13/2/25

علم اللغات اور لفظ اصلیات، ماخذ: عام لسانیات، مصنف: گیان چند جین

 اردو دنیا، جنوری 2025


عربی میں لغت کے معنی لفظ بھی ہیں اور ڈکشنری بھی۔ موخرالذکر مفہوم میں لغت کی جمع لغات کو زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اردو کی عام بول چال میں لغت اور لغات دونوں کو ڈکشنری کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ ان میں بھی سہولت اور اختصار کی خاطر ’لغت‘ بولنے کا زیادہ رواج ہے۔ یونانی زبان میں Lexis لفظ کو کہتے ہیں۔ اس سے Lexican بنا جس کے معنی لغات کی کتاب یا ذخیرۂ الفاظ قرار پائے۔ لاطینی میں dicere کے معنی کہنا ہیں جس سے dictionaries بنا اور جو انگریزی میں ڈکشنری ہوگیا۔ اس لفظ کے معنی لغات کی کتاب ہیں۔

لسانیات نے یونانی اصطلاح کو ترجیح دی ہے۔ لغت سے متعلق دو علوم ہیں یا ایک ہی علم کے دو پہلو ہیں۔ پہلے کو lexicologyکہتے ہیں۔ اردو میں اس کا ترجمہ علم اللغات یا لغاتیات ہوسکتا ہے۔ یہ نظریاتی شاخ ہے جس میں لغت تیار کرنے کے مسائل پر غور کیا جاتا ہے۔ اس کی عملی شاخ کو لغت نگاری (Lexicography) کہتے ہیں۔ یہ اطلاقی لسانیات کا عمل ہے۔

لغت کا موضوع ایک زبان کا ذخیرۂ الفاظ (Vocabolary) ہوتا ہے۔ اس کے تعین میں بہت سی دشواریاں آتی ہیں۔ تاریخی اعتبار سے ذخیرۂ الفاظ میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے یعنی کچھ الفاظ معدوم اور کچھ اضافہ ہوتے جاتے ہیں۔ اس باب میں ان پہلوؤں پر بھی غور کیا جائے گا۔

لغت میں جہاں لفظ کے متعلق طرح طرح کی معلومات درج کی جاتی ہیں ان میں سے ایک اہم اور مفید اندراج لفظ کی اصل کے بارے میں ہوتا ہے۔ انگریزی میں اسے Etymology کہتے ہیں۔ اس باب کے آخر میں اس کے مسائل پر بھی مختصراً نظر کی جائے گی۔

امریکہ اور مغربی یورپ میں علم اللغات کو لسانیات کی باقاعدہ آزاد شاخ کی حیثیت نہیں دی جاتی۔ لسانیات کی کتابوں میں لغاتیات پر ابواب نہیں ہوتے۔ ان کے مقابلے میں روس میں علم اللغات اور لغت نگاری دونوں کو مطالعۂ زبان کے اہم شعبے مانے جاتے ہیں، چنانچہ ان کی لسانیات کی کتابوں میں علم اللغات پر مفصل غور کیا جاتا ہے۔ روسیوں میں علم اللغات کا مشہور عالم شیربا (Scherba) ہے جس نے اس علم پر نظریاتی حیثیت سے بھی لکھا اور عملی لغت نگاری بھی کی، مغرب میں لغت نگاری کا کام بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ اس کے اصولوں پر بھی لکھا گیا لیکن باقاعدہ مستقل سائنس کے طور پر نہیں۔

لغت کی ترتیب میں لفظ بنیادی اکائی ہے اور مارفیمیات کے باب میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ لفظ کی تعریف آسان نہیں۔ بعض ماہرین نے لفظ سے ملتا جلتا Lexeme کا تصور پیش کیا ہے لیکن اس اصطلاح کے معنی پر اتفاق نہیں۔ Whoy نے اسے Stem یعنی بنیادی لفظ کے مساوی قرار دیا تھا، لیکن یہ صحیح نہیں۔  اس کے تعین میں بھی لفظ کی طرح دشواریاں ہیں اس لیے ہم لغت کی حد تک عام بول چال کے لفظ ’لفظ‘ سے کام چلائیں گے۔ کم ازکم ترسیمیات میں لفظ ’واضح‘ ہوتا ہے یعنی وہ روپ جس کو بقیہ مماثل روپوں سے فاصلہ دے کر لکھا جائے۔

ہم کسی شے کو دیکھتے یا محسوس کرتے ہیں تو ایک طرف اس کا ذہنی تصور قائم کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف اسے ایک صوتی علامت دی جاتی ہے گو یہ صحیح ہے کہ نفسیاتی اکائی ’جملہ‘ ہے لفظ نہیں یعنی ہم ہر خیال ’جملے‘ کے پیرائے میں کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی صحیح ہے کہ مجرد تصورات کی اکائی لفظ ہے۔

زبان کے دو حصے ہوتے ہیں (1) لغات یعنی لفظیات (2) قواعد۔ لغات یا ذخیرۂ الفاظ میں لفظ مجرد تصور کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، قواعد ان کے آپسی رشتے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس طرح الفاظ کی —بھی دو قسمیں کی جاسکتی ہیں (1) لغاتی لفظ اور (2) قواعدی لفظ۔ لغاتی لفظ بنیادی اور قائم بالذات ہوتے ہیں۔ اُلمان نے انھیں outo sematic یا Principal کہا ہے جب کہ قواعدی لفظ امدادی اجزا، حروف وغیرہ ہوتے ہیں۔ المان انھیں Syn-Semanzic یا Eccessory کہتا ہے۔ سیاق کے اعتبار سے بعض اوقات ایک موقعے پر جو لفظ خاص ہے دوسرے موقعے پر قواعدی ہوجاتا ہے، مثلاً        ؎

خاص لفظ

قواعدی لفظ

وہ یہاں رہتا ہے

وہ مجھے ستاتا رہتا ہے

یہاں سے جاؤ

کھاتے جاؤ

اس نے مجھے ایک روپیہ دیا

وہ مار پڑتے ہی بول دیا

زبان کے لغاتی لفظوں کا ذخیرہ بنا بنایا موجود ہے لیکن قواعدی لفظ بنتے رہتے ہیں۔ لفظ آفرینی کا تعلق قواعدی الفاظ سے ہے۔

لفظ اگر مجرد ہو تو محض ایک تصور پارہ ہے لیکن کلام میں استعمال ہوکر اس کے مخصوص سیاقی معنی ہوجاتے ہیں۔ اس طرح لفظ کے معنی کی بھی دو قسمیں ہوتی ہیں (1) لغاتی (Lexical) معنی اور (2) قواعدی معنی۔ لغاتی معنی مجرد مفہوم ہوتے ہیں لیکن قواعدی معنی سیاق کے اعتبار سے ہوتے ہیں اور ان میں حسب استعمال کچھ نہ کچھ دلالت (Denotation) شامل ہوجاتی ہے۔ لغت نگار کو یہ قواعدی معنی پریشاں کرتے ہیں۔ ان پر آگے چل کر مزید اظہارِ خیال کیا جائے گا۔

انسائیکلوپیڈیا امریکنا کے مطابق لغت نگاری (Coinotation) سائنس نہیں کیونکہ اس میں معنی کے بہت سے فیصلے موضوعی (Lexicography) ہوتے ہیں یعنی انفرادی شعور کے مطابق درج کیے جاتے ہیں۔ ایک حد تک تلفظ تک موضوعی ہوتا ہے۔ روسی لغت نگار شیربا کا دعویٰ ہے کہ لغت نگاری تدوین نہیں تخلیق ہے لیکن ماہرین لغت کا یہ دعویٰ بلند بانگ معلوم ہوتا ہے۔

لغت نگاری کی پہلی منزل خزینۂ الفاظ کو جمع کرتا ہے۔ اگر کسی زبان کی پہلی بار لغت بنائی جارہی ہے تو اس کے لیے اہل زبان سے سن سن کر لفظ جمع کرنے ہوں گے۔ جائزے اور مشاہدے سے تمام الفاظ جمع کرنا تقریباً ناممکن سا ہے۔ اگر اس زبان میں کوئی تحریری ادب ملتا ہے تو اس ادب کی لفظیات کو لیا جائے گا۔ اگر کسی ایسی زبان کی لغت بنائی جارہی ہے جس میں پہلے سے لغت موجود ہیں تو اس کے لفظ تین سرچشموں سے جمع کرنے ہوں گے۔

(۱)      پہلے سے موجود لغت کی کتابیں (ب) ادب کو چھان پھٹک کر (ج) اہل زبان کی تقریر سے سن کر۔

جامع لغت تیار کرنے کے لیے ادبیات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ اردو میں اس قسم کی کوشش ترقی اردو بورڈ پاکستان کی اردو لغت ہے۔

الفاظ کو جمع کرکے ان کے کارڈ بنائے جاتے ہیں اور انھیں فائل میں ترتیب دیا جاتا ہے۔ مغرب میں فیتوں (Tape) پر بھی فائل تیار کیے جاتے ہیں او ران کی ترتیب میں کمپیوٹر سے مدد لی جاتی ہے۔ لفظ کی تعیین میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں سے کچھ حسب ذیل ہیں:

(1)     بعض اوقات یہ طے کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کون سا روپ تہہ نشیں ہے اور کون سا اس سے مشتق مثلاً Life اور Line میں کون سا بنیادی ہے اور کون سا مستخرج۔

(2)     مشتق اور مستخرج روپوں میں یہ مشکل سامنے آتی ہے کہ کسے آزاد لفظ کی حیثیت سے دیا جائے اور کسے تہہ شین لفظ کے تحت رکھا جائے۔ روسی ماہر لغت شیربا نے مثال کے طو رپر لکھا ہے کہ روسی لغات Truba (شہنا) اور Trubal (شہنانواز) کو دو لغات قرار دیا جائے کیونکہ ایک بے جان شے کو ظاہر کرتا ہے، دوسرا شخص کو لیکن شہنا کی تصغیر کے لفظ Trubocka کو Truba ہی کے ذیل میں دینا چاہیے۔ اس کی تقلید میں دلی کے آر این شری واستو نے ہندی کے ذیل کے جوڑوں کو علیحدہ لغات کے طور پر درج کرنے کی سفارش کی۔

چام، چمار لوہا، لہار   سونا، سنار

لیکن ذیل کے جوڑوں کے دونوں ارکان کو ایک لفظ کے تحت ہی رکھا۔

آم، امیا (امری)۔ کھاٹ، کھٹیا۔ پل، پلیا

شیربا یا شری واستو کے اس بیان سے صرف ان دو روپوں کے بارے میں رہبری ہوتی ہے۔ کوئی عام اصول سامنے نہیں آتا۔ اردو کی مثال لیجیے کار سے کارواں، کارساز— کارروائی، کارستانی، کارکردگی، کاروبار، کارکن، کارندہ، بے کار، خودکار، ناکارہ، ہرکارہ، وغیرہ مستخرج ہیں۔ ان کے مفہوم میں کافی اختلافات ہیں۔ ان میں سے کن کو کار کے تحت درج کیا جائے اور کن کو علیحدہ لغت کے طور پر۔ ظاہر ہے کہ لغت نگار کا موضوعی فیصلہ ہی رہبری کرے گا۔ کوئی ایسا اصول نہیں بنایا جاسکتا جس کا ہر موقع پر یکسانی سے اطلاق کیا جاسکے۔

اردو لغات میں اس معاملے میں بہت لاپروائی برتی گئی ہے۔ دوسری لغات کو تو چھوڑیے ترقی اردو بورڈ پاکستان کی لغت میں ذیل کے تمام الفاظ کو علیحدہ علیحدہ درج کیا گیا ہے۔

اختصاص: اختصاصی

اختلاج: اختلاجی

اختیار: اختیارات، اختیاری

اخروٹ: اخروٹی

ظاہر ہے کہ مندرجہ بالا ہر سطر کے تمام الفاظ کو ایک ہی لغت کے ذیل میں دینا چاہیے تھا۔

(3)     محاوروں کو کس طرح درج کیا جائے۔ میرے سامنے فیروز اللغات ہے اس میں آنکھ کے علاوہ آنکھ کے متعدد محاورے الگ الگ لغت کی پیش سے دیے گئے ہیں۔ محاوروں کے بارے میں یہ اصول ہونا چاہیے کہ محاورہ مرکزی لفظ کے تحت دیا جائے۔

(4)     کثیر معنوی لفظ کو ایک لغت کے طور پر نہ دے کر اسے ہر آزاد معنی کے لحاظ سے علیحدہ لغت قرار دیا جائے مثلاً ’بار‘ بمعنی بوجھ، با ربمعنی باریابی یا دخل اور بار بمعنی دفعہ یا مرتبہ کو تین علیحدہ لغات شمار کرنا چاہیے۔ بعض اوقات یہ طے کرنا دشوار ہوتا ہے کہ ایک لفظ کے دو معنی آزاد مفاہیم ہیں یا ایک دوسرے سے نکلے ہیں، مثلاً عرق بمعنی پسینہ اور عرق بمعنی کسی شے کا نچوڑ۔ آب بہ معنی پانی اور آب معنی چمک۔ سوز بہ معنی جلن اور سوز بہ معنی دادِ حل مثلاً سوز و گداز ہیں۔ ان تمام موقعوں پر لغت نگار اپنی لسانی حس کے مطابق فیصلہ کرے گا۔

(5)     علمی اصطلاحات کو کس حد تک زبان کے ذخیرے کا جزو مانیں۔ کیا انگریزی لغت میں سائنس، طب، انجینئرنگ وغیرہ کی اصطلاحات کو لیں اور اگر لیں تو کس حد تک لیں اور کہاں رک جائیں۔  حکومتِ ہند کے سائنسی اصطلاحات کمیشن نے ہندی کی کئی لاکھ اصطلاحیں وضع کردی ہیں۔ ترقی اردو بیورو اردو کے سلسلے میں یہی کام کررہا ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے دارالترجمہ میں بھی اردو کی ہزاروں اصطلاحیں بنائی گئی تھیں۔ وہ عربی فارسی سے بجنسٖہ نہیں لی گئی تھیں بلکہ اردو میں وضع کی گئی تھیں۔ ہم انھیں اردو لغت میں  جگہ نہیں دیتے بلکہ وہ لفظ ہیں اور ہر لفظ کسی نہ کسی زبان کا ہوتا ہے۔

بہتر یہ ہے کہ اصطلاحات کو مخصوص علموں کی اصطلاحاتی لغت میں درج کیا جائے۔ عام لغت میں کون سی اصطلاحیں لی جائیں اس پر لغت کی قسموں کے سلسلے میں غور کیا جائے گا۔

(6)     متعدد الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو کسی زبان کے علاقے میں بولے جاتے ہیں لیکن تحریر میں استعمال نہیں کیے جاتے۔ ہر معیاری زبان کی ذیلی بولیاں یا معیار زبان کا تقریری روپ ایسے الفاظ فراہم کرسکتا ہے۔ بعض مصنف مثلاً میرامن، نظیراکبرآبادی، جوش ملیح آبادی ایسے تقریری الفاظ تحریر میں استعمال کرجاتے ہیں۔ کھڑی بولی کا علاقہ دلی اور مغربی یوپی کا ہے۔ وہاں کی بول چال کے ذیل کے الفاظ ملاحظہ ہوں:

’’سنگوانا (کسی چیز کو محفوظ کرنا یا ہتھیالینا)، کھرسا (خشک گرمی کا موسم)، بلد (بیل)، جھوٹا (بھینسا)، کٹیا (بھینس کی بچی)، دھورے (پاس)، دھی (لڑکی)، دھیوتا (نواسہ)، دوہر (دوہری چادر)، بدھیا (بیل)، گیرنا (ڈالنا)، پلکیا (پلنگیا)، بال بانا (بالوں میں کنگھا کرنا)، بڑنا (داخل ہونا)

ان میں سے کن کو معیاری زبان کی لغت میں جگہ دی جائے اور کن کو نہیں۔ اتفاق سے ان میں سے ’سنگوانا‘، مصحفی نے ’بدھیا‘ نظیر سے ’کھرسا‘ حالی نے اور ’دوہر‘ اکبرالہ آبادی نے استعمال کیے ہیں ان کے استعمال کے بعد اردو لغت میں انھیں کیونکر نظرانداز کیا جائے۔

(7)     ہر زبان میں دوسری زبانوں کے بہت سے الفاظ دخل پاجاتے ہیں، ان میں سے کس کس کو حصولی زبان کے ذخیرۂ الفاظ کا جزو مانا جائے۔ نیشن، لٹریچر، اسکول، کالج، یونیورسٹی، انجینئرنگ، ایکسپورٹ، امپورٹ جیسے الفاظ کو اردو میں شامل کریں کہ نہیں۔ اہل اردو ان لفظوں کو لغت میں شامل متعددعربی و فارسی الفاظ سے زیادہ بہتر طریقے پر بولتے اور سمجھتے ہیں کیا مستند ادیبوں کی تحریروں میں مستعمل تمام بیرونی لفظوں کو لغت میں جگہ دی جائے۔ اکبر الہ آبادی کا شعر دیکھیے    ؎

ان کے دست ناز سے پائی ہے ٹی

اب کہاں باقی ہے ہم میں پائٹی

ٹی (چائے) اور پائٹی (Piety) کو اردو نہیں مانا جاسکتا۔ لغت نویس کو طے کرنا چاہیے کہ کون سے بیرونی الفاظ زبان میں رچ بس گئے ہیں۔ انھیں متن لغت میں جگہ دینی چاہیے۔ ادب میں استعمال شدہ دوسرے بیرونی الفاظ کو آخر میں ضمیمہ میں درج کرنا چاہیے۔

(8)     اس سے بھی بڑی مشکل ماخذ زبانوں یا مادر زبان کے الفاظ کی صورت میں آتی ہے۔ اردو لغت میں عربی فارسی کے اور ہندی لغت میں سنسکرت کے کن  الفاظ کو لیں اور کسے نہ لیں۔ اردو یا ہندی کی لغتوں میں ان کلاسیکل زبانوں کے وہ اجنبی الفاظ دکھائی دیتے ہیں جنھیں دختر زبان میں تقریر تو درکنار کوئی تحریر میں بھی استعمال نہیں کرتا۔

ہندی شبد ساگر میں اردو کے بیشتر الفاظ کو شامل کرلیا گیا ہے۔ ان میں عربی کے ایسے ایسے الفاظ داخل ہیں جنھیں ہندی والا تو در کنار معمولی اردو والا بھی نہیں سمجھ سکتا۔

اصول یہ ہونا چاہیے کہ مادر یا ماخذ زبانوں کے جو الفاظ مشتق زبان کی تحریروں میں پائے جاتے ہیں صرف انھیں کو لیا جائے بقیہ کو نہیں، مثلاً اردو لغت میں عربی فارسی کے صرف وہ الفاظ شامل کرنے چاہئیں جو اردو کتابوں یا دوسری تحریروں میں استعمال ہوئے ہیں۔

(9)     ذخیرۂ الفاظ مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ کچھ الفاظ استعمال سے جاتے رہتے ہیں اور کچھ نئے الفاظ شامل ہوتے رہتے ہیں۔ بولی لغت میں متروک الفاظ کو حذف کرنا ہوگا لیکن معیاری زبان کی لغت میں انھیں بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے کیونکہ ادبیات میں متروک الفاظ باقی رہتے ہیں۔ زبان یا بولی میں روز روز نئے Slang الفاظ جاری ہوتے رہتے ہیں لیکن وہ اسی سرعت سے مرتے بھی ہیں۔ لغت نگار کو ان کی طرف بھی توجہ کرنی ہوگی۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ لغت پر دو تین سال میں نظرثانی کرنی چاہیے اور ہردس سال بعد ازسر نو لکھنی چاہیے۔

ذخیرہ الفاظ کو جمع کرنے کے بعدیہ طے کرنا ہوتا ہے کہ الفاظ کو کس ترتیب سے درج کیا جائے۔ چونکہ لغت پڑھنے کی کتاب نہیں ہوتی بلکہ حوالے کی کتاب ہوتی ہے اس لیے اس کے اندراجات ایسے ہونے چاہئیں کہ ضرورت پڑنے پر مطلوبہ لفظ بآسانی مل سکے۔ حروف تہجی کی ترتیب سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہوسکتا۔ یہ ترتیب پہلے حروف ہی پر نہیں جملہ حروف پر نظر رکھتی ہے۔ اب تمام عام ڈکشنریاں اسی ترتیب سے مدون ہوتی ہیں لیکن ماضی میں طرح طرح کے طریقے رائج رہے ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں:

1        اردو فارسی کی منظوم لغات میں الفاظ بغیر کسی ترتیب کے درج کیے جاتے تھے ملاحظہ ہو۔ خالق باری اور ا س طرح کی دوسری لغات۔ ان میں کسی مخصوص لفظ کوتلاش کرنا  امر محال ہے۔

2        فارسی کی قدیم لغات میں لفظ کے پہلے اور آخری حرف کو پیش نظر رکھ کر لفظو ںکے گروہ ترتیب دیے جاتے تھے۔ یہ بھی کافی دقت طلب تھا۔

3        ہندوستانی زبانو ںکی بعض قدیم لغات میں صرف پہلے حرف کی ترتیب سے لفظوں کو لکھ دیا جاتا تھا۔ اس میں قباحت یہ تھی کہ اگر الف سے دو ہزار لفظ شروع ہوتے ہیں تو الف سے شروع ہونے والے کسی ایک لفظ کو کھوجنے کے لیے دو ہزار لفظوں کو کھنگالنا پڑتا تھا۔ بعد میں لفظ کے دوسرے حرف کو بھی پیش نظر رکھنے لگے اور آخر میں تمام حروف کو۔

4        صوت رکنوں کی تعداد کے مطابق بھی لفظوں کی گروہ بندی کی جاتی ہے۔ قدیم ہندوستانی نیز چینی زبانوں کی ایک صوت رکنی لغت ملتی ہیں۔ بعض زبانوں میں سب سے پہلے ایک صوت رکن کے الفاظ درج کیے گئے اس کے بعد دو ارکان والے پھر تین والے پھر علی الترتیب اور زیادہ ارکان والے۔

5        سروالی زبانوں میں سر کے لحاظ سے بھی الفاظ کا اندراج کیا جاتا ہے۔

6        بعض لغتوں میں مادہ اور مشتق کی رو سے گروہ بندی کی جاتی ہے یعنی ایک مادہ دے کر اس کے تمام مشتقات درج کردیے جاتے ہیں۔

7        بعض اوقات خیال و مفہوم کے اعتبار سے لفظوں کے گروہ قائم کیے جاتے ہیں۔ اس میں دشواری یہ ہے کہ کوئی بھی دو آدمی اتفاق نہیں کریں گے کہ کس قسم کے الفاظ کو مقدم اور کسے موخر لکھا جائے مثلاً پہلے فلسفیانہ لطیف الفاظ ہوں یا روزانہ کی ضرورت کے ہوں یا اعضائے جسم کے ہوں یا کچھ اور۔ سنسکرت کے امر کوش میں لفظوں کو معنوی زمروں کی بنا پر درج کیا گیا ہے۔

8        بعض اوقات قواعدی گروہوںکے لحاظ سے لفظوں کو تقسیم کیا جاتا ہے یعنی اسما ایک جگہ، صفات دوسری جگہ، افعال تیسری جگہ وغیرہ۔ عربی میں مادّے کی تصریفی شکل کے لحاظ سے بھی لفظوں کی گروہ بندی کی جاتی ہے، مثلاً باب اسفحال کے الفاظ ایک جگہ تو تفصیل کے دوسری جگہ۔ اس قسم کی کتابیں لغت اور قواعد دونوں کا امتزاج ہوتی ہیں۔

فی الحال تلاش کی آسانی کی خاطر لفظو ںکو حروفِ تہجی کی ترتیب سے درج کرنا ہی رواجِ عام ہوگیا ہے۔

ذخیرۂ الفاظ کی تعیین اور لفظوں کی ترتیب کے بعد تیسری منزل لفظ کے ہجا یا املا کی ہے۔ بیشتر لفظوں کا املا طے ہوتا ہے لیکن متعدد کا مختلف فیہ ہوتا ہے۔ اردو میں اس مسئلہ کی وسعت ترقی اردو بورڈ کی کتاب املا نامہ یا رشید حسن خاں کی کتاب اردو املا سے واضح ہوگی۔ مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں لفظوں کا املا بدلتا رہتا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں کئی لفظوں کا املا مختلف ہے۔

 

مآخذ: عام لسانیات، مصنف: گیان چند جین، دوسرا ایڈیشن: 2003، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

 

12/2/25

مخطوطہ شناسی اور ادبی تحقیق: تعریف و تفہیم اور اصول، مضمون نگار: امتیاز احمد

 اردو دنیا، جنوری 2025


مخطوطہ عربی زبان کا لفظ خط سے مشتق ہے جس کا معنی کسی مادی شے پر ہاتھ سے لکھا ہوا یا ٹائپ شدہ تحریری نمونہ کے ہیں۔نمونے کی یہ تحریر نقل بھی ہو سکتی ہے اور طبع زاد بھی، طویل بھی اور مختصر بھی،مفید بھی اور غیر مفید بھی۔ اصطلاحی معنی میں مخطوطہ کا اطلاق قلمی کتاب اورنسخے پر ہوتاہے۔یعنی وہ کتاب جو قلم سے لکھی گئی ہو۔ مخطوطہ لکھنے والے کو خطاط اور تحریر کو خطاطی کہتے ہیں۔ ڈاکٹر گیان چند جین مخطوطہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر مخطوطہ کہلاتی ہے۔یہ تحریر ایک صفحے پر مشتمل ہو یا ایک ہزار صفحے پر، ایک سال پرانی ہو یا ایک ہزار سال، کاغذ پر لکھی ہو یا کھجور کی چھال پر، پتھر پر کندہ ہو یا ہڈیوں کے ٹکڑوں پر۔ بہرحال اسے تحقیق و تدوین کی زبان میں مخطوطہ کہا جائے گا۔‘‘1

بہرحال مخطوطے کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ ہاتھ سے لکھا گیا ہو خواہ مصنف نے اسے بذاتِ خود لکھا ہو یا کسی کاتب سے نقل کرایا ہو۔

مخطوطہ شناسی یا تحریر شناسی ایک ہمہ گیر اور وسیع شعبۂ علم ہے جس کی اہمیت و افادیت ازمنہ گزشتہ سے مسلم رہی ہے۔ البتہ یہ شعبۂ علم جس قدر ناگزیر ہے اسی قدر اس کی تلاش و جستجو، قرأت و مطالعہ اور اصول و ضوابط دشوار کن اور اعصاب شکن بھی ہیں۔مخطوطہ کئی قسم کا ہو سکتا ہے۔ قلمی نسخہ، بیاض، مکتوب، مقالہ اور اس قبیل کی دوسری شکلوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ سید جمیل احمد رضوی مخطوطے کی اس نوعیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ایسی دستاویز جو خطی ہو یا ٹائپ کی ہو (اس میں کاربن کی کاپیاں بھی شامل کی جاتی ہیں) اس میں خطوط، تاریں، روز نامچے، رسیدیں، ذاتی حالات، فہرستیں، اجلاس کی روئیدادیں، معاہدے، ٹیکس کے ریکارڈز، قانونی سرٹیفکیٹ (متعلقہ پیدائش، موت، شادی وغیرہ) ادبی کتب، تقاریر اور دوسری دستاویزات کے اصل مسودات جو شخصیات یا افراد سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘2

درج بالا تعریفات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کوئی ایسا کاغذ، مٹی، مٹی کی تختی، کپڑا، انڈے کا خول، کانچ، لکڑی یا لکڑی کا تختہ، چمڑا، پتھر، درخت کا پتا یا چھال، دھات یا جانور کے جسم کی جھلی، جانوروں کی ہڈیوں یا ہاتھی دانت جس پر کوئی عبارت تحریری شکل میں مرقوم ہو یا کندہ کی ہوئی ہو تو اس کو مخطوطہ کہا جائے گا۔

مخطوطات کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں جن میں سب سے پہلی قسم نسخہ اصلیہ (Original copy) کی ہے جسے مؤلف نے خود اپنے ہاتھ سے سپردقر طاس کیا ہو۔ اس کے بعد وہ نسخہ جو نسخہ اصلیہ سے نقل کیا گیا ہو۔ پھر فروعی نسخے جنھیں اصلی یا ثانوی نسخوں سے نقل کر کے تیار کیا گیا ہو۔ یہ مخطوطات در حقیقت بعد میں لکھی جانے والی کتابوں کے لیے مصدر اور سرچشمے کا کام کرتے ہیں۔ یہ جدید دور کی کتابوں کے لیے امھات کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ انسانی تہذیب و ثقافت کی اساس اور جدید تمدن کا شاندار ستون ہیں۔

مشرقی زبانوں بالخصوص عربی، فارسی اور اردو میں مخطوطات کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ ہمارا بیشتر قدیم علمی وادبی سرمایہ مخطوطات کی شکل میں ہے۔ قدیم تواریخ و تذکرے، سوانح وسیرت، داستانیں، مثنویات اور شعرا کے دواوین وغیرہ سب کے سب مخطوطات کی شکل میں محفوظ ہیں۔ ان مخطوطات کے بغیر ہم اپنی ادبی روایات کی جڑوں تک نہیں پہنچ سکتے۔ عہد قدیم کے شاعروں اور نثر نگاروں کی تخلیقات سے ہم مستفید نہیں ہو سکتے۔ مذہب سے قطع نظر مخطوطات میں ہمارے اسلاف کا جواد بی سر ما یہ محفوظ ہے وہ دراصل اپنے عہد کی معاشرتی اور تہذیبی دستاویز ہے۔ اس سے اپنا تعلق جوڑے بغیرنہ تو ہم اپنے ماضی کو بالاستیعاب سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کے واقعات و انسلاکات سے کوئی نتیجہ مستنبط کر سکتے ہیں۔

انسانی ارتقا کی تاریخ متعین کرنے میں سب سے اہم اور بنیادی ماخذ مخطوطات ہیں۔  قدیم یونان و روم سے لے کر مصر، افریقہ، چین اور برصغیر ہند تک کی تاریخ انہی مخطوطات سے منعکس ہوتی ہے۔ انسانی ارتقا سے صرفِ نظر جب ہم ادبی حوالے سے اس کے دائرۂ کار کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں زبان و ادب کے مختلف موضوعات سے متعلق تحقیق اور تدوین کا میدان نظر آتا ہے جہاں مخطوطات ایک اساسی اہمیت رکھتے ہیں۔ زبان و ادب سے متعلق مختلف شعرا و ادبا کے حالات زندگی قلم بند کرنا ہو، اصنافِ نظم و نثر پر خامہ فرسائی کرنا ہو، ادبی رجحانات و تحریکات کی تاریخی دستاویز سپردِ قلم کرنا ہو یا ادبی اداروں، تنظیموں، حلقوں اور دبستانوں کی تاریخ منضبط کرنا ہو ان سب کے لیے مخطوطات کی ضرورت درکار ہوتی ہے۔ ان مخطوطات کو مدون اور مرتب کرنے سے ہی ہمارے سامنے مطلوبہ اشخاص، اصناف، ادارے، دبستان اور رجحانات و میلانات نمودار ہوتے ہیں۔

اردو زبان میں تدوین یا ترتیب، عربی میں تحقیق اور انگریزی میں ایڈیٹنگ سے مراد مخطوطے کو صحیح صورت میں اس طرح پیش کرنا ہے جیسا کہ اس کے مصنف نے اپنے ہاتھوں سے اسے تحریر کیا تھا۔ یہ تدوین قابلِ مطالعہ و قابلِ فہم ہونے کے ساتھ ساتھ مقررہ معیارات کے مطابق ہو۔

 تدوین، متن کی تصحیح و ترتیب کا ایک عملی فن ہے جس میں مدون اپنی پوری توجہ اور محنت سے کسی مصنف کی کتاب کو پوری صحت کے ساتھ ترتیب دیتا ہے۔ سب سے پہلے تو وہ اصل متن کی تلاش کرتا ہے۔ خواہ وہ ایک جگہ ہویا اس کے اجزا منتشر حالتوں میں مختلف جگہوں پر ہوں، اسے فراہم کرتا ہے، پھر اس متن کو منشائے مصنف کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔ متن کی ترتیب میں اسے مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یعنی اول تو وہ اس کی تصحیح کرتا ہے۔ تصحیح کے دوران اس متن کی پوری تحقیق اور چھان بین کرتا ہے، اسے تنقیدی زاویوں سے پرکھتا ہے، پھر اپنی رائے پیش کرتا ہے، حسب ضرورت متن کی وضاحت بھی کرتا ہے اس پر حاشیہ چڑھا کر اس کی تزئین کرتا ہے اور مقدمے کا اضافہ کر کے اس کی تکمیل کرتا ہے۔ اس طرح تدوین متن عملی طور پر فراہمی متن، ترتیبِ متن، تصحیحِ متن، تحقیقِ متن اور توضیحِ متن پر محیط ہے۔

مخطوطے کی تدوین کے کچھ اصول اور ضابطے ہوتے ہیں جن کو ملحوظِ خاطر رکھ کر تدوین کے کام کو بہ حسن و خوبی انجام دیا جا سکتا ہے۔ مدون کو معلوم ہونا چاہیے کہ ترتیب و تدوین کا مطلب نہ تو مخطوطے کی عبارات کو بدل کر زیادہ بہتر الفاظ میں نقل کرنا ہے اور نہ ہی اس کا مقصود یہ ہے کہ مصنف کے اسلوب کو بدل کر کوئی اور زیادہ بہتر اسلوب اختیار کیا جائے  یا اگر مصنف نے کوئی نظر یہ خلاف واقعہ بیان کیا ہے اس کی تصحیح کر دی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ترتیب و تدوین ایک تاریخی امانت ہے، اس کا اپنا تقدس اور حرمت ہے اور مخطوطہ اور اس کی عبارات مصنف کی امانت ہیں، ان میں کسی قسم کا ردو بدل نہیں کیا جاسکتا۔

تدوینِ مخطوطہ کا پہلا اصول یہ ہے کہ جس مخطوطے کے متن کی تدوین کا ارادہ ہو اس کے بارے میں پہلے یہ معلوم کر لیا جائے کہ اس کے کتنے نسخے ہیں اور کہاں کہاں ہیں۔جہاں جہاں وہ نسخہ موجود ہو وہاں وہاں تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔

تدوینِ مخطوطہ کا دوسرا اصول یہ ہے کہ حاصل شدہ نسخوں میں سے چند نسخوں کو منتخب کر لیا جائے۔ مثلاً اگر کسی مخطوطے کے دس نسخے دستیاب ہوئے ہیں تو ان میں سے تین یا چار نسخوں کو جو زیادہ اہمیت کے حامل ہوں، منتخب کر لیا جائے۔ حاصل شدہ نسخوں میں سب سے بہتر اور مستند کی درجہ بندی درج ذیل معیار پر کر لی جائے۔

l         سب سے مستند وہ نسخہ مانا جائے جو مصنف کے ہاتھ سے لکھا ہوا ہو۔

l         مصنف کے نسخے سے نقل کیا ہوا نسخہ جسے خود مصنف نے پڑھا یا سنا ہو۔

l         وہ نسخہ جو مصنف کے نسخے سے نقل کیا گیا ہو لیکن مصنف نے اس کو نہ پڑھا ہو۔

l         مصنف کے زمانے میں نقل کیا گیا نسخہ

l         مصنف کے زمانے سے قریب تر نسخہ

جب نسخوں کو منتخب کر لیا گیا اور ان میں سے کسی ایک کو بنیادی نسخہ بنا لیا گیا تو اب مدون حاصل شدہ تمام نسخوں کے متن کو ملائے اور ان کی عبارت کو  آپس میں مقابلہ کرے کہ تمام نسخوں کی عبارت ایک طرح سے ہے یا اس میں کچھ فرق ہے۔ اگر کوئی اختلاف نہ ہو تو کوئی بات نہیں لیکن اگر کوئی اختلاف ہو تو اس کو حاشیے میں نقل کر دیا جائے۔

تدوینِ مخطوطہ کا چوتھا اصول حواشی ہے۔ جب دستیاب نسخوں میں اختلاف پایا جائے تو اس کو بیان کرنے کے لیے حاشیہ چڑھایا جاتا ہے۔حاشیہ درج کرنے کے دو طریقے رائج ہیں؛ ایک طریقہ یہ ہے کہ جس صفحے کا حاشیہ ہے اسی صفحے کے فٹ نوٹ میں نمبر ڈال کر حاشیہ لکھ دیا جائے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ حاشیہ نمبر ڈالتے جائیں اور تمام حواشی ایک ساتھ کتاب کے اخیر میں نقل کر دیے جائیں۔

مدوّن اگر کسی قدیم شعرا و ادبا یا اصناف کے مخطوطے کو مدون کر رہا ہو تو وہ فرہنگ سازی کا اہتمام کرے۔ فرہنگ میں متعلقہ مخطوطہ کے مشکل الفاظ، اصطلاحات، تلمیحات، نامانوس اور متروک الاستعمال الفاظ کے معنی، تشریح اور مفہوم کی وضاحت کرے۔ اس کے علاوہ محاوروں کا مفہوم، متن میں مستعمل مشکل جملے، مصرعے اور فقروں کی توضیح بھی فرہنگ میں لکھے۔

تکمیل کتاب کے بعد مدون ایک مفصل مقدمہ تحریر کرے جس میں اس کتاب اور اس کے متعلقات کو زیرِ بحث لائے۔ مثلاً کتاب کی ادبی اہمیت، لسانی تجزیہ، مصنف کی سوانح، کاتب کی لیاقت، زیرِ نظر تمام نسخوں کی کیفیت، متعلقہ متن کی دریافت و بازیافت اور اس کام میں جن لوگوں نے ہاتھ بٹایا ہے ان کا شکریہ وغیرہ۔

تدوینِ مخطوطہ کے خاص اصول کی پابندی موضوع کی مناسبت سے کی جاتی ہے کیونکہ ہر موضوع کے تقاضے جدا گانہ ہوتے ہیں۔ اگر کوئی نثری مخطوطے کی تدوین کر رہا ہے تو اس کے تقاضے جدا ہیں اور شعری مخطوطے کی تدوین کے تقاضے جدا۔

 مخطوطہ شناسی ادبی تحقیق کا بنیادی جزو ہے کیونکہ کسی صنف، شخصیت، دبستان  اور تحریک و رجحان پر تحقیق کے لیے اس سے متعلق مخطوطے کا موجود ہونا لازم ہے۔ تحقیق کا بنیادی مقصد حقائق کی تلاش،سچ کی جستجو، مناسب انداز سے واقعات کو ترتیب دینا اور خالص منطقی انداز سے نتائج نکالنا ہے۔اس کے لیے چاہیے کہ مخطوطے کے متن کے آداب کا خیال رکھا جائے۔

مخطوطے میں مندرج حواشی، مقدمہ، متن کا زمانۂ تحریر، مصنف اور اس کے عہد سے متعلق ضروری معلومات، داخلی شواہد کا تعین وغیرہ ایسے امور ہیں جن پر خاطر خواہ توجہ صرف کرنا نہایت ضروری ہے۔ اسی طرح کسی شخص کو تدوین پر اس وقت تک دسترس نہیں ہو سکتی جب تک وہ تحقیق کا مزاج نہ رکھتا ہو۔ تدوین کے لیے مخطوطہ شناسی انتہائی ضروری شرط ہے۔ چونکہ تدوین تحقیق سے آگے کی منزل ہے اس لیے تدوین کے لیے مخطوطہ شناسی کو کافی اہم قرار دیا جاتاہے۔تحقیق کی طرح تدوین کے لیے بھی مخصوص مسائل،آداب اور ضابطے ہیںجس کے لیے مخطوطہ شناسی کا علم سب سے اہم ہے۔ جب کسی مخطوطے کو موضوع بنایا جاتا ہے تو اس کی اصلیت یا اسناد کے بارے میں سب سے پہلے اطمینان کرنا ضروری ہے۔

درج بالا توضیحات سے یہ بات مترشح ہو جاتی ہے کہ بعض اشخاص کسی نہ کسی وجہ سے اصل متن کو چھپاکر یامسخ کرکے حالات و واقعات کو اپنی مرضی کے مطابق پیش کرتے ہیں۔ ا س لیے ضروری ہے کہ جب تحقیق شروع کی جائے تو اصل متن تک رسائی حاصل کی جائے۔ تحقیق اور تدوین کے اس عمل کے لیے ضروری ہے کہ مخطوطے کو پہچان لیا جائے اور اس کی پہچان مختلف طریقوں سے ہو سکتی ہے۔محقق کو چاہیے کہ وہ ایک سے زیادہ قلمی نسخے حاصل کرے۔ جب مختلف نسخے ہاتھ آجائیں تو یہاں سے اس کی مخطوطہ شناسی کا امتحان شروع ہو جا تا ہے کہ وہ اس میدان میں کتنی مہارت رکھتا ہے۔وہ کس نسخے کو اصل قرار دے اور کس کو ثانوی حیثیت دے اور کس کو ردّ کردے۔

محقق کو زیرِ تحقیق کتاب کے مخطوطے کو پہچاننے اور اصل حقائق تک پہنچنے کے لیے داخلی اور خارجی شواہد سے کام لینا چاہیے۔ داخلی شواہد میں زیرِ تحقیق مخطوطہ کے دیباچہ اور متن کی اہمیت مسلم ہے۔ اور خارجی شواہد میں معتبر ذرائع، تاریخیں،تذکرے اور دوسری یادداشتیں اہمیت کی حامل ہیں۔ مخطوطے کی حتمی شناخت کے بعد اس کے عہد اور زمان و مکان کے تعیّن کا مرحلہ آتا ہے۔  زیرِ نظر مخطوطہ کب اور کن حالات میں وجود میں آیا،اس کے جاننے سے موضوع کی بہت سی گتھیاں حل ہو جاتی ہیں۔ مخطوطے کی بازیافت کا انحصار اس کی کیفیت پر بھی ہوتا ہے۔ مخطوطوں کو کیفیت کی بنا پر دو زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک مکمل و سالم، دوسرا ناقص۔ مکمل یا سالم مخطوطہ وہ ہے جس میں کسی تخلیق کا متن قابل قرأت حالت میں از ابتدا تا انتہا لفظ بہ لفظ پوری طرح موجود ہو۔ ناقص مخطوطہ وہ ہے جس میں متن بہ تمام و کمال موجود نہ ہو۔ ناقص مخطوطے کو پانچ زمروں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔(1)ناقص الاول (2) ناقص الآخر (3) ناقص الاوسط (4)ناقص الطرفین (5) بوسیدہ یا کرم خوردہ۔

بعض اوقات مخطوطے میں مصنف کا نام درج نہیں ہوتا ہے۔ تخلیق کار از راہِ عاجزی و انکساری اپنا نام نہیں لکھتا ہے۔ اس صورت میں مخطوطے کے عنوان کو دیکھ کر اس کے فن کے مطابق مصنف معلوم کرنا ہوتا ہے۔ بعض دفعہ مخطوطات کی فہرستوں اور ترقیمات کو دیکھ کر مصنف کا نام معلوم کیا جاتا ہے۔ نیز بعض مخطوطات کے مشترک مصنف ہوتے ہیں۔

 تحقیق مخطوطے کا آخری مرحلہ قرأتِ متن کا ہے۔ کسی مخطوطے کے متن کا درست پڑھ لینا جس قدر ضروری ہے اس قدر دشوار بھی ہے۔بیشتر مخطوطات ایسی مخدوش حالت میں ملتے ہیں جن میں اغلاط کا طوفان ہو تا ہے۔

ایک محقق کو دورانِ تحقیق مخطوطات کو سمجھنے کے لیے انتہائی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک وہ مخطوطہ شناسی کے فن سے بخوبی واقف نہیں ہو تا تب تک وہ تحقیق و تدوین کے کام کو بخوبی سر انجام نہیں دے سکتا۔ اور نہ ہی قدیم متنوں کو اصول ِ تدوین کی مکمل پابندی کے ساتھ مرتب کیا جا سکتا ہے۔ یہ امر واضح ہے کہ مستند نسخے کو ماخذ بنائے بغیر کسی اقتباس کو اس اعتماد کے ساتھ نہیں پیش کیا جا سکتا کہ اس سے جو نتیجہ نکالا گیا ہے وہ درست ہے۔ اس احساس نے صحت ِ متن کی اہمیت کو بڑھا دیا۔ محض یادداشت یا سماعت پر بھروسا کرکے متن پیش کر دینا یا کسی بھی سہل الحصول ثانوی ماخذ سے عبارتوں کو نقل کر دینا بہت آسان کام ہے۔ محقق کی ذمے داری ہے کہ وہ مخطوطے کے متن کے نقطوں، رموز و اوقاف اور اعراب و حرکات کا باریکی اور پوری توجہ کے ساتھ جائزہ لے اور اس کی صحیح قرأت کو نقل کرے۔ مالک رام مخطوطے کی صحیح قرأت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’مخطوطہ پڑھنے میں اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ کاتب پورے الفاظ نہیں لکھتے۔ نقطے غائب یا غلط جگہ لگے ہوں گے، یائے معروف اور یائے مجہول میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ بعض اوقات لفظ یائے معروف اور یائے مجہول دونوں سے بامعنی ہو سکتا ہے (اگرچہ شاذ و نادر ہو)، اس صورت میں ایک کو ترجیح دے کر اسے متن میں لکھیے اور دوسری قرأت کو حاشیے میں لکھ کر تشریح کر دیجیے۔‘‘ 3

مخطوطہ شناسی اور تحقیق و تدوین کے فروغ نے احتیاط کو تقویت دی ہے ا ور اعتراض کرنا سکھایا ہے نیز اس بات کو بھی ضروری قرار دیا ہے کہ شعری عبارت ہو یا نثری اقتباس اس کو معتبر ترین ماخذ سے نقل کر نا چاہیے۔

متن کی تحریفات و تصرفات کتاب کے بار بار چھپنے کے سبب سے بھی ہو تی ہیں۔ اکثر کتابوں کی اولین اشاعتیں یا اہم اشاعتیں عام طور پر نہیں ملتیں۔ اس لیے جو ایڈیشن دستیاب ہو تے ہیں،ا ن سے کام لیا جاتا ہے۔ اس صورت میں متن کی تبدیلیوں کا امکان ہو تا ہے۔ اکثر صفحات اصل نسخوں کی طرف رجوع کرنے کی بجائے، پہلے کے شائع شدہ انتخابات سے یا ایسے دوسرے ثانوی یا غیر معتبر مآخذ سے نثر و نظم کے اجزا نقل کیے جاتے ہیں۔ یہ تدوین کے سراسر خلاف ہے۔ متن کو سند اور ثبوت کے طور پر اس وقت تک پیش نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ معتبر نسخوں سے مقابلہ نہ کر لیا جائے، جب تک ایسے متنوں کو آداب تدوین کی پابندی کے ساتھ معرضِ طبع میں نہ لا یا جائے، ایسی صورت میں مخطوطے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے،مگر جس طرح بار بار ذکر کیا گیا ہے، مخطوطے کا دستیاب ہو نا بہت اہم ہے لیکن تحقیق و تدوین کے لیے مخطوطہ شناسی اس سے بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ جب تک مخطوطے کی اصلیت کا پتا نہیں چلتا، تحقیق و تدوین کا کام ہو ہی نہیں سکتا۔

حواشی

1        ڈاکٹر گیان چند جین، تحقیق کا فن، مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد، 1994، ص 568

.2       ڈاکٹر سلطانہ بخش(مرتبہ)، اردو میں اصولِ تحقیق -منتخب مقالات، اردو اکیڈمی، لاہور2021، ص 81

3        مالک رام، مخطوطات، تلاش، قرأت و ترتیب مشمولہ تحقیق و تدوین (سید محمد ہاشم)، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، 1978، ص:139

 

Imtiyaz Ahmad

Dept of Urdu

Jamia Millia Islamia

New Delhi- 110025

Mob.: 9911752717

imtiyaz7262@gmail.com

 

 

بہار کے اردو ناولوں میں شہری زندگی کی عکاسی، مضمون نگار: محمد معراج عالم

 اردو دنیا، جنوری 2025


ہندوستان گاؤںمیں بسنے والا ملک ہے لیکن بہت تیزی سے گاؤں کے لوگ شہرکی طرف نقل مکانی کررہے ہیں کیونکہ ان کو لگتاہے کہ شہر میں وہ تمام سہولیات میسرہیں جو گاؤںمیں نہیں ہیں۔ دور سے دیکھنے والوںکوشہری زندگی میںبڑی چمک دمک اور آن بان نظر آتی ہے لیکن وہ نہیںجانتے کہ شہرمیںرہنے والوں کے سامنے کتنے مسائل ہیں۔ شہروںکاسب سے بڑا مسئلہ افزائش آبادی ہے یعنی جس تیزی سے شہروںکی آبادی بڑھ رہی ہے اتنے مسائل بھی کھڑے ہورہے ہیں۔ شہروںمیں رہنے والوں کے سامنے پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ ٹریفک اوراسکول اور کالجوں کا بھی ہے۔ اس کے باوجود گاؤں سے شہرکی طرف لوگ تیزی سے آرہے ہیں۔جولوگ پہلے سے شہر میں آباد ہیں وہ تومسائل سے دوچار ہیں ہی لیکن جو نئے لوگ آرہے ہیںوہ ان مسائل میں شامل ہوتے جارہے ہیں۔

شہرکی آبادی جس طرح بڑھے گی مسائل بھی بڑھتے جائیں گے اورشہر میںرہنے والاہرآدمی ان مسائل سے دوچار ہوگا۔

کہاجاتاہے کہ ادب سماج کاآئینہ ہوتاہے۔سماج میںجوکچھ رونماہوتاہے ادب پراس کابراہ راست اثر پڑتا ہے۔ جب ہم بہار کے اردوناولوں میںشہری زندگی کامطالعہ کرتے ہیں توپاتے ہیں کہ ابتداہی سے بہارکے ناول نگاروںنے اس کی طرف توجہ کی ہے۔ اردو کے ادیب زیادہ ترشہر میںآباد ہوتے ہیںاس لیے شہری زندگی کا بغور مطالعہ کرتے ہیں۔ واقعات و حادثات کے چشم دیدگواہ ہوتے ہیں اس لیے اردوفکشن میںشہری زندگی کی عکاسی کوبڑی خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں۔

بہار کا پہلا ناول نگار شادعظیم آبادی کوتسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کاناول ’صورۃ الخیال‘ 1876 میںمنظرعام پرآیا جب کہ ڈپٹی نذیراحمدکا ناول ’مراۃ العروس‘ 1869 میں شائع ہوا اسے اردو کا پہلا ناول تسلیم کیا جاتا ہے۔ ’صورۃ الخیال‘ کا اگر مطالعہ کریںتو اندازہ ہوگا کہ یہ بھی ایک اصلاحی ناول ہے۔ ولایتی ناول کامرکزی کردار ہے اوروہ اپنی زندگی کی کہانی خود سناتی ہے۔ شادعظیم آبادی، ڈپٹی نذیراحمدسے بے حدمتاثرتھے بلکہ یہ کہا جائے توغلط نہ ہوگا کہ اس وقت کے تمام ناول نگار ڈپٹی نذیراحمدکی پیروی کرتے ہوئے اصلاحی ناول لکھ رہے تھے۔ ’صورۃ الخیال‘ میں شہری زندگی کی عکاسی ملتی ہے۔ ولایتی پٹنہ کی رہنے والی ہے اور اس کی شادی صاحب گنج میںہوتی ہے۔ پوراناول ان دونوںشہروںکے اردگرد گھومتانظرآتا ہے۔

رشیدۃ النسا کاناول ’اصلاح النسا‘(1896)  میں شائع ہوا جب کہ یہ ناول(1881) میں مکمل کرلیا گیا تھا۔ رشیدۃ النسا کے سامنے ڈپٹی نذیراحمدکاناول ’مراۃ العروس‘ بھی تھا اور شاد عظیم آبادی کاناول ’صورۃ الخیال‘  بھی۔ ان دونوںناولوں نے انھیںناول لکھنے کی طرف راغب کیا اور انھوںنے ’اصلاح النسا‘ جیسا ناول لکھا۔ اصلاح النسا میںبھی اصلاح کا پہلو غالب ہے۔  اس میںبھی دولڑکیاںہیںایک شریف اورایک بدمعاش۔

رشیدۃ النسا نے نہ صرف اصلاح کا پہلو سامنے رکھاہے بلکہ اس وقت کے مسلم گھرانوں میںجوکچھ ہوتا تھا اس کی طرف بھی اشارہ کیاہے۔یہ ناول شہرپٹنہ سے شروع ہوتا ہے اور وہیںختم ہوجاتاہے یعنی اس ناول میں بھی شہری زندگی کی عکاسی ملتی ہے۔

سہیل عظیم آبادی کاصرف ایک ناول ’بے جڑکے پودے‘ 1972 میںشائع ہوا۔ اس میںچھوٹاناگپور کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ اس وقت چھوٹاناگپور میںکئی عیسائی مشنریاںکام کررہی تھیںاوریہ ناول اسی عیسائی مشنری کا احاطہ کرتا ہے۔ بے جڑ کے پودے میں عیسائیت کا پورا ماحول ہے۔ اس میںچرچ کا میدان، ڈورمیٹری، مشن کایتیم خانہ،مشن کمپاؤنڈ،عیسائیوںکی تہذیب وتمدن ان کی زندگی،چرچ اورکمیونیٹی کے مسائل، عیسائی دھرم کی تبلیغ واشاعت،لاوارث بچوں کی معصومی، رومن کیتھولک کی فیملی، روزولاکی آرام وآرائش سب کچھ ہے۔ سہیل عظیم آبادی نے بہت خوبصورتی سے یتیم خانے میںپرورش پارہے بچوں کو پیش کیاہے۔ سہیل عظیم آبادی نے پہلی بار عیسائی مشنری کو موضوع بنایا ہے۔ ناول ’بے جڑ کے پودے‘رانچی کے مشن سے شروع ہوتاہے اوررانچی کے مشن پرہی ختم ہوجاتاہے اس طرح یہ ناول رانچی میںرہ رہے اینگلو انڈین کی زندگی، رہن سہن اور طور طریقے کوپیش کرتا ہے۔

اختراورینوی کاصرف ایک ناول ’حسرت تعمیر‘ شائع  ہوا۔ یہ ناول بھی چھوٹاناگپور کے زندگی کوپیش کرتا ہے۔ اختراورینوی نے اس ناول میں بیسویںصدی کے مسلم گھرانے کو موضوع بنایا ہے۔ اس ناول میں چھوٹا ناگپورکے جغرافیائی حالات اوروہاں رہنے والے لوگوںکی زندگی کے بارے میں بھی معلومات ملتی ہیں۔

شین مظفرپوری نے بہت سارے ناول لکھے جیسے ہزار راتیں، چاند کا داغ، کھوٹا سکہ، تین لڑکیاں ایک کہانی وغیرہ۔شین مظفرپوری کاناول’ہزارراتیں ‘ بے حدمقبول ہوا۔ ’ہزارراتیں‘کامرکزی کردار ایک لڑکی منی ہے جسے قسمت نے فٹ پاتھ سے اٹھاکربازار تک پہنچا دیا پھرفلموں میںقسمت آزمائی کرتی ہے اور آخر میں  لوٹ کراسی فٹ پاتھ پرآجاتی ہے جہاںاس نے زندگی شروع کی تھی۔ دراصل شین مظفرپوری نے طوائفوں کو سامنے رکھ کر کئی ناول لکھے یا پھر مسلم معاشرے کو سامنے رکھ کر ناول لکھے۔اس ناول میںپٹنہ اور ممبئی جیسے شہرکے حالات بیان کیے گئے ہیں۔

شکیلہ اخترکاصرف ایک ناول ’تنکے کا سہارا‘ منظر عام پر آیا ہے۔ ناول ’تنکے کا سہارا‘ میںجو مسائل اٹھائے گئے وہ یقیناقابل توجہ ہیں۔اس ناول میںبھی پٹنہ شہراپنی آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔

انورعظیم کاناول ’جھلستے جنگل‘1998 میںشائع ہوا۔ دوسراناول’پرچھائیوںکی وادی‘ ہے۔ یہ ناول زندگی سے بھرپور ہے کیونکہ اس میں مصنف نے اپنے مشاہدے کااظہار کیا ہے۔ لندن، روس، پیرس کی خوبصورتی کامشاہدہ کرنے کے بعد سب کچھ پرچھائیوں  جیسا لگتا ہے۔ ’پرچھائیوںکی وادی‘ میںنہ صرف شہری زندگی ہے بلکہ روس کے شہروںکی بھی زندگی ہے کیونکہ انورعظیم ایک عرصے تک سوویت یونین میںرہے اور وہاںکی زندگی کو بہت غورسے دیکھااس لیے اس ناول میںان کا تجربہ ومشاہدہ دیکھنے کوملتاہے۔

غیاث احمدگدی کاایک ناول ’پڑاؤ‘1980 میں شائع ہوا۔ ’پڑاؤ‘ میںافسانے کی تکنیک کوسامنے رکھا گیا ہے۔ غیاث احمدگدی نے جس طرح افسانے میں علامت واستعارے کا استعمال کیا اسی طرح ناول ’پڑاؤ‘ میںبھی کیا۔ ناول’ پڑاؤ‘کاکینوس بہت چھوٹاہے اس میںصرف تین کردارہیںاورانھیں تین کرداروں کے بیچ پورا ناول گھومتا ہے۔ اس ناول میںبھی شہری زندگی کی عکاسی ملتی ہے۔

الیاس احمدگدی کاناول ’فائر ائیریا‘1996 میں شائع ہوا۔ اس ناول کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈبھی مل چکا ہے۔ اس ناول میںپہلی بار کوئلے کی کان میںکام کرنے والے مزدوروں کی زندگی کو پیش کیا گیا ہے۔ کہانی گیاشہرسے شروع ہوتی ہے اورجھریامیںجاکر ختم ہوجاتی ہے۔ اس ناول میںمزدوروںکااستحصال بھی ہے۔ ٹریڈ یونین بھی ہے اورکول فیلڈکے مالکوںکا ظلم و ستم بھی ہے۔ مزدروں کا ہمیشہ استحصال کیاگیاہے چاہے وہ جس فیلڈ میں کام کررہے ہوں۔ الیاس احمد گدی نے پہلی بار کوئلری کی زندگی کوپیش کیاہے کیونکہ اس سے پہلے وہاں کی زندگی کوکسی افسانہ نگاریا ناول نگار نے پیش نہیںکیاتھا۔الیاس احمدگدی نے کول فیلڈ کی زندگی کوبہت قریب سے دیکھا تھا۔ اس لیے ’فائرایریا‘ جیسا ناول وہی لکھ سکتے تھے۔

عبدالصمدکاناول’دوگززمین‘1988میںشائع ہوا اور اس ناول کوساہتیہ اکادمی ایوارڈ بھی ملا۔یہ ناول بہار شریف سے شروع ہوتاہے اورپٹنہ اوردوسرے شہروںکا احاطہ کرتا ہے۔آزادی کے بعدمسلمانوںکوجن مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔اس کی عکاسی اس ناول میں کی گئی ہے۔مصنف نے ہجرت کے کرب کو پیش کیا ہے۔ بہار کے مسلمانوںکودوبار ہجرت کرنی پڑی ایک بار بنگلہ دیش اورجب وہ الگ ہواتوپاکستان۔  عبدالصمد نے پہلی بار بہارکے ان مسلمانوںکے درد کوسمجھاجوپہلے مشرقی پاکستان گئے اور پھربنگلہ دیش بننے کے بعدپاکستان جانے پرمجبورہوگئے۔

عبدالصمد کا دوسرا ناول ’مہاتما‘ ہے۔ جس  میں تعلیمی نظام میںجوبدنظمی ہے اور کرپشن ہے اور تعلیم حاصل کرنے کے بعدبھی نوجوان بے روزگار رہتا ہے۔ ان سب کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیاہے۔ ’خوابوں کا سویرا‘ میں جاگیردارانہ خاندان کے افراد کی زندگی اور ان کے نظریات کو پیش کیاگیاہے۔ اس کے علاوہ عبدالصمد کا ناول ’مہاساگر‘، ’دھمک‘، ’بکھرے اوراق‘، ’شکست کی آواز‘اور’سسٹم‘میںبھی شہری زندگی کوپیش کیا گیا ہے۔

حسین الحق کے تین ناول ’بولومت چپ رہو‘ 1990، ’فرات‘1992 اور’اماوس میں خواب‘ 2017 میں شائع ہوئے۔ ’اماوس میںخواب‘ پرساہتیہ اکادمی ایوارڈ بھی ملا۔ ’اماوس میں خواب‘ میںبھی  سیاسی، سماجی، تہذیبی  تبدیلیوں کے پس منظرمیںانسانی زندگی کے المیے کوپیش کیا ہے۔ یہ ناول اپنے موضوع اوراسلوب اورتکنیک کے لحاظ سے منفرد ہے۔ حسین الحق نے اس ناول میں ہندوستان کی جمہوری قدروںکے کھوکھلے پن کو اجاگر کیا ہے۔ اس ناول میںوہ سب کچھ ہے جوآج ہندوستان میں ہورہا ہے۔ حسین الحق نے اپنے تینوں ناولوں میں شہری زندگی کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔

شفق کے تین ناول کانچ کابازی گر، بادل اور ’کابوس‘ شائع ہوچکے ہیں۔ ’کانچ کا بازی گر‘ میںپہلی بار کسی ناول نگارنے ایمرجنسی کے حالات کو قلم بند کیا۔ لیکن علامتی انداز میں اگر یہ عام بیانیے میں لکھا جاتا تو شاہکار  ناول ہوتا۔ ’بادل‘ میں آج جوکچھ ہندوستان میں ہورہا ہے اس کو خوبصورتی سے پیش کیاگیاہے۔ان کے تینوں ناولوںمیںشہری زندگی موجودہے۔

شموئل احمد کا ناول ’ندی‘ 1999، ’مہاماری‘ 2005، ’گرداب‘ 2016 اور ’چمراسر‘2019 میںشائع ہوا اور ایک سوانحی ناول ’اے دل آوارہ‘2015میںمنظرعام پرآیا۔

شموئل احمدکے ناول ندی میںایک ایسی عورت کی کہانی ہے جوندی کی طرح جیناچاہتی ہے لیکن شادی کے بعداس کا شوہراس پر کئی طرح کی پابندیاں عائد کردیتا ہے جس سے وہ ذہنی کشمکش میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ شموئل احمدنے اس ناول میں عورت کی ذہنی اور جسمانی آزادی کو خوبصورت اندا زمیں پیش کیا ہے۔ ناول ’ چمراسر‘ میںایک دلت اوراس کے احتجاج کو بہت خوبصورتی سے پیش کیاہے۔ان کے ناولوںمیںبھی شہری زندگی کی عکاسی ملی ہے۔

معین شاہدکے چارناول ٹھوکریں، جذبۂ دل، شیشۂ دل اور’شکست آرزو  ‘میںشہری زندگی کوپیش کیا گیا ہے۔

ذکی انورنے تقریباً پچاس ناول لکھے۔ ان رومانی اورداستانوی رنگ و آہنگ نے سارے ناولوںکامزاج برہم کردیا۔ کچھ جاسوسی ناول بھی انھوںنے لکھے اور ان کے سبھی ناولوں میں شہری زندگی کی عکاسی بھرپور طریقے سے ملتی ہے۔

ناول’آسمان سے آگے میں‘ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جومذہبی پابندیوںمیںرہتی ہے لیکن جب آزادہوتی ہے تووہ آسماںسے آگے تک پروازکرتی ہے۔

احمدصغیر کے چار ناول ہیں۔ انھوں نے اپنے چاروں ناولوںمیںشہری زندگی کو عمدگی سے پیش کیاہے۔

غضنفرکاناول ’پانی‘1989میںشائع ہوا۔اس میں پانی کو علامت کے طورپر پیش کیا گیاہے۔اس میں داستانوی طرزہے اور ناول نگار نے بتایاہے کہ پانی انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اگرآنے والے وقت میںپانی کی کمی ہوگئی توکیاہوسکتاہے۔بے نظیر جواس ناول کااہم کردار ہے پانی کی تلاش میں نکلتا ہے لیکن ہرجگہ اسے ناکامی ہی ملتی ہے۔وہ جن لوگوں سے ملتاہے ان کااپنانظریہ ہے اوربے نظیر کویہ بتانا چاہتے ہیںکہ پانی کی تلاش بے معنی ہے۔

غضنفرکادوسرا ناول ’کینچلی‘1993 میںشائع ہوا جس میںایک شوہراوربیوی کی کہانی ہے۔ اس ناول میں وینا کے کردار پربہت محنت کی گئی ہے۔اس نے وفادار بیوی کا کردار نبھایا ہے۔غضنفرکاسب سے اہم ناول ’دویہ بانی‘ہے جو2000 میںشائع ہوا۔دراصل یہی ناول غضنفرکی پہچان ہے۔یہ ارد وکا پہلادلت ناول ہے۔

غضنفرنے پہلی بار دلت مسائل کواٹھاکرایک اہم ناول لکھا ہے۔ غضنفر کا ناول ’فسوں‘، ’وش منتھن‘، ’مم‘، ’شوراب‘ اور ’مانجھی‘بھی ہے جس میںشہری زندگی کوپیش کیاگیاہے۔

پیغام آفاقی کا ناول ’مکان‘ 1989، ’پلیتہ‘2011 اور ’دوست‘ ان کی موت کے بعد2018میںشائع ہوئے۔ پیغام آفاقی کے ناول’مکان‘کی کہانی یہ ہے کہ میڈیکل کی ایک طالبہ جس کے والد کاانتقال ہوگیاہے اپنی بوڑھی ماںکے ساتھ دلّی میںرہتی ہے اس لڑکی کے بھی کئی خواب ہیںلیکن کمار جواس کے مکان میںکرایہ دار کی حیثیت سے رہ رہاہے اس کی نیت میں کھوٹ پیدا ہوجاتی ہے اوروہ مکان کوحاصل کرنے کی تیاریاں شروع کردیتا ہے۔ نیرا اور اس کی ماںکوجب کمار کی نیت کاپتہ چلتاہے توگھبراجاتی ہے اور یہیںسے شروع ہوتی ہے مکان مالک اور کرایہ دارکی جنگ۔یہ پورا ناول دلّی شہر کے حالات کا احاطہ کرتا ہے۔

پیغام آفاقی کا دوسرا ناول ’ پلیتہ‘ ہے جس میںایک سوپچاس سال پرانے درداورجبرکے رشتے کو آج سے جوڑکرایک نیا پہلو سامنے لایا گیا ہے۔ ناول’دوست‘ میں میاں بیوی کی کہانی ہے یہ تینوںناول شہری زندگی کواحاطہ کرتی ہیں۔

کوثر مظہری کاناول ’آنکھ جو سوچتی‘ہے 2000 میں شائع ہواجس میںسیتامڑھی میں ہوئے فسادکوپیش کیا گیاہے۔

اچاریہ شوکت خلیل کاناول ’اگرتم لوٹ آتے‘ 2003 میں شائع ہوا۔اس ناول کا موضوع تقسیم ہند ہے۔ شبرامام کے دو ناول ’جب گاؤں جاگے‘ اور ’شاہین‘ منظرعام پر آچکے ہیں۔ محمدعلیم کے بھی دوناول ’جواماںملی توکہاںملی‘ اور ’ میرے نالوںکی گمشدہ آواز‘ میں بھی شہری زندگی کو پیش کیاگیاہے۔ آشاپربھات کا ناول ’دھند میںاگاپیڑ‘، ظفرعدیم کاناول ’یاسمین ‘، افسانہ خاتون کا ناول ’دھند میںکھوئی روشنی‘، نسرین ترنم کا ناول ’ثنا‘، نیلوفر کا ناول’آٹرم لین‘، علی امجدکاناول ’کالی ماٹی‘، خورشید انور ادیب کا ناول ’یادوںکے سائے‘، جاویدحسن کاناول ’سیاہ کاری ڈور میںابلیس‘ اوراقبال نظامی کاناول’آخرکب تک‘ میں بھی شہری زندگی کی عکاسی ملتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ناولوںکاتقابلی مطالعہ کرکے ان ناولوںکامقام متعین کیا جائے تبھی ان ناولوںکے ساتھ انصاف ہوسکے گا۔

 

Md. Meraj Alam

New Aliganj

Near: Rose Palace

Gaya-823001

E-mail:merajalamgaya786@gmail.com

Mobile: 8789236712

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...