15/4/25

اردو ذریعۂ تعلیم اور موجودہ تکنیکی منظرنامہ: این ای پی 2020 کے تناظر میں، مضمون نگار: محمد نعمان خاں

 اردو دنیا، فروری 2025

ہندوستان کثیر آبادی والا جمہوری ملک ہے جو عالمی سطح پر بڑی اقتصادی طاقت بننے کی جانب گامزن ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020  کے مسودے کے مطابق نئے قومی، تعلیمی، ایجنڈے کے مقاصد و اہداف میں عالمی تعلیم کے ترقیاتی ایجنڈے کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ ’’جامع اور مساوی معیار کی تعلیم کو یقینی بنایا جائے اور تدریس و آموزش کے مواقع فراہم کیے جاسکیں۔‘‘

مشینی لرننگ اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)   جیسی روز افزوں سائنسی و تکنیکی ترقیات کے سبب عالمی سطح پر زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح تعلیمی امور میں بھی جو اہم تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں انھیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ تبدیل شدہ نئے حالات کے تناظر میں آموزگاروں کو عصری مسائل سے ہم آہنگ کرنے، منطقی اور تخلیقی ذہن کے ساتھ سوچنے، بین العلومیت کی اہمیت و ضرورت کو سمجھنے اور حاصل شدہ نئی معلومات کا نئے حالات کی روشنی میں استفادہ کرنے کے مواقع میسّر آسکیں اس کے لیے طریقۂ تعلیم و تدریس کو مزید تجرباتی انکشافی، جامع، منضبط، پُرلطف، مؤثراور مفید بنانے کی ضرورت ہے۔

تعلیمی پالیسی ایسی ہو جو طلبہ کی ہمہ جہت صلاحیتوں کے فروغ کے ساتھ ان کی کردار سازی، جذبۂ حب الوطنی، انسان دوستی اورانہیں اچّھا شہری بنانے میں معاون ثابت ہو اور وطن پرستی، زبان و تہذیب و ثقافت کے تئیں نہ صرف بیداری اور حساسیت پیدا کرے بلکہ ماضی کی شان دار روایات کے تحفظ کے احساس کے ساتھ مستقبل کے معاملات و مسائل و حالات کی چنوتیوں کے تئیں مثبت تعمیری اقدامات کا سبب بن سکے۔ ’قومی تعلیمی پالیسی 2020‘ میں طلبہ کی تخلیقی اور تفکیری صلاحیتوں کو فروغ دینے پر خاص زور اس وجہ سے دیا گیا ہے کہ علم، دانش وری اور حق کی تلاش کو ہندوستانی فکری اور فلسفیانہ روایات میں ہمیشہ اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ ہندوستان میں عہدِ عتیق ہی سے حصولِ علم یا تعلیم کا مقصد محض روزگار اور تعلیم حاصل کرنا ہی نہیںبلکہ اعلیٰ انسانی صفات اور ادراکِ نفس کی صلاحیت کا حصول بھی رہا ہے۔ نالندہ، تکشلا اور لبّھی جیسے عالمی معیار کے اداروں نے تعلیم و تدریس کے مختلف شعبوں میں تدریس و تحقیق کی اعلیٰ مثالیں پیش کرکے مقامی اور غیر مقامی طلبہ کو مستفیض کیا تھا۔ یہی وہ نظامِ تعلیم ہے جس نے چرک، آریہ بھٹ، بھاسکراچاریہ، برہما گپت، چانکیہ، پانینی، پتنجلی، ناگارجن، شنکردیو وغیرہ ماہرین علوم دانشوروں کو جنم دیا۔ جنھوں نے ریاضی، فلکیات، علم طب و تکنیک ، فنِ تعمیر، یوگ اور فنون لطیفہ میں ایسی اہم ترین خدمات انجام دی ہیں کہ ان کے اثرات آج بھی دیکھے اور محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ چنانچہ قومی تعلیمی، پالیسی اس امر پر اصرار کرتی ہے کہ نئی نسل کے طلبہ ان پر نہ صرف تحقیق کریں بلکہ ان کی فتوحات کو قائم رکھنے اور آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

’قومی تعلیمی پالیسی 2020‘ میں استاد کی اہمیت، ضرورت اور مرکزیت کو نہ صرف تسلیم کیا گیا ہے بلکہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عصری تقاضوں کے بموجب فروغ دینے میں ہر ممکن کوشش کرنے کی تاکید بھی کی گئی ہے۔

یہ تعلیمی پالیسی ہر طبقے کے طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی پُرزور سفارش کرتی ہے تاکہ اس کے ذریعے سماج میں مساوات کی فضا، باہمی شراکت و شمولیت کی عادت اور بہتر معاشرتی اور معاشی صورتِ حال پیدا ہو اور ملک و قوم کو ہر شعبے میں پائداری اور استحکام حاصل ہوسکے اور آئین کی پاسداری اور اس کی تکثیریت کو عملی شکل دی جاسکے۔

اس تعلیمی پالیسی کا وژن ہندوستانی اقدار اساس نظام تعلیم کا نفوذ ہے جس کے تحت معیاری تعلیم فراہم کرکے تعلیمی امور میں ہندوستان کو عالمی معیار عطا کرکے ایسا مثالی صحت مند علمی معاشرہ بنانا ہے جس پر ہر ہندوستانی فخر محسوس کرے اور یہ عملاً اس کے افکار و اعمال اور رویوں میں بھی ظاہر ہو اور وہ حقوقِ انسانی کی پاسداری اور عالمی فلاح و بہبود کے تصور کے ساتھ عملی زندگی گذار سکے۔

’قومی تعلیمی پالیسی -  2020‘ میں جہاں تمام صحت مند قدیم روایات و اقدار کو ملحوظ رکھا گیا ہے وہیں تعلیم کے جدید عالمی معیار کے ان تمام پہلوئوں پر بھی خاص توجہ صرف کی گئی ہے جو کہ ماضی کا رشتہ حال اور مستقبل سے منسلک کرکے عصرِ حاضر کی نسلِ نو کو باعمل اور بہتر انسان بنانے اور تعلیم کی عالم گیر رسائی کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

موجودہ ثقافتی اور سماجی تناظر میں قدیم و جدید کی صحت مند روایات و اقدار کا تحفظ اور ان پر عمل پیرا ہونا اس لیے ضروری ہے تاکہ ہمارے آج اور آنے والے کل کو سنوارنے اور بہتر بنانے میں خاطر خواہ مدد مل سکے۔

’قومی تعلیمی پالیسی - 2020‘میں جو اہم سفارشات اور تجاویز شامل ہیں، ان میں قومی تشخص مرکز قائم کرنے اور جنرل ایجوکیشن کونسل (GEC) کے تحت نیشنل پروفیشنل اسٹینڈرڈ سیٹنگ باڈی (NPSSB)   کی تشکیل کے ذریعے عمومی گائڈ لائن مرتب کرنے نیز تعلیمی اہداف کے حصول کے لیے خصوصی تعلیمی علاقہ (Special education zone) ،صنفی شمولیاتی فنڈ کے قیام و نفاذ کی تجاویز شامل ہیں تاکہ پائدار ترقیاتی مقاصد (SDG-4)  کی جانب پیش رفت کی جاسکے۔

’قومی تعلیمی پالیسی -  2020‘ کا مطمح نظر علوم جدیدہ کے حصول کے ساتھ ہندوستانی اقدار اساس نظام تعلیم کا ایسا نفاذ ہے جو مقامیت یا ہندوستانیت کے ساتھ عالم گیر تعلیمی معیار کو بھی یقینی بناسکے تاکہ ’عالمی سوچ اور مقامی عمل‘ کے منصوبے پر عمل درآمد ہوسکے اور ہمارا تعلیمی معیار بہتر اور مثالی بن جائے اور وسیع تر آزادانہ تعلیم (Liberal Education)  کا تصور، عملی شکل اختیار کرسکے۔

مذکورہ بالا امور و اہداف کی حصول یابی کے لیے تمام تعلیمی اداروں اور کمیونٹی اور سول سوسائٹیز کے مابین باہمی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے حکومت اور اداروں سے وابستہ ذمے داران کا عملی تعاون ضروری ہے تبھی حاشیے پر رہنے والے سماج کے کمزور طبقات کی تعلیمی اصلاح و فلاح کے کام کی جانب پیش رفت ہوسکے گی۔

’قومی تعلیمی پالیسی -  2020‘ میں جہاں بچّوں کے ذہنی و تعلیمی نشوو نما پر توجہ دی گئی ہے وہیں نصابی، تدریسی اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے ساتھ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کی سفارش بھی کی گئی ہے اور اس کے تحت زبان کی تعلیم، بالخصوص مادری زبان کے ذریعے تعلیم کے حصول پر خاص توجہ دی گئی ہے کیونکہ زبان ترسیل خیالات کا اہم و مؤثر وسیلہ ہے۔ مادری زبان میں تدریس و آموزش اس لیے ضروری ہے کہ اس کے سبب طلبہ کم محنت اور کم وقت میں باآسانی نہ صرف حصول علم کرسکتے ہیں بلکہ ان کی ہمہ جہت ترقی نیز شخصیت و تشخص کی تعمیر و تشکیل میں بھی مدد ملتی ہے اور حصولِ تعلیم کے بنیادی مقاصد کی بھی تکمیل ہوتی ہے۔ باہمی رابطہ قائم کرنے، اپنی تہذیب و ثقافت کو فروغ دینے میں مادری زبان اہم کردار ادا کرتی ہے۔

 مخصوص قدیم تہذیب و تمدن و ثقافت نیز کثیرالادیان اور کثیر اللسان ہونے کے سبب ہندوستان کو زبانوں کا گھر بھی کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں متعدد علاقائی بولیاں اور زبانیں رائج ہیں۔ دستورِ ہند کے آٹھویں شیڈیول میں جو اہم اور مقبولِ عام ہندوستانی زبانیں مندرج ہیں، اُن میں اردو بھی شامل ہے۔

تمام ماہرینِ تعلیمات اور لسانیات اس امر پر متفق ہیں کہ بچّوں کی ابتدائی تعلیم ان کی مادری زبان ہی میں دی جانی چاہیے۔ دستورِ ہند کے سیکشن '350-A' کے ساتھ ساتھ مختلف تعلیمی کمیشنوں، قومی تعلیمی پالیسیوں، این سی ای آرٹی کے درسیاتی خاکوں RTE-2009   اور دیگر تعلیمی دستاویزات میں بھی طلبہ کی مادری زبان میں تعلیم و تدریس کی اہمیت اور ضرورت پر اصرار کیا گیا ہے۔ سابقہ قومی تعلیمی پالیسیوں کی طرح نئی ’قومی تعلیمی پالیسی ۔2020‘ میں بھی مادری زبان میں تعلیم و تدریس کی اہمیت نیز جدید ذرائع ترسیل و ابلاغ کو اختیار کرنے پر خاص توجہ دی گئی ہے۔

’قومی تعلیمی پالیسی۔2020‘ کا خاص مقصد ہندوستانی نظامِ تعلیم میں مطلوبہ اصلاحات نیز تبدیلیوں کے ذریعے اُسے 21 ویں صدی کے تعلیمی تقاضوں اور ضروریات کے عین مطابق بنانا ہے تاکہ ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی درجات میں خواندگی اور عددی ماحصل کو نہ صرف فروغ حاصل ہوسکے، ڈراپ آئوٹ کی شرح میں کمی واقع ہوسکے بلکہ اعلیٰ تعلیمی نظام میں کثیر شعبہ جاتی بین العلومی طرزِ رسائی کی ایسی سہولیات بھی بہم ہوسکیں جو کہ طلبہ کی ہمہ جہت صلاحیتوں کو فروغ دینے اور ان کی شخصیت کی تشکیل و تعمیر میں معاون ثابت ہوں۔

زبان یوں تو زندگی کے ہر شعبے میں اہم کردار ادا کرتی ہے لیکن تعلیم و تدریس و آموزش کے سلسلے میں اسے بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ مضمون خواہ کوئی بھی ہو اس کی تدریس زبان کے ذریعے ہی عمل میں آتی ہے۔ بچّہ جب اسکول میں پہلی بار آتا ہے تو وہ کئی الفاظ کا ذخیرہ اپنے ساتھ لاتا ہے۔ جو زبان اس کے گھر اور اطراف میں بولی جاتی ہے دراصل وہی اس کی مادری زبان ہوتی ہے جس میں وہ دیگر زبانوں کے مقابلے میں بآسانی اکتسابِ علم کرسکتا ہے۔

زبان و ادب کی تدریس و آموزش کے ساتھ دیگر سماجی، سائنسی اور تکنیکی علوم کی تدریس و آموزش میں بھی ماری زبان کی لفظیات، مصطلحات اور تراکیب زیادہ مؤثّر اور معاون ثابت ہوتی ہیں۔

’قومی تعلیمی پالیسی۔2020‘ میں اسکولی تعلیم، اعلیٰ تعلیم اور دیگر مختلف تعلیمی معاملات و حکمتِ عملی کو چار زمروں میں منقسم کیا گیا ہے۔ ’قومی تعلیمی پالیسی۔ 2020‘ کے مسودے کی شق نمبر 4.11 میں چھوٹے بچوں کی مادری زبان / گھر کی زبان میں جہاں تدریس و آموزش کی سفارش کی گئی ہے وہیں جن بچّوں کی مادری زبان ذریعۂ تعلیم نہیں بن سکی ہے ان کے لیے ذولسانی ذریعۂ تعلیم یا طرزِ رسائی کی تجویز شامل ہے۔

’قومی تعلیمی پالیسی۔2020‘ کی شق 4.12  میں کثیر لسانیت کی بات کہی گئی ہے تاکہ طلبہ میں دو سے آٹھ سال کی عمر کے درمیان، ایک سے زیادہ زبانیں سیکھ لینے کی صلاحیت پیدا ہوجائے۔ اسی کے ساتھ مادری زبان کے ساتھ دیگر زبان کے سیکھنے، زبان کی تدریس دلچسپ مکالماتی انداز میں کیے جانے اور جدید تکنیکی ذرائع وسائل کا استعمال کیے جانے کی تاکید کی گئی ہے اور تین زبانوں میں کسی ایک ہندوستانی زبان کو پڑھنا لازمی قرار دیا ہے۔

’قومی تعلیمی پالیسی۔2020‘ کی شِق نمبر 4.16 میں ہر طالبِ علم کے لیے ’دی لینگویج آف انڈیا‘ پر ایک ایسا پروجیکٹ تیار کرنے کی تجویز شامل ہے جس کے ذریعے ہندوستانی زبانوں کے مابین باہمی ربط پیدا کرنے اور آدی باسی زبانوں کی ساخت اور نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تاکہ مشترکہ ہندوستانی ثقافت کی اہمیت واضح ہوسکے۔

شق نمبر : 4.17   میں کلاسیکی ہندوستانی زبانوں اور ان کے ادب کی اہمیت کے پیشِ نظر خاص توجہ دیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔

شِق نمبر22.9 میں ہندوستانی زبانوں اور ان کے ادب کے مابین تقابلی مطالعے اور دیگر فنونِ لطیفہ کی بات بھی شامل ہے۔

شق نمبر 4.20 میں غیر ملکی ثقافتوں کی تفہیم کے لیے غیر ملکی زبانوں کے مطالعے کے تئیں رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔

شق نمبر 2.8 میں مختلف ہندوستانی زبانوں کی تدریس میں پُرلطف آموزش کے لیے دلچسپ ادبِ اطفال کو شامل کیے جانے، کتب خانوں میں حسبِ ضرورت کتابیں مہیا کرانے اور تکنیکی ذرائع سے معیاری تراجم کی تجویز شامل ہے۔

شق نمبر 4.21  اس لیے اہم ہے کہ اس میں زبان کی تدریس و آموزش کو معیاری، دلچسپ اور مؤثر بنانے کے لیے جدید تکنیکی طریقوں اور شمولیاتی طرزِ رسائی پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ زبان کے لسانیاتی اور ثقافتی پہلوئوں کو مستحکم بنانے کے لیے جدید تر تکنیکی ذرائع و وسائل مثلاً : مختلف Apps، پورٹلس، انٹرنیٹ، فلم، کمپیوٹر، ویب سائٹس، CD's، ٹوئٹرس، فیس بک، یو-ٹیوب، تعلیمی چینلس، ای لائبریری وغیرہ کے ذریعے تعلیم کو حقیقی عصری زندگی سے جوڑنے، تعلیمی نظام کو مؤثر اور تجرباتی بنانے پر اصرار کیا گیا ہے۔ اس جدید تکنیکی عمل میں شمولیاتی طرزِ رسائی کے لیے خصوصی ضروریات کے حامل بچّوں یا نابینا بچّوں کے لیے اشاراتی زبان کی تکنیک کو فروغ دینے کی خاطر خصوصی درسیاتی مواد تیار کرنے کا مشورہ بھی شامل ہے۔

شق نمبر 22.19 کے مطابق  ہندوستانی زبانوں کی تدریس و آموزش کے لیے مختلف ویب سائٹس پر مبنی پلیٹ فارم / پورٹل یا وکی پیڈیا پر درسی مواد کی فراہمی ویڈیوز اور رکارڈنگ وغیرہ کی سہولت دستیاب کی جائے گی اور ترجمہ نگاری کی صلاحیت کو فروغ دیا جائے گا تاکہ ہندوستانی زبانوں کے ادب پاروں کے علاوہ غیر ملکی زبانوں کے ادبی شاہکار اور تدریسی مواد کو آموزگاروں کو فراہم کیا جاسکے۔ اس اہم کام کے لیے "Institute of Translation and Interpretation"(ITI)  قائم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

اردو زبان و ادب کے فروغ کی غرض سے جن سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے اردو ویب سائٹس بناکر عوامی مقبولیت حاصل کی ہے، ان میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، انجمن ترقی اردو ہند، ریختہ آرگ/ ای باکس اور مختلف ریاستی اردو اکادمیوں کے علاوہ تعلیمی اداروں میں NCERT، CIET، NCTE، NIOS، CBSE،  جامعہ اردو، علی گڑھ، اے ایم یو علی گڑھ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، جامعہ ہمدرد، Ignou، زکوٰۃ فائونڈیشن آف انڈیا، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد، انجمن اسلام ممبئی، اعظم کیمپس پونہ و غیرہ کے ذریعے اہم خدمات انجام دی جارہی ہیں۔

NCERT کی تیار کردہ پہلی سے بارہویں جماعت کے طلبہ و طالبات کے لیے تمام مضامین کی درسی کتب معاون درسی کتب، ہندی، اردو، انگلش میڈیم میں دستیاب ہیں۔

NCERT کے تکنیکی شعبے CIET کے ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے بھی درسی مواد براہ راست نشر کیا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ حکومتِ ہند کی جانب سے کئی نئے خصوصی ویب سائٹس، پورٹلس اور لرننگ مینجمنٹ پلیٹ فارم پر مختلف جماعتوں اور مضامین کے طلبہ و طالبات کی تدریس و آموزش کے لیے جو آن لائن، براہ راست خصوصی تعلیمی پروگرام نشر کیے جارہے ہیں، اُن میں ’ای۔پاٹھ شالا‘، ’ای۔مترا‘، ’دِکشا‘، ’سہیوگ‘، ’کشور منچ اور پورٹل NISHTHA ‘ (National Initiatives for School Heads & Teachers Holistic Advancement)  اور  MOOC  (Massive Open Online Courses) ،  "SWAYAM PRABHA"  (Study Webs of Active Learning for Young Aspiring Minds)    وغیرہ کے نام بہ طور خاص قابلِ ذکر ہیں جن کے تحت "e-content" اور "e-Resources"  درسی مواد کی نشریات کو قومی تعلیمی پالیسی ۔ 2020 کے مطابق، ماہرین کے ذریعے براہ راست پیش کیا جاتا ہے۔

کئی اردو پورٹل مثلاً : urdu sukhan.com،  urdu dost.com،  urdu life.com، sherosukhan.com ، universal urdu post.com،   adab.com،   urdu manzil.com  وغیرہ کے اہم کردار ادا کرنے کے سبب اردو کے سائبر اسپیس میں خاصی وسعت پیدا ہوگئی ہے۔اردو طلبا، رسرچ اسکالرس، اساتذہ خاطر خواہ استفادہ کرکے اردو زبان و ادب کو نئی جہتوں سے ہم کنار کررہے ہیں۔ اردو بھی اب سائبر اور کمپیوٹر کی زبان بن گئی ہے۔ اردو میں بھی e-book،  e-box  اور ڈیجیٹل لائبریری کی دستیابی نے فاصلاتی نظامِ تعلیم کے لیے بھی راہیں ہموار کردی ہیں۔ ذرائع ابلاغ ICT  نہ صرف تعلیمی اور سماجی ترقی کا پیمانہ بن چکے ہیں بلکہ دنیا یک قطبی یا عالمی گائوں میں تبدیل ہوچکی ہے اور سمٹ کرہمارے ڈرائنگ روم یا کلاس روم میں آگئی ہے۔

عصرِحاضر میں انٹرنیٹ اور کمپیوٹر یا موبائل ایک بنیادی ضرورت ہی نہیں بلکہ ہماری روزمرّہ زندگی کا جزوِ لاینفک بن گیا ہے۔ یونی کوڈ فارمیٹ اور ویب سائٹس نے دیگر زبانوں کی طرح اردو زبان و ادب کی ترسیل و ابلاغ کو بھی آسان تر بنادیا ہے۔

اردو سائبر اِسپیس نے نئے امکانات کے ساتھ ایک نیا جہانِ معانی پیدا کردیا ہے۔ تکنیکی ذرائع ابلاغ نے اردو زبان و ادب اور اس کی تعلیم و تدریس کو انقلاب آفریں ترقیات سے ہم کنار کرکے اس کی مقبولیت اور دائرۂ اثر میں نہ صرف خاصی وسعت پیدا کردی ہے بلکہ اردو زبان کو Global Language  کا درجہ عطا کردیا ہے۔

 

Mohammad Nauman Khan

204, Gulshan-E-Dasnavi

Green Valley, Airport Road

Bhopal - 462030 (M.P.)

Mob. : 9891424095

mnkhanncert@gmail.com

 

3/3/25

اکبر الہ آبادی کی شاعری میں مشرق کا تصور، مضمون نگار: امیرحسن

 اردو دنیا، جنوری 2025


تجھے ہم شاعروں میں کیوں نا اکبر معتبر سمجھیں

بیاں ایسا کہ دل مانے زباں ایسی کہ سب سمجھیں

اکبر الہ آبادی دنیائے شاعر میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ہندو پاک کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی اپنے مخصوص لب و لہجے کی وجہ سے کافی معروف ہیں۔ اکبر کی شاعری سے ہر خاص و عام واقف ہے۔ اکبرالہ آبادی کو وہ قدور منزلت نصیب نہ ہوئی جس کے وہ حقدار تھے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ رہی کہ ان کو صرف اور صرف طنز و مزاح کا شاعرتصور کیا گیا۔ لیکن اکبر کی شاعری ہمیں ایک تاریخ کی طرف اشارہ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اکبر کی شاعری ہندوستانی تہذیب و تمدن کی علمبردارہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کوئی قوم اپنی تہذیب و ثقافت اور روایات و واقعات سے پہچانی جاتی ہے۔ قومیں اپنے اوصاف کی بقا کے لیے بھر پور کوششیں کرتی ہیں۔ یقینا کسی بھی قوم کی بقا اورعظمت اس کی تہذیب اور ثقافت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ دنیا کی تمام تر زندہ قومیں اپنی تہذیب اور روایتی ورثے سے بہت محبت کرتی ہیں اور اس کے لیے بڑی بڑی قربانیاں پیش کرتی ہیں۔

اکبر الہ آبادی نے عوامی ذہنیت کو پستی میں گرنے سے بچانے کی کوشش کی۔ نوآبادیاتی نظام یعنی (Neocolonialism) کے ذریعے ہونے والے نقصانات سے ہندوستانی عوام کو آگاہ کیا۔ اردو ادب کی پوری تاریخ میں اس  نوآبادیاتی نظام کے خلاف شعوری طور پرجن لوگوں نے رد عمل ظاہر کیا ان میںاکبرالہ آبادی کا نام سر فہرست ہے۔

 اکبر نے عوامی ذہنیت کو بلندی پر لے جانے کے لیے اور ان کو پستی سے باہر لانے کے لیے ضروری سمجھا کہ عوام کو آہستہ آہستہ ان کے برتر ہونے کا احساس دلایا جائے۔دوسری جانب انھوں نے نئے خیالات اور نئی فکر کو اپنی کڑی تنقید کی کسوٹی پر پرکھنا شروع کیا اور جہاں کہیں ان کی نگاہ میں کسی نئی فکر اور نئے خیالات میں مضر اثرات ابھرتے تو انہوں نے فوراً اپنی شاعری کی ذریعے سے ہندو ستا نیوں کو آگاہ کیا۔

ا کبر جب ہندوستانیوں کو مشرقی تہذیب وتمدن کے اوصاف سے خالی اور مغرب کی اندھی تقلید میںمبتلا دیکھتے تو ان کو مشرقی تہذیب و تمدن اور ثقافت و روایت ملیا میٹ ہوتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ اکبر الہ آبادی مشرقی تہذیب وتمدن کے علمبر دار تھے۔ وہ محسوس کر رہے تھے کہ یہ چیز یں جو انگریزوں کی طرف سے آرہی ہیں یہ ہمارے لیے غلامی کی علامت ہیں۔ ریل، انجن ، بھاپ، برقی لیمپ، مشین ، کلیسا اور موٹر وغیرہ ان تمام چیزوں کو اکبر علامت کی سطح پر لے رہے تھے اور ان سب کو غلامی کی علامت سمجھ رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ان کے ذریعے ہمیں ذہنی طور پر غلام بنایا جا رہا ہے۔  اکبر الہ آبادی کو اس سے شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنی تہذیب کو خود ہی ملیا میٹ کرنے کا خوف ستار ہا تھا۔

شمس الرحمن فاروقی اکبرالہ آبادی کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ اکبر کی پہلی عظمت اس بات میں ہے کہ (مہاتما گاندھی اور اقبال دونوں نے مغرب اور اس کی تہذیب و تعلیم کو براہ راست اور بہت قریب سے دیکھا تھا) لیکن اکبر نے ملک کے باہر جائے بغیر اس تہذیب اور تعلیم کی علامتوں اور مضمرات کو سمجھ لیا۔‘‘

(اکبر الہ آبادی: نوآبادیاتی نظام اور عہد حاضر: شمس الرحمن فاروقی، ص 8)

اکبرالہ آبادی بنیادی طور پر مشرق پر ست تھے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مشرق ہی میں سب کچھ ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ہر انسان کو اپنی پرانی چیزوں سے محبت ہوتی ہے اور اگر اکبر الہ آبادی نے مشرقی تہذیب وتمدن کے تحفظ کے لیے مغربی تہذیب و تمدن کو تسلیم کرنے سے انکا ر کیا ہے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے نقادوں نے اکبرالہ آبادی کو قدامت پرست اور نہ جانے کیا کیا کہا ہے۔ جدید تعلیم کے نام ہماری مشرقی تعلیم،  روحانی اقدار اورتہذیبی روایات کو کس طرح مٹایا اورتعلیم کو صرف مادیت پرستی کی طرف لے جایا جا رہا، ان امور کو پوری شدت کے ساتھ اکبر الہ آبادی نے اپنی شاعری میں جگہ دی ہے۔

اکبرکے تصور مشرق کو ان کے اشعار کی روشنی میں بہتر انداز سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے اپنے اشعار میں مشرق و مغرب کے تہذیبی اقدار ، تعلیمی نظام، نئے پرانے کی آمیزش اور تعلیم نسواں کو بڑی شدت کے ساتھ پیش کیا ہے        ؎

ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں

کہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

جب نئی تعلیم دی جانے لگی تونئی کتابیںیعنی نئے نصاب کی ضرورت بھی ہوئی۔ اس بات کی طرف اکبرنے اشارہ کیا ہے کہ ایسی کتابوں کوپڑھ کر بچے اپنے والدین کو پاگل، مجنوں اور خبطی سمجھنے لگتے ہیں اور ایسی کتابیں جن سے لوگوں کے ذہن اور سماجی اقدار میںتنزل آجائے تو انھیں ضبط کر لینا ہی بہترہے        ؎

شیخ مرحوم کا قول اب مجھے یاد آتا ہے

دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے

مذکورہ شعر میں لفظ ’شیخ‘ کو ایک کردار بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ اکبر الہ آبادی شیخ کو مشرقی اقدارکے نمائندے کے طور پر پیش کرتے ہیں یعنی اپنی پرانی چیزوں پر چلنے والا۔ یہاں یہ کہا جارہا ہے کہ شیخ صاحب نے درست کہاتھاکہ تعلیم کے بدل جانے سے دل بھی بدل جاتے ہیں۔ تعلیم کے ذریعے سے انسان کوکسی بھی طرف موڑا جا سکتا ہے اس بات کو اکبر الہ آبادی بخوبی دیکھ اور سمجھ رہے تھے۔ اس کے برعکس یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ تعلیم انسانوں کے اذہان کو بدل دیتی ہے۔ اس کی جیتی جاگتی مثال ہمیں اپنے آس پاس دیکھنے کو مل جائے گی۔

اکبر الہ آبادی نے جہاں ایک طرف مشرقی تعلیمی نظام، مشرقی تہذیب و تمدن اور مشرقی روایات کو اپنی شاعری میں جگہ دی اور ان کے تحفظ کا بیڑا اٹھایا تو وہیں دوسری طرف مغربی تہذیب و تمدن کواپنی شاعری کے ذریعے سے طنز کا نشانہ بھی بنایا۔ اکبر الہ آبادی کی شاعری سے مشرقی تہذیب وتمدن کو سمجھا جا سکتا ہے      ؎

مل کا آٹا ہے نل کا پانی ہے

آب و دانہ کی حکمرانی ہے

بظاہر یہ بہت عجیب شعر معلوم ہوتا ہے لیکن اس شعر میں پورا تہذیبی  انہدام دیکھنے کو ملتاہے۔’ مل کا آٹا‘ یعنی چکی کے بجائے مشین کے ذریعے سے گیہوں پیسا جا رہا ہے۔ ’چکی‘ مشرقی تہذیب کا حصہ ہے۔ ’نل کا پانی‘، ہمارے یہاں قدیم دور میں نل کا تصور نہیں تھا بلکہ لوگ پانی حاصل کرنے کے لیے کنواں کا سہارا لیتے تھے۔ لیکن موجودہ دور میں ایسا نہیں ہے۔ کنویں کی تہذیب پورے طریقے سے مٹ چکی ہے۔ نل کے آجانے سے ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ پہلے ہم اپنی مرضی سے جب جی چاہا پانی نکال لیے، لیکن اب ہم کسی کے تابع ہوگئے      ؎

پائپ کوئی کھلا نہیں گھر میں لگی ہے آگ

اب بھاگنا ضرور ہوا غور کیا کریں

یہاں لفظ ’پائپ‘ کا استعمال شاعر نے طنزکے طور پر کیا ہے۔کیونکہ اس کے پس پردہ ہماری پوری کنویں کی تہذیب خطرے میں دکھائی دیتی ہے۔ بلکہ یہ کہاجا ئے تو غلط نہ ہو گا کہ کنویں کی تہذیب پورے ہند و ستانی سماج سے غا ئب ہو چکی ہے۔ پائپ سے پانی ایک وقت تک ہی آتا ہے، اس کے بعد بند ہو جاتا ہے۔ اس لیے شاعر طنز کستے ہوئے کہتا ہے کہ تمام پائپ بند ہیں اور گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، اس پر قابو پانا مشکل ہے۔ دوسرے مصرعے میں اشارہ ہے کہ ایسی صورت حال میں اب انسان صرف ادھر ادھر ہی بھاگ سکتا ہے۔  وہ غور و فکر کرنے کے بھی پوزیشن میں نہیں ہوتا ہے۔ اگر کنواں ہوتاتوشاید آگ پر قابو پا لیا جاتا ہے، لیکن افسوس کہ پائپ کی وجہ سے کنویں کا وجود ہی ختم ہو چکا ہے۔

قمر الدین احمد بدایونی لکھتے ہیں کہ اکبر نے مذکورہ شعر کی تو جیہ حسب ذیل بیان کی ہے:

’’ اکبر نے فرمایا کہ تھوڑا عرصہ ہوا چوک کی دکان میں آگ لگ گئی۔ اس وقت پائپ بند ہونے کی وجہ سے رعایا کا سخت نقصان ہوا۔ میں نے مذکورہ شعر اس خیال سے متاثر ہو کر لکھا تھا۔ اگر اس وقت زمانۂ سابق کی طرح کنویں ہوتے تو آگ بر وقت قا بو میں لائی جا سکتی تھی۔ شہروں میں ترمیم دیکھو کہ حکمران طبقہ اور امرا سول لائن میں ہیں۔ غربا کے لیے زیست کے دن گزارنے کے واسطے شہر کے گندے گوشے علاحدہ ہیں۔ مراد اس سے یہی ہے کہ نہ امیر و غریب یکجا ہوں گے، نہ ایک دوسرے کے دکھ درد سے ہمدردی ہوگی۔‘‘

(بزم اکبر: مولوی قمرالدین بدایونی، ص 20)

اس کے علاوہ اکبر کے تعلق سے لوگوں کے درمیان یہ مشہور ہے کہ اکبر عورتوں کی تعلیم کے خلاف تھے۔ لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اکبر عورتوں کی تعلیم کے خلاف نہیں بلکہ وہ عورتوں کی آزادی کے خلاف تھے۔ اس آزادی کے خلاف تھے جس آزادی کی بات انگریز کرتے تھے۔ اس تعلیم کے خلاف تھے جس تعلیم کی بات انگریز کرتے تھے۔ ہمارے سماج میں عورتوںکو دیوی جیسے پاک لفظ سے پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مشرقی تہذیب نے عورتوں کو ایک اعلیٰ مقام عطا کیا ہے۔ اس بات کو بھی اکبر کے کلام کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ کیا واقعی اکبر عورتوں کی تعلیم کے خلاف تھے یا صرف اور صرف اکبر کے ساتھ اس تہمت کو لگا دیا گیا ہے      ؎

 حامدہ چمکی نہ تھی انگلش سے جب بیگانہ تھی

اب ہے شمع انجمن پہلے چراغ خانہ تھی

جب تک حامدہ نے مغربی تعلیم حاصل نہیں کی تھی یعنی انگریزی نہیں سیکھی تھی، اس وقت تک اس کے چمکنے کا تصور ہی نہیں تھا، یعنی وہ گھر کا چراغ تھی، لیکن جب اس نے انگریزی کی تعلیم حاصل کرلی تووہ شمع انجمن ہونے لگی۔ محفل میں زیادہ اہمیت کی حامل بن گئی۔ ہماری مشرقی تہذیب میں لڑکیوں کو گھر کے چراغ کی مانندسمجھا جاتا ہے اور ان کو پردے میں رکھا جاتا ہے۔ لیکن انگریزی تعلیم کی وجہ سے آج کی تاریخ میں ہماری لڑکیاں شمع محفل بنی ہوئی ہیں۔ اس تعلیم نے ہمارے تہذیبی اقدار کو پامال کر دیا ہے        ؎

تعلیم دختراں سے یہ امید ہے ضرور

ناچے دلہن خوشی سے خود اپنی برات میں

مغربی تعلیم جولڑکیوں کو دی جا رہی ہے یا مغرب سے جو تعلیم ہمارے یہاں آئی ہوئی ہے، اس تعلیم سے صرف بے حیائی اور برائی کے علاوہ اچھائی کی امید نہیں کی جاسکتی ہے۔ جو دلہن ہے وہ خود اپنی شادی میں ناچ رہی ہے۔ ہمارے یہاں آج بھی لڑکیاں شادی کی بات سن کر شرم سے دور چلی جاتی ہیں، لیکن جب سے ہمارے یہاں کی لڑکیوں نے مغربی تعلیم حاصل کی ہے ان کے اندر سے شرم و حیا با لکل ختم ہو چکی ہے۔

مذکورہ بالا جو اکبر الہ آبادی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے یہ بات ہرگز نہیں نکا لی جا سکتی ہے کہ اکبر عورتوںکی تعلیم کے خلاف تھے۔ بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اکبر اس تعلیم کے خلاف تھے جو معاشرے میں بے حیائی اور بے پردگی کو جنم دے۔ایک سچے اور محب قوم کی حیثیت سے اکبرالہ آبادی کی دور بیںاور گہری بصیرت ہر لحاظ سے قابل داد ہے۔ اکبر الہ آبادی نے مشرقی تہذیب و تمدن کی بقا کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ ہر آنے والی مصیبتوں سے ہندوستانیوں کو بیدار کیا ہے۔ اس کے فوائد اور نقصانات کے بارے میں بتایا ہے۔ اکبرالہ آبادی انگریزوں کی چال بازیوں کے خلاف تھے۔ انھیں اس بات کا پورا احساس ہو گیا تھا کہ یہ لوگ ہماری صدیوں پرانی تہذیب وتمدن کو پامال کر دیں گے ،ہمیں غلامی کی زنجیر میں جکڑ دیں گے اور ہمیں ذہنی غلام بنا دیں گے اور یہی ہوا بھی کہ ہندوستانی قوم ایک طرح سے ذہنی غلامی کی زندگی بسر کر رہی ہے۔

 اکبر الہ آبادی کبھی بھی ترقی کے خلاف نہیں تھے۔ وہ اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کو بار بار توجہ دلا رہے ہیں کہ غلامی کی زندگی جینے سے بہتر ہے کہ کچھ صنعت و حرفت کی طرف توجہ دی جائے۔جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ دور میں خاص طور سے نئی تعلیمی پالیسی میںVocational Education یعنی پیشہ ورانہ تعلیم کی طرف ہماری حکومتیں خاص توجہ کر رہی ہیں، جبکہ اس بات کی طرف اکبر نے پہلے ہی اپنے اشعار کے ذریعہ بتایا تھا کہ ہمیں ان چیزوں کو سیکھنے اور پڑھنے کی ضرورت ہے جو کہ نا صرف ناموری کا ذریعہ ہوں بلکہ ان سے زندگی کو با مقصد اور آسان بھی بنایا جا سکے۔ نظم کا ایک ٹکڑا ملاحظہ ہو، جس میں وہ نوجوانوں کو صاف صاف تلقین کرتے ہوئے نظر آتے ہیں         ؎

وہ باتیں جن سے قومیں ہو رہی ہیں نامور سیکھو

اٹھو تہذیب سیکھو، صنعتیں سیکھو، ہنر سیکھو

بڑھائو تجربے اطراف دنیا میں سفر سیکھو

خواص خشک و تر سیکھو، علوم بحر و بر سیکھو

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اکبر الہ آبادی کی شاعری ہندوستانی تہذیبی اقدار کا نوحہ ہے۔ اکبر کی اسی ناقدانہ بصیرت اور ماضی و مستقبل شناسی کے مد نظر انھیں ایک عہد ساز شاعر قرار دیا جا سکتا ہے۔

 

Ameer Hasan

Research Scholar

Jamia Millia Islamia

New Delhi- 110025

Mob.: 7503551548

ameerhasan2013@gmail.com

 

جلال لکھنوی کی غیر مطبوعہ داستان بالا باختر: ایک تعارف، مضمون نگار: محمد سعید اختر

 اردو دنیا، جنوری 2025

جلال لکھنوی (1834-1909) کا شمار اردو کے ممتاز شعرا میں ہوتا ہے۔ شاعری کے علاوہ  لغت نویسی، تاریخ گوئی اورزبان دانی کے حوالے سے بھی ان کی اہم خدمات ہیں۔ جلال لکھنوی کو بچپن ہی سے شعرو شاعری کا شوق تھا ، جب مصرع موزوں کرنے لگے تو انھوں نے امیر علی خاں ہلال کواپنا استاد بنایا۔ اس کے بعد میر علی اوسط رشک اور آخر میں فتح الدولہ برق کے شاگرد ہوئے۔ مشاقی اور مہارت نے بہت جلد انھیں استاد شاعر کا رتبہ دے دیا۔یہاں تک کہ لوگ جلال لکھنوی سے مشورہ سخن کرنے لگے، اس زمانے کے کئی نامور شعرا جن میں آرزو لکھنوی کا نام سب سے نمایاں ہے جلال کے شاگرد ہوئے۔ اس کے علاوہ یاس لکھنوی، احسان علی خاں احسان شاہجہانپوری، وغیرہ ان کے شاگردوں میں شامل ہیں۔

جلال لکھنوی کی ایک داستان جو ’داستان بالا باختر‘ کے نام سے موسوم ہے ہنوز غیر مطبوعہ ہے۔ یہ داستان رضا لائبریری رامپور میں موجود ہے۔ جلال ایک بلند پایہ شاعر ہونے کے ساتھ داستان نویسی میں بھی ممتاز درجہ رکھتے تھے۔ ’داستان بالا باختر‘ تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ لائبریری کا کیٹلاگ نمبر399۔400،401ہے۔

 جلال لکھنوی بطور شاعر مشہور ہیں۔ لکھنؤ کے ممتاز شاعروں میں انھیں شمار کیا جاتا ہے۔ دربار رامپور سے وابستگی نے انھیں مزید شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔ امیر مینائی اور داغ کی صحبتوں نے فکرو فن کو مزید جلا بخشی، لیکن اس کے علاوہ بھی جلال کی ایک دنیا تھی جن پر کم توجہ دی گئی۔ جلال کی ایک حیثیت داستان گو کی ہے، رامپور انھیں اسی لیے بلایا گیا تھا، ان کے والد حکیم میر اصغر علی خاں کی دربار رامپور سے وابستگی داستان گو کے طور پر تھی، جلال بھی اسی حیثیت سے وہاں وابستہ ہوئے۔ رازیزدانی کے بقول:

’’واقعہ یہ ہے کہ جلال کے والد حکیم میر اصغر علی خان داستان گو دربار رامپور میں داستان گو کی حیثیت سے ملازم تھے۔چنانچہ رضا لائبریری رامپور کے قلمی داستانوں کے ذخیرے میں ترجمہ ایرج نامہ اس تفصیل سے یہ پہلی جلد 365 صفحوں میں دوسری جلد 351 میں تیسری 340 صفحہ قلمی 336 صفحہ قلمی اور پانچویں جلد 302 صفحہ قلمی ان کے نام سے موجود ہیں۔ اور پانچویں جلد کے آخر میں یہ عبارت درج ہے:

’’تمام شد ایرج نامہ درزبان اردو بحسن سعی احقرالعباد ہیچ مداں کج مج بیان حکیم سید اصغر علی داستان گو بحکم نواب معلی القاب محمد کلب علی خاں بہادر دام اقبالہ بروز جمعہ داد از دہم ذی الحجہ 1285ھ‘‘۔

اور بالا باختر کا ترجمہ تین جلدوں میں اس تفصیل سے ہے کہ پہلی جلد صفحہ 375 قلمی دوسری جلد قلمی صفحات 288 اور تیسری جلد قلمی صفحہ 215 حکیم سید ضامن علی جلال کے نام سے موجود ہے۔‘‘1

داستان بالا باختر چونکہ قلمی ہے اس لیے اس کے مطالعے اور تعارف کی باقاعدہ کوئی شکل نہیں ہے، چند سطروں میں تعارف یا داستان کے سلسلے میں کوئی بات ملتی ہے۔ پروفیسر محمد حسن نے داستان بالا باختر پر صرف اتنا لکھنے پر ہی اکتفا کیا ہے۔ اقتباس ملاحظہ کریں :

’داستان بالاباختر‘ پر بحث کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے فن داستان گوئی پر بحث کی جائے اور اس کی روشنی میں جلال کے کمالات کا جائزہ لیا جائے۔ لیکن یہ ہمارے دائرۂ بحث سے خارج ہے۔ اس لیے ان کی داستان کا تذکرہ صرف اس حیثیت سے کیا گیا ہے کہ یہ بھی جلال کی ہمہ گیرشخصیت میں ایک اور پہلو کا اضافہ کرتی ہے۔‘‘2

ڈاکٹر سہیل بخاری جلال لکھنوی کی داستان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

’’انھوں (جلال لکھنوی)نینواب کلب علی خاں کے عہد میں بالا باختر کی تین جلدیں بھی تحریر کی تھیں، پہلی جلد میں 376،دوسری جلد میں 288،تیسری جلد میں 215 اوراق ہیں۔اور تقطیع تمام جلدوں کی ساڑھے گیارہ او ر ساڑھے سات ہے۔ ان جلدوں کا ایک ایک قلمی نسخہ کتب خانہ عالیہ رامپور میں محفوظ ہے۔ 3

جلال لکھنوی نے نواب عالی جاہ یوسف علی خاں کی فرمائش پر اس داستان کو اردو قالب میں ڈھالا تھا۔ پہلی جلد میں 375ورق اور 750صفحات ہیں۔ دوسری جلد 288ورق اور 576صفحات پر مشتمل ہے۔تیسری جلد 215ورق اور 430صفحات پر مشتمل ہے۔ ان تینوں جلدوں کے کاتب خود جلال لکھنوی ہیں۔ گیان چند جین نے لکھا ہے کہ دو جلدوں کا ترجمہ جلال لکھنوی نے کیا تھا اور تیسری جلد ان کے والد حکیم میر اصغر علی نے مکمل کی تھی۔4 لیکن رضا لائبریری رامپورمیں موجود کسی بھی نسخے سے یہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ اس داستان کے مولف حکیم میر اصغر علی ہیں۔ ممکن ہے کہ گیان چند جین کی نظر سے ساری جلدیں نہ گزری ہوں۔

جلال لکھنوی کی داستان نویسی پر کسی کی کوئی تحریر یا رائے اب تک سامنے نہیں آسکی ہے۔ ابھی تک داستانوں کے بہت سے مطالعے کیے جاچکے ہیں مگر قلمی داستانوں کا ایسا کوئی مطالعہ سامنے نہیں آیا ہے جس میں جلال لکھنوی کی داستان کو موضوع بحث بنایا گیا ہو۔ رازیزدانی، گیان چند جین اور ڈاکٹر سہیل بخاری نے جلال لکھنوی کی داستا ن گوئی پر ضمناً بحث کی ہے۔ رامپور رضا لائبریری کے کتب خانے میںجلال لکھنوی کہ یہ داستان غیر مطبوعہ کیٹلاگ میں موجود ہے۔ان کا ایک اور نثری رسالہ جو عروض و قوافی کے نام سے جانا جاتا ہے وہ بھی کتب خانے میں موجود ہے۔

جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ جلال لکھنوی کے والد حکیم میر اصغر علی (وفات1296ھ) داستان گو کی حیثیت سے پہلے سے ہی اپنی شناخت قائم کر چکے تھے۔  نواب آصف الدولہ کے دربارسے بحیثیت داستان گو وابستہ ہوئے۔نواب محمد سعید خاں  (1840-1855)  کے دور حکومت میں رامپور آئے اور رامپوردربار سے ان کا انسلاک بھی داستان گو کے طور پر ہی رہا۔گیان چند جین جو داستان شناس کے طور پر جانے جاتے ہیں انھوں نے اپنی کتاب (اردو کی نثری داستانیں)میں جلال کے والد میر اصغر علی کی داستانوں کی ایک فہرست درج کی ہے، اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ میر اصغر علی نے فارسی میں بھی داستانیں لکھی ہیں۔ ان داستانوں کی فہرست حسب ذیل ہیں۔

1        داستان امیر حمزہ ثانی نامکمل،

2        صندلی نامہ دو جلد مع تورج نامہ مکتوبہ 1265ھ م1848

3        داستان صاحب قران سکندر ثانی دفتر ہفتم مسمی بہ رعدالغیب مکتوبہ 1268ھ

میر اصغر علی کی فارسی تصانیف سے کہیں زیادہ اہم اردو تصانیف ہیں جو مندر جہ ذیل ہیں:

1        قصہ روشن جمال تصنیف 1273ھ158ورق واجد علی شاہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا۔

2        قصہ سیم تن وپری پیکر 62ورق غالباً واجد علی شاہ کی مثنوی افسانۂ عشق کی داستان ہے۔ افسانۂ عشق کے ہیرو اور اس کی محبوبہ کانام سیم تن و پری پیکر تھا۔

3        داستان غزالہ 50ورق واجد علی شاہ کی مثنوی دریائے تعشق کا قصہ۔

4        قصۂ ماہ پروین۔55ورق۔ واجد علی شا ہ کی مثنوی بحر الفت سے مرتب۔

مندرجہ بالا چاروں قصوں کا داستان امیر حمزہ یا رامپور سے کوئی تعلق نہیں۔ حمزہ کے سلسلے میں انھوں نے ذیل کی اردو داستانیں لکھیں :

5        ایرج نامہ5جلد تصنیف1868م1285ھ

6        داستان دریائے نیل و نیلم جادو و لوح گرفتن از متعلقہ ہوشربا ضخیم۔

7        داستان شمالیہ باختر

فہرست کے بعد پروفیسر گیان چند جین نے یہ بھی وضاحت کر دی ہے کہ:

’’ان کے علاوہ بوستان خیال کے سلسلے میں انھوں نے طلسم ہفت کواکب لکھی۔ ایرج نامے کے دیباچے سے معلوم ہوتا ہے کہ نواب کلب علی خاں نے داستان امیر حمزہ کے دفتر اردو میں لکھانا چاہے تو نو شیرواں نامہ منشی انبا پرشاد کے سپرد کیا اور ایرج نامہ اصغر علی کودیا۔‘‘5

جلال کے والد نے داستانوی ادب میں جو کارنامے انجام دیے ہیں ان پر ابھی کوئی باقاعدہ کام نہیں ہو سکا ہے۔ امید ہے کہ آئندہ اس پر توجہ دی جائے گی۔

’داستان بالاباختر‘داستان امیر حمزہ صاحب قران کا دفتر سوم ہے۔جس کا اردو ترجمہ جلال لکھنوی نے رامپور میں کیا تھا۔اس کے مطالعے سے ایک اہم بات یہ سامنے آتی ہے کہ جلال لکھنوی کی داستان ’بالاباختر‘ (غیر مطبوعہ)اور شیخ تصدق حسین کی داستان ’بالاباختر‘ (مطبوعہ) دونوں ایک ہی فارسی داستان کا اردو ترجمہ ہیں اور اس کا خالق ابوالفیض فیضی ہے جو جلال الدین محمد اکبر کے زمانے میں موجود تھا۔ ان دونوں داستانوں کی کہانی اور کردار ایک دوسرے سے اس طرح مماثلت رکھتے ہیں کہ پڑھنے والا بغیر کسی عذر کے یہ کہنے پر مجبور ہوجائے گا کہ یہ دونوں کسی ایک فارسی داستان کا اردو ترجمہ ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے شیخ تصدق حسین کی داستان ’بالا باختر‘ مطبوعہ کا تجزیہ اپنی کتاب’ساحری، شاہی،صاحب قرانی داستان امیر حمزہ کا مطالعہ، جلد چہارم:داستان دنیا (1) میں کیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے اندازہ لگانا زیادہ آسان ہوجاتا ہے کہ ان دونوں داستانوں میں مماثلت کہاں تک ہے۔ فاروقی نے ساحری، شاہی، صاحب قرانی (داستان امیر حمزہ کا مطالعہ جلد اول:نظری مباحث )میں طلسم گوہر بار کا ذکر کرتے ہوئے جلال لکھنوی کی داستان کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ :

’’اسی ایڈیشن کے صفحہ 19 پر محمد سلیم الرحمن نے اس داستان کی طباعت اول کے سر ورق پر نقل چھاپی ہے۔ ا س سے اس کی تاریخ اشاعت 1887 معلوم ہوتی ہے۔ شیخ تصدق حسین کی بالا باختر اول بار 1899 میں چھپی۔ محمد سلیم الرحمن نے لکھا ہے کہ اس داستان کو ایک جلد میں انبا پرساد رسا نے ، اور تین جلدوں میں ضامن علی جلال نے بھی لکھا ہے۔ یہ ہنوز غیر مطبوعہ ہیں۔ 6

اس اقتباس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جلال لکھنوی اور شیخ تصدق حسین کی داستان(بالاباختردفتر سوم داستان امیر حمزہ صاحب قران)ایک ہی فارسی داستان کا دو اردو ترجمہ ہیں اور جب ہم شیخ تصدق حسین کی داستان کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ دونوں داستانیں ایک ہی داستان گو نے کہی ہے۔ جلال لکھنوی نے تو اس بارے میں کچھ بھی نہیںلکھا ہے لیکن شیخ تصدق حسین نے اس داستان سے متعلق بعض باتوں کی تفصیل بیان کر دی ہے۔ان کے مطابق یہ داستان اکبر بادشاہ کے زمانے میں لکھی گئی تھی۔ مشہور داستان گو فیضی نے اسے فارسی قالب میں ڈھالا تھا۔ شیخ تصدق حسین نے بالاباختر کا اردو ترجمہ (مطبوعہ)صرف ایک جلد میں کیاہے جب کہ جلال لکھنوی کا اردو ترجمہ (غیر مطبوعہ) تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ بالاباختر (شیخ تصدق حسین) کے ابتدائی صفحات پر مطبع کی طرف سے( منشی نولکشور کانپور) داستان بالاباخترکے بارے میں یہ لکھا ہے :

’’تمام زمانہ پر واضح ہے کہ داستان امیر حمزہ صاحب قران وہ وادی ناپیدا کنار ہے جس کی بالا دوی میں پیک خیال بھی معترف بہ عجز و قصور ہے جن حضرات شائقین نے ان داستانوں کو سنایا ملاحظہ فرمایا ہے وہ کما حقہ واقف و آگاہ ہیں کہ یہ داستانیں برسوں میں بھی تمام نہیں ہوتیں الحق کہ ان کے اصول فارسی کے مصنف ہمہ دان شیخ ابوالفیض فیضی نے جو ان داستانوں کو واسطے تفریح طبع جلال الدین محمد اکبر بادشاہ کے اس قدر وسیع البیانی اور نازک خیالی کے ساتھ تصنیف فرمایا کس قدر جانکاہی کی ہوگی۔اس داستان کے آٹھ دفتر ہیں اور بعض دفتر کئی جلدوں پر مشتمل ہیں حسب ذیل ہیں۔

اول:نوشیرواں نامہ:2 جلد

دوم:کوچک باختر:1جلد

سوم: بالاباختر:1جلد

چہارم:ایرج نامہ:2جلد

پنجم: طلسم ہوشربا،7 جلد

ششم:صندلی نامہ:1جلد

ہفتم: تورج نامہ:2جلد

ہشتم:لال نامہ:1جلد

...مذکورہ بالا دفتربالاباختر جو داستان کا دفتر سوم ہے اور جس کو بلبل ہزار داستان شاخسار بلاغت گل سر سبد چمنستان فصاحت ماہر خوش بیان کامل شیرین زبان تصدق حسین صاحب داستان گو نے حسب تحریک شیخ حامد حسین صاحب از جانب مطبع نولکشور بڑی محنت و مشقت سے بزبان اردو نہایت فصیح و بلیغ ترجمہ فرمایا)۔‘‘7

شیخ تصدق حسین کو سن شعور سے ہی داستان گوئی کا شوق تھا۔ داستان بالا باختر نے اس شوق کو مہمیز کرنے کا کام کیا۔ وہ داستان کے مقدمے میں سبب تالیف کے سلسلے میں رقم طراز ہیں :

’’شیخ تصدق حسین داستا ن گو خدمت ناظرین باتمکین میں بصد ادب ملتمس ہے کہ اس حقیر پر تقصیر کو ابتدائے سن شعور سے داستان گوئی کا شوق تھا اور ماہرین اس فن کی خدمت گذاری میں بسر کرتا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگر چہ کم مایگی اور عدم لیاقت علمی سد راہ شہرت وترقی تھی تاہم امرا ورئوسادیگر صنادید شہر نے اپنی عالی ہمتی اور حقیر نوازی سے اس کج مج زبان کے بیا ن کو پسند فرمایا اور بمو جب المرء یقیس علیٰ نفسہ اچھے لوگ بھی اس روالخلائق کو اچھا سمجھنے لگے۔ ...امیر با اقبال رئیس با جاہ و جلال شریف و شریف پرور قدردان اہل علم و ہنر زیب و سادہ بہت و برتری مسند نشین بزم حشمت و بہتری عالی جناب معلیٰ القاب جناب منشی نولکشور صاحب سی آئی ای منشی شیخ حامد حسین کے یہ حکم صادر فرمایاکہ داستان امیر حمزہ صاحب قران کے کل دفاتر کا بزبان اردو بہ عبارت سلیس و مضامین نفیس از طرف مطبع بہ خاکسار کرے۔ چونکہ یہ داستان ایسی ضخیم ہے جس کے ہر دفتر کی ہر ایک جلد روکش بحر زخار ہے اور ان کے اصول بزبان فارسی مصنفہ ماہر ہمہ دان شیخ ابوالفیض فیضی ہیں جنھوں نے براے تفریح طبع جلال الدین محمد اکبر بادشاہ ہند کے اس داستان عظیم الشان کو نہایت وسیع البیانی اور نازک خیالی کے ساتھ تصنیف کیا تھا اس کمترین کو جرأت نہ ہوتی تھی کہ اتنے بڑے امر بزرگ کی خدمت کا بار انصرام اپنے ذمہ لے لوں، مگر اصرار محب موصوف اور ارشاد آقاے نامدار ممدوح سے بفحواے المامور معذور چار و نا چار خدمت ترجمہ کو منظور کیا اور الحمد اللہ کہ باقبال خدا وند نعمت محتشم الیہ باحسن وجوہ دفتر ہائے مفصلہ ذیل کا ترجمہ اس ذرہ بے مقدرا کے سعی سے انجام پذیر ہوا۔‘‘8

 داستان سے دلچسپی اور شوق جلال کو ورثے میں ملا تھا جلال نے اردو ترجمے کے سلسلے میں داستان کی ابتدا میںہی لکھا ہے جسے اس داستان کا دیباچہ بھی تصور کیا جاسکتا ہے۔جو مختصر ہونے کے ساتھ ساتھ جامع بھی ہے ملاحظہ کریں:

’’خوشہ چیں ارباب کمال سید ضامن علی تخلص بہ جلا ل کی جب ایرج نامہ کی اردو کرنے سے فرصت ہوئی سرکار فیض سے دفتر سویم یعنی کتاب بالا باختر رنگنے کے واسطے عنایت ہوئی۔اگرچہ یہ ہیچ مداں کج مج زبان لیاقت نثر طرازی اور قابلیت انشاپردازی نہ رکھتا تھا مگر تعمیل حکم سے چارا نہ ہوا۔ناگزیر خامہ رنگین بیان کو ہاتھ میں اٹھا لیا اور کچھ عبارت بے رنگ لکھنا شروع کیا۔‘‘9

داستان بالاباختر میں جلال لکھنوی نے جابجا اپنی رباعیات اور اشعار کو شامل کر دیا ہے جس سے اس داستان کی اہمیت میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔ داستان کی ابتدا اس طرح سے ہوتی ہے    ؎

ساقی مے لالہ رنگ سے بھر  ساغر

نہ خالی ہوں سبو پلا برابر ساغر

دل کو ہوس شراب اس دور میں ہے

یہ شیشہ پکارتا ہے ساغر ساغر

’’نازکی بخش بوستان مضامین کہن چلے، بند شاہدان کو آئین سخن مشام سخنوران کو ترو تازہ اور بزم سامعان کو سرمایہ اندوز رونق بھی اندازہ کرتی ہیں کہ جس وقت شمع کا شانہ شان و شوکت نور دیدہ شجاعت و بسالت نو نہال گلشن کامران چراغ دود مان صاحب قرانی ملک قاسم امیر کشور کیرسے آزردہ ہوکر یکہ و تنہا وقت شب لشکر سے مل کر ایک طرف کو روانہ ہوا ، اثنای راہی سیارہ بن عمر کے ہاتھ رقعہ اس مضمون کا شاہزادہ بدیع الزماں کو بھیجا کہ میں عازم در بند جالندریہ جارہا ہوں اگر تجھے کچھ دعوی شجاعت ہے مدعی جرأت ہے توآ میرے تعاقب میں،عالم تنہائی میں خوب مقابلہ ہوگاوہیں میرے اور تیرے جھگڑے کا فیصلہ ہوگاجو غالب ہو وہ دنگل رستم کا امیر طالب ہو، سیارہ بن عمر نے وہ رقعہ لے کر خیمہ گاہ بدیع الزماں کا راستہ لیا۔ دوسرے دن جاکر دیا بدیع نے اس اس رقعہ کو پڑھا۔ ... غیظ و غضب بڑھا اسی وقت یہ بھی لشکر سے نکل کھڑا ہوا اور مرکب صبا رفتار پر سوار ہوکر تعاقب میں قاسم کی چل کھڑا ہوا ...سینی شاہزادہ خاور سپاہ ملک قاسم کا کہ دوپہر رات تک برابر اس نے رہزنی کی تا صبح مرکب اڑائے ہوئے چلا آیا یہاں تک کہ سامنے دربند جالندریہ کو پایا یہ پہلا در بند ہے ان سات دربندوں میں سے جو علاقہ تک سائل سے رکھتی ہیں ان شاء اللہ العزیز۔‘‘10

 جلال لکھنوی نے پہلی جلد میں یہ اہتما م کیا ہے کہ جیسے جیسے واقعات قلمبند کرتے گئے ہیںویسے ہی ان واقعات کو لال روشنائی سے شروع کرتے ہیں اور یہ سلسلہ صرف اور صرف پہلی جلد تک ہی محدود ہے۔ بقیہ کی دونوں جلدوںمیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

اب یہاں شیخ تصدق حسین کی داستان کا آغاز پیش کیا جارہا ہے۔ تاکہ یہ آسانی سے ذہن نشین ہوجائے کہ دونوں داستانیں ایک ہی فارسی داستان کا اردو ترجمہ ہیں۔ انھوں نے اس داستان کا آغاز حمد،نعت اور منقبت حضرت ابو طالب سے کیا ہے۔جب کہ جلال لکھنوی نے اپنی داستان کاآغاز رباعی سے کیا ہے۔داستان بالا باختر(شیخ تصدق حسین )سے اقتباس ملاحظہ کریں:

’’جب شہزادہ خاور سپاہ قاسم ذی جاہ اپنے غصہ کو ضبط نہ کرسکے لحاظ وپاس امیر باتوقیر سے ظاہراً  تو کچھ نہ کہا مگر لشکر سے تنہا نکل گئے۔ جاتے وقت انھوں نے عیار سیارہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ تو جاکر شاہزادہ بدیع الزماں سے میری طرف سے کہہ دینا کہ میںطرف در بند جالندریہ کے جاتا ہوںاگر کچھ آپ کو دعویٰ مردی و مردانگی کا ہو تو اسی مقام پر تشریف لائیے۔ اور دنگل رستم کا فیصلہ کر لیجیے۔ قاسم یہ پیغام دے کرسمت دربند جالندریہ کو روانہ ہوئے ادھر سیارہ عیار نے پیغام ملک قاسم کا شہزادہ دیع الزماں کو پہنچایا۔ حال روانگی بدیع الزماں کا پھر عرض کیا جائے گا۔ اب حال شہزادہ قاسم کا سنیے کہ انھوں نے گھوڑے پر سوار ہوتے ہی سیدھی راہ دربند جالندریہ کی لی۔ اور گھوڑا سرپٹ دوڑاتے ہوئے سیکڑوں کوس نکل گئے۔ جاتے جاتے قریب شام متصل ایک باغ کے پہنچے ، چونکہ خستہ بہت ہوگئے تھے، چاہا کہ آج شب کو اس باغ میں آرام لوں، صبح پھر روانہ ہوں گا، اس ارادہ پر دروازہ باغ کا تلاش کرنے لگے۔ مگر چہار جانب ڈھونڈھادر باغ کا کہیں پتا نہ پایا۔ آخر امر مجبور و ناچار ہوکر گھوڑ ے کو ایڑ لگائی۔ گھوڑا طرارہ بھر کے دیوار باغ کو پھاند گیااور قاسم اندر باغ کے پہنچے۔جاتے ہی باغ میں ایسی ہوائے سرود خنک آئی کہ ان کا دل باغ باغ ہوگیا اور  ماندگی سفر بھول گئے۔‘‘11

ان دونوںاردو ترجموں میںزبان و بیان کا فرق ہمیں صاف طور پر دکھائی دیتا ہے۔ جہاں ایک طرف جلال لکھنوی نے مشکل اور دقیق الفاظ و محاورات کا استعمال کیا ہے تو وہیں شیخ تصدق حسین نے صاف، سادہ اور سلیس زبان کا استعمال کر کے داستان کومزید دلکش بنا دیا ہے۔ اور اس طرح نہ صرف داستان میں دلچسپی برقرار رہتی ہے بلکہ قاری نثر کی روانی میں بہتا چلا جاتا ہے۔اسے اکتاہٹ کا احساس نہیں ہوتا۔

داستان بالا باخترکے اہم کرداروں میںسیارہ بن عمر، شاہزادہ بدیع الزماں، سینی ،شاہزادہ خاور سپاہ، ملک قاسم، امی سعید،بختیارک،مالک اڑدر،ماہ لقا،ملکہ شمہ خونریز، قوت شاہ، ملکہ گیتی افروز(لقاے بے بقا کی بیٹی)، مہروند عیار، حمزہ ایلچی،دل فگار، زمرد شاہ، باختر، عمر، اسد، امیر بلا خان، خواجہ جادوگر، نمبیرہ حمزہ، مریخ جادوگر وغیرہ ہیں۔ اس داستان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں کئی ملکوں کی نشاندہی کی گئی ہے اس میں ملک اصفہان، چین، ترکستان، ملک صفوانیہ،ملک جالندریہ، ملک بر بر اورشہر زبیدہ وغیرہ کا ذکر آیا ہے۔

شیخ تصدق حسین کے ترجمے کی متعدد خوبیاں ہیں۔ انھوں نے اردو کے انداز واسلوب کو پیش نظر رکھا ہے۔ تاکہ نثر کا حسن اور داستان کی جمالیات کو بہتر طور پر اردو کے قالب میں منتقل کیا جاسکے۔یہی وجہ ہے کہ ایک عبار ت کا ترجمہ کرتے وقت شیخ تصدق حسین جلال پر فوقیت لے جاتے ہیں۔ تقابلی مطالعہ پیش نظر نہیں ہے مگر بطور تعارف یہ باتیں بھی پیش نظر رہنی چاہیے۔

دونو ں ترجموں کو سامنے رکھ کر کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں زبان و بیان کا نمایاں فرق نظر آئے گا۔ جلال کی زبان مقفیٰ و مسجع ہے جب کہ شیخ تصدق حسین کی زبان میں سلاست وروانی ہے۔ایسی صورت میں داستان کو پڑھنے کا ایک الگ لطف ملتا ہے۔ جلال نے زبان وبیان کے خارجی پہلوئوں کو اختیار کیا ہے جسے عرف عام میں لکھنوی انداز کہا جاسکتا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے ترجمہ کرتے وقت زبان و وبیان پر اس طرح توجہ نہیں دی جیسا کہ شیخ تصدق حسین نے دی۔ جلال لکھنوی نے فارسی لفظیات کو برتنے سے گریز نہیں کیا ہے۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شیخ تصدق حسین کے ترجمے کو پڑھ کر اکتاہٹ کا احساس نہیں ہوتا ہے جب کہ جلال کے ترجمے میں یہ خوبی کم پائی جاتی ہے۔جلال کو شعری اظہار میں جو مرتبہ حاصل ہے وہ نثر میں نہیں ہے۔ اس داستان کا مطالعہ کرنے والوں کا یہ ایک عمومی احساس ہے۔ سہیل بخاری نے لکھا ہے کہ:

’’مصنف اگر چہ زبان اردو کے ماہر اور اعلیٰ پایہ کے شاعر ہیں، لیکن ان کی نثر کو ان کی شاعری سے کوئی نسبت نہیں ہے، عبارت پر فارسی کے ترجمہ کو اثر صاف نمایاں ہے۔ او ر اگرچہ روز مرے اور محاورے پر ان کی خاص توجہ ہے پھر بھی بیان میں کوئی دل کشی نہیں ہے۔ فارسی کی ترکیبوں کے علاوہ لفظوں اور فقروں کی ترتیب بھی فارسی ہی کی ہے۔ اور جہاں فارسیت سے ہٹ کر عبارت میں روانی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اسلوب کا توازن قائم نہیں رہ سکا ہے۔12

مجموعی طور پرجلال لکھنوی کی ادبی خدمات کا دائرہ وسیع ہے۔ایک اہم شاعر کے طور پر ان کی حیثیت مسلم ہے۔ جیسا کی پہلے ہی عرض کیا گیا ہے کہ شاعری کے ساتھ خصوصاً زبان و لغت پر ان کی گہری نگاہ تھی۔یہ بات داستان کے ترجمے سے واضح ہوجاتی ہے کہ جلال کو اپنے قدیم سرمایے سے بھرپور واقفیت تھی۔

حوالے

1        رسالہ نگار،راز یزدانی،ص،15،مارچ1953

2        جلال لکھنوی: سوانح حیات ، کلام پر تنقید مع انتخاب کلام، پروفیسر محمد حسن،ص159

3        اردو داستان تحقیقی و تنقیدی مطالعہ، ڈاکٹر سہیل احمد بخاری، ص278

4        اردو کی نثری داستانیں ،گیان چند جین،ص698

5        اردو کی نثری داستانیں:گیان چند جین،ص،697-98

6        ساحری، شاہی، صاحب قرانی داستان امیر حمزہ کا مطالعہ جلد اول:نظری مباحث ،شمس الرحمن فاروقی،ص445

7        بالا باختر ،منشی نولکشور،ص1

8        بالاباختر ،شیخ تصدق حسین،ص1

9        داستان بالاباختر ، جلد اول،جلال لکھنوی،ص 1،2

10      ایضاً،ص2۔3

11      بالاباختر،شیخ تصدق حسین،ص4

12      اردو داستان تحقیقی و تنقیدی مطالعہ،ڈاکٹر سہیل بخاری، ص279

 

Mohd Saeed Akhtar

613/P-18(kha-514)Near Zainab Masjid Millat Nagar Dhal Faizullah Ganj

Lucknow- 226020 (UP)

mohdsaeedakhtarr@gmail.com

 

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...