذات کا اھورا پن ہمیشہ بے چین رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ان سب سے خوشیاں کشید نہیں کر پاتی ، ایسے میں ایک دن اچانک اس کے سابقہ محبوب اسلم کا فون آجاتا ہے وہ اسے ملنے کے لیے اپنے گھر بنا کسی خوف و تردد کے بلا لیتی ہے اور اسے شام تک اپنے گھر رکنے پر اصرار بھی کرتی ہے۔جبکہ اس کا دوست جو اس کے شوہر سے بھی واقف ہے اس کی جذباتیت سے گھبرا جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ارشد کی غیر موجودگی میں اس کا دیر تک رکنا مناسب نہیں لیکن خالدہ بضد رہتی ہے یہاں تک کہ اسے ڈرپوک تک کہہ د یتی ہے تب وہ کہتا ہے کہ : 

نہیں خالدہ یہ بات نہیں ہے تم خود سوچو اب تم ایک ماں ہو ایک بیوی ہو تمھاری پرسکون گھریلو زندگی ہے میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے تمھاری خوشیوں پر آنچ آئے۔ ‘‘(ص41)’’

تب خالدہ اپنے باطن کا حال بیان کر بیٹھتی ہے وہ یہ بھی بتا دیتی ہے کہ اب تک اس کے دل میں ارشد کے لیے کیسی امیدیں پل رہی ہیں۔

’’ خالدہ ایک دم سنجیدہ ہو کر بولی ’’ اسلم تم کیا جانو سکون کے لیے تو میں ترستی ہوں۔یہ تو شاید اب مجھے مر کر ہی نصیب ہوگا اور کبھی کبھی تو ڈر لگتا ہے کہیں قبر میں بھی ایسی ہی نہ تڑپتی رہوں۔رہی بات بچوں کی تو وہ ارشد کے بچے ہیں میں تو صرف انھیں پیٹ میں رکھنے کی گنہگار ہوں مجھے تو لگتا ہے کہ میں اب بھی وہی پہلی والی تمھاری خالدہ ہوں تم کسی دن آئوگے اور میں ارشد کا گھر اور بچے انھیں سونپ کر تمھارے ساتھ چل دوں گی ‘‘(ص41) 

اسلم بھی اس کی محبت کو بھولا نہیں ہے لیکن وہ ہوشمند ہے اس لیے اس کی جذباتی باتوں کے جواب میں خود پر قابو رکھتا ہوا  دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے چلا جاتا ہے۔ اس کے جانے کے بعد خالدہ کے جذبات میں مزید شدت پیدا  ہوتی ہے اوروہ بے تحاشا بلک بلک کر رو پڑتی ہے یوں اس کے اندر کا سالوں سے بھرا غبار بہہ نکلتا ہے۔اس کا وجود ٹوٹنے بکھرنے لگتا ہے اسے محبوب ملتا ہے لیکن اب بھی وہ اسے پا نہیں سکتی۔لیکن جب اس کے بچے اسکول سے گھر آتے ہیں ان کی محبت اسے دوبارہ حالیہ زندگی کی طرف لوٹا لاتی ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ اب تک سراب کے پیچھے دوڑ رہی تھی اس کی اصل زندگی تووجود کے ان ٹکڑوں میں نہاں ہے یہ خیال ہی اسے سکون عطا کر دیتا ہے۔

مصنفہ نے بڑی خوبی کے ساتھ ایک ناکام محبت کے دائرے میں محصور خالدہ کو زندگی کا ادراک کروایا ہے۔  اس کے ظاہر و باطن کی کشمکش کو کمال خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔اس افسانے کو ہم اصلاحی افسانہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو لڑکیاں اپنی حساسیت کی بنا پر زندگی کی سچائیوں کو قبول نہیں کر پاتی ہیں وہ درحقیقت اپنی خوشیوں کا اور اپنے سکون کا قتل کر رہی ہوتی ہیں۔ماضی کو بھول کر حال کو قبول کر لینا ہی زندگی کو آسان اور خوشنما بناتا ہے۔

   نسیم اقتدار علی کے ہر افسانے میں ایک ایسا موضوع ہے جو معاشرے کی ایک بڑی سچائی کوسمیٹے ہوئے  ہے۔ 

جڑیں ایک ایسا افسانہ ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ زندگی کی ساری خوشیاں اور ساری خوبصورتی اس کی جڑوں یعنی اس کے وطن میں ہی ملتی ہیں۔  جس کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ ایک جگہ سے اٹھ کر دوسری جگہ پر آباد ہو جانا آسان تو ہوتا ہے لیکن جب بڑھاپا آتا ہے تب احسا س ہوتا ہے کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ کہانی ایک بوڑھے کی جسمانی کیفیت کے بیان سے شروع ہوتی ہے کہ اب اس کی آنکھوں کی روشنی کم ہو چکی ہے وہ تو اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ زیادہ دور تک چل بھی نہیں پاتا۔ایک ایک قدم وہ بہت سنبھل سنبھل کر اٹھاتا ہے کیونکہ اسے احساس ہے کہ اگر وہ گر گیا  اور اگر کہیں کوئی ہڈی ٹوٹ گئی تو اس کی تیمارداری کرنے والا کوئی نہیں ہے تو اس کا کیا ہوگا۔یہ خوف اسے چلنے پھرنے سے روکے ہوئے ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ بالکل اکیلا ہے اس کی بیوی ہے لیکن وہ اپنی دنیا میں مگن ہے یہ کہانی تہذیبوں کی بدلتی صورت کا بھی آئینہ ہے۔ دکھاوا،نمائش کس طرح انسانی رشتوں پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ درج ذیل اقتباس اس کی بہترین منظر کشی کر دیتا ہے۔ 

’’ ایک ہاتھ میں خالی مگ تھامے،دوسرے ہاتھ سے زینے کی ریلنگ کا سہارا لیے وہ اپنے کمرے میں گیا، لباس تبدیل کیا اور تیار ہو کر دوسری منزل پر واقع کھانے کے کمرے میں لنگڑاتا ہوا داخل ہوا۔بائیں پیر کا گھٹنا اب بہت تکلیف دینے لگا تھا،بیگم شاہینہ سلطان قرمزی رنگ کی ساری اور بغیر آستین کا بلائوز پہنے اسی رنگ کی لپ اسٹک لگائے کافی اسمارٹ نظر آرہی تھیں، وہ ناشتہ ختم کر چکی تھیں،پلیٹ میں کانٹا چھری سیدھا سیدھا رکھ کر نیپکن سے ہاتھ پونچھتے ہوئے،ہیرے کی انگوٹھیوں کو برابر کرتی ہوئی مخاطب ہونے سے پہلے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورتے ہوئے بولیں :’’ ایک ڈگڈگی کی کمی ہے وہ بھی لے لیجیے بے پیسے کے تماشہ ہوا کرے گا۔‘‘ 

 شاہینہ کا برتائو مرکزی کردار کی بے چارگی کو قاری کے سامنے کھول کر رکھ دیتا ہے ۔یہ معاشرتی کہانی قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔مرکزی کردار اپنی جڑیں چھوڑ کر دوسری جگہ آبسا ہے جہاں تہذیب نے نئے رنگ اختیار کر لیے ہیں۔وہ عمر کے آخری پڑائو میںتنہائی کا شکار ہے، وہ باغبانی کر کے کسی نہ کسی طرح اپنا وقت گزارنا چاہتا ہے لیکن اس کی مغرب زدہ فیشن ایبل بیوی شاہینہ کو یہ سب اپنے اسٹیٹس کے خلاف لگتا ہے۔

’’یہاں گھر میں اللہ کا دیا کیا نہیں ہے، خانساماں، بیرہ، ڈرائیور اور چوکیدار سب ہیں لیکن ایک مالی نہ رکھنے کی آپ کی ضد ہے اور وہ بھی شاید مجھے جلانے کے لیے۔‘‘

جیسے جیسے اس کی عمر بڑھتی ہے اس کی آنکھوں کی بینائی اور سماعت دونوں کمزور ہوتی جاتی ہیں۔ اس کی اکلوتی بیٹی دور دیس میں ہے،بیوی کی جڑیں چونکہ اسی شہر میں ہیں اس لیے اسے تو کسی کمی کا احساس نہیں ہوتا، یہاں اس کے رشتے دار ہیں دوست ہیں  جن میں وہ مگن ہے، جبکہ وہ ملازموں کے رحم و کرم پر ہے ایسے میں اسے اپنا گائوں اپنا گھر یاد آتا ہے اور اسے احساس ہوتا کہ اس نے اپنی جڑوںکو چھوڑ کر بڑی بھول کی۔اسے یاد آتا ہے کہ بڑے بھیا نے اپنا گائوں اپنی جڑوں کو نہیں چھوڑا  وہ آج بھی آباد ہیں۔ نسیم اقتدار علی کا افسانہ قاری کو ماضی کی یادوں اور پچھتاوے کی دنیا میں لے جا کر چھوڑ دیتا ہے۔ 

  افسانہ شادی ایک نفسیاتی مریض کی زندگی بیان کرتا افسانہ ہے یہ افسانہ نہ صرف اس مریض کی حالت بیان کرتا ہے بلکہ ایسے لوگوں کے ساتھ سماج کتنا بے رحمانہ سلوک کرتا ہے اسے مصنفہ نے نہایت سچائی کے ساتھ پیش کر دیا ہے، سماج کی بے حسی پر یہ ایک گہرا طنز ہے۔ اس کا مرکزی کردار چھدو ہے جو کم ذہن ہے لیکن چونکہ جوان ہے اس لیے اس کے اندر تمام جذبات بھی ہیں، اس کے اندر جنسی جذبہ بھی موجود ہے اور زندگی کے دوسرے عوامل بھی کار فرما ہیں اس کی اس کیفیت کا اسی کے گائوں کے چند لوگ مذاق کا موضوع بناتے ہیں اور اس کی زندگی سے کھیل جاتے ہیں۔جب مْحلے میں بہت دنوں تک کسی قسم کی کوئی ہلچل نہیں ہوتی ہے، نہ کسی کا شادی بیاہ، نہ کوئی لڑکی بھاگی،نہ کوئی ناجائز اولاد گھورے پر ملی تو گائوں کے چند اوباش  تفریح کے لیے چھدو کو نشانہ بنا لیتے ہیں  یہیں سے افسانے میں وہ درد کی لہر یںچلنے لگتی ہیں جو سماج کے غلیظ چہرے کو قاری کے سامنے آہستہ آہستہ بے نقاب کرتی ہیں۔

دراصل چھدو اپنے بھائی کو اپنی  بیوی کے ساتھ دیکھتا ہے تو اس کے اندرفطری خواہشیں انگڑائی لینے لگتی ہے جس کی وجہ سے اس میں ہیجان پیدا ہوجاتا ہے اور اسے دورہ پڑ جاتا ہے۔  

جب بھی اس پر تشنجی کیفیت طاری ہو جاتی تھی  تب اس کی ماں اس کے سر پر ٹھنڈا پانی ڈال کر اسے نارمل کر دیتی تھی لیکن جب اس کے چھوٹے بھائی کی شادی ہوئی تو دلہن کو دیکھ کر اس پر پھر شدید تشنجی کیفیت  طاری ہوئی،اس کے منہ سے کف نکلنے لگا اور بے قابو ہو کر جب گرا تو چکی سے ٹکرانے کے باعث سخت چوٹ لگی  اس کی ماں بے حد پریشان ہوئی اور مدد کے لیے رحمت، جمعہ خاں وغیرہ کو بلا کر لائی۔ جب  چھدو ہوش میں آیا تو رحمت نے اس کی دکھتی رگ کو ہی مرہم بنا نے جیسی بات کہہ دی۔

’’ارے یار کیوں پریشان ہوتا ہے ذرا ٹھیک ہو جا ہم تیری شادی کرا دیں گے ‘‘رحمت کے یہ جملے چھدو کے لیے بہت کارگر ثابت ہوئے۔ رحمت  اپنی تفریح کی خاطر اپنی اسی بات کو پوراکرنے کے لیے قبرستان میں رہنے والی فقیرنی شبوسے کہتا ہے اور اسے شادی کے لیے تیار کر لیتا ہے۔

اپنی تفریح اور دل لگی کی غرض سے وہ یہ کھیل کھیل بیٹھتا ہے جس میں گائوں کے سارے اوباش شریک ہوجاتے ہیں اور مزہ لیتے ہیں۔

 مصنفہ اس کا تعارف ہی اس کی شادی کے لیے بنائے گئے حلیے سے کرواتی ہیں۔

’’وہ سفید چھالٹین کا کھڑکھڑاتا پائجامہ اور نیل سوسی کا کرتا پہنے تھا سر پر مخمل کی رام پوری ٹوپی تھی۔منہ پر سرخ رومال رکھے شرم سے دوہرا ہوا جارہا تھا۔اپنی مسکراہٹ دبائے ہوئے اب پھوپھی اماں بھی چبوترے پر نکل آئیں اور بظاہر ناراضگی سے بولیں۔اوئی توبہ یہ لونڈوں نے اس موئے کا کیا سوانگ بنایا ہے۔ارے شیطانو! اللہ کے غضب سے ڈرو کیوں دیوانوں کے منہ لگتے ہو۔خدا جانے اس دیوانگی کے پردے میں اس پر کس شے کاسایہ ہے۔‘‘(ص 60) 

لیکن لڑکے اس بات کا کوئی اثر نہیں لیتے ہیں۔

جمعہ خاں ’’گاجر کی پیندی گل خیرے کا پھول۔ کہو میاں دولہے تمھیں دولہن قبول ‘‘ کہہ کر اس کا نکاح پڑھا دیتے ہیں چھدو بہت خوش خوش اپنی ہی شادی کے بتاشے لوٹتا ہے،اسی ہنگامے کے دوران دولہن شبو کو بھی وہاں سے بھگا دیا جاتا ہے  اور تمام لڑکے بھی چلے جاتے ہیں چھدو کے دولہن کے بارے میں  پوچھنے پر کہہ دیتا ہے کہ اندر رخصت ہونے گئی ہے۔ اس کے بعدرحمت چھدو کے ساتھ وہ سفاکی کا کھیل کھیلتا ہے  جس کے انجام کا اسے خود بھی گمان نہیں تھا۔

’’شاگرد پیشہ کی ایک آسیب زدہ کوٹھری میں اندھی لالٹین  جل رہی تھی چھدو ازخود اندر چلا گیا ملگجی سی روشنی میں کھٹیا کا جھلنگا اسے چھپر کھٹ نظر آیااور مکڑی کے جالے جیسے پھولوں کی لڑیاں لٹکی ہوں۔وہ بہت خوش تھا اور سرخ لڑی نظروں میں بسی ہوئی تھی اتنے میں رحمت کو تنہا آتے دیکھ اس کی گدلی مچمچاتی آنکھوں  سے چنگاریاں نکلنے لگیں۔ اس نے لپک کر رحمت کا گریبان پکڑ لیا الفاظ کے بجائے منہ سے جھاگ نکلنے لگے۔‘‘

چھدوکی اس کیفیت سے رحمت ذرا ڈر سا جاتا ہے اور اسے کھانا کھانے کا کہہ کر دھوکے سے اسی کوٹھری میں بند کر زنجیر لگا دیتا ہے۔

اس کے بعد چھدو کی جو کیفیت مصنفہ نے بیان کی ہے وہ ہر حساس قاری کے دل کو لرزا دیتی ہے اور انسانیت پر سے یقین اٹھا دیتی ہے۔چھدو کھانا کھانے کے بعد دروازہ کھولنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام ہوتا ہے کیونکہ وہ  باہرسے بند ہے،دروازے پرمکے مار مار کر اس کے ہاتھ لہو لہان ہوجاتے ہیں اور چیخ چئخ کر آواز بھی بند ہو جاتی ہے، جس وقت وہ ذہنی معذور دروازہ پیٹتا ہے اور چیختا ہے اس کی بے بسی اور بے چارگی پررحمت اور اس کے ساتھی مزے لے رہے ہوتے ہیں۔یہاں مصنفہ کا قلم چھدو کی بے بسی اور بے چارگی کو بہت پر اثر الفاظ میں بیان کرتی ہیں۔

’’ آدھی رات کو اس کی چیخیں  مدھم ہوتے ہوتے تھم گئیں اور جب صبح کو دروازے کی زنجیر کھولی گئی اور رحمت نے ذرا سا پٹ ہٹا کر اندر جھانکا تو خود اس کی چیخ نکل گئی۔ سامنے زمین پر چھدو کی اکڑی ہوئی لاش پڑی تھی ‘‘ (ص 65  )

یہ افسانہ ہر حساس قاری کے دل ودماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے کہ انسان اتنا بھی سفاک ہو سکتا ہے یہ سوال اسے سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے ،ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اس رات اس کی ماں اور بھائی کہاں تھے اس کا جواب بھی قاری کے ذہن میں ابھر آتا ہے کہ کسی ناکارہ اور معزور انسان کو گھر والے بھی کب اہمیت دیتے ہیں،اس کی زندگی ان کے لیے بوجھ سی بن جاتی ہے کہاں ان کی پرواہ کی جاتی ہے۔جسے یہ جملہ واضح کر دیتا ہے ’’ یوں تو اسے کسی بات کی خبر نہ ہوتی وہ کون سا گھر میں رہتا تھا سارا دن گلیوں میں واہی تباہی پھرتا رہتا ‘‘یہ بات پورے سماج کی ذہنیت کی طرف اشارہ کردیتی ہے کہ اس قسم کے کرداروں کی زندگی کس طرح کی ہوتی ہے۔یہاں تک کہ ماں بھی ہر سال وبائی امراض پھیلنے پر جھولی پھیلا پھیلا کر اس  کے مرنے کی دعائیں کرتی ہے ’ اللہ پاک اب کی سے چھدو کی مٹی ٹھکانے لگا دے۔ارے کسی کی آئی اس کو سمیٹ لے جائے ‘‘ یعنی ایسے کرداروں کا وجود اس پیدا کرنے والی ذات کے لیے بھی ایسا بوجھ ہے جس سے وہ چھٹکارہ چاہتی ہے۔ 

  بلا شبہ یہ افسانہ اس مجموعے کا بہترین افسانہ ہے۔

اس مجموعے کے افسانے پڑھنے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ نسیم اقتدار علی نے اپنے افسانوں کا موضوع ان مسائل کو بنایا ہے جنھیں ہم بہت اہمیت نہیں دیتے لیکن وہ کہیں نہ کہیں زندگیوں پر اور معاشرے کے نظام پر اثرانداز ہوتے ہیں۔افسا نوں کی زبان انتہائی سادہ ہے اور یہی ان کے افسانوں کی خوبی قرار پاتی ہے وہ سیدھے سادے انداز میں اپنی بات کہہ جاتی ہیں اور قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ان کے افسانوں میں اودھ کی مٹتی تہذیب کے نوحے بھی ملتے ہیں اور زوال آمادہ معاشرے کی بدلتی تصویریں بھی جس کی مثالیں ان کے افسانے جڑیں، پٹی گلی اور نظر بند ہیں۔المختصر ڈاکٹر نسیم اقتدار علی کے افسانوں کا جائزہ لینے پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کے افسانوں کے موضوعات ہمارے معاشرے کے چھوٹے چھوٹے واقعات ہیں جنھیں انھوں نے فنی چابکدستی سے افسانوی رنگ عطا کر دیا ہے۔


Dr. Ishrat Naheed

Asst. Professor, Maulana Azad National Urdu University, Lucknow Campus

504/122 Tagor  Marg

Near Shabab Market, Daliganj  

Lucknow- 226 020 (UP)

Mob.: 09598987727


انجم عثمانی: حیات اور فن، مضمون نگار: سید وجاہت مظہر

معروف افسانہ نگار اور ٹیلی ویژن پروڈیوسرانجم عثمانی کی ولادت 8 اکتوبر 1952 میں دیو بند کے ایسے دینی خانوادے میں ہوئی جس کا شمار دار العلوم کے بانیوں میں کیا جاتاہے۔ انھوںنے وہیں عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں انھوںنے جامعہ اردو، علی گڑھ سے ادیب کامل کا کورس کیا۔  اس کے بعد وہ دہلی آگئے جہاں انھوں نے ذاکر حسین کالج سے بی  اے  (آنرس ) کیا او ر پھر دلی یونیورسٹی سے اردو میں ایم  اے کیا۔ جب جے این یو کے شعبۂ اردو میں ماس میڈیا میں ایک نیاڈپلوما کورس شروع کیا گیا تو انجم عثمانی نے اس کورس کے اولین بیچ کے طالب علم کے طور پر’ایڈوانس ڈپلوما اِن ماس میڈیا اِن اردو ‘کا سر ٹیفکیٹ حاصل کیا۔ اس زمانے میںذرائع ابلاغِ عامہ پر یہ ایک جدید ترین کورس تھا اور اسی کی بِنا پر انھیں یو پی ایس سی کے ذریعے پروگرام ایگزیکیو ٹیو کی پوسٹ پر تقرری ملی۔ 

دلی دور درشن کے اردو میگزین پروگرام ’بزم‘کے پروڈیوسر کے طور پر انجم عثمانی نے ملک گیرسطح  پر اپنی شناخت قائم کی۔ بطور اردو پروگرام آفیسر، ان کی تقرری آکاش وانی و دوردرشن کے لیے ہوئی تھی، جہاں وہ اپنی سبکدوشی تک دہلی دورشن ہی سے وابستہ رہے۔ دیگر اہم منصبی فرائض کی ادائیگی کے ساتھ اپنی بنیادی کارکردگی یعنی اردو کے پروگراموں کی تشکیل کی ذمے داری سے وہ کبھی غافل نہیں ہوئے۔  علاوہ ازیں  انھوںنے کئی افسانے تخلیق کیے۔ ان کے افسانوی مجموعے بعنوان ’شب آشنا ‘ (1978)، سفر در سفر(1984)، ٹھہرے ہوئے لوگ (1995) اور کہیں کچھ کھو گیا (2011) میں منظر عام پر آئے۔ انجم عثمانی بحیثیت افسانہ نگار نہ صرف اپنے  ہیئتی تجربوں اور موضوعاتی تنوع کے لحاظ سے کامیاب فنکار تسلیم کیے جاتے ہیں بلکہ حقیقت نگاری کے فن اور تکنیک سے بھی وہ کما  حقہٗ  واقف رہے ہیں۔ تقریباً  نصف صدی سے موصوف افسانہ نگاری کے میدان میںسرگرم عمل رہے اور اپنے ہم عصر افسانہ نگاروں کے درمیان انھوں نے ایک مخصوص پہچان بنائی۔اس صنف میں وہ اختصار گوئی سے کام لیتے رہے۔ لہٰذا، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مختصر افسانہ نگاری کے معیارکوبلند ی عطاکرنے میں انجم عثمانی نے قابلِ ستائش کردار نبھایا ہے۔ 

شب آشنا  : اپنے پہلے افسانوی مجموعے ’شب آشنا‘  میں وہ اپنی شخصیت اور فن کا تعارف بذاتِ خود کراتے ہیں۔ دیباچے کے طور پر کتاب کے آغاز میں انھوں نے اپنا ایک مضمون بعنوان ’میں اور میرے افسانے‘ شامل کیا ہے، جس میں وہ فخر کے ساتھ دیو بند کے ایسے ذی علم خانوادے میں اپنی ولادت کا  ذکر کرتے ہیں  جس میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن، مولانا حبیب الرحمٰن، مولانا مفتی عزیز الرحمٰن، مفتی عتیق الرحمٰن، مفتی فضیل الرحمٰن، مفتی ٔ اعظم ہلال عثمانی، مولانا عامر عثمانی،مسعود جاوید، کفیل الرحمٰن نشاط، شمیم عثمانی اور شمس الحق عثمانی جیسے یکتا  و یگانۂ روزگار اشخاص شامل تھے۔انجم عثمانی لکھتے ہیں:

’’علمی دنیا کے اس معروف اور با فیض شجرہ ٔ نسب کے سائے تلے میں انگلی پکڑ کر چلنے کے قابل ہوا تو خاندانی روایت کے مطابق دار العلوم دیو بند میں داخل کر دیا گیا۔ دار العلوم سے فارسی و عربی کی سند ِ فضیلت حاصل کرنے کے بعد مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے کسبِ علم کیا  اور پھر دہلی کالج (ذاکر حسین کالج ) میں زیر ِ تعلیم رہا اور اب مرکزی وزارت ِتعلیم حکومتِ ہند کے ترقی اردو بیورو سے وابستہ ہوں۔‘‘   

(شب آشنا، انجم عثمانی، محبوب پریس دیو بند، یو پی،  1977)

انجم عثمانی کے اس افسانوی مجموعے میں شامل زیادہ تر افسانے مختلف رسائل میں شائع ہو ئے  یا آل انڈیا ریڈیو پر بروڈ کاسٹ ہوئے ہیں۔وہ ادبی نظریات سے وابستگی کی بنیاد پر ادب کی تقسیم کے قائل نہیں تھے۔ وہ اپنے افسانوں کا سچا نقاد ان قارئین کو مانتے  تھے، جنھوں نے انھیں افسانے لکھتے رہنے پر آمادہ  رکھا۔ وہ لکھتے ہیں:

’’میں نے اس میں اپنی زندگی کے تقریباً ہر دور کے افسانے شامل کیے ہیں۔ اس دور کے بھی جب ’آگ کا دریا‘  کے بیس صفحے پڑھ کر بے اعتنائی سے کتابوں کے پیچھے  اسے  رکھ دیا تھا  اور اس  دور کے بھی جب بہت سی بے پڑھی  چیزیں  پڑھی ہوئی  معلوم ہونے لگیں۔ 

ادبی نظریے کے اعتبار سے میں ادب کو وابستگی اور ناوابستگی وغیرہ کے خانوں میں تقسیم کرنے کا قائل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مجموعے میں وہ انسان بھی شامل ہیں  جن کو نقاد موضوعاتی کہتے رہے ہیں اور وہ بھی جن پر تخلیق کی کھائیاں عبور نہ کر سکنے والے نقاد ماتھے پر بل ڈال لیتے ہیں۔ ایسے نقاد کے ماتھے کی شکنوں سے میں نے کبھی اثر نہیں لیا۔ میرے لیے  میرے افسانوں کا سچا نقاد وہ قاری ہے جس نے مجھے لکھتے رہنے پر آمادہ رکھا۔ ‘‘  

( شب آشنا، انجم عثمانی، محبوب پریس دیو بند، یو پی، 1977 ،ص 8)

’شب آشنا‘ میں انجم عثمانی نے جو کہانیاں شامل کی ہیں ان کے عنوانات یہ ہیں:  سرابوں کے سفیر، شریر کے انگ، سب سے بڑا سچ، ایک لمحہ درمیاں ہے، آپی، اپنی ہی آگ میں، سانجھ کے پنکھ، جو بات تجھ میں ہے۔ ناسور، جیت، گناہ کی واپسی،حل، مکتی، آخری نوٹ، لمحوں کی سوغات، آدمی، پانچویں سمت، زرد سایہ  اورشب آشنا۔

سفر د ر سفر :  ’ سفردر سفر‘  میں انجم عثمانی کے انیس افسانے شامل ہیں۔ اس کتاب کے تعارف نامے میں ڈاکٹر شمس الحق عثمانی لکھتے ہیں:

 ’’ یہ افسانے ایک  ایسے ذہن کا خاکہ ہیں جو اپنے اطراف و جوانب کے حال- احوال - اور ماضی سے بیک وقت وابستہ ہے اور اطراف و جوانب کے حال و احوال اور ماضی سے ایک ایسی تشنگی اورایسی الجھن محسوس کرتاہے جو کسی مختلف یا گمشدہ نقطہ ٔ سفر کی جستجو یاشناخت پر آمادہ کرتی ہے۔ ‘‘

   (سفر در سفر، انجم عثمانی،کتب خانہ محمودیہ دیو بند،یوپی، 1984،ص9)

انجم عثمانی کے افسانوی مجموعے ’سفر در سفر‘  کے آغاز میں پروفیسر گوپی چند نارنگ رقمطراز ہیں:

’’ انجم عثمانی  اردو کے نئے کہانی کاروں میں خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ وہ لفظ کی قدر و قیمت جانتے ہیں اور زبان کا بے جا اسراف نہیں کرتے۔ بہت مختصر لکھتے ہیں اور کہانی میں ارتکاز پر نظر رکھتے ہیں۔

ایک کہانی وہ ہوتی ہے جو نظروں کے سامنے چلتی ہے،ایک کہانی وہ ہوتی ہے جو باطن میںچلتی ہے انجم عثمانی کی کہانیاں سوچ کی تار سے بندھی ہوتی ہیں اور زندگی کی پیچیدگیوں سے نبرد آزما  ہونے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ سہل نگاری کے اس دور میں مسائل کو لے کر چلنا معمولی کام نہیں ہے۔ امید ہے پڑھنے والوں کو بھی یہ کہانیاں سوچنے پر مجبور کریں گی۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ، شعبۂ  اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی۔9ستمبر 1984‘‘   

(سفر در سفر، انجم عثمانی،کُتب خانہ محمودیہ دیو بند،یوپی، 1984، ص 2)

انجم عثمانی کے افسانوی مجموعے  ’ سفر در سفر‘  میں ان کے یہ افسانے شامل ہیں:  منظر ابھی نہیں بدلا، ایک ہاتھ کا آدمی، نسل در نسل، گھنٹے والے بابا، مقتل، پانی، پانی ریت، ٹھہرے ہوئے لوگ،کھوکھلی راہوں کا مسافر، بارش وہ اور میں، انقلاب گزیدہ، طے شدہ سمت کے مسافر، محافظ، پہچان کے زخم، بند کتاب، تخلیق، پانچویں سمت، آدمی، پناہ گاہ  اور  ایک لمحہ درمیاں ہے۔  یہاں انجم عثمانی نے بڑی فنکارانہ مہارت کے ساتھ گاوؤںا ور قصبوں کی فضا،متوسط طبقے کی روزی روٹی اور تعلیم کے لیے دیہی علاقوں سے شہری بستیوں کی جانب ہجرت، مسلمانوں کے سماجی و نفسیاتی مسائل، دیہی اور شہری اقدار و تمدن کی تفریق، امیری و غریبی کے مابین  بڑھتی خلیج  اور انحطاط پذیر معاشرتی  صداقتوں کو  اپنے افسانوں کا موضوع بنایاہے۔ 

ٹھہرے ہوئے لوگ :  ’ٹھہرے ہوئے لوگ‘ ان کا تیسرا  افسانوی مجموعہ ہے جو 1998میں منظر عام پر آیا۔  اس میں انھوں نے اپنے اکیس افسانے شامل کیے ہیں، جن کے عنوانات یہ ہیں۔ شہرِ گریہ کا مکیں، پیر بھائی، برزخ، چھوٹی اینٹ کا مکان، ایک ہاتھ کا آدمی، ٹھہرے ہوئے لوگ، کھوکھلی راہوں کا مسافر،  منظر ابھی نہیں بدلا، جو بات تجھ میں ہے، بارش،وہ اور میں،  پہچان کے زخم، زنجیر بدل جاتی ہے، آپی، جیت، گھنٹے والے بابا، پناہ گاہ،  ایک لمحہ درمیاں ہے، فریب گزیدہ، گمشدہ تسبیح ، کبوتروں بھرا آسمان، ورثہ۔

انجم عثمانی کی کہانی ’شہر گریہ کا مکیں ‘فسادات کا ایسا منظرنامہ پیش کرتی ہے جس کا دائرہ شہروں سے نکل کر قصبوں اور دیہاتوں تک پھیل چکا ہے۔ یہ کہانی گنگا جمنی تہذیب کی پاش پاش ہوتی روایات کا المیہ پیش کرتی ہے۔ انھوں نے اپنے افسانے ’ ٹھہرے ہوئے لوگ ‘ میں بتایا ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے دیہاتوں اور قصبوں کے جن افراد کو شہر جانا پڑتا ہے  وہ عموماً واپس لوٹ کر اپنے گاؤں قصبے نہیں آ پاتے ہیں۔ اس طرح ان کا گاؤں یا قصبہ ان کی تعلیم و ترقی سے فیض نہیں اٹھا پاتا ہے۔  وہ نئی نسل سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی آبائی روایات سے قطع تعلق نہ کریں گے بلکہ اپنی قصباتی روایات سے وابستہ چیزوں کے تحفظ کے لیے بھی فکرمند رہیں گے۔  اس افسانے میں انھوں نے دیہی اور شہری زندگی کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے۔ 

انجم عثمانی کے افسانے ’گھنٹے والے بابا ‘  میں بھی دیہی ماحول پیش کیا گیا ہے۔ اس افسانے میں گھنٹے کی آواز عید، موت اور حادثے کی خبر دینے کا وسیلہ ہوتی ہے۔ گھنٹہ بجا کر لوگوں کو اکٹھا کرکے اطلاع بہم پہنچانے کا یہ دلچسپ دیہی نظام تھا۔عید کے موقعے پر پورے گاؤں کی ہلچل اور زندگی کی گہما گہمی اسی گھنٹے کے ارد گرد نظر آنے لگتی تھی۔چاند رات کی خوشی گھنٹہ بجانے سے دوبالا ہوجاتی تھی۔ قصبے میںان تہواروں پر بچوں کا جوش و خروش اور خواتین کی سرگرمیاں اسی گھنٹے کی آواز کے ساتھ منسلک ہو گئی تھیں۔ ’گھنٹے والے بابا‘ سے مندرجہ ذیل اقتباس پیش خدمت ہے :

’’  بچپن میں ہماری طرح شاید آبادی کے ہر معصوم دل میں یہ خواہش ہچکولے لگا لیتی کہ وہ بھی گھنٹہ بجائے مگر بابا تو زینہ بند رکھتے، پھر کیسے اوپر جا کر اپنی خواہش کی تکمیل کی جا سکتی تھی۔ بابا ہمیشہ گھنٹے تک پہنچنے کا واحد زینے کا دروازہ بند رکھتے، سوائے اس رات کے جب عمارت کی چھتوں سے لوگ رات کو آسمان پر چاند ایسے تلاش کرتے  جیسے کھوئی ہوئی اولاد کو یا انجانے صحرا میں بھٹکا ہوا پیاسا پانی کو۔ اس رات با با  زینہ اندر سے بند نہ کرتے اور آبادی کے نہ جانے کتنے لوگ جن میں بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی، گھنٹے کے اردگرد جمع ہوجاتے اور باری باری سے موسلی ہاتھ میں لے کر گھنٹہ پیٹتے ، چنانچہ بہت دیر تک گھنٹہ رک رک کر بجتا رہتا اور ولولہ انگیز موسیقی کا لطف دیتا۔ اس رات گجر کی آواز سے بستی کا چپہ چپہ گونجنے لگتا۔ بازاروں اور گلیوں محلوں میں لوگوں کی چہل پہل بڑھ جاتی۔ بچے اپنے نئے کپڑوں اور شیرینی کے لیے مچلنے لگتے۔ عورتیں زور زور سے باتیں کرتی ہوئی گھروں کے کام جلدی جلدی نپٹانے لگتیں۔ دالانوں اور باورچی خانوں میں چوڑیوں کی کھنک گونجنے لگتی۔ چاند آسمان سے اُتر کر ہونٹوں پر مسکن بنا لیتا۔ کچی چھتوں کے نیچے رہنے والے معصوم اپنے آنسو پونچھ ڈالتے اور مسکراہٹوں کے اس جھرمٹ میں جگہ بنا نے لگتے جس سے وہ سارے سال محروم رہتے یا رکھے جاتے۔ ہم بھی اس مجمع میں شامل ہوتے اور گھنٹہ بجا کر محسوس کرتے کہ آج کا چاند ہماری ہی وجہ سے نکلا ہے۔ ‘‘

(  افسانہ ’گھنٹے والے بابا ‘ اقتباس ماخوذ از افسانوی مجموعہ ’ ٹھہرے ہوئے لوگ‘ ، انجم عثمانی، تخلیق کار پبلشرز،دریاگنج،نئی دہلی، 1998، صفحات 136-137)

اگرچہ انجم عثمانی نے کچھ علامتی افسانے بھی تحریر کیے ہیں لیکن ایسے افسانوں میں بھی ترسیل کا مسئلہ نہیں رہاہے۔ وہ  اپنے زیادہ تر افسانوں میں ایک مخصوص آمادہ بہ زوال تہذیب کی داستانیں بیان کرتے ہیں۔گوپی چند نارنگ نے  اپنے مضمون بعنوان ’ مدرسے اور مولسری کے پیڑ سے لگی کہانی‘  میںاس افسانوی مجموعے کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے، جو اس کتاب میں شامل ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

 ’’ ان کہانیوں کی بغور قرأت سے اندازہ ہوگا کہ ان کی کہانی بتدریج  فنی تکمیل کے مراحل طے کرتی رہی ہے۔ انجم عثمانی کے پاس زبان تو ہے ہی کہانی بُننے کے عمل میں انھوں نے جو دسترس حاصل کی ہے ،  اس کی بدولت ان کی کہانیاں  اپنی معنویت اور معاشرتی فضا کی وجہ سے  توجہ کا استحقاق رکھتی ہیں، ہنوز وہ توجہ ان پر کی نہیں گئی، سطور ذیل کا مقصد یہی ہے کہ مختصراََ ہی سہی، دیکھا جائے کہ انجم عثمانی کی فنی شناخت کیا ہے، ان کے مسائل اور محرکات کیا ہیں، انھوں نے کیا دنیا خلق کی ہے اور ان کے کرداروں کے درد کی داستان کیا ہے ؟  

اکثر فنکاروں کے فن میں ان کے کینوس کا  بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز کو وسیع پیمانے پر لیتے ہیں۔ زمین، آسمان، انسان، زمانے، ہر شے صدیوں پر پھیلی اور وقت کے بہاؤ  میں شامل ہوتی ہے۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو باریک بینی سے کام لیتے ہیں گویا چاول کے دانے پر قل ہو اللہ لکھتے ہیں  یا منی یٔچر بناتے ہیں۔ان کے یہاں ہر چیز چھوٹے پیمانے پر ہوتی ہے لیکن واقعاتی اس درجے کہ انگوٹھی کا نگینہ بھی دکھائی دے۔ انجم عثمانی اختصار نویس ہیں، وہ چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھتے ہیں، لیکن واقعیت اور معاشرتی صداقت سے گٹھی ہوئی۔ اپنے ہم عمروں میں اختصار اور  اجمال  اور کفایت ِ لفظی ان پر ختم ہے۔ وہ اس دنیا میں سرے سے داخل ہوتے ہی نہیں جسے انھوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں اس کھرے پن اور درد و داغ کی بنا پر کہتے ہیں، جس کے پُلِ صراط کو خود انھوں نے طے کیا ہے۔‘‘ 

(ٹھہرے ہوئے لوگ، انجم عثمانی، تخلیق کار پبلشرز،دریاگنج،نئی دہلی، 1998صفحات 11-12)

کہیں کچھ کھو گیا ہے :  انجم عثمانی کے افسانوں کا چوتھا مجموعہ بعنوان ’ کہیں کچھ کھو گیا ہے ‘  2011 میں منظر عام پر آیا۔ یہ 144 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے آغاز میں انجم عثمانی نے اپنی زندگی اور فن پر 22 صفحات پر مشتمل ایک طویل مضمون بعنوان ’ کہانی مجھے لکھتی ہے‘  شامل کیا ہے جو ایک طرح سے  ان کے خود نوشت سوانحی مضمون کا درجہ رکھتا ہے۔  اس کتاب پر انجم عثمانی کی افسانہ نگاری پرجوگیندر پال، سید محمد اشرف اور قاسم خورشید جیسی اردو فکشن کی مایہ  ناز ہستیوں کی مختصر آرأ شامل ہیں۔  معروف ناول و افسانہ نگار جوگیندر پال لکھتے ہیں:  

’’ انجم عثمانی نے اردو فکشن کو نئی فضا،  نیا ماحول دیا ہے۔ ان کی کہانیوں میں میجیکل ریلزم کا عنصر نمایاں ہے۔ کئی کہانیاں پُراسرار مدرسہ لائف کا خوبصورت اشاریہ ہیں۔  ‘‘ (کہیں کچھ کھو گیا ہے )

اس افسانوی مجموعے میں انجم عثمانی کے جو افسانے شامل ہیں ان کے عنوانات یہ ہیں۔اغوا، صدقہ، بُک شلف، جنگل، ڈھلواں چٹان پرلیٹا ہوا آدمی، مشاعرہ جاری ہے، سمینار جاری ہے، جشن جاری ہے، کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے، دو منہ والا سانپ،چھنگا، کہیں کچھ کھو گیا ہے  اور زنجیر کا نغمہ (ڈرامہ)۔ اس کتاب کے آخر میں عابد سہیل، شوکت حیات اور مختار شمیم جیسے اہم ادبی اشخاص نے انجم عثمانی کی افسانہ نگاری پر اپنے تاثرات رقم کیے ہیں۔

 عابد سہیل  لکھتے ہیں:

’’ صاف اور شستہ زبان ، واقعات کا فطری بہاؤ، ڈرامائیت کرنے سے گریز ، تکنیک ایسی جو اصل کہانی پر بالا دستی حاصل نہیں کرتی اور چھوٹے چھوٹے جملے انجم عثمانی کے افسانے کی اضافی خوبیوں میں شامل ہیں۔ ‘‘

 پس یہ کہا جا سکتا ہے کہ دیہی زندگی کی مرقع سازی انجم عثمانی کی افسانہ نگاری کی بنیادی شناخت بنی۔قصباتی زندگی کی اقدار میں آنے والی تبدیلیاں، زوال پذیر انسانی معاشرہ، قصبوں میں خستہ حال حویلیوں اور ان کے مکینوں کی زبوں حالی، اقلیتوں  کے مسائل، گنگا جمنی تہذیب کے بکھرتے شیرازے  اور فسادات سے پیدا شدہ صورت حالات، ان کے افسانوں  میں حقیقت پسندانہ رنگ و آہنگ کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔   

انجم عثمانی کے افسانے اور تجزیے :  انجم عثمانی کی حیات و فن پر ڈاکٹر عقیل احمد نے ’انجم عثمانی کے افسانے اور تجزیے‘ عنوان سے ایک کتاب ترتیب دی جسے فیصل اینٹرنیشنل،نئی دہلی نے 2019 میں شائع کیا۔اپنی اس مرتبہ کتاب میں وہ رقمطرازہیں:

’’ اس مجموعے میں انجم عثمانی کی وہ کہانیاں ہیں جن سے ان کے فن کی شناخت قائم ہوئی ہے۔ اختصار نویسی اور ایک خاص تہذیبی فضا کے درد کو بیان کرنے والے افسانہ نگار کے طور پر انھیں پہچانا گیا، اس موضوع کو نہ ان سے پہلے کسی نے اپنایا،  نہ بعد میں۔ ‘ ‘  یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس کتاب میں پروفیسر گوپی چند نارنگ نے  انجم عثمانی کے افسانے ’ورثہ‘ کا خصوصی طور پر تجزیہ کیا تھا۔پروفیسر علی احمد فاطمی نے بھی انجم عثمانی کی افسانہ نگاری پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے افسانوں میںگمشدہ تہذیب کے اوراق بحسن و خوبی پیش کرتے رہے ہیں۔ دور حاضر کے معروف افسانہ نگار مشرف عالم ذوقی، انجم عثمانی کی اختصار نویسی کے قائل رہے ہیں۔ علاوہ ازیں افسانہ ’ شہر گریہ کا مکیں‘ کا تجزیاتی مطالعہ رتن سنگھ،  افسانہ ’ جنگل‘ کا تجزیہ ڈاکٹر نگار عظیم، افسانہ ’پیر بھائی‘  کا تجزیہ شوکت حیات، ’مشاعرہ جاری ہے‘ کا تجزیہ ثروت خان، ’ایک ہاتھ کا آدمی‘ کا تجزیہ سلیم شہزاد،  افسانہ ’ اغوا‘ کا تجزیہ پروفیسر علی احمد فاطمی نے کیا ہے ۔اس کتاب کے توسط سے بطور افسانہ نگارانجم عثمانی کی شخصیت اورفن پر بھرپور  روشنی  ڈالی گئی ہے اور ا ن کے خیالات اور افکارکی  اہمیت وافادیت واضح کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے  یہ کتا ب  ان کے ذہنی  رجحانات،  خیالات و  افکار اور تخلیقی جہات کی افہام و تفہیم میں ممد ومعاون ہے۔

’ شگفتگی کی تلاش میں‘  یہ انجم عثمانی کی  طنز ومزاح  پر مبنی تحاریر کا مجموعہ ہے، جو  2015  میں شائع ہوا۔اس مجموعے کے مقدمے کو انھوںنے پیش لفظ کے بجائے ’پس وپیش لفظ‘ عنوان دیا ہے۔ وہ ’ پس و پیش ‘ کی ابتدا  اس طرح کرتے ہیں:

’’ پس و پیش بلکہ زیر و زبر میں ہوں کہ کیا عرض کروں۔ عرض کرنا اس لیے ضروری ہے کہ اکثر مجموعوں سے پہلے مصنف یا مصنف کے بارے میں عرض کرنے کی روایت بھی ہے اور ضرورت بھی۔ بلکہ بعض مجموعے تو تصنیف ہی اس لیے کیے جاتے ہیں کہ ان پر مقدمہ یا پیش لفظ لکھا جا سکے۔ مقدمہ اور پیش لفظ قسم کی چیز میں روایتی طور پر یہ آزادی ہے کہ مقدمہ نگار کا مصنف ہونا بھی ضروری نہیں ہے بلکہ اردو میں تو بہت سے ادیب مقدمہ بازیوں کے وجہ سے ہی مشہور ہیں۔ ہم ذاتی طور پر ایسے کئی ناقدوں کو جانتے ہیں جنہوںنے مختلف قسم کے مقدمے پہلے سے ہی لکھے ہوئے ہیں اور یہ اس انداز سے لکھے ہوتے ہیں کہ کتاب نثر کی ہو یا نظم کی، تخلیق ہو یا تحقیق ان کے مقدمے ہر تصنیف پر ایسے فِٹ آتے ہیں جیسے اسی تصنیف کے لیے ہی تحریر کیے گئے ہوں۔ ایسے’ کثیر الجہات ‘  مقدمے اس ریڈی میڈ فری سائز لباس کی طرح ہوتے ہیں جو سب کے فِٹ آجاتے ہیں اور اگر کسی کے فِٹ نہ آئے تو اس میں لباس کے سائز سے زیادہ پہننے کی کوشش کرنے والے کے سائز کا قصور ہوتا ہے۔ ‘‘

(  شگفتگی کی تلاش میں طنز و مزاح، انجم عثمانی،شیروانی آرٹ پرنٹرس، بلی ماران، نئی دہلی،  2015،ص 7)

حیدرآباد سے شائع ہونے والے ماہنامے’ شگوفہ ‘ میںپروفیسر خالد محمود نے انجم عثمانی کا بطور انشائیہ نگار بڑا دلچسپ خاکہ کھینچا ہے۔ خاکے کی سرخی میں وہ انھیں ’’مولوی انجم عثمانی دیوبندی ثم دہلوی عفی عنہ ‘‘  لکھتے ہیں۔ اس مضمون میں خالد محمودانجم عثمانی کی شخصیت اور فن کو مندرجہ ذیل الفاظ میں خاکے کی شکل عطاکرتے ہیں:

’’انجم عثمانی کی تحریریں انشائیہ سے زیادہ قریب ہیں۔ ان کے یہاں طنز کم اور مزاح جسے لطافت اور ظرافت کہنا چاہیے،  زیادہ ہے۔ ایک تو یہ کہ ان کے سارے موضوعات دیکھے بھالے بلکہ آزمودہ ہیں۔ دوسرے انھوں نے طنز و مزاح کے معروف حربوں میں رعایت لفظی، جملے بازی، تکرار، بذلہ سنجی، بریکٹ اور لطیفہ گوئی سے کام لیتے ہوئے فرضی اور بے نام کردار بھی تخلیق کیے ہیں اور اکثر تخلیق کیے ہیں۔ مرکبات  وضع کرنے میں بھی ذہانت اور ذکاوت کا مظاہرہ کیا ہے مگر چوں کہ بنیادی طور پر وہ انشائیہ نگار ہیں اور ساتھ ہی افسانہ نگار بھی جو ان کی ایک اضافی خوبی ہے اس لیے وہ ذہنی ترنگ کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ افسانہ نگار کا تخیل ان کی مدد کے لیے ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔ ان دونوں کے اشتراک سے جو انشائیے وجود میں آئے ہیں ان میں ہلکے جاڑے کی دھوپ جیسی لطافت، چاندنی جیسی ٹھنڈک، شوخیوں جیسا طنز، پھلجھڑیوں جیسا مزاح، شائستہ جملے بازی، خوشبودار ظرافت، ساری لطافتیں بے کثافت، (غالب کی اس دھمکی کے باوجود کہ ’’لطافت بے کثافت جلوہ پیدا نہیں کر سکتی ‘‘ )موجود ہیں اور ہر لطافت خلوص و محبت کے عطر میں بسی ہوئی۔ ان کی تحریروں کو ان کی شخصیت کے آئینے میں دیکھیے دونوں میں سرِ مو  فرق نظر نہیں آئے گا۔وہ جس طرح گفتگو کرتے ہیں ویسا ہی بلکہ وہی کا وہی لکھ دیتے ہیں۔ ان کی شخصیت اور نفاق و تضاد میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں ہو سکتا ہے۔ اسی خصلت اور خاصیت نے انھیں اور ان کی تحریروں کو محبوب و مرغوب بنایاہے۔‘‘ 

(ماہ نامہ شگوفہ، پروفیسر خالد محمود نمبر،  دسمبر  2020، ص 52)

جن بیس مضامین کو انجم عثمانی نے اس کتاب میں شامل کیا ہے، ان کے عنوانات یہ ہیں۔مزاح نگاری؟  توبہ، شگفتگی کی تلاش میں،  لو آج ہم بھی صاحب ِ اسلوب ہو گئے،  مشاعرہ گاڑی،  اے اوارڈ والو...،  خالص عوامی مشاعرہ،  مشاعروں اور سمیناروں کا موسمِ بہار، ’  غزل کی مقبولیت کے اسباب ‘  چالیس منٹ اور ہم، طرحی مشاعرہ، تخلیقی محرکات، اظہار کی تیسری صنف، ایک سامع۔دو مشاعرے،  تماشا نہیں ہے، مجموعہ عرض ہے ،  موسم گرما تیرا شکریہ، دانشور نمبرون، مارچ سے پہلے مارچ کے بعد، صدر پھر صدر ہے ،تصنیف حاضر ہے ، مشاعرہ، سمینار اور کرکٹ۔

ٹیلی ویژن نشریات، تاریخ،تحریر، تکنیک  :   انجم عثمانی نے ٹیلی ویژن کے فن اور تکنیک پر ایک کتاب بعنوان ’ٹیلی ویژن نشریات، تاریخ،تحریر، تکنیک‘ لکھی جو الیکٹرونک میڈیا سے متعلق نصابی کتاب کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ کتاب دسمبر  1994 میں پہلی بارشائع ہوئی تھی۔ اب تک اس کے کافی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اس کتاب کا سب سے اہم مضمون ’ٹیلی ویژن اور اردو : ایک مطالعہ‘ہے۔ علاوہ ازیں عوامی ترسیل کا تاریخی پس منظر پیش کرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہاں ہندوستان میں ٹیلی ویژن کے فروغ پر سیر حاصل گفتگو بھی کی ہے۔ کتاب کے اگلے حصے کا عنوان  انھوں نے ’تحریر‘ رکھا ہے۔  اس عنوان کے تحت ٹی وی اسکرپٹ کے لیے بنیادی باتیں، دستاویزی فلم، ٹی وی ڈرامہ، ٹیلی فلم، شارٹ فلم، ٹی وی اشتہارات، خبریں، اناؤنسمنٹ، خصوصی پروگرام اور کچھ پروگراموں کے بارے میں تعارفی مضامین رقم کیے ہیں۔ اگلے باب میں انھوں نے اس میڈیم کی تکنیک پر تفصیل سے معلومات فراہم کی ہیں۔ کتاب کے آخر میں ٹیلی ویژن اصطلاحات کی فہرست بھی شامل کی گئی ہے۔ 

پرنٹ میڈیا اور برقی میڈیا : تعارف، تاریخ اور اصول  :  انجم عثمانی کی نئی کتاب’ پرنٹ میڈیا اور برقی میڈیا : تعارف، تاریخ اور اصول‘   2022 میں منظر عام پر آ ئی ہے۔اس میں مصنف نے ذرائع ترسیل عامہ کے تقریباََ تمام اہم نکات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔  ذرائع ترسیل کے طور پر اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی تاریخ و ارتقا  کا جائزہ لیتے ہوئے انجم عثمانی نے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے جملہ عناصر و عوامل کا تعارف و تجزیہ پیش کیا ہے۔ دور جدید میںتیزی سے ابھرتے اور ترقی کے مدارج طے کرتے، اس جدیدشعبۂ علم  کے جن پہلوؤںکو انھوںنے یہاں خصوصی اہمیت کا حامل سمجھا وہ ذیل میں درج کیے جاتے ہیں۔

 پرنٹ میڈیا : پریس (صحافت)، پریس کی اقسام، صحافت کیا ہے، پریس کونسل، خبر کی اقسام، ابتدائیہ کیا ہے، کچھ اصول، خبر نگاری۔

 تعارف، خبروں کی سرخیاں اور اقسام، نامہ نگاری کے بنیادی اصول، خبریں حاصل کرنے کے ذرائع، نیوز ایجنسیاں، زبان و ادب کی ترقی اور اردو صحافت، کالم نگاری،ادارت اور مدیر، الکٹرونک میڈیا، برقی ذرائع ابلاغ، ریڈیو، ٹیلی ویژن، ریڈیو ڈرامے، ریڈیو نیوز،سینما  فیچر فلم، فلموں کی اقسام،تکنیک، مواد، ڈاکیومینٹری اشتہار، فلم، ٹی وی اسکرپٹ کے لیے بنیادی باتیں، اسکرپٹ نگاری،فیچر نگاری اور ٹیلی فلم،ٹیلی ویژن، تعریف تکنیک، ابتدا  ٹی وی نیشنل پروگرام، دوردرشن، براہ ِ راست نشریات سٹلائٹ، مدار، مدار کی اقسام، سیارچہ، ٹیلی ویژن نشریات، براہ راست نشریات کی تاریخ رواں تبصرہ، اسکرپٹ، دستاویزی فلم، ڈاکیو ڈراما، ٹیلی فلم، ٹی وی اشتہار سازی، ٹیلی ویژن پروگرام، تلخیص، خلاصہ، نمونہ، اسکرین پلے، ہئیت، اسکرپٹ، ٹیلی ویژن ڈرامے کی اسکرپٹ، سوپ، اوپیرا، ٹی وی سیریل، تاریخی سیریل، ہندوستان میں ٹیلی ویژن سیریل کا ارتقا، غیر تحریری پروگرام، انٹرویو، مذاکرہ، مباحثہ،ٹی وی نیوز، ٹیلی ویژن کی زبان وغیرہ۔ اردو زبان  کے ماس کمیونی کیشن کے طالب علموں کے لیے یہ کتاب بنیادی اہمیت کی حامل اور نصابی ضروریات کو ملحوظ رکھ کر تحریر کی گئی یہ کتاب اپنے موضوع کا مکمل طور پر احاطہ کرتی ہے۔ لہٰذا، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انجم عثمانی کی یہ کتاب پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے میدان میں ان کی زندگی بھر کے تجربات، مشاہدات اور مطالعات کا نچوڑ ہے۔ یہ اس شعبہ ٔ علم کی تازہ ترین نصابی ساخت اور موضوعاتی تناظر کو جامع انداز اور سلیس زبان میں پیش کرتی ہے اور اس لحاظ سے ماس میڈیا کے طلبا  ہی کے لیے نہیں بلکہ اساتذہ کے لیے بھی مشعلِ راہ کا درجہ رکھتی ہے۔   دہلی دوردرشن میں اسسٹنٹ  اسٹیشن  ڈائریکٹر کے عہدے سے سبکدوشی کے بعد بھی وہ ادبی و علمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ  مختلف سرکاری اداروں میں الیکٹرونک میڈیا سے متعلق کاموں میں منہمک رہے۔ انجم عثمانی  20 اپریل 2021  کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق دیو بند میں ہوئی۔انھیں اپنے دور کے معروف افسانہ نگار اور ذرائع ابلاغ عامہ کی فعال شخصیت کے طور پر اردو کے ادبی حلقوں میںہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Dr. Syed Wajahat Mazhar

T116/1, 2nd Floor

Main Market, Okhla Village

New  Delhi- 110025



تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...