5/4/24

قومی یکجہتی کا نمائندہ شاعر: نظیراکبرآبادی، مضمون نگار: جواد حسین


بہت سارے باصلاحیت اور صاحب کمال لوگ کسی لابی یا گروپ کا حصہ نہیں بن پانے کی پاداش میں گمنامی کی زندگی گزارتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، جب کہ اس کے برعکس بہت سارے افراد ایسے بھی ہیں جو معمولی صلاحیت کے باوجود باکمال لوگوں میں شمار ہی نہیں کیے جاتے ہیں بلکہ ہر محفل اور ہر جگہ صف اول کے مالک بنے بیٹھے ہوتے ہیں، یہیں پر ایک بات یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ باکمال اور صاحب استعداد لوگوں کو چاہے زندگی میں وہ مقام و مرتبہ نہ مل پائے جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں، مگر بعد از مرگ ایسے لوگوں کے فن کا اعتراف دنیا ضرور کرتی ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ اردو کے عظیم شاعر نظیر اکبر آبادی کے ساتھ بھی ہوا، انھوں نے معلم کی حیثیت سے زندگی گزاری اور پوری زندگی اردو شاعری کے گیسو سنوارتے رہے، لیکن اپنے زمانے میں چونکہ وہ کسی گروپ کا حصہ بن سکے، نہ ہی کسی امیر یا وزیر کی انھیں پشت پناہی حاصل ہوسکی، اسی لیے انھیں جو مقام و مرتبہ ملنا چاہیے تھا وہ ان کے حصے میں نہیں آسکا۔ رشید خاں نے انتخاب نظیر اکبر آبادی کے ’تعارف‘ میں لکھا ہے

 ’’ایک بات اور، کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نظیر کی سماجی حیثیت بھی، ان کے راستے کا پتھر بن گئی۔ وہ ایک معلم تھے جس کی پشت پر نہ تو کسی معروف خاندان کی درویشی، سیادت یاسپہ گری کا پشتارہ تھا اور نہ کوئی ایسی ذاتی وجاہت حاصل تھی، جس کو اس زمانے میں قابل لحاظ سمجھا جاتا ہو، باتیں کرتے تھے سوفی صدی عام لوگوں کی زبان میں اور کہتے تھے وہ باتیں جن کو گفتگو کا موضوع تو سمجھا جاتا تھا، شاعری کا موضوع نہیں بنایا جاتا تھا، اس عہد کے معروف شاعروں کا جائزہ لیجیے تو اندازہ ہوگا کہ ہر ایک کے ساتھ کوئی نہ کوئی ایسی نسبت ضرور شامل تھی جس کو سماجی سطح پر قابل توجہ سمجھا جاتا تھا اور ایسی نسبتوں نے شخصیت کے نقش کو ابھارنے میں بہت مدد دی ہے۔‘‘

نظیر کا زمانہ اٹھارہویں صدی کے نصف آخر سے انیسویں صدی کی پہلی چوتھائی تک کا زمانہ ہے۔ وہ 1740 میں پیدا ہوئے اور نوے سال کے قریب عمر پاکر 1830 میں چل بسے۔ ان کا اصل نام ولی محمد تھا اور وہ محمد شاہ ثانی کے دور میں دہلی میں پیدا ہوئے تھے، لیکن احمد شاہ ابدالی کے حملے کے بعد وہ دہلی سے آگرہ چلے گئے اور یہاں تاج گنج میں انھوں نے سکونت ہی اختیار نہیں کی بلکہ پوری زندگی یہیں بسر کردی، یہاں تک کہ اُن کے اِس وطن ثانی کی نسبت ہی ہمیشہ کے لیے ان کے نام کا جزو لاینفک بن گئی۔ نظیر فارسی کے ساتھ ساتھ تھوڑی بہت عربی بھی جانتے تھے، برج بھاشا سے بھی واقف تھے، درس و تدریس ان کا مشغلہ تھا اور یہی ذریعہ معاش۔ آخر عمر میں ان پر فالج کا حملہ ہوا اور یہی ان کی موت کا سبب بن گیا۔ اس بات پر نظیر کے سارے سوانح نگار متفق ہیں کہ انھیںمجلسی زندگی بہت عزیز تھی

’’وہ ایک یار باش آدمی تھے اور ہر طبقے اور مزاج کے لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے تھے۔ جوانی میں بڑے رنگین مزاج تھے۔ کھیل کود، پتنگ بازی، پیراکی، ورزش، کبوتر بازی ان کی دلچسپیوں میں شامل تھے۔ مسلمانوں اور ہندوئوں کے تہواروں میں حصہ لیتے اور لطف اندوز ہوتے تھے۔ آزادانہ زندگی کی تصویروں نے ان کے کلام میں غیر معمولی وسعت اور رنگا رنگی پیدا کی ہے۔ روایتی شاعری کرنے کے علاوہ نظیر نے عوامی شاعری بھی کی۔ یہی ان کی پہچان بن گئی۔ ان کی عوامی نظموں میں ہندو مسلم روایات، تہواروں، مختلف مذہبوں کی برگزیدہ ہستیوں، ہندوستان کے مناظر، پرندوں، جانوروں، موسموں، پھلوں اور کھانوں کا غیر رسمی انداز میں ذکر ہوا ہے… نظیر کا ذخیرۂ الفاظ بھی حیرت انگیز حد تک وسیع تھا۔‘‘  (جامع اردو انسائیکلو پیڈیا، ج1)

بلاشبہ نظیر کے یہاں ذخیرہ الفاظ کی یہ وسعت اور عوامی شاعری کی یہ شان و شوکت اسی لیے پیدا ہو سکی ہے کہ وہ قومی یک جہتی کے علمبردار تھے اور ہمارے شعر و ادب کی تاریخ گواہ ہے کہ ان کی محنت اکارت نہیں گئی اور ان کے اسی مزاج اور رویے نے ان کو دائمی عزت، شہر ت اور شناخت بخش دی، یہاں تک کہ آج بھی نظیر اکبر آبادی عوامی شاعر کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں او ر یہ حقیقت بھی ہے چونکہ ان کے مضامین کو دیکھنے سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری میں عوامی زندگی، ماحول و معاشرت کی بحسن و خوبی ترجمانی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی نسبت کے سہارے کے بنا ان کی شاعری کی مقبولیت اُس عہد میں بھی کم نہیں تھی اور آج بھی اس کی معنویت و مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

یہ بات پورے وثوق و اعتماد کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ وہ عوامی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی کے بھی بہت بڑے نمائندہ شاعر تھے۔ یہاں نظیر اکبر آبادی کی شاعری کے حوالے سے ’قومی یکجہتی‘کی وضاحت سے قبل ’قومی یکجہتی‘ کے مفہوم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ قومیت کا مشترکہ باطنی احساس ہی قومی یکجہتی کا اولین زینہ اور ستون ہے۔ آج سے برسوں پہلے اثر لکھنوی نے ایک نظم لکھی تھی جس کا عنوان تھا ــ’درس اتحاد‘ اس نظم میں انھوں نے ’قومی یکجہتی‘کا مرکب لفظ تو استعمال نہیں کیا ہے پر لفظ ’یکجہتی‘ کا مفرد لفظ ضرور استعمال کیا ہے۔اس نظم کو پڑھنے کے بعد یہ پوری طرح اندازہ ہوجاتا ہے کہ قومی یکجہتی کیا ہے؟اور عدم یکجہتی کی صورت میں شاعر کے قلم سے وجود میں آنے والے الفاظ شاعر کی اندرونی اور باطنی کیفیت کو بایں طور ظاہر کرتے ہیں کہ درد وکرب اور قلق و اضطراب کی پوری دنیا سامنے آجاتی ہے۔اثر لکھنوی کے اشعار ملاحظہ فرمائیں        ؎

الفت ہوئی رسم پارینہ

ہے اس کی جگہ دل میں کینہ

اگلوں کے چلن ہم بھول گئے

وہ رسم کہن ہم بھول گئے

آپس کی رواداری  اٹھی

 الفت اٹھی یاری اٹھی

وہ یوگ رہا نہ وہ پریت رہی

بس ایک نفرت کی ریت رہی

یکجہتی جب مفقود ہوئی

اور فکر زیان و سود ہوئی

وہ جذب کی طاقت سلب ہوئی

توفیق ہدایت سلب ہوئی

مذکورہ اشعار کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یکجہتی کے لیے آپسی محبت و بھائی چارگی اور الفت و مودت نہایت ضروری ہے۔یہ یکجہتی کے قیام کا وہ جوہر نایاب ہے جسے کسی بھی صورت میں آپس سے رخصت نہیں ہونے دینا چاہیے۔چونکہ اس کے بغیر ہمارا قومی اتحاد واتفاق منتشر ہو جائے گا اور تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر جائے گا اور جب ایک ساتھ مختلف مذاہب اور عقائد کے مل جل کر رہنے والے افراد کے درمیان سے یہ چیزیں رخصت ہو جاتی ہیں تو نفرت،عداوت،دشمنی،بغض،کینہ اور آپسی بے زاری کا سلسلہ دراز ہوجاتا ہے۔اور یہ کسی بھی ملک اور قوم کے لیے حد درجہ نقصان کا باعث ہوجاتا ہے۔ جہاںتک ہمارے ملک کی بات ہے تو قومی یکجہتی اور آپسی رواداری کی ایسی مثال دنیا کے کسی ملک میں شاید ہی مل سکے۔

ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس ملک میں صدیوں سے مختلف مذاہب اور مختلف زبانوں کے بولنے والے لوگ ایک ساتھ رہتے آرہے ہیں،کبھی اس ملک میں ہندوؤں کی حکومت رہی تو کبھی مسلمانوں کی، لیکن کبھی بھی کسی دور میں مذہب اور زبان کی بنیاد پر دونوں قوموں کا تصادم اور ٹکراؤ نہیں ہوا۔ اور جب اس ملک کو انگریزوں نے غلام بنایا  تو سبھی مذہب کے لوگوں نے مل کر انگریزوں کا مقابلہ کیا۔اور قومی یکجہتی کی ایسی مثال قائم کی کہ انگریزوں کو اس ملک سے جانا پڑا۔ اور اس ملک کی دو مشہور زبانیں ہندی اور اردو جو آپس میں سگی بہنیں ہیں ان دونوں نے قومی یکجہتی کے فروغ  میں خوب خوب جوہر دکھائے۔اردو نے تو اسے مضبوط ومستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اور آتش نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ  ؎

بت خانہ کھود ڈالیے مسجد کو ڈھائیے

 دل کو نہ توڑیے کہ خدا کا مقام ہے

اردو کے اور بھی کئی شعرا ہیں جنھوں نے قومی یکجہتی،مشترکہ تہذیب اور باہمی اتحاد و اتفاق پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار اپنی تخلیقات میں کیا ہے۔

 اگر انھوں نے عوامی جذبات و خیالات کا لحاظ کرتے ہوئے موسم برسات، جاڑے کی بہاریں، طفلی، جوانی، بڑھاپا، مفلسی، کوڑی نامہ، پیسہ نامہ، روٹیاں، چپاتی نامہ، آٹا دال، موت، فنا نامہ، فقیروں کی صدا، بنجارا نامہ، توکل، آدمی نامہ، دنیا، دنیا کے عیش و عشرت اور’دنیا دار المکافات ہے‘ وغیرہ جیسی نظمیں لکھی ہیں اور رنگا رنگ اور نوع بہ نوع مضامین پر طبع آزمائی کی ہے، تو اسی کے ساتھ ساتھ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر لسانی ملک میں بسنے والے مختلف ادیان و مذاہب کے تیوہاروں پر بھی پوری توجہ دی۔ مثلا سکھ مذہب کے عظیم رہنما گرونانک شاہ کے بارے میں مسدس کی ہیئت میں پوری نظم ان کی کلیات میں موجود ہے۔ اس نظم کا پہلا اور آخری بند ملاحظہ فرمائیں  ؎

ہیں کہتے نانک شاہ جنھیں، وہ پورے ہیں آگاہ گرو

وہ کامل رہبر جگ میں ہیں، یوں روشن، جیسے ماہ گرو

مقصود، مراد، امید، سبھی بر لاتے ہیں دل خواہ گرو

نت لطف و کرم سے کرتے ہیں ہم لوگوں کا نرباہ گرو

اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو

سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو، واہ گرو

جو ہر دم ان سے دھیان لگا، امید کرم کی دھرتے ہیں

وہ ان پر لطف و عنایت سے ہر آن توجہ کرتے ہیں

اسباب خوشی اور خوبی کے گھر، بیچ انھوں کے بھرتے ہیں

آنند، عنایت کرتے ہیں سب من کی چنتا ہرتے ہیں

اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو

سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو، واہ گرو

پوری نظم اور خاص طور سے مذکورہ دونوں بند پڑھنے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ سکھ دھرم کے ماننے والوں کی گرونانک کے تئیں جو گہری عقیدت اور محبت وابستہ ہے، اس کی بہترین عکاسی یہاں کی گئی ہے۔

 مذہبی شخصیات پر جب شاعر قلم اٹھاتا ہے تو عموماً یہ خطرہ ہر وقت منڈلاتا رہتا ہے کہ اس کا بیان مبادا اُس شخصیت کے ماننے والوں کو اعتراض کا موقع دے دے یا مقطع میں کوئی ایسی بات آپڑے جو خود شاعر کے ہم مذہب افراد کو انگشت نمائی کا موقع دے جائے، لیکن یہ نظیر کا بڑا کمال ہے کہ وہ اس راہ میں سلامت روی سے ہمکنار ہوئے ہیں اور عقیدے اور عقیدت کے فرق پر کسی طرح حرف نہیں آنے دیا ہے اور ایسا دراصل اس لیے ممکن ہو سکا ہے کہ انھوں نے بہر صورت قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے مزاج سے شعوری انداز میں کام لیا ہے۔ قومی یکجہتی کا اصل تقاضا احترام مذاہب ہے اور روایات و مذاہب کا احترام نظیر کی شاعری کے لفظ لفظ نہیں گویا حرف حرف سے ہیرے کی کنی کی مانند دمک رہا ہے۔

 ہندوستان کی کثیر مذہبی تہذیب و ثقافت اور تیوہاروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور آپسی محبت و بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے اگر ایک طرف نظیر نے شب برات، عید الفطر، حضرت سلیم چشتی، عشق اللہ اور ’رہے نام اللہ کا‘ وغیرہ جیسے عنوان کے ساتھ متعلقہ مضامین کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے تو دوسری طرف بلدیوجی کا میلا، مہادیوجی کا بیاہ، ہولی، ہولی کی بہاریں، دوالی اور ’راکھی‘ جیسے عناوین کے ساتھ نظمیں لکھ کر قومی یکجہتی اور آپسی محبت و بھائی چارگی کی ایک بہترین مثال قائم کی ہے۔

’ہولی‘ برادران وطن کا ایک اہم تیوہار ہے۔ ہولی کے موضوع پر نظیر نے یکے بعد دیگرے تین نظمیں لکھی ہیں۔ پہلی نظم ’ہولی‘ مسدس کی ہیئت میں لکھی گئی ہے، جب کہ دوسری نظمیں ’ہولی‘ اور ’ہولی کی بہاریں‘ مخمس کی ہیئت میں ہیں۔ ان تینوں نظموں کو پڑھنے کے بعد بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ انھوں نے اس تیوہار کو بہت قریب سے دیکھا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ ان کا اپنا ہی تیوہار ہے۔ ان کی اس تیوہار کی ساری جزئیات سے گہری واقفیت برادران وطن سے میل جول اور محبت کی عمیق نشانی اور علامت کو ظاہر کرتی ہے، ان تینوں نظموں کا ایک ایک بند ملاحظہ کریں        ؎

معمور ہیں خوباں سے گلی، کوچہ و بازار

اڑتا ہے ابیر اور کہیں پچکاری کی ہے مار

چھایا ہے گلالوں کا ہر اک جا پہ دھواں دھار

پڑتی ہے، جدھر دیکھو اُدھر رنگ کی بوچھار

ہے رنگ چھڑکنے سے ہر اک دنگ زمیں پر

ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

                (ہولی)

دوسری ’ہولی‘ نظم سے ایک بند دیکھیں ؎

کچھ طبلے کھٹکے، تال بجے، کچھ ڈھولک اور مردنگ بجی

کچھ جھڑبیں بین، ربابوں کی، کچھ سا رنگی اور چنگ بجی

کچھ تار طنبوروں کے جھنکے، کچھ ڈھمڈھمی اور منھ چنگ بجی

کچھ گھنگھرو کھٹکے جھم جھم جھم، کچھ گت گت پر آہنگ بجی

ہے ہر دم ناچنے گانے کا یہ تار بندھایا ہولی نے

(ہولی)

تیسری نظم ’ہولی کی بہاریں‘ کا ایک بند بھی ملاحظہ کیجیے ؎

گل زار کھلے ہوں پریوں کے، اور مجلس کی تیاری ہو

کپڑوں پر رنگ کے چھینٹوں سے خوش رنگ عجب کل کاری ہو

منھ لال، گلابی آنکھیں ہوں اور ہاتھوں میں پچکاری ہو

اس رنگ بھری پچکاری کو، انگیا پر تک کر ماری ہو

سینوں سے رنگ ڈھلکتے ہوں، تب دیکھ بہاریں ہولی کی

(ہولی کی بہار)

اس طرح نظیر اکبر آبادی نے دیوالی اور راکھی کے تیوہاروں کا بھی نہایت خوبصورت اور خوشنما منظر پیش کیا ہے، جو یقینا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ انھیں اس دیش کی قومی یکجہتی سے بہت گہرا پیار اور لگائو تھا اور وہ برادران وطن کے تیوہاروں اور ان کی تہذیب و ثقافت کو بہت ہی قریب سے جانتے تھے۔

Dr. Jawwad Husain

Asst Prof. Head Depf of Urdu

L N D College

Motihari- 845401 (Bihar)

Mob.: 9931689647


آج کے ناولوں کے اسلوب و اظہار پر بدلتی ہوئی تہذیب کا اثر ہے: شہاب ظفر اعظمی



 موجودہ دور میں’ڈاکٹرشہاب ظفراعظمی‘ اردو فکشن کی تنقید کا ایک معتبرنام ہے۔ اپنے منفرد انداز اور اسلوب کی وجہ سے انھوں نے ناولوں اور افسانوں کی تنقید میں ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے دوسری اصناف میں بھی گراں قدر تنقیدی مضامین لکھے ہیں۔اب تک ان کی پانچ کتابیں…’اردو ناول کے اسالیب، جہان فکشن، متن اور معنی، مطالعات فکشن، قرأت مطالعہ و محاسبہ‘ شائع ہو کر پوری اردو آبادی سے داد تحسین وصول کر چکی ہیں۔ وہ تنقید میں تعمیری نقطہ نظر کے حامل ہیں۔ انھیں ان کی ادبی تصانیف پر مختلف انعامات سے بھی نوازا جاچکا ہے۔ پیش خدمت ہے ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی سے ایک ملاقات کا تحریری منظر نامہ۔ 

مسرت جہاں: آپ اپنے سوانحی حالات اور کارناموں سے روشناس کرائیے۔

شہاب ظفر اعظمی: میری پیدائش یکم اپریل 1972 کو گیا (بہار) میں ہوئی۔ میرے والد کا نام عبدالبر اعظمی ہے اور وہ عالم دین تھے۔میری ابتدائی تعلیم والد ماجد کے زیر سایہ ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد مگدھ یونیورسٹی سے بی اے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بی ایڈ مکمل کیا۔ ایم اے کی تعلیم جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے پوری کرنے کے بعد میری تقرری آرہ کے ایک ہائی اسکول میںہو گئی۔ اسکولی درس و تدریس کے ساتھ میں نے پی ایچ ڈی کے کے لیے مقالہ لکھنا شروع کر دیا تھا جس پر پروفیسر حسین الحق کی نگرانی میں مگدھ یونیورسٹی نے ڈگری تفویض کی۔ اسی درمیان 2003 میں میری تقرری شعبہ اردو، پٹنہ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر ہوئی۔اس وقت سے اب تک وہیں مصروف کار ہوں۔میری شادی شمع انجم بنت خلیل الرحمن مرحوم سے 2002 میں ہوئی۔دو بیٹے شایان ظفر اور فرحان ظفر زیر تعلیم ہیں۔ میں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز ایک  ہفت روزہ اخبار ’رفاقت‘سے کیا۔ میرا پہلا مضمون ’رفاقت‘ میں جذبہ عشق کے عنوان سے شائع ہوا۔

م ج: آپ کی کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیںاور دادو تحسین حاصل کر چکی ہیں، مگر جو داد ’اردو ناول کے اسالیب‘کو ملی۔ وہ کسی اور کتاب کو نہ مل سکی۔

ش ظ ا: ’اردو ناول کے اسالیب‘ میرے تحقیقی مقالے کا ایک حصہ ہے۔ اس مقالے میں پہلی مرتبہ اسلوب کے حوالے سے ناول کی تاریخ و تنقید کی گئی تھی اس لیے یہ کتاب قارئین کو زیادہ پسند آئی۔

م ج:ادب میں اردو فکشن کی صورت حال اور اہمیت کیا ہے؟ کل سے آج تک اردو فکشن کے سفر پر کچھ بتائیں؟

ش ظ ا:اردو فکشن کے سرمائے میں بنیادی حیثیت مختصر افسانے اور ناول کو حاصل رہی ہے۔ اِس لحاظ سے اردو فکشن نے اب تک تقریباً ڈیڑھ صدی کا لمبا سفر طے کیا ہے۔ اِس مدت میں اس نے مزاجی اعتبار سے پانچ ادوار دیکھے ہیں۔ پہلا دور بیسویںصدی کی ابتدا تک کا ہے جب فکشن ناول تک محدود تھا اور فنی وموضوعاتی سطح پر نذیر احمد کے ناولوں سے امراؤ جان ادا تک سارے تجربات اسی میں کیے جارہے تھے۔ دوسرے دور کو 1936تک لے جایا جا سکتا ہے جب افسانہ منظرعام پر آیا اور اس میں اصلاح پسندی، حب الوطنی اور مثالیت پسندی کا رجحان غالب رہا۔ تیسرا دور 1936 سے 1960 تک ہو سکتا ہے جس میں حقیقت نگاری، اشتراکیت اور رومان پسندی کی لہر ملتی ہے۔ چوتھے دور کو 1960 سے 1980 تک پھیلا سکتے ہیں جب فکشن بالخصوص افسانے میں حقیقت نگاری، علامت نگاری، ابہام، پیچیدگی، انسان کی بے چہرگی اور اقدارکی شکست وریخت کو بنیادی اہمیت حاصل رہی اور قاری کو بڑی حد تک نظر انداز کر دیا گیا۔ 1980 کے بعد کا زمانہ مکمل طور پر نئی تلاش اور نئی بصیرت کا منظر نامہ سامنے لایا جسے اردو فکشن کی واپسی کا زمانہ بھی کہا جاتا ہے۔ اِس زمانے میں فکشن نے غیر ضروری اور نامانوس علامتوں سے دامن چھڑا کر ایک نئے تیور کے ساتھ زندگی کا ہاتھ تھاما۔ انتظارحسین، قاضی عبدالستار، الیاس احمد گدی، شفیع جاوید، احمد یوسف، نیرمسعود، عابدسہیل، اقبال مجید، عبدالصمد، حسین الحق، مشتاق احمد نوری، شموئل احمد، شوکت حیات، صلاح الدین پرویز، پیغام آفاقی، سلام بن رزاق، جوگندر پال، مشرف عالم ذوقی، طارق چھتاری، ترنم ریاض، شفق، غضنفر، ساجد رشید، مظہرالزماںخاں، غزال ضیغم، شاہد اختر، عشرت ظفر، رحمان عباس، اشعر نجمی، اسلم جمشیدپوری،  شفیع مشہدی، اقبال حسن آزاد اور محمد علیم جیسے بہت سارے فکشن لکھنے والوں نے فکشن کی حسیت میں تبدیلی لانے کی شعوری کوشش کی۔ اِن سب نے مل کر تھیم، ہیئت اور محاورے کا ایک بڑا حلقہ پیدا کیا جس نے اردو فکشن کو اچانک ثروت مند اور مختلف بنادیا۔ عالمی ادب میں فکشن کی پیش رفت اور اس کے تخلیقی امکانات کی توثیق سے اس کی ادبی حیثیت مسلم ہوگئی۔ اب فکشن محض تفنن طبع کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ اعلیٰ فن پاروں کی طرح زندگی، معاشرے اور کائنات کے رازہائے سربستہ کی بصیرت افروزی کا موثر وسیلہ بھی بن گیا۔ جدید فکشن کا یہ دور اِس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ کہانی کا کینوس تمام برا عظموں تک پھیل گیا،جس سے ہمارا فکشن نگار عالمی انسانی برادری کو ایک اکائی کے روپ میں دیکھنے، دکھانے پرکھنے اور تجربہ کرنے پر قادر ہوگیا ہے۔ یعنی یہ بات اب بہ آسانی کہی جا سکتی ہے کہ اردو فکشن اس دور سے آگے نکل گیا ہے جسے ’’عبوری دور‘‘ سے موسوم کیا جاتا تھا۔ اردو فکشن اب روبہ ترقی ہے اور ایک وقیع اور امکان خیز صنف کے طور پر اپنی انفرادی حیثیت اِس حد تک منوا چکا ہے کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے موجودہ صدی کو اردو فکشن کی صدی قرار دے دیا۔

م ج: پروفیسر نارنگ کے اِس بیان پر ایک بڑا حلقہ چیں بجبیں ہوا، آپ کا کیا خیال ہے؟

ش ظ ا: مجھے اِس بیان میں کوئی قابل اعتراض یا تعجب خیزوجہ نظر نہیں آتی۔ موجودہ صدی کو اردو فکشن کے نام معنون کرنے کا    ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اردو شاعری کم رتبہ ہوگئی، یا آج اردو شاعری روبہ زوال ہے۔ ایسا ہوہی نہیں سکتا۔ شاعری کے بغیر ادب کا تصور ہی نا ممکن ہے۔ ہماری شاعری کی مرکزیت غزل سے ہے اور غزل کو اردو میں وہی درجہ دیا جاتا ہے جو ہندوستانی تہذیب میں تاج محل کو حاصل ہے۔ سات آٹھ سوسالوں کے ہند اسلامی کلچر کی جو روح اردو شاعری بالخصوص غزل میں سمٹ آئی ہے اس کا جواب نہیں، لیکن آج غزل کے پہلو بہ پہلو فکشن نے بھی اپنا مقام بنالیا ہے۔ کوئی ایک صنف ادب میں کسی دوسری صنف کو دباتی نہیں ہے، ادب کو مزید دولت مند بناتی ہے۔ غزل اور شاعری کی اہمیت بلاشبہ اپنی جگہ مسلم ہے لیکن آج فکشن کی اہمیت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اردو فقط شاعری کی زبان نہیںپریم چند، منٹو، عینی آپا، انتظار حسین، جوگندرپال، عبدالصمد، سلام بن رزّاق اور مشرف عالم ذوقی کی زبان بھی ہے۔ اِس کا ہر گز یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ میں شاعری کو فکشن سے کم رتبہ سمجھتا ہوں۔ دراصل میں ادب میں فوقی درجہ بندی کا قائل نہیں۔ ایسی اصناف ادب جو بنیادی طور سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ایک پیمانے سے جانچی نہیں جا سکتیں۔ ایسی تمام اصناف کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، خواہ وہ شاعری ہو، افسانہ ہو، ڈرامہ ہو یا ناول !

م ج:ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ افسانہ یا کہانی کا کینوس بہت چھوٹا ہوتا ہے اس لیے یہ دوسرے درجے کا ادب ہے، کیا صحیح ہے؟ 

ش ظ ا:بالکل نہیں، بھلا حضرتِ معترض سے کون کہے کہ شاعری میں تو ہماری پہچان غزل سے ہے جس کا ہر شعر مفرد اور مکمل ہوتا ہے۔ اس سے چھوٹا پیمانہ اور کیا ہو سکتاہے؟ دوہا صرف دو مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہائیکو کے لیے تین مصرعے کافی ہیں۔ دراصل ادب کی شناخت چھوٹے بڑے پیمانوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس کی انفرادیت اور پیشکش اسے شناخت عطاکرتی ہے۔ کوئی فن پارہ قاری کے جمالیاتی تقاضوں کی کس حد تک تکمیل کر رہا ہے؟ یا قاری کے تہذیبی اور جذباتی عناصر کی کس قدر نمائندگی کررہا ہے؟ یہ باتیں فن پارے کو پہچان دیتی ہیں۔ فکشن ہماری تہذیب، ہمارے جذبات اور ہمارے جمالیاتی تقاضوں کی تکمیل صدیوں سے کررہا ہے اس لیے پیمانوں، اصولوں اور درجہ بندی وغیرہ کے اعتراضات سے اس کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ اِسے فکشن کا جادو ہی کہا جائے گا کہ وہ صنف جس میں اعلیٰ درجے کے ادب کی تخلیق ناممکن قرار دی گئی تھی بعد میں تو جہ کامرکز بن گئی اور گذشتہ پندرہ بیس برسوں میں سب سے زیادہ سمینار، مذاکرے، جلسے فکشن اور فکشن کی تنقید پر ہوئے جن میں ان لوگوں نے بھی حصہ لیا جو اسے قابل اعتناہی نہیں سمجھتے تھے۔ آج ہندستان اور پاکستان کی ادبی فضا میں افسانوی ادب کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی ہے اور کتب ورسائل کا بڑا حصہ فکشن اور فکشن پر گفتگو کا احاطہ کر رہا ہے۔

م ج:آج فکشن تنقید میں کون لوگ دلچسپی لے رہے ہیں؟

ش ظ ا:مجھے بے حد افسوس ہے کہ اچھے ناقدوں کی ایک بڑی کھیپ مثلاََ پروفیسر گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی، شمیم حنفی، سید محمد عقیل، ابوالکلام قاسمی،اسلم آزاد، مشرف عالم ذوقی،مولابخش وغیرہ اب ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔(ان کی مغفرت کی دعا کرتا ہوں)۔فی الوقت علی احمد فاطمی، ارتضٰی کریم، محمود واجد، اعجاز علی ارشد، صغیرافراہیم، اسلم جمشیدپوری، مہدی جعفر، خورشید احمد، احمد صغیر، نسیم احمد نسیم،صفدر امام قادری، حقانی القاسمی، خورشید حیات، ابوبکر عباد، ہمایوں اشرف، نعیم انیس، غالب نشتر، سلمان عبدالصمد، شہناز رحمن، سفینہ بیگم، نورین علی حق اور ضیاء اللہ وغیرہ فکشن کی نظریاتی اور عملی تنقید کے نہایت عمدہ نمونے پیش کررہے ہیں اور یہ سلسلہ روز بروز قوی تر ہوتا جا رہا ہے۔

م ج:آپ کی نظر میں فکشن تنقید کیسی ہونی چاہیے؟

ش ظ ا:فکشن کی تنقید صبر طلب اور نسبتاً مشکل کام ہے کیونکہ یہ ناقد سے متعدد تقاضے کرتی ہے۔ مثلاً پوری کہانی پر نظر ہونا، کہانی کی جزئیات، زبان، قصہ پن اور فن قصہ نگاری سے واقفیت، اسلوب اور موضوع میں ہم آہنگی وغیرہ فکشن کی تنقید کے اہم اجزا ہیں، جو ناقد سے گہرے اور مسلسل توجہ کا تقاضا کرتے ہیں۔ کسی فکشن نگار کی قدر سنجی کے لیے اس کی جملہ تصانیف کے علاوہ پورے افسانوی ادب کا مطالعہ بھی خاصا وقت طلب اور پیچیدہ عمل ہے۔ شاید اسی لیے پروفیسرگوپی چند نارنگ نے لکھا ہے کہ 

’’اچھے شعر کا معاملہ نسبتاً اتنا مشکل نہیں، اچھی کہانی کے ساتھ بہت کچھ جھیلنا پڑتا ہے۔‘‘

م ج:کیا شاعری کی تنقید کم مایہ یا آسان ہوتی ہے؟

ش ظ ا:اس بیان کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ شاعری کی تنقید کم مایہ ہوتی ہے بلکہ اردو زبان وادب کی تاریخ وتہذیب نے وہ مخصوص ذہن پیدا کردیا ہے کہ ادب کی تعبیرو تفہیم کا عمل شاعری سے شروع ہوتا ہے اور اکثرشاعری پر ہی ختم ہوجاتا ہے۔ ایک عظیم کلاسیکی ورثے کے طور پر بھی شاعری نقادوں کے لیے ہمیشہ  توجہ کا مرکز رہی ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے بعض ناقدین فکشن کی تنقید میں بھی شاعری کی تنقید کی طرح اشاروں، کنایوں اور علامتوں میں بات کرنے کے فیشن میں مبتلا نظر آتے ہیں جن کی تحریریں بعض اوقات علامتی افسانوں سے بھی زیادہ گنجلک اور ثقیل ہوجاتی ہیں۔ دوسری طرف بعض نقاد فکشن کی روح کو چھونے کے بجائے اسے نثری روپ میں منتقل کرکے اس کی تلخیص پیش کرنے کو ہی غایت نقد سمجھ بیٹھے ہیں جبکہ اصل مقصد یہ جاننا ہے کہ افسانہ یا ناول کن لسانی اور ہیئتی وسائل کو کام میں لے کر تخلیق کا درجہ حاصل کرسکا ہے۔

م ج:میں نے دیکھا ہے کہ فکشن تنقید میں اسلوب کو آپ بہت اہمیت دیتے ہیں،کیا سبب ہے؟

ش ظ ا:فکشن کے مطالعے کے ضمن میں کرداروں، واقعات، تہذیب ومعاشرے اور سماجی ونفسیاتی عوامل کے ساتھ کلیدی اہمیت اس لسانی برتاؤ کو حاصل ہے جو کہانی کی تشکیل کرتا ہے۔ظاہر ہے کہانی کا ہر جملہ اور ہر لفظ اور اس کا محل استعمال اور اس کے سیاقی تلازمات تخلیقی تجربے کو متشکل کرتے ہیں۔ میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ ادب کو غیر ادب سے جو چیز امتیاز بخشتی ہے وہ ’اسلوب‘ ہے۔ یہ بات فکشن پر سب سے زیادہ صادق اس لیے آتی ہے کہ فکشن نگار کا مقصد قاری تک صرف کہانی، کردار، فضا اور معاشرتی، بشریاتی اور ثقافتی معلومات پہنچانا نہیں بلکہ کہانی کے لسانی برتاؤ سے کرداروں کے اندرونی تضادات، جذباتی تہہ داریوں اور حیات وکائنات کی پیچیدہ اور مشکل سے مشکل آگہی سے اسے باقاعدہ متعارف کرانا بھی ہے۔ چنانچہ نقاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ کہانی کا اسلوبیاتی ولسانی تجزیہ کرکے اس تجربے کو بھی پہچاننے کی سعی کرے جس نے افسانے یا ناول کو تخلیقی شناخت عطا کیا ہے اور جس نے کہانی میں طلسمی کیف واثر پیدا کردیا ہے۔ فکشن کی اسلوبیاتی و لسانی ساخت کا ایسا ہی مطالعہ تنقید کے تفاعل کو متعین کرتا ہے۔

م ج:کچھ اپنے تنقیدی نظریات کے بارے میں بتائیے؟

ش ظ ا:اپنے نظریات کے بارے میں خود کچھ اظہار خیال کرنا اس لیے مناسب نہیں سمجھتا کہ میری تحریریںخود اس کا اظہار ہیں۔ اس کے علاوہ میں یوں بھی کسی ادّعا کا قائل نہیں۔ میں نقاد اور ادیب بھی کہلوانا پسند نہیں کرتا کیونکہ میں خود کو ادب کا ایک ادنیٰ طالب علم سمجھتا ہوں جس کا مطالعہ بہت محدود اور جس کی نظر بہت کمزور ہے۔ ایک طالب علم اور قاری کی حیثیت سے میں جو کچھ پڑھتا ہوں اس پر اپنے خیالات یا تاثرات کا اظہار کرتا ہوں یہ ضروری نہیںکہ ہر شخص میری ہر بات سے اتفاق کرے۔ اختلاف بھی فکر کو مہمیز کرتا ہے بشرط یہ کہ اس کی بنیاد تنگ نظری اور عصبیت پر نہ ہو۔ اگر میری تحریریں سوچنے پر مجبور کریں اور ان سے نئی فکر کے راستے کھلیں خواہ ان کی سمت مختلف ہی کیوں نہ ہو تو یہی بہت ہے۔ مجھے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کہ اپنی تحریروں میں کوئی نئی اور انوکھی بات پیش کررہا ہوں لیکن اتنا ضرور ہے کہ میں مضامین سپرد قلم کرتے ہوئے ایماندارانہ نقطۂ نظر اختیار کرتاہوں اور کوشش کرتا ہوںکہ موضوع کے اندرون میں داخل ہو کر ایسے نتائج اخذ کر سکوں جو قارئین کو مطمئن کریں اور انھیں فن پارے یا فنکار کی تحریروں کے مطالعے کے لیے مہمیز کرسکیں۔ میں کوشش کرتاہوں کہ موضوع سے انصاف کیا جائے اور مصنف یا متن کا مثبت اور غیر جانبدارانہ مطالعہ سامنے آئے۔ میں خواہ مخواہ نکتہ چینی، جارحانہ اظہارخیال اور ا ستہزائی لب ولہجے کو سخت معیوب سمجھتا ہوں۔ میں ہمدردانہ اور تعمیری نقطۂ نظر کا حامی ہوں کیونکہ میرا ایقان ہے کہ مصنف یا ادیب اپنی تخلیقات میں زندگی کے کسی نہ کسی پہلو کی عکاسی اپنے طور پر بہتر سے بہتر طریقے سے کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ زندگی کے تجربات کو اپنے نقطہ نگاہ سے پیش کرتا ہے۔ وہ خود کو تجربات کی بھٹی میں جلاکر، ناکامیوں اور محرومیوں میں تپا کر اپنے زمانے کی نمائندگی کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ یعنی اپنے افکاروتجربات کو تخلیقی اور فنکارانہ انداز میں پیش کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ اس کی ہر پیش کش آپ کو مطمئن کرے یا آپ کے معیار پر پوری اترے، مگر اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اس کا مذاق اڑا کر یا اس کی منفی نکتہ چینی کرکے اس کا حوصلہ پست کر دیا جائے۔ اچھے نقاد کا فرض ہے کہ وہ تخلیق کے سیاہ وسفید اور اچھائی، برائی سے مصنف کو آگاہ کرے مگر اِس طرح کہ اسے نقاد اپنا ہمدرد ورہنما محسوس ہو دشمن جاں نہیں۔ مثبت اور تعمیری تنقید سے فنکار کو سمت ورفتار ملتی ہے اور خوشی بھی۔

م ج:اردو ناول کی پیش رفت کیا تھم گئی ہے؟

ش ظ ا:میرا خیال ہے کہ اردو ناو ل موضوعات،افکار اور اسالیب اظہار کے میدان میں بتدریج ارتقا کی طرف گامز ن ہے۔اردو کے نئے ناول مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے عکاس اور پاسباں ہیں۔آج کے ناول صرف تفنن طبع یا وقت گزارنے کی چیز نہیںہیں۔اِن میں ہم حالات سے جوجھتے جدوجہد کرتے انسان کی پوری زندگی دیکھ سکتے ہیں۔بدلتی ہوئی زندگی اور تغیر پذیر سماج کی ہر دھڑکن ان میں محسوس کر سکتے ہیں۔اردو ناول کی تاریخ میں آج کے بہت سے ناول اضافہ ثابت ہو رہے ہیں۔نت نئے تجربات ہو رہے ہیں،معنی کی تعبیریں وقت کے ساتھ بدلتی ہیں۔ ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔اِنہی ناولوں میں سے کوئی بڑا ناول بھی نکلے گا جو دنیا کو حیرت زدہ کر دے گا۔ اسلوب و افکار کی سطح پر جو تجربات ہو رہے ہیں وہ ان خوش آئند اور روشن امکانات کی طرف واضح اشارہ کر رہے ہیں جو اکیسویں صدی میں اردو ناول کا مقسوم ہوں گے۔

م ج:اکیسویں صدی میں اردو کے اہم ناول کون کون سے آئے ہیں؟

ش ظ ا:اکیسویں صدی میں ناول کی رفتار حوصلہ افزا ہے۔صرف بہار جیسے ایک صوبے سے تقریباً 35سے 40 ناول منظر عام پر آ چکے ہیں۔ناموں کو شمار کروانے میں چھوٹ جانے کا خدشہ ہمیشہ رہتا ہے مگر چند اہم ناولوں کا بھی ذکر کیا جائے تو اکیسویں صدی میں ناول کی تاریخ شکست کی آواز، مہاماری، وش منتھن، پلیتہ،چراغ تہ داماں، جنگ جاری ہے،پوکے مان کی دنیا،نالۂ شب گیر، بادل، کئی چاند تھے سر آسماں،برف آشنا پرندے، اندھیرا پگ،  موت کی کتاب،صدائے عندلیب بر شاخ شب، میرے نالوںکی گمشدہ آواز، خدا کے سائے میں، آنکھ مچولی، ایوانوں کے خوابیدہ چراغ، کہانی کوئی سنائو متاشا، اگر تم لوٹ آتے، دھند میں اگا پیڑ، کالی ماٹی، لیمینیٹڈ گرل، دکھیاری، گرداب، تخم خوں، لفظوں کا لہووغیرہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ان ناولوں میں موجودہ  یا گذشتہ زندگی کو اس طرح سمیٹ لیاگیا ہے کہ شاید ہی عوام و خواص کی زندگی کی کوئی صورت ان کی گرفت اور اظہاریت سے چھوٹی ہو۔اکیسویں صدی کا یہ عرصہ ناول کی تخلیق کے لحاظ سے بھرپور رہا ہے۔

م ج:اکیسویں صدی میں خواتین ناول نگاروں پر روشنی ڈالیں۔

ش ظ ا:اکیسویں صدی میں جن خواتین کے ناول میری نظروں سے گزرے ہیں ان میں ساجدہ زیدی (مٹی کے حرم) ثروت خان(اندھیرا پگ) ترنم ریاض (برف آشنا پرندے) شائستہ فاخری( نادیدہ بہاروں کے نشاں، صدائے عندلیب بر شاخ شب)صادقہ نواب سحر( کہانی کوئی سنائو متاشا)افسانہ خاتون (دھند میں کھوئی ہوئی روشنی) نسرین ترنم( ایک اور کوسی)  آشا پربھات (دھند میں اگا پیڑ) نیلو فر ( اوٹرم لین) نشاط پیکر ( شمع ہر رنگ میں جلتی ہے) نصرت شمسی( اوڑھنی) وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ تانیثیت اکیسویں صدی کا اہم رجحان ہے جس نے اِن ناولوں میں جگہ بنائی ہے۔عورتوں کے مسائل،حقوق کی پامالی، نسائی استحصال اور معاشرے کے جبر یہ نظام کے خلاف خواتین کا احتجاج ان ناولوں میں محسوس کیا جا سکتاہے۔

م ج:اعلیٰ اور معیاری ناولوں کی تخلیق میں کیا فرق ہے؟

ش ظ ا:اعلیٰ اور معیاری ناول قاری کو زندگی کی بصیرت عطا کرتا ہے۔اچھا ناول معاشرہ،فرد اور ذات کے نہ صرف خارجی عوامل و عناصر کو پیش کرتاہے بلکہ داخلی تضاد و تصادم اور اس کے محرکات کو بھی اپنی گرفت میں لیتا ہے۔ یہ کسی قوم،سماج یا معاشرے کی فکری و نظریاتی فضا کا اظہاریہ ہوتاہے …ناول زندگی کا جزو نہیں کل ہے۔اس میں ایک وسیع سیاسی،معاشی اور معاشرتی زندگی کو سمیٹنے کی غیر معمولی قوت ہوتی ہے۔بڑا ناول مصنف کے مخصوص وژن یا نقطۂ نگاہ سے قاری کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بڑا یا معیاری ناول محض تفنن طبع کا ذریعہ نہیں بلکہ اعلیٰ فن پاروں کی طرح زندگی،معاشرے اور کائنات کے رازہائے سربستہ کی بصیرت افروزی کا موثر وسیلہ بھی ہوتاہے۔

م ج:ناول کی بہ نسبت افسانہ کی طرف عام رجحان زیادہ کیوں ہے؟

ش ظ ا:اِس کا بہت آسان جواب جو ہمیشہ دیا جاتا رہاہے وہ یہ ہے کہ افسانہ مختصر ہوتاہے اس لیے زیادہ پڑھا اور لکھا جاتاہے۔ناول،ضخامت کے اعتبار سے بڑا اور منصوبہ بند طریقے سے لکھا ہوا فن پارہ ہو تاہے اس لیے نسبتاً کم تعداد میں سامنے آتاہے۔ لہٰذا کم پڑھا بھی جاتا ہے۔ آج کی بے انتہا مصروف زندگی میں ٹی وی، کمپیوٹر، موبائل وغیرہ سے جو وقت بچ جاتا ہے اس میں قاری افسانہ تو آسانی سے پڑھ لیتاہے،ناول کے لیے اسے خاص طور پر وقت نکالنا پڑتاہے۔اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ ناول کی طرف قاری کا رجحان کم ہوا ہے۔بقول فاروقی صاحب اردو معاشرے میں عمومی طور پر قرۃ العین حیدر،انتظار حسین اور عبداللہ حسین کا نفوذ ان کے معاصر شعرا سے بڑھ کر ہے۔

م ج:کیا جنس اور عورت کے بغیر اردو میں معیاری ناول نہیں لکھا جاسکتا؟

ش ظ ا: نہیں۔جس طرح ایک نارمل اور کامیاب زندگی کے لیے عورت کا وجود ضروری ہے اسی طرح اچھے ناول میں عورت کا کردار اہم ہے۔وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔کہا جاتا ہے کہ ناول زندگی کی تصویر پیش کرتا ہے، تو ناول کی کائنات بغیر عورت کے کیسے مکمل ہو سکتی ہے؟ 

م ج:زوال آمیز تہذیب کے بدلتے نقش کو آج کے کن ناول نگاروں نے موضوع بنایا ہے؟

ش ظ ا:21  ویں صدی کے جن ناولوں کا میں نے ذکر کیا ان سب میں زوال پذیر تہذیب کے بدلتے نقش بہ آسانی دیکھے جا سکتے ہیں،مگر خاص طور سے مشرف عالم ذوقی، عبدالصمد، حسین الحق، شموئل احمد، پیغام آفاقی، حبیب حق، احمد صغیر، شائستہ فاخری، رحمان عباس اور غیاث الدین کے ناولوں میں قدروں کے زوال کی عکاسی نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

م ج:آج کے ناول نگاربدلتے اسلوب واظہار کے معاملے میںکس حد تک مطمئن ہیں؟

ش ظ ا:گزشتہ دو دہائیوں میں جو ناول سامنے آئے ہیںان میں فکر،ہیئت اور اسلوب کی سطح پر مختلف تجربات کی کوششیں ملتی ہیں۔ان تجربات میں زبان اور اسلوب واظہار کے تجربات سب سے نمایاں ہیں۔ آج کے ناولوں کے اسلوب و اظہار پر بدلتی ہوئی تہذیب کا اثرہے اور نت نئے موضوعات کا بھی۔اس اسلوب میں پرانی صورتیں تیزی سے بدل رہی ہیں۔کلاسیکی اصول و ضوابط بے ترتیبیوں اورتضادات میں رل مل کر اس طرح آرہے ہیںکہ اسالیب کا تمام رکھ رکھائو پیچھے چھوٹتا جا رہاہے۔اس میں روایت سے انحراف،پرانے اسلوب سے بیزاری اور بندھے ٹکے اصولوں سے علیحدگی کو آسانی سے محسوس کیا جاسکتاہے۔زبان،جذبہ اور خیال سب مل کر ایک بہت ہی نیا اسلوب بنا رہے ہیں جس میں نہ تزئین کاری ہے اور نہ فطرت کی پینٹنگ۔ہاں بدلتی ہوئی قدروں اور حقیقتوں کا احساس ضرورہے۔بدلتی ہوئی قدریں زندگی میں تہذیب کی پالش گوارا نہیں کرتیں اس لیے ناول کے اسلوب سے رنگینی ختم ہو تی جارہی ہے اور اس نے جذباتیت سے بھی ہاتھ کھینچ لیاہے۔سنجیدہ سے سنجیدہ اور دل ہلا دینے والا واقعہ غیر جذباتی الفاظ میں سامنے آتاہے اور صرف واقعہ بتا کر گزر جاتاہے۔یعنی یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ناول کے نئے اسلوب و اظہار پر عقلیت اور سوجھ بوجھ کا دائرہ حاوی نظر آتاہے۔اور آج کے ناول نگار اِس بدلتے اسلوب سے پوری طرح مطمئن بھی ہیں۔





 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


حالی کا تصوروزن: ایک جائزہ، مضمون نگار محمد شاہنواز خان




حالی نے’مقدمہ شعروشاعری‘ میں شعرکے تصور وزن پر تفصیل سے گفتگو کی ہے ۔ مناسب معلوم ہوتاہے کہ پہلے ان کے تصور وزن کو پیش کردیا جائے۔

    ’شعر کے لیے وزن ضروری ہے یا نہیں ‘کے عنوان کے تحت تصور وزن کے متعلق حالی لکھتے ہیں

 شعر کے لیے وزن ایک ایسی چیز ہے جیسے راگ کے لیے بول،جس طرح راگ فی حد ذاتہ الفاظ کا محتاج نہیں۔ اسی طرح نفس شعر وزن کا محتاج نہیں۔ اس موقع پر جیسے انگریزی میں دو لفظ مستعمل ہیں:ایک پوئٹری اور دوسرا ورس، اسی طرح ہمارے ہاں بھی دو لفظ استعمال میں آتے ہیں: ایک شعر اور دوسرا نظم اور جس طرح اُن کے ہاں وزن کی شرط پوئٹری کے لیے نہیں ،بلکہ ورس کے لیے ہے۔اِسی طرح ہمارے ہاں بھی یہ شرط شعر میں نہیں بلکہ نظم میں ہونی چاہیے۔

)مقدمہ شعر و شاعری، الطاف حسین حالی، مکتبہ جامعہ لمٹیڈ، دہلی، 2018، ص43(

 ’’ عرب شعر کے کیا معنی سمجھتے تھے ‘‘کے عنوان کے تحت حالی عربوں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ عرب برجستہ اور دل آویز فقروں،مؤثراور دل کش تقریروںکو شاعری سے تعبیر کرتے تھے۔ نیز محقق طوسی کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’ عِبری اور ُسریانی اور قدیم فارسی میں شعر کے لیے وزن حقیقی ضرور نہ تھا سب سے پہلے وزن کا التزام عرب نے کیا ہے۔ (مقدمہ شعرو شاعری ،ص44)

   تصور وزن پرگفتگو سے پہلے وزن کی حقیقت پرتھوڑی سی بحث مناسب معلوم ہوتی ہے ۔ وزن کے تعلق سے ممتاز حسین اپنی کتاب’حالی کے شعری نظریات ـ:ایک تنقیدی مطالعہ‘میں لکھتے ہیں:

  تمام حکما اس امر پر متفق ہیں کہ وزن کا تعلق حسب ذیل باتوں سے ہے:

  1.   ادائیگی حرف کی مدت، زمان یا دوران۔ (Duration)  
  2.  ادائیگی حرف سے جو آوازیں پیدا ہوتی ہیں ان کا حجم۔(Volume) یعنی بھاری، ہلکی، ثقیل، خفیف، بلند و کوتاہ آواز ۔                            
  3.  ان آوازوں کے سُر اور تال(Timing)  یعنی وہ وقفہ جو تکرار آہنگ کے درمیان متعین کیا جاتاہے۔

)حالی کے شعری نظریات ، ایک تنقیدی مطالعہ، ممتاز حسین، سعد پبلی کیشنز،کراچی ،1988ص6(

یہ بات واضح ہو کہ وزن کمیاتی یعنی Quantitative، یا کیفیاتی یعنی Qualitative ہوتا ہے۔ اردو میں وزن کا تعلق کمیاتی وزن سے ہے۔ اس میں مصوتے کی طوالت یااختصار مد نظر رہتا ہے، نہ کہ کسی آواز کو ادا کرنے میں کتنا زور صرف ہوا ہے۔ کمیاتی وزن میں ہر حرف کی آواز اپنی قدروقیمت رکھتی ہے۔ وزن کے تعلق سے مزید آگہی کے لیے عصر حاضر کے معتبراور دیدہ ور نقادشمس الرحمن فاروقی کی کتاب ’عروض ،آہنگ اور بیان ‘کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

 شعر کی ماہیت کے بارے میں سب سے پہلے ارسطو نے اپنی’ بوطیقا ‘میں گفتگو کی ہے۔ اس کے ایک متنازعہ فیہ جملے نے متاخرین کووزن کے تعلق سے دو گروہ میں تقسیم کردیا۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ارسطو کے نظریۂ شعرپر ہی ایک نظر ڈال لی جائے۔ ارسطو کے حوالے سے یہ بات تقریباًتسلیم کر لی گئی ہے کہ وہ شعر میں وزن کا قائل نہیں ہے۔ بلکہ وہ صرف کلام مخیّلہ کو شعر کہتا ہے، خواہ وہ موزوں ہو یا غیر موزوں۔جب کہ ارسطو کا نظریۂ شعردرج ذیل تین باتوں کی تفہیم پر مبنی ہے :

(1)  کلام مخیّلہ موزوں ،جسے وہ شعرکہتا ہے ۔جیسے ہومرکا کلام۔

(2)  کلام غیر مخیلہ موزوں ،جسے ارسطو شعر کہنے سے گریزکرتاہے ۔جیسے امپڈاکلیزEmpedoclesکامنظوم کلام ،جو علم طبعیات پر مبنی ہے ۔ ارسطو اس کے کلام کو منظوم ہونے کے باوجود شعر نہیں کہتا ۔ اور نہ ہی امپڈاکلیزکو شاعر مانتا ہے۔

(3) کلام مخیلہ غیر موزوں، جسے وہ شعر نہیں کہتا، بلکہ اسے شعر کے علاوہ کچھ دوسرا نام دینا چاہتا ہے، لیکن اُس وقت اس کے ذہن میں کوئی اصطلاحی لفظ نہیں تھا، جس سے وہ اسے موسوم کرتا۔ جیسے ’مکالمات افلاطون‘ باوجود کہ کلام مخیلہ ہے لیکن وہ اسے شعر کہنے سے گریز کرتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ارسطو کو’کلام مخیلہ‘لیکن ’غیر موزوں‘کو شعر کہنے میں تأمل ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ وہ وزن کو شعر کے لیے غیر ضروری نہیں قرار دیتا ۔ 

حالی کا نظم اور شعر میںوزن کے تعلق سے تفریق کرنے کا نقطۂ نظر بھی در اصل ارسطو کے نقطۂ نظر کی وہ تفہیم ہے، جو بعد کے محققین نے اپنے طور سے کی ہے۔ ’بو علی سینا ‘نے اپنی کتاب ’الشفا ‘ میں ارسطو کے حوالے سے شعر اور نظم میں تفریق کے تعلق سے لکھا ہے۔بو علی سینا کی عربی عبارت کا فارسی ترجمہ ملاحظہ کیجیے :

 اما ارسطو میان شعر و نظم فرق گذاشتہ است، اصل شعر را در معنی و مضمو ن آں می جویدو صورت شعر را کہ مقید بہ وزن و قواعددیگرنظم است،جزماہیت ِاو نمی شمارد۔ و معتقد است کہ بسیار ے از سخنان منظوم را کی موضوع آنہا ،فی المثل پَزِشۡکی و طبیعات است از جنس شعر نباید شمرد۔ 

)ترجمہ فن شعر ابن سینا، از آقائے دانش پژوہ، بحوالہ حالی کے شعری نظریات،  ایک تنقیدی مطالعہ ،ص(

اس عبارت میں ارسطو کے حوالے سے چند باتوں کا دعوی کیا گیا ہے۔ ایک تو یہ کہ ارسطو شاعری کا جوہر معنی و مضامین (کلام مخیّلہ(میں دیکھتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ موزوں کلام جو معنی و مضامین پر مشتمل نہ ہو، (کلام موزوں غیر مخیّلہ( وہ اسے شعر نہیں کہتا۔ تیسرا دعوی، صورت شعر یعنی وزن اور قواعد نظم کو شعر کی ماہیت کا جز وشمار نہیں کرتا، ابن سینا کا یہ دعوی ارسطو کے حوالے سے حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ اس لیے کہ ارسطو نے شعر کی ماہیت سے وزن کو خارج کرنے سے گریز کیا ہے۔ جیسا کہ پہلے واضح کیا جا چکا ہے۔ بو علی سینا ارسطو کے نظریے کی تشریح کرنے والوں میں سر فہرست ہیں۔ اس لیے ان کے نظریے کی جھلک بعد کے محققین کی تحریروں میں بھی نظر آتی ہے۔ محقق طوسی بھی ان کے خوشہ چیں رہے ہیں، جن کا حوالہ حالی نے بھی دیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کی حالی نے بھی شعر اور نظم میں تفریق کا نظریہ یہیں سے اخذکیا ہے۔ حالی نے تصور وزن کے تعلق سے محقق طوسی کا حوالہ دیا ہے۔  اس لیے محقق طوسی کی عبارت بھی درج کی جاتی ہے۔

 پس شعر در عرف منطقی (ارسطو ( کلام مخیل است و در عرف متأخراں کلام موزوں مقفی۔چہ بحسب ایں عرف ہر سحنے را کہ وزنی و قافیتی باشدخواہ آں سخن برہانی باشدوخواہ خطابی وخواہ صادق و خواہ کاذب و اگر ہمہ بمثل توحید خالص یا ہذیانات محض باشد آں را شعرخوانند۔ واگر از وزن وقافیہ خالی بودواگرچہ مخیّل بودآنراشعر نخوانند۔وامّا قدماشعر کلام مخیّل راگفتہ اندواگرچہ موزون حقیقی نبودہ است۔ واشعارِ یونانیاں بعض چناں بودہ است ۔و دیگر لغات قدیم مانندعبری، سریانی، فرس ہم ،وزن حقیقی اعتبار نکردہ اند۔واعتبار وزن حقیقی بداں می ماند کہ اول ہم عرب را بودہ است ۔ 

)اساس الاقتباس ،چاپ دانشگا ہ تہران، بہمن1326، ص586، بحوالہ حالی کے شعری نظریات ،ایک تنقیدی مطالعہ ،ص 2)

اس عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ شعر منطقیوں (ارسطو) کی اصطلاح میںکلام مخیل ہے اور متاخرین (ارسطوکے بعد)کی اصطلاح میں شعرایسا کلام ہے جو موزوں و مقفّٰی ہو، یعنی متاخرین کے نزدیک اگر شعر میں وزن و قافیہ نہ ہو تو وہ شعر نہیں اگرچہ کلام مخیل ہو ۔اس اعتبار سے ہر وہ کلام جو موزوںو مقفیٰ ہو ،وہ شعر ہوگاگرچہ اس میں کچھ بھی پیش کیا گیا ہو ۔لیکن قدما (ارسطو )کے نزدیک شعر کلام مخیّل ہے اگر چہ اس میں وزن حقیقی نہ ہو ۔یونانی اور دیگر قدیم زبانیں جیسے ِعبری سُریانی وغیرہ میں بھی شعروزن حقیقی کے بغیر ہواکرتے ہیں۔  وزن حقیقی کا استعمال سب سے پہلے عربوں نے کیا ہے ۔

محقق طوسی کو بطور حوالہ پیش کرتے ہوئے حالی نے یہ دعوی کیا کہ نفس شعر کے لیے وزن ضروری نہیں۔ جب کہ طوسی کی عبارت ہے ’قدما شعر کلام مخیّل راگفتہ اندواگرچہ موزون حقیقی نبودہ است ‘ یعنی ارسطو کلام مخیّل کو شعر کہتا ہے اگر چہ وہ موزون حقیقی نہ ہو ۔یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ محقق طوسی ’موزون حقیقی‘ کا لفظ استعمال کرتا ہے اورموزون حقیقی عربوں کے نزدیک وزن مع قافیہ ہے یعنی ایسا وزن جس میں قافیہ کی پابندی ضروری ہو۔ اوروزن کے ساتھ قافیہ کی پابندی عرب ہی کرتے تھے۔ دوسری زبانوں میں وزن کی پابندی تھی،قافیہ کی نہیں۔ اسی لیے محقق طوسی عِبری اورسُریانی کے لیے ’وزن حقیقی اعتبار نکردہ اند‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ان زبانوں میں وزن کے ساتھ قافیہ کا استعمال ضروری نہیں تھا۔ یونانی زبان کے لیے محقق طوسی لکھتے ہیں ’واشعار یونانیاں بعض چناں بودہ است ‘۔یعنی یونانی زبان میں کبھی وزن کے ساتھ قافیہ کا استعمال ہوتا تھااور کبھی نہیں ۔یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ محقق طوسی نے مختلف زبانوں میں وزن کا کیا تصور ہے، اس پر گفتگو کی ہے۔ یہ دعوی نہیںکیاہے کہ شعر کے لیے وزن غیر ضروری ہے ۔

حالی نے ’ وزن حقیقی ‘سے کیا مراد ہے، اس فرق کو ملحوظ رکھے بغیر طوسی کے حوالے سے لکھاہے:

 عِبری اور سُریانی اور قدیم فارسی میں شعر کے لیے وزن حقیقی ضرور نہ تھا۔سب سے پہلے وزن کا التزام عرب نے کیا ہے۔

حالی کا آخری جملہ ’’سب سے پہلے وزن کا استعمال عرب نے کیا ہے‘‘محل نظر ہے کیونکہ طوسی نے موزون حقیقی کا لفظ استعمال کیا ہے اورموزون حقیقی کا مفہوم وزن مع قافیہ ہے ۔جیسا کہ اس کی وضاحت کی جاچکی ہے۔ حالی نے اس فرق کو نظر انداز کر دیا اور دوسری زبانوں کی شاعری کو بھی زیور ِوزن سے عاری ہونے کی بات کہہ دی۔ جب کہ حقیقت یہ تھی کہ دوسری زبانوں میں وزن کے ساتھ قافیے کی پابندی ضروری نہ تھی ۔ 

حالی نے اپنے دعوے کومدلل اور جدید ذہن سے ہم آہنگ کرنے کے لیے یوروپین محققین کا بھی حوالہ دیا ہے، لیکن نام درج نہیںکیا۔ حالی لکھتے ہیں :

 یورپ کا محقق لکھتا ہے کہ اگر چہ وزن پر شعر کا انحصار نہیں ہے اور ابتدا میں وہ مدتوں اس زیور سے معطل رہا ہے۔ مگروزن سے بلا شبہ اس کا اثر زیادہ تیز اور اس کا منتر زیادہ کارگر ہوجاتاہے ۔

    اس عبارت میں ’یورپ کا محقق ‘کی نشاندہی ممتاز حسین نے’ ورڈزورتھ ‘ سے کی ہے ۔ ورڈزورتھ کے ساتھ سرفلپ سڈنی اور شیلی کے حوالے بھی وزن کے غیر ضروری ہونے کے تعلق سے دیے جاتے ہیں،  جن کا نظریہ ٔ وزن ارسطو کے اسی متنازعہ فیہ جملے سے ماخوذ ہے، جس کی وضاحت اس سے پہلے کی جاچکی ہے ۔ 

’عرب شعر کے کیا معنی سمجھتے تھے ‘کے عنوان کے تحت حالی عربوں کے برجستہ اور دل آویز فقروں، مؤثراور دل کش تقریروںکو، جنھیں عرب شعر سے تعبیر کرتے تھے، وزنِ شعر کے لیے غیر ضروری ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں۔ حالی کا مفروضہ یہ ہے کہ شعر کے لیے وزن کی شرط اگر ضروری ہوتی تو ان جملوں اور فقروں کو عرب شعر سے تعبیر نہ کرتے۔ اس سلسلے میں پروفیسر احمد محفوظ اپنے ایک مضمون ’حالی اور غزل کی تنقید‘میں لکھتے ہیں:

یہاں اس بات کا ثبوت فراہم نہیںکیا گیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت کی قدیم شاعری میںجس طرح کے برجستہ اور دل آویزفقروں کی مثال لائی گئی ہے اور جنھیں عام بول چال کے مقابلے میں فوقیت رکھنے والے کہا گیا ہے، انھیں فی نفسہ شعر کی حیثیت حاصل تھی یا انھیں محض چند شاعرانہ خصوصیات کے حامل فقرے ہی سمجھا جاتا تھا کیونکہ شاعرانہ بیان کی صفات میں ندرت اور نرالا پن بھی شامل ہے۔ لہٰذا ممکن ہے قدیم عرب کے لوگ ایسے فقروں کی برجستگی اور ندرت کی بنا پرانھیں شاعرانہ انداز کے فقرے سمجھتے رہے ہوں اور ان کی نگاہ میںایسے فقروں کی حیثیت فی نفسہٖ شعر کی نہ رہی ہو۔

(حالی اور غزل کی تنقید ،پروفیسر احمد محفوظ،مشمولہ الطاف حسین حالی، تحقیقی، تنقیدی جائزے،مرتب پروفیسر نذیر احمد،غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی، 2002 ،ص427(

پروفیسر احمد محفوظ کی بات بالکل درست ہے کیونکہ شعر کے لیے جدلیاتی انداز بیان جس میں الفاظ کے مجازی معنی کی بنیادی اہمیت ہوتی ہے، ضروری خیال کیا جاتا ہے۔  ان ناموزوں فقروں کو شعر کہہ دیناایسے ہی ہے جیسے کسی موزوں لیکن غیر مخیلہ فقرے کو بھی شعر کہہ دیا جائے۔ اس قسم کے تاثراتی بیان کی اہمیت یہ ہے کہ وہ دونوں صورتوں میںشعر گوئی کی صلاحیت کے امکان کو روشن کرتے ہیں یا اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔

حالی نے شعر میں وزن کو غیر ضروری قرار دینے کے لیے عربی فقروں اور جملوں کا سہارا لیا ہے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے مشہور علمائے بلاغت کا نظریۂ  وزن بھی درج کر دیا جائے۔  ’قدامہ ابن جعفر ‘اپنی کتاب ’نقد الشعر ‘ میں لکھتے ہیں :

شعر اس موزوں اور مقفّیٰ قول کا نام ہے جس سے کسی معنی پر دلالت ہو سکے ۔

)نقد الشعر ،قدامہ ابن جعفر، ترجمہ محمد جعفر احراری، بحوالہ کلاسیکی تصورشعر، آفتاب عالم عارفی ،براؤن پبلی کیشنز ،نئی دہلی، 2018ص67( 

ابن خلدون تصور شعر سے بحث کر تے ہوئے ا پنے مقدمے میں ایک جگہ لکھتے ہیں:

ایک ایسا کلام موزوں و مقفّیٰ ہے جو معنی رکھے اور اس کے تمام اوزان ایک حرف روی پر مشتمل ہوں۔(ایضاً، ص67)

ابن رشیق شعر کی تعریف کرتے ہو ئے لکھتے ہیں :

شعر ذہنی نشاط اور اہتزاز نفس کا ذریعہ ہے ، جو دلوں کو گرماتا ہے اور روح کو تڑپاتا ہے، یہی شعر کا مقصد ہے اور اسی غرض سے اس کی تخلیق ہوئی ہے۔ (ایضاً ص68)

طہ ٰ حسین اپنی کتاب ’ادب الجاہلی‘ میںعربوں کے یہاں وزن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

تمام عرب ہر زمانے میں اس امر پر متفق الرائے رہے ہیں کہ شعر کے لیے موزوں ہونا ضروری ہے خواہ وہ کوئی سا وزن ہو جس کا شاعر قصد کرے ۔ کوئی عربی النسل آدمی شعر کا کوئی اور تصور ہی نہیں کر سکتا ہے سوائے اس کے کہ اس کے الفاظ اس عروضی مقیاس کے پابند ہوں یا یہ کہو کہ اس موسیقی (ترنم)والے معیار کے پابند ہوں جو قصیدے کے اشعار کے درمیان ایک قسم کی موزونیت پیدا کردیتا ہے۔

)ادب الجاہلی، مترجم، محمد رضا انصاری، بحوالہ کلاسیکی تصور شعر، ص68(

 طہ حسین نے حالی کے ایک عرصے بعد تمام عرب کے حوالے سے تصور وزن کے بارے میں جو بات کہی ہے، وہ اپنا محل رکھتی ہے ۔ 

حالی وزن کو شعر کی ماہیت اور اس کے اصلی عنصر ہونے سے خارج کرتے ہیں ،لیکن وہ بالطبع شاعر ہونے کے باوجود بطور نمونہ کوئی ایک شعر بھی ایسا پیش نہیں کرتے جو وزن سے عاری ہو، بلکہ وہ وزن کی اہمیت اورشعر میں وزن کے ذریعے جذبات کی ادائیگی اور تاثیر کے دوبالا ہونے کی بات کرتے ہیں۔

 

Mohd Shahnawaz Khan

B/3rd Floor, B20 Okhla Vihar

New Delhi- 110025

Mob: 9536673993

E.mail: shahnawazrazi73@gmail.com

 









تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...