21/4/25

مسئلہ تذکیر و تانیث اور مطالعہ جلال، مضمون نگار: شاہ نواز فیاض

 اردو دنیا، فروری 2025

 

تذکیر وتانیث کا اختلافی مسئلہ اردو زبان میں بہت پہلے سے ہے، اس حوالے سے اکابرین و ماہرین کے نظریات اور مطالعے سامنے آتے رہے، اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اردو املا، حروف تہجی اور تذکیر وتانیث کا مسئلہ ہمیشہ ہی سے مختلف فیہ رہا ہے، لیکن زبان کا معیاری نمونہ شعر وادب ہے، اس حوالے سے جب کلاسیکی متن کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو یہ مسئلہ وہاں بھی درپیش نظر آتاہے۔ اس اختلافی مسئلے میں لوگوں نے اپنی رائے ضرور پیش کی ہے، لیکن مکمل طور پر ایک رائے نہیں بن سکی۔ جلال لکھنوی نے ’مفید الشعرا‘ میں اس کے متعلق لکھتے ہوئے دبستان لکھنؤ اور دبستان دہلی دونوں کو پیش نظر رکھا، لیکن ترجیح دبستان لکھنؤ کو دی۔

جلال لکھنوی نے اپنے اس رسالے (مفید الشعرا) کی اشاعت ثانی کے لیے اہم ترمیم واضافے کیے۔ اس سلسلے میں انھوں نے خود لکھاہے:

’’...اس ہیچمداں کی تالیفات سے جو پہلے رسالہ کارآمد شعرا بحث وتذکیر وتانیث میں 1293 میں طبع ہوا تھا وہ ناقص وناتمام اور نہایت غلط چھپا تھا۔‘‘

(مفید الشعرا، ص 2)

اس رسالے میں جلال لکھنوی نے اسمائے غیر ذوی العقول کی تذکیر وتانیث کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ اسمائے ذوی العقول اس بحث سے اس لیے خارج ہیں کہ ذوی العقول جو مذکر ہے اس کا اسم ہر حال میں مذکر ہی آئے گا اور جو مونث ہے اس کا اسم لازماً مونث ہو گا۔ اس سلسلے میں اہم مسئلہ غیر ذوی العقول کا ہے۔ جلال نے اسی حوالے سے گفتگو کی ہے، لیکن کہیں کہیں ذوی العقول کے متعلق بھی بات کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے خود لکھا ہے:

’’...الا غیر ذوی العقول کے اسما کے کہ وہ البتہ حاجت تذکیر وتانیث کے بیان کی رکھتے ہیں کہ مذکر یا مونث حقیقی نہیں۔ بلکہ مجازی یعنی فرضی ہیں۔ پس اسمائے غیر ذوی العقول کی تذکیر وتانیث کی بحث بتاتمہ کی گئی ہے۔ ‘‘ (مفید الشعرا،ص4)

جلال لکھنوی نے اس بات کا بھی اہتمام کیا ہے کہ جن لفظوں میں اہل زبان تذکیر وتانیث کے معاملے میں متفق ہیں، اس کو محض بیان کردیا ہے، اس کی مثال نہیں دی ہے، جب کہ جن لفظوں میں اہل زبان تذکیر وتانیث کے معاملے میں متفق نہیں ہیں، اس کو مع مثال پیش کیا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ جلال نے مثال پیش کرتے ہوئے معتبر شعرا کے کلام اور لکھنؤ کے زبان دانان کی مثال دی ہے، جب کہ دوسرے اسکول(دبستان دہلی)کو یا تو نظر انداز کیا ہے یا فوقیت نہیں دی ہے۔ اس سلسلے میں جلال نے دبستان لکھنؤ کو ترجیح دی ہے ، جب کہ زبان کا مسئلہ یکساں ہونا چاہیے، ایسے میں اہل لکھنؤ اور دہلی میں جو اختلاف کی صورت در آئی ہے، اسے اپنے اپنے طور پر صحیح تصور کیا جائے گا۔ جلال نے لکھاہے:

’’جن الفاظ کی تذکیر خواہ تانیث میں فصحا کا اتفاق ہے ان کو بے اسناد ونظائر لکھا ہے اور جن میں اختلاف ہے۔ یعنی جو الفاظ بعض فصحا کے نزدیک مذکر ہیں اور بعضوں کے عندیہ میں مونث ہیں۔ یا اس اعتبار سے مختلف فیہ ہیںکہ ایک معنی پر اپنے مذکر بولے جاتے ہیں  اور دوسرے معنی پر مونث آتے ہیں یا جن کی تذکیر وتانیث میں ابہام ہے وہ بیشتر ساتھ اسناد ونظائر کے لکھے گئے ہیں اور اسناد ونظائر کے اشعار کلامِ اساتذہ معتبر وشعرائے نامور اور اردو زبان دانانِ لکھنؤ سے اخذ کرکے درج کیے گئے ہیں۔‘‘ (مفید الشعرا،ص4)

جلال لکھنوی کے خیال میں زبان کے جتنے نام ہیں سب مونث ہیں۔ اس کی وجہ بھی بالکل واضح ہے۔ لیکن جلال نے اردو کو مذکر لکھا ہے۔ جب کہ اردو اپنے استعما ل کے اعتبار سے تذکیر وتانیث میںبدلتی رہتی ہے۔ اردو اگر اسم نکرہ استعمال ہے تو مذکر اور اسم معرفہ تو مونث۔ اس سلسلے میں جلال نے کوئی مثال نہیں پیش کی ہے، جبکہ یہ بالکل واضح ہے کہ اردو کی تذکیر وتانیث اسم نکرہ اور معرفہ کے ساتھ مختلف ہے۔جلال لفظ اردو کی تذکیر کے قائل ہیں۔ اس سلسلے میں لکھتے ہیں:

’’ زبان کے جتنے نام ہیں مانند عربی، یونانی، عبرانی، رومی، ترکی، فارسی، انگریزی، ہندی، بھاکا، پشتو، سنسکرت وغیرہ سب مونث بولے جاتے ہیں۔ سوا اردو کے کہ یہ مولف ہیچمداں کے عندیہ میں مذکر ہے۔‘‘

(مفیدالشعرا،ص6)

اردو کے متعلق نوراللغات میں مذکر و مونث دونوں لکھا ہے، لیکن مصحفی کے جس شعر کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے، اس میں لفظ اردو مونث استعمال ہے۔شعر ملاحظہ فرمائیں         ؎

خدا رکھے زباں ہم نے سنی ہے میر ومرزا کی

کہیں کس منہ سے ہم اے مصحفی اردو ہماری ہے

اس تعلق سے داغ کا شعر بھی ملاحظہ کیجیے جس سے اردو کی تانیث ہی مستفاد ہوتی ہے    ؎

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

اس سلسلے میں ماہر لسانیات پنڈت دتاتریہ کیفی کے بھی دوشعر ملاحظہ کیجیے       ؎

اردو بنی ہے مسلم وہندو کے میل سے

دونوں نے صرف اس پہ دماغ اور دل کیے

——

اردو ہے جس کا نام ہماری زبان ہے

دنیا کی ہر زبان سے پیاری زبان ہے

مذکورہ اشعار پر غور کریں توواضح ہوتا ہے کہ تمام اشعار میں ’اردو‘ کا لفظ بطور اسم زبان استعمال کیا گیا ہے اور بقول جلال زبان کے جتنے نام ہیں سب مونث بولے جاتے ہیں کے عین مطابق ہے۔ البتہ جلال نے جو یہ کہا کہ ’’سوا اردو کے کہ یہ مولف ہیچمداں کے عندیہ میں مذکر ہے‘‘ کی کچھ وضاحت نہیں ہوتی۔ یعنی یہاں یہ واضح نہیں ہوتا کہ جلال کے نزدیک ’اردو‘ بطور اسم زبان مذکر ہے یا اپنی اصل کے اعتبار سے۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ بطور اسم زبان ’اردو‘ کا استعمال بہت بعد میں شروع ہوا۔ اس سے پہلے یہ لفظ شہر، دارالحکومت، قصر، قلعہ اور خیمے کے معنوں میں رائج تھا اور ان تمام معنوں میں اردو کا استعمال مذکر ہی ہے۔ بہر حال جلال کا عندیہ غیر واضح ہے۔ جلال نے محض مذکرکہا ہے، جبکہ دونوں صورتوں کی وضاحت ضروری تھی ۔ دلی ہو یا لکھنؤ دونوں جگہ کے شعرا نے اردو کو بطور اسم زبان مونث ہی استعمال کیا ہے۔ لہٰذا اگر یہ واضح بھی ہوجائے کہ جلال کے نزدیک لفظ اردو بطور اسم زبان مذکر ہے تو اسے جلال کا تفرد سمجھ کر نظر انداز کردیا جائے گا۔ لہٰذا اس لفظ کے تعلق سے ہماری زبان میں تذکیر و تانیث کا کوئی حقیقی اختلاف نہیں رہ جاتا۔

چونکہ زبان کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہوتا ہے، اردو میں یہ مسئلہ کئی صورتوں میںہے مثلاً حروف تہجی اور رسم الخط وغیرہ۔ ایسے میں مسئلۂ تذکیر وتانیث بھی بہت الجھا ہوا نظر آتا ہے۔ کیونکہ بعض الفاظ ایسے ہیں جو دبستان دہلی میں مذکر تو دبستان لکھنؤ میں مونث بولے جاتے ہیںاور دونوں درست ہیں۔ جلال نے اس مسئلے کو بہت خوبی سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

جلال لفظ املا کی تذکیر کے قائل ہیں، لیکن اسے مختلف فیہ بھی قرار دیتے ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ لکھنؤ کے استاد شاعر میر رشک نے املا کو مونث استعمال کیا ہے۔رشک کا شعر ملاحظہ کیجیے         ؎

نامۂ جاناں ہے کیا لکھا مری تقدیر کا

خط کی انشا اور ہے لکھنے کی املا اور

مندرجہ بالا شعر سے املا کی تانیث مستفاد ہوتی ہے۔ اب ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جس لفظ کو جلال لکھنوی مذکر کہہ رہے ہیں، اسے دبستان لکھنؤ کی شاعری کو بام عروج عطا کرنے والے میر علی اوسط رشک مونث استعمال کررہے ہیں۔ رشک کا شعر اس سلسلے میں اوپر نقل کیا گیا ہے۔ نوراللغات میں ’املا‘ کو مذکر لکھا ہے۔ترجیح بھی تذکیر کو ہی دی گئی ہے۔ مولف نور اللغات نے بھی تانیث کے لیے رشک کا وہی شعر نقل کیا ہے جو اوپر درج کیا گیا ہے، لیکن تسلیم کا یہ شعر بھی نقل کیا گیا ہے، جس میں لفظ املا کا استعمال مذکر ہے۔ شعر ملاحظہ فرمائیں        ؎

عالم وحشت میں جب لکھا کوئی خطِ فراق

ربط بگڑا میری انشا کا غلط املا ہوا

صاحب فرہنگ آصفیہ نے املا کے تعلق سے کسی اختلاف کا ذکر نہیں کیا اور اسے اسم مذکر قرار دیا ہے۔ جلال لکھنوی نے ایسے الفاظ کو مونث قرار دیا ہے جن کے آخر میں الف آئے بہ استثنائے چند الفاظ۔ معلوم ہوتا ہے کہ رشک اس سلسلے میں کسی استثنا کے قائل نہیں تھے اور انھوں نے روزمرۂ اہل زبان کے خلاف جاکر اصولی طور پر ’املا‘ کو مونث نظم کیا ہے۔ چونکہ رشک نہ صرف ایک استاد شاعر ،بلکہ ماہر زبان اور فصحائے زبان میں سے بھی تھے، اس لیے جلال نے ان کے تفرد کی بنا پر پاس ادب کے خیال سے اس لفظ کو مختلف فیہ قرار دیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ لفظ املا کااختلاف تذکیر وتانیث کے سلسلے میں ضرور ہے، لیکن ترجیح تذکیر کو ہی حاصل ہے، کیونکہ یہی کثیر الاستعمال ہے۔

لفظ مالا کا استعمال بھی مختلف فیہ ہے، لکھنؤ میں مالا کا استعمال عام طور پر مذکر ہے، لیکن فصحائے دہلی اس لفظ کی تانیث کے قائل ہیں۔ ناسخ کا شعر ملاحظہ فرمائیں جس میں انھوں نے مالا کو مذکر استعمال کیا ہے        ؎

تیرا مالا موتیوں کا قتل کرتا ہے مجھے

اے پری مالا سروہی کا یہ مالا ہوگیا

جلال نے تذکیر وتانیث کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جس طرح کی دلیل پیش کی ہے، وہ یقیناً اہم ہے، لیکن جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیاہے کہ فصحائے لکھنؤ کو ترجیح دی ہے۔ مالادہلی میں مونث اور لکھنؤ میں مذکر استعمال ہے۔ لفظ مالا دونوں اسکولوں( دہلی اور لکھنؤ) میں تذکیر وتانیث کے اختلاف کے ساتھ مستعمل ہے اور دونوں رائج بھی ہے۔

لفظ آب کو جلال نے مذکر لکھا ہے اور اسی کے قائل بھی ہیں۔ لفظ آب/آبہ فارسی اور سنسکرت دونوں زبان میں مستعمل ہے۔ اردو میں یہ لفظ فارسی سے آیا۔ یہ لفظ کثیر الاستعمال مذکر ہی ہے اور مولف نور اللغات نے بھی مذکر ہی لکھا ہے۔ دبستان لکھنؤ کے دو عظیم شاعر تذکیر وتانیث میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ناسخ نے مونث استعمال کیا ہے تو آتش نے مذکر۔ اس ضمن میں پہلے ناسخ کا شعر ملاحظہ فرمائیں         ؎

دانت تیرے دیکھتے ہی ہوگیا ناسخ شہید

ہائے کیا ان موتیوں میں آب ہے شمشیر کی

اس ضمن میں آتش کا شعر دیکھیں جس میں لفظ آب کا استعمال مذکر کیا ہے      ؎

آتش نشہ ہی میں یا الٰہی میکشوں کو موت دے

کیا گُہر کی قدر جب آبِ گہر جاتا رہا

فصحائے لکھنؤ میں بھی اس لفظ کے متعلق اختلاف ہے، لیکن جلال کا خیال ہے کہ لفظ آب جہاں پانی کے معنی پر مستفاد ہے وہ مذکر بولا جائے گا اور جہاں آبداری یا مرادف تاب ہے وہ مونث استعمال ہوگا۔ اب مذکورہ دونوں شعر پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ناسخ نے آب بمعنی چمک استعمال کیا ہے اسی لیے ناسخ کے شعر میںلفظ آب مونث ہے، جبکہ آتش نے آب بمعنی پانی استعمال کیا ہے، اسی لیے آتش کے شعر میں آب مذکر استعمال ہوا ہے۔ اس سلسلے میں میر کے اشعار ملاحظہ فرمائیں، جہاں آب بمعنی پانی استعمال ہے وہاں مذکر اور جہاں آبداری کے معنی میں ہے، وہاں مونث۔

دل لے گیا تھا زیر زمیں میں بھرا ہوا

آتا ہے ہر مسام سے میرے کفن میں آب

——

مت ڈھلک مژگاں سے اب تو اے سر شک آبدار

مفت میں جاتی رہے گی تیری موتی کی سی آب

ان مثالوں سے یہ واضح ہوا کہ آب بمعنی پانی مذکر اور بمعنی آبداری یا تاب مونث استعمال ہے۔ جلال نے اپنا عندیہ جو پیش کیا ہے، وہ اس اعتبار سے کافی اہم ہے کہ انھوں نے لفظوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ معنی کے حوالے سے بھی گفتگو کی ہے۔

مفید الشعراجلال لکھنوی کا ایک بڑاکام ہے، جسے انھوں نے بڑی دقت نظر سے کیا ہے۔ اس کے مطالعے سے جلال کی زبان دانی کا اندازہ ہوتا ہے۔اس رسالے کے حوالے سے کئی مضامین منظرعام پر آئے، جن میں ایک مضمون عبدالباری آسی کا بھی ہے۔ مفید الشعرا کے بارے میں انھوں نے لکھا ہے:

’’کسی مختلف فیہ لفظ کے لیے اس کی تذکیر وتانیث کا فیصلہ کرنا اور یہ بھی نہ بتانا کہ لکھنؤ میں یوں ہے، اور دہلی میں یوں، یا دونوں جگہ ایسا ہی ہے، یا ایک جگہ مختلف فیہ ہے، ایک جگہ نہیں، سواے اس کے کہ دیکھنے والوں کو غلطیوں اور گمراہیوں کا سبق دیا جائے اور کیا ہے۔ مولف دہلی کی زبان کے ماہر نہ تھے تو یہی کہہ دیتے کہ یہ صرف لکھنؤ کی زبان ہے، تو ایک حد تک ان کی ذمہ داری کم ہوجاتی۔‘‘  (عبد الباری آسی، ص53)

عبدالباری آسی اس مضمون کی ابتدا میں مفید الشعرا کی اہمیت سے انکار بھی نہیں کر رہے ہیں۔ وہ خود لکھتے ہیں:

’’بہر حال یہ رسالہ سنہ1301ھ میں پہلی مرتبہ چھپا۔ اور چونکہ دوسرے رسالے اس وقت نہ ملتے تھے، اہل ضرورت نے اس کو غنیمت سمجھ کر اسی سے کام لینا شروع کیا۔‘‘  (ایضاً،ص51)

عبد الباری آسی کے مذکورہ اقتباس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اس کتاب کا اس طرح سے مطالعہ ہی نہیں کیا یا جان بوجھ کر قارئین کو گمراہ کیا۔ اس کا اعتراف تو وہ کرتے ہیں کہ اس حوالے سے دوسری کوئی کتاب نہیں ملتی تھی، گویا کہ اس حوالے سے جلال کا یہ ابتدائی کام تھا، جلال کی یہ ابتدائی کوشش دراصل ایک بڑے کام کا پیش خیمہ تھی۔ جلال نے بالکل واضح طور پر بیان کردیا ہے کہ وہ الفاظ جن میں اختلاف نہیں ہے، اسے محض بیان کردیا گیا ہے، لیکن جس میں اختلاف ہے، اس کی مثالیں پیش کی گئی ہیں اور دہلی میں اس لفظ کو مذکر یا مونث استعمال کرتے ہیں اس کی بھی وضاحت پیش کی گئی ہے۔ جلال نے صاف لکھا ہے کہ فصحائے لکھنؤ کو ترجیح دی گئی ہے۔ ایسے میں آسی نے جو باتیں لکھی ہیں وہ بربنائے حقیقت نہیں ۔

 جلال لکھنوی کے اس کارنامے کا اختلاف کے باوجود سب نے اعتراف کیا ،اس ضمن میں مخالفین اور موافقین کی قید نہیں۔اس رسالے کے بعض مندرجات سے اختلاف کیا گیا، لیکن اس کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا گیا۔جلال نے جو مثالیں پیش کی ہیں وہ اس لیے قابل غور ہیں کہ انھوں نے تذکیر وتانیث میں لفظ کے استعمال اور معنی پر زور دیا، جیسے لفظ آب بمعنی پانی مذکر لیکن یہی آب جب کسی اور معنی میں استعمال ہوا تو مونث۔ اس لفظ پر اس زمانے کے کئی اہم استاد نے اپنی رائے ظاہر کی تھی، جس میں امیر مینائی بطور خاص ہیں۔ جلال کے اس کارنامے پر تب بھی لکھا گیا اور اب بھی لکھا جارہا ہے۔ اختلاف کے باوجود جلال کی اس کاوش کی ہمیشہ پذیرائی ہوئی۔ تذکیر وتانیث کا مسئلہ ابتداسے ہے اور اب بھی ہے، لیکن ہمارے کلاسیکی شعرا نے جو استعمال کیا ہے، وہ ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ 

 

Dr. Shahnewaz Faiyaz

Department of Urdu

Jamia Millia Islamia

New Deli- 110025

Mob.: 9891438766

sanjujmi@gmail.com

 

بو علی شاہ قلندر کی فارسی شاعری، مضمون نگار: امیر عباس

 اردو دنیا، فروری 2025


سید شرف الدین بوعلی شاہ قلندر کے والد سید سالار فخرالدین عراقی، شاہ نعمت اللہ ہمدانی کے مرید تھے، جو 600ھ یعنی1203 عیسوی میں عراق سے ہندوستان تشریف لائے اوریہیں604ھ میں صوبہ ہریانہ کے شہر پانی پت میں بو علی شاہ قلندر پیدا ہوئے۔ قتال قطب ابدال، عاشق الٰہی رومی ثانی اور بخشی ہند آپ کے القاب ہیں۔ آپ کی والدہ بی بی حافظہ جمال سیدالسادات شاہ نعمت اللہ ہمدانی کی ہمشیرہ تھیں۔ فارسی آپ کی مادری زبان تھی۔ آپ والد کی طرف سے حسنی سید ہیں،سلسلہ نسب چند واسطوں سے امام حسن مجتبیٰ بن علی سے ملتا ہے۔

قلندر صاحب ایک روایت کے مطابق قطب جمال مجرد ہانسوی کے خالہ زاد بھائی اور مرید تھے۔ قلندر اوائل عمر میں مروجہ علوم مولانا سراج الدین مکی سے حاصل کرکے چالیس سال تک پانی پت میں علم فقہ و حدیث کا درس دیتے رہے۔ مزید تعلیم کے لیے دار الحکومت دہلی کا رخ کیا اور مدرسہ بام بہشت میں وقت کے جید علما کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیا اور تقریبا بیس سال تک مسجد قو ت الاسلام میں مفتی کے فرائض انجام دیتے رہے۔ اس و قت دہلی اہل علم و ادب اور سیاست کا بڑا مرکز تھا اور قلندر سے اس عہد کے سلاطین مثلا سلطان غیاث الدین بلبن، جلال الدین خلجی اور علاء الدین خلجی بڑی عقیدت و احترام سے پیش آتے تھے۔

آپ کے معاصرین مشائخ اور علما میں مولانا ضیاء الدین سنامی، خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی،  شیخ جلال الدین کبیر الاولیا، خواجہ نجم الدین قلندر، خواجہ نظام الدین اولیااور امیر خسرو قلندر سے محبت و عقیدت رکھتے تھے۔ جیسا کہ مشہور ہے امیر خسرو سلطان علاء الدین خلجی کے تحائف کے ساتھ قلندر کے یہاں حاضری دی اور ان کو اپنے اشعار سنائے تھے اور ان کا کلام بھی سنا تھا۔ خسرو نے جو غزل سنائی تھی اس کا مطلع حسب ذیل ہے    ؎

ای کہ گوئی ہیچ سختی جز فراق یار نیست

گر امید وصل باشد آ نچنان دشوار نیست

ترجمہ : ’’اے یہ کہنے والے شخص کہ کوئی مصیبت یار کے فراق جیسی نہیں ہے۔ اگر وصل کی امید ہوتو یہ اس قدر سخت بھی نہیں ہے۔

قلندر نے خسرو کی یہ غزل سن کر ان کو دادوتحسین کے کلمات سے نوازا اور پھر خود فی البدیہہ غزل پڑھی         ؎

دیہیم خسروی برما نعل استر است

خسرو کسیکہ خلعتِ تجرید دربر است

سیمرغ وار روئی نہفتم بقاف عشق

کز ہر دو کون دانہ روحم نہ درخوراست

وحدت ورای کنگرہ کبریا کشد

کو عارفی کہ منظر او عرش اکبر است

مائیم کوی عشق وخرابات بی خودی

وین رسم وسیرتیست کہ خاص قلندر است

درس شرف نبود ز الواح ابجدی

لوح جمال دوست اورا در برابر است

ترجمہ:  ’’بادشاہی تاج ہمارے نزدیک خچرکے نعل کے برابرہے۔ حقیقی بادشاہ وہ ہوتا ہے جس نے تجرید کا لباس زیب تن کیا ہو۔ میں نے سیمرغ کی طرح عشق کے کوہ قاف میں اپنے چہرے کو چھپا رکھا ہے، کیونکہ میری روح کی غذا کے لیے دونوں جہان کا خزانہ بھی مناسب نہیں ہے۔ وحدت تو سالک کو ذات کبریا کے کنگرے کے بھی اس پا ر لے جاتی ہے ایسا عارف کہاں ہے جس کے نظارے کا مقام عرش اکبر ہے۔ ہم ہیں اور عشق کا کوچہ ہے اورپھر بیخودی کا میخانہ بھی ہے۔ یہ وہ طور طریقے ہیں جو قلندر کے لیے خاص ہوتے ہیں۔  شرف کا سبق ابجد کی تختیوں کے ذریعے نہیں ہوتا، بلکہ اس کے سامنے تو محبوب حقیقی کے حسن وجمال کی تختی ہوتی ہے۔    

بو علی صر ف ایک مجذوب صوفی کامل اور قلندر کی حیثیت ہی سے معروف نہیں بلکہ ایک اچھے عالم، صاحب قلم اور عمدہ شاعر کی حیثیت سے بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ نثر میں مکتوبات بنام اختیار الدین اور حکم نامہ شرف الدین کا ذکر ملتاہے:

 بقول شاہ عبدالحق محدث د ہلوی :’’ او را مکتوب است بہ زبان عشق ومحبت مشتمل بر معارف وحقائق توحید و ترک دنیا وطلب آخرت و محبت مولی۔‘‘  (اخبار الاخیار، ص 125)

قلندر نثر سے کہیں زیادہ نظم میںجیسے نعت،  قصیدہ، غزل، رباعی اورمثنوی میں دسترس رکھتے تھے۔ وہ خود کو ایک پر گو شاعر ا ور نظامی گنجوی اورخاقانی شروانی کا مد مقابل سمجھتے تھے         ؎

شرف در عشق روی تو کلام از قدس آوردہ

نہ چون نظم نظامی وآن نہ چون اشعار خاقانی

ترجمہ : ’’ شرف تیرے چہرے کے عشق میں عالم قدس سے کلام لایااس کے شعر نہ نظامی کی نظم کی طرح ہیں نہ خاقانی کے اشعار کی طرح کسبی بلکہ وہبی ہیں۔ قلندر نے متقدمین شعرا  جیسے سلمان ساوجی اور ظہیر فاریابی کے کلام کا مطالعہ کیا تھااور ان کی تقلید پر افتخار بھی کرتے ہیں           ؎

برادریم من وساوجی زما ہریک

ہمان قدر کہ بود جامگی مناسب برد

کر دم مطابقت بہ ظہیر آنکہ گفت او

شرح غم تو لذت شادی بہ جان دہد

قلندر ہندوستان میں پیدا ہونے کے ساتھ ہندپرست بھی تھے لیکن عراقی ہونے پر فخرکرتے تھے۔ اور فرماتے تھے کہ ان کی ولایت اور شاعری کی شہرت ہندوستان کے باہر روم و خراسان میں بھی پہنچ گئی ہے     ؎

شرف بہ ہند در عارفی کشاد و فشرد

ولی بہ روم و خراسان ولایتش دانند

مراگلہ زہندوستان است ہندوی

شرف بہ ہند پرست ولیکن عراقیست

ان کے آثار میں دو مثنویاں اور ایک کلیات یادگار ہیں ۔ یہ مثنوی کنزالاسرار اور رسالہ عشقیہ کے نام سے مشہور ہیں۔ کنزالاسرار مختلف حکایات کا مجموعہ اور رسالہ عشقیہ تین سو باسٹھ اشعار پر مشتمل ہے۔ کلیات میں تقریبا سترہ سو اشعار ہیں، جس میں قصیدہ، رباعی، قطعہ اور غزل کے عمدہ نمونے ہیں۔  عشقیہ قلندر کی مشہور ترین مثنوی ہے۔  بقول شخصے: ’’ہربیتش از متاع عرفان معمور و ہر شعرش عارفان را موجب وجد وسرورـ‘‘  ترجمہ:قلندر کا ہرشعر معر فت سے پر وجدو سرور کا موجب ہے۔ 

قلندر نے مقدمین شعرا میں عطار نیشاپوری کی مثنویــ منطق الطیر کی زمین میںاور اسی بحر رمل مسدس مخذوف میںایک مکمل مثنوی ـ’گل بلبل‘ کے نام سے کہی جس کے چند شعر بطور نمونہ پیش ہیں        ؎

مرحبا  ای بلبل باغ کہن

ازگل رعنا بگو با  ما  سخن

مرحبا  ای ہد ہد فرخندہ فال

مرحبا  ای طوطی شکر مقال

ترجمہ: ’’آوآو اے !بلبل پرانے باغ کی خوشنما گل کی بات ہم سے کر،  شاباش اے ہمارے تیززبان قاصد، تو ہردم ہمارے یار کی خبر دیتا ہے ۔‘‘

قلندرکا کلام پڑھنے سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ انھوں نے اپنے عہد کے معروف شعرا جیسے سعدی شیرازی  اور مولانا بلخی کی پیروی میں اشعار کہے جیسے سعدی کی غزل          ؎

امشب سبکتر می زنند این طبل بی ہنگام را

یاوقت بیداری غلط بود است مرغ بام را

اسی زمین اور اسی بحر میں قلندر نے کہا         ؎

ساقی ما از شراب کہنہ پر کن جام را

خاک برسرکن چو بینی زاہدان خام را

عاشق بی ننگ و نامم نعرہ خوش می زنم

من نخواہم ننگ را ومن جویم نام را

ترجمہ: ’’اے! ساقی ہمارے لیے پرانی شراب کو جام میں ڈالو اور جہاں کہیں تمھیں خشک اور خام زاہد ملیں ان کے سر پر مٹی ڈالو۔ اس شعر میں شراب کہنہ سے یوم الست کے اسرار مراد ہیں۔ میں بے ننگ و نام عاشق ہوں اور خوشی کا نعرہ ماررہا ہوں۔ میں اپنے ناموس کا طالب ہوں نہ اپنی شہرت کا۔

مولانا رومی کا اثر ان کے بیشتر اشعار میں موجود ہے۔ خاص طور رسالہ عشقیہ اور مثنوی کنزالاسرارکے مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے بلکہ بعض اشعار پر تو گمان ہوتا ہے کہ وہ مولانا کے کہے ہوئے ہیں۔ رومی کی مثنوی کی منظوم حکایتوں کی جھلک قلندر کی مثنوی میں نظر آتی ہے۔ مثلا: ’داستان ماہی و مگر ،‘ ’الماس وپسرمالدار‘، ’استاد وشاگرد احول‘  اور ’داستان قلندر‘ وزیر ماکر چھودان کہ درمیان نصرانیان فساد انگیخت ’محقق نصر الدین و افضل ‘، ’مرد جاہل در محفل دانایان ‘، ’دونابینا و چھار رقیقان کہ ثبوتی یافتند‘ اور’ شاعر پسر بوالہوس و شیخ سادہ لوح و مریدان ‘

اس کے علاوہ رسالہ عشقیہ میں بعض عنوانات جیسے حکمت عارفان، عشق و عاشق، ایمان کامل، ظاہر وباطن، علم الیقین و عین الیقین وحق الیقین، حقیقت ذات حق، خود شناسی وغیرہ نظم میں بیان کیے ہیں۔  اگر ہم ان کی گہرائی اور گیرائی میں جائیں تو مولانا کی صدائے باز گشت صاف سنائی دیتی ہے۔

قلندر کی مثنوی کے وہ اشعار جن میں مولانا کے خیالات کا عکس نظر آتا ہے۔  ذیل میں دلیلوں کے پیش خدمت ہیں۔  مولانانے عشق کو جالینوس اور افلاطون قرار دیا ہے۔  دیکھیے قلندر اسے کس طرح پیش کرتے ہیں۔

عشق می داند ہمہ بازی و پیچ

غیر عشق آخر چہ باشد ہیچ ہیچ

عشق شور انگیز باشد در جہان

او خبر دارد ز خورشید نہان

چیست اسرار نہان عشقت وبس

کی شناسد عشق را بوالہوس

عشق چون مستی کند ای ہوشیار

صد ہزاران می کشد دریای دار

ترجمہ : ’’ زندگی اور دنیا کا سارا سوزوساز عشق پر مبنی ہے بغیر عشق کے کچھ نہیں۔ عشق شرابی کی طرح ہے۔ اے! ہوشیار یہ سیکڑوں، ہزاروں کو مارتا ہے۔‘‘

 قلندر نے اپنے کلام میں مولانا کے الفاظ،  کلمات اور محاورات کو استعمال کرکے اپنے کلام کی زینت بنایا اور بعض اصطلاحات کوبغیر کسی تبدیلی کے اپنے کلام میں موزوں کیاہے۔ مولانا کے ایک لفظ ـ’سوفسطائی‘ کو قلندر نے اس طرح استعمال کیا ہے۔ بیت       ؎

گفت سوفسطائی آن دانائی دہر

کین جہاں وہم و خیال ست در نگر

ترجمہ:  ’’انھوں نے کہا خردمندی، دانشوری زمانے کی حکمت ہے۔  دنیا وہموں سے بھری پڑی ہے ۔ ‘‘

قلندر کے ان خیالات کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ اندازہ ہوگا کہ وہ مولانا کے ہم خیال ہی نہیں بلکہ ان کے افکار وخیالات کے ترجمان ہیں۔  وہ تمام جذبات و مستی، شور ہیجان، ہمہمہ وولولہ اور وجدانی کیفیت جو مولانا کے اشعار میں ہے قلندر کے کلام میں اس کا پرتو نظر آتا ہے۔

بو علی قلندر کی غزلیات بھی فارسی زبان وادب میں خاص کر متصوفانہ شاعری میں ایک خاص اہمیت کی حامل ہیں ان کی اعلی غزل گوئی، معنی آفرینی، قادر الکلامی اور شاعرانہ عظمت کی دلیل ہیں۔ انھوں نے مثنوی کی طرح اپنی غزلیات میں بھی فلسفہ عشق کو موضوع سخن بنایا ہے۔ ان کے کلام میں عشق حقیقی کی گرمی شدت سے محسوس ہوتی ہے اور وہ فنا فی اللہ نظر آتے ہیں         ؎

گر عشق نبودی وغم عشق نبودی

چندین سخن نغز کہ گفتی کہ شنودی

گر عشق نبودی بخداکس نرسیدی

حسن ازلی پردہ زرخ بر نکشیدی

ترجمہ:  ’’اگرعشق اور غم عشق نہ ہوتا تو ایسی پیچیدہ باتیں کون کہتا اورکون سنتا۔ اگر عشق نہ ہوتا تو کوئی خدا تک نہ پہنچتا اور حسن ازلی چہرے سے پردہ نہ اٹھاتا۔ قلندر کا خیال ہے اگر عشق نہ ہوتا تواس دنیا کا وجود نہ ہوتا اس کائنات میں ہر آدمی عشق کی لذت سے لطف اندوز ہوتا ہے اور خدا تک رسائی کا یہی واحد ذریعہ ہے۔  غرض ان کی نظر میں عشق الٰہی ہی کمال معراج ہے۔

اس کے علاوہ قلندر کے تمام اشعار میں صنائع وبدائع پائے جاتے ہیں۔ جیسے تشبیہات، استعارہ، کنایہ، اشتقاق، ترصیع، تکرار، قطار البعیر، مراعات النظیر،  تضاد اور تلمیحات کا بر ملا استعمال کیا ہے۔  انھوں نے غزلیات میں تاریخی واقعات کو قلمبند کر کے کلام میں معنویت اور اثر پیدا کر دیا ہے۔ انبیاء علیہم السلام سے منسلک تاریخی اور مذہبی واقعات و معجزات کو کمال خوبی سے نظم کیاہے، مثلا حضرت آدمؑ، حضرت موسی ؑ اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے معجزات وخصوصیات کو عشق حقیقی کے سراپا میں جلوہ گر کیا ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام کے معجزے اورحضرت یوسف ؑاور زلیخا کے حسن وعشق کی جانب اشارہ ہے       ؎

رخ او نور مقدس لب او روح مصفا

جعداوافعیٔ موسی کف او چو ید بیضا

مریم  از قدس لبش حاملۂ روح اللہ

آدم  ازپرتو رویش ز گلی یافتہ احیا

یوسف از عکس جمالش نگزیدی در خواب

مست وسرگشتہ شدی چوبر او بود زلیخا

ترجمہ:  ’’اس کا چہرہ نور مقدس ہے  اور لب روح مصفا اس کی زلف عصاے موسی ہے اورہاتھ ید بیضاہے۔  اس شعر میں قلندرنے محبوب کے روے پرنور لب پر پرکیف اور زلف پر شکن کی توصیف باحسن الوجوہ بیان فرمائی ہے۔ مریم اس کے لبوںکی پاکیزگی سے روح اللہ کی حامل بنیں آدم اس کے چہرے کے پرتو سے مٹی سے زندہ ہوئے۔  یوسف اس کے جمال کا عکس خواب میں دیکھتے تو بیخود ہوجاتے جس طرح ان پر زلیخاتھی۔‘‘

غزل کی طرح قلندر کی رباعیات بھی ان کے صوفیانہ عشق کی حامل ہیں۔  ایک مقام پر وہ حضرت امام علیؑ سے غائبانہ اور والہانہ محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں          ؎

بنوشتہ چو بوعلی بطغرای منست

در حیدر یان  بلند تر جای  منست

مولامنم آن  را  بولا و  بوفا

آن حیدر کر رار کہ مولای منست

ترجمہ:  ’’جو بو علی نے لکھا وہ میرا طغرا ہے ۔ حیدریوں میں وہ اونجامقام بس میرا ہے ۔ وہ میرا مالک ہے عش و وفابھی۔  وہ حیدرکرار جومیرا مختار ہے۔ ‘‘

غر ض متقدمین ومعاصرین شعرا کی پیروی کو پیش نظر رکھ کر قلندر پانی پتی نے شاعری کی ہر صنف میں شاعرانہ جوہر دکھاتے ہوئے اپنے صوفیانہ مسلک کو کمال خوبی سے بیان کیا ہے۔ قلندر کے کلام میں سادگی، سلاست، روانی، رنگ وآہنگ، سوز وگداز، جوش وخروش، جذب واستغراق اور کشش اس قدر پائی جاتی ہے کی قاری اور سامع کو اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے۔ بلکہ عرفان کا ایسا گہرا سمندرہے جس میںعشق، معرفت، استغنا، توحید،  ترک دنیا، طلب آخرت، محبت مولا، فنا اور وصل کے موتی پائے جاتے ہیں۔ ان کے تمام اشعار تصوف اوراخلاق، عشق توحید، مدح حضرت رسول اکرم ؐوامام علی ؑمیںسرشار ہیں ۔

حوالہ جات :

1             الخاموشی بشیر انصاری، تذکرہ اولیاء کرام پانی پت، قلندر چوک، پانی پت، 1974،ص10,11

2             دہلوی عبد الحق محدث، اخبار الاخیار، انجمن آثار مفاخر فرہنگی، تہران 1383ھ ص125

3             شبلی محمد صدیق خان، ترجمہ دیوان بو علی قلندر مع مثنوی، ترکمان گیٹ، دہلی 2005،ص 16,37

4             عباس امیر، مطالعہ انتقادی شعر بو علی شاہ قلندر پانی پتی، (ایم فل،  ڈیزرٹیشن )مانو، حیدرآباد2017،ص 135,136

4             طاہر میر: دیوان سید شرف الدین بو علی قلندر، تکنہ خاکسار، تہران، چاپ دوم، 1360ھ/ ش۔ص 5

5             محمد اقبال ڈاکٹر، فارسی ادب کے ارتقا میں پانی پت کا حصہ،  دریاگنج ، دہلی 1996،ص 131,141,142,149

6             نظامی ، محمد عطا و حبیب اللہ مظہر، مفتاح الغیب شرح دیوان بو علی قلندر،سیالکوٹ، 1933،ص313, 320

 

Dr. Ameer Abbas

71-B, Near Chappar Wali Masjid

Jamia Nagar, Okhla

New Delhi- 110025

Mob.: 9793214180

Email.: abbasameer59@gmail.com

 

16/4/25

ترجمہ نگاری اور علمی اشتراک، مضمون نگار: محمد خالد اعظمی

 اردو دنیا، فروری 2025

آج کے زمانے میں جس تیزی کے ساتھ مختلف علوم کی ترقی ہورہی ہے ماضی میں اس کی مثال ذرا مشکل سے ہی ملے گی۔ ایک وقت تھا کہ علوم کی کمیت، کیفیت اور اس کا حجم کہیں دو چار صدیوں میں دو گنا ہوتا تھا اور اب حالت یہ ہو گئی ہے کہ نئے علوم کی تخلیق و ترسیل کی موجودہ رفتار سے صرف ایک دہائی کے اندر موجود علوم کا حجم دو گنا ہوجاتا ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں اور ان کی مادری زبانوں میں ہورہی علوم کی یہ تیز رفتار ترقی، جسے عالمی سطح پر پھیلانے اور ان کی عوامی پذیرائی کے لیے دوسرے ملکوں کی زبانوں میں ان کا ترجمہ اور ترسیل کا آسان ہونا بھی ضروری ہے۔ اسی سیاق میں اہل علم کے درمیان اشتراک علوم  (Knowledge sharing)  کا چلن و ترغیب آج کے آسان اور کم خرچ مواصلاتی دور میں بالکل عام ہے۔ مختلف طرح کے علوم کی وسعت وترقی اور عوامی رسائی کے لیے ماہرین علم بلا تردد اپنی تحقیقات اور خیالات سماجی ذرائع ابلاغ کے صفحات پر شائع کرتے ہیں جو ہر خاص وعام کے لیے بغیر قیمت ہر جگہ دستیاب ہوتے ہیں۔ اسی ضمن میں علمی تعاون، اشتراک علوم اور تبادلہ خیال کے لیے مختلف ملکوں اور زبانوں کے علم وحکمت پر مبنی ادبی شہ پاروں، سائنسی تحقیقات اور دیگر مفید عام تحریروں کا ایک دوسرے کی زبانوں میں تر جمہ کرنا اور اسے اپنے ہم زبان عوام کے علم و تخیل میں اضافہ کے لیے قابل عمل بنانا بھی شامل ہے۔ مسلم تمدن کے سنہری دور میں ہندوستانی، یونانی و دیگر علوم کا عربی زبان میں ترجمہ اور مسلمانوں کی تدوین شدہ جدید سائنس، ادب اور معاشرتی علوم کا یوروپی زبانوں میں ترجمہ علم کی وسعت و ترقی اور یوروپ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے بنیاد تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کے مغل دور حکومت میں فارسی مخطوطات کا سنسکرت اور ہندی میں ترجمہ اور ہندوستانی زبانوں کے علمی کارناموں کا فارسی اور عربی میں ترجمہ بھی ہندوستان میں جدید علوم کی ترقی کے لیے بہت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح برطانوی دور حکومت میں فورٹ ولیم کالج نے اردو زبان کی وسعت کے لیے جہاں ماہرین زبان سے اردو کی کتابیں تصنیف کروائیں وہیں بہت ساری کتابوں کا اردو سے انگریزی اور انگریزی سے اردو اور فارسی میں ترجمہ بھی کروانے کا کام کیا۔

عالمگیریت اور عالمی وحدت کے جدید تصورات نے ترجمے کی اہمیت کو مزید واضح اور اسے عوامی مقبولیت حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے تاکہ عالمی پیمانے پر ہونے والی سیاسی و معاشی تبدیلیوں اور منصوبوں کی مختلف علاقوں اور ممالک میں تشہیر کی جا سکے۔ عالمی اداروں کے ذریعے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے لیے کی جانے والی مختلف زمروں کی منصوبہ بندی اور ان کے عالمی اثرات کی کما حقہ جانکاری دنیا بھر کے عوام اور اور پالیسی ساز اداروں کو ان کی اپنی زبان میں حاصل ہو سکے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کسی بھی علاقے کی سماجی و معاشی ترقی زبان وادب، فن بلاغت کی ترقی اور اظہار مدعا کی پختگی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔ زبان وادب کی ترقی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دوسری زبانوں کے ادبی اور تمدنی علوم کا گہرا مطالعہ بہت اہمیت کے ساتھ کیا جائے جودوسری زبان کے علم اور اپنی زبان میں اس کے ترجمے کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ بات ہمیشہ ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ ترجمہ نگاری ایک پیچیدہ فن ہے جس میں ہر دو زبانوں کا وسیع و عمیق مطالعہ، اس کا علم، الفاظ، محاورے اور ادبی قواعد کی جانکاری کے ساتھ ترجمہ نگار کا ذاتی تجربہ ، اور حالات کو پرکھنے کی صلاحیت اور وسعت نظر ی بھی بہت ضروری ہے کہ بغیر اس کے ترجمانی کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔

ترجمہ نگاری اپنے آپ میں صرف کسی ایک زبان کی تخلیقات و تصنیفات کو دوسری زبان میں ہو بہو منتقل کردینے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ خود ایک تخلیقی کارنامہ اورایک بہترین تخلیقی ذہن ہی ایک عمدہ ترجمانی کے فرائض انجام دے سکتا ہے۔ اردو زبان میں ترجمہ نگاری کے شروعاتی ادوار میں تحت اللفظ یا ایک زبان کے الفاظ کو بالکل اسی طرح دوسری زبان میں منتقل کردینے کو ایک بہتر طریقہ مانا جاتا تھا۔ جہاں یہ ترجمے کی صداقت اور حقانیت پر دلیل ہے، وہیں اس کا ایک نقصان یہ تھا کہ اس لفظی ترتیب کو بالکل ویسے ہی قائم رکھنے کی وجہ سے ترجمے کی زبان اور عبارت بھی بالکل نامانوس، ادق اور بار گراں ہوجاتی تھی جسے پڑھنے اور سمجھنے میں قاری کو نہایت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ بعد کے دور میں اہل علم نے ترجمے کی اس روایت سے انحراف کرتے ہوئے اسے تحت اللفظ کے بجائے عبارت اور جملوں کے مفہوم کی ادائیگی کو اہمیت دی جس کی وجہ سے زبان آسان اور پر لطف ہونے کے ساتھ قاری کو دوسری زبان کی تصانیف اور ادبی لٹریچر کو پڑھنا اور سمجھنا آسان ہوگیا، لیکن اس طرح کی ترجمہ نگاری کے لیے زبان پر عبور ہونے کے ساتھ ترجمہ نگار کا ادبی ذوق اور تخلیقی ذہن کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔

ترجمہ نگاری جہاں ایک علم کی حیثیت سے دنیا میں اپنا اہم مقام بنا چکی ہے، وہیں یہ ایک فن کے طور پر بھی اہل زبان کے درمیان مقبولیت حاصل کر رہی ہے جس میں آزاد برجستہ اور با محاورہ ترجمے کو تحت اللفظ کے مقابلے زیادہ مقبولیت اور عروج حاصل ہوا اور اب دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ نگاری کافی دنوں سے اسی طرز پر کی جارہی ہے۔ دنیا کا بیشتر نثری اور شعری ادب دنیا کی دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوکر خاص وعام کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔

اردو میں ترجمہ نگاری کی شروعات کب سے ہوئی اور پہلا ترجمہ کس کتاب کا کب کیا گیا، یہ ایک مشکل سوال ہے۔ کچھ محققین اسے مشہور صوفی بزرگ خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کے پوتے عبد اللہ حسینی سے جوڑتے ہیں جنھوں سب سے پہلے ایک عربی کتاب ’نشاۃ العشق‘ کا اردو میں ترجمہ کیا لیکن یہ بات بالکل حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔ کچھ محققین ملا وجہی کی ’سب رس‘ کو شاہ جی نیشاپوری کی فارسی کتاب ’دستور عشاق‘ کا اردو ترجمہ مانتے ہیں، کچھ لوگ فضل علی فضلی کی کتاب ’کربل کتھا‘ کو ملا حسین واعظ کا شفی کی فارسی کتاب ’روضتہ الشہداء‘  کا اردو ترجمہ مانتے ہیں۔ ان سب باتوں میں محققین کے درمیان اختلاف تو ممکن ہے، لیکن ایک بات جو خاص طور سے اور وثوق سے کہی جاسکتی ہے مذکورہ کتابیں اگرچہ آزاد ترجمہ نگاری کے ضمن میں آسکتی ہیں لیکن ہندوستانی زبانوں میں ترجمہ و تلخیص کے کام میں بھی فورٹ ولیم کالج کی خدمات کو اولیت حاصل ہے۔ اردو زبان کی خاصیت ہے کہ اس میں دوسری زبانوں کے الفاظ کو سمیٹنے اور جذب کرنے کی بہت گنجائش اور وسعت موجود ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب زبان میں الفاظ، محاورے، ذومعنی جملوں کی کثرت ہو اور اس کا زبانی تخلیقات میں استعمال بھی عام طور پر ہوتا ہو۔ اردو اگر چہ اس معاملے میں بہت امیر اور الفاظ و تراکیب سے مالا مال ہے لیکن اس سمت اور بطور خاص یوروپین زبانوں میں موجود ادبی اور سائنسی لٹریچر کا اردو میں ترجمے کی جانب اہل علم کی توجہ بہت کم ہے، اور ساری ادبی خصوصیات اور اضافی لسانی فوائد کے باوجود اردو زبان میں ترجمے کا کام موجودہ دور کی علمی ضرورت سے کم ہورہا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ زبان کی وسعت وترقی میں جہاں ایک طرف احوال و واقعات میں ماحول کی منظر کشی اور بیانیہ کی ندرت اہمیت کی حامل ہے، وہیں تخیل اور توصیفی کلمات کی ادائیگی کے لیے منظوم قصائد کی کشید بھی عوام کے دلوں میں زبان کی لطافت اور پسندیدگی کے لیے بنیادی اصول کی حامل ہے۔ جس طرح کی وسیع اللسانی اور متنوع کیفیت نگاری کے لیے حرف و الفاظ اردو زبان میں موجود ہیں، وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ دوسری زبانوں کے علمی و ادبی ذخائر کو اس میں منتقل کیا جائے کیونکہ دیگر زبانوں کی ترجمانی اور اسے اپنے دامن میں جذب کر لینے کی گنجائش اس زبان میں بدرجہ اتم موجود ہے، ساتھ ہی صوتی اور لسانی ہم آہنگی کے ساتھ دوسری زبانوں کے الفاظ کے لیے جذب و اختلاط کے لیے مناسب ذخیرۂ الفاظ اس زبان میں موجود ہے۔

دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، سوسال سے زائد عرصے سے جس طرح ایک ادارے کے طور پر علمی، ادبی مذہبی حلقوں میں جس طرح کی عظمت اور وقار کے ساتھ علمی و تحقیقی خدمات انجام دے رہا ہے، اس کے لیے کسی مزید تعارف اور شناخت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ادارہ برصغیر کا شاندار علمی ورثہ ، علم وادب، مشرقی علوم، تاریخ و سیرت کی کتابوں کی تصنیف اور اشاعت کے ساتھ رسالہ معارف کی وقیع تحقیقی اشاعت کے لیے بھی قابل تعریف ہے کہ 1916 میں اپنی پہلی اشاعت سے لے کر آج تک اس علمی رسالے کی ماہانہ اشاعت میں ایک بھی تاخیر یا ناغہ درج نہیں ہے خواہ حالات کتنے ہی غیر موافق رہے ہوں۔ علامہ شبلی نعمانی کی مشہور عالم سیرت النبی کے ساتھ الفاروق، المامون، الغزالی، شعر العجم، موازنۂ انیس و دبیر، علم کلام اور علم الکلام جیسی نادر تصنیفات کی اشاعت کے علاوہ علامہ سید سلیمان ندوی، مولاناعبدالسلام ندوی، مولانا شاہ معین الدین ندوی، مسعود عالم ندوی، سید صباح الدین عبد الرحمن اور مولانا ضیاء  الدین اصلاحی جیسے اور بھی دیگر علما اور محققین کی بے شمار تصنیفات اس ادارے سے شائع ہو کر مقبول عام ہوئی ہیں۔ اگرچہ یہ ادارہ ملک کی آزادی کے بعد سے ہی مالی وسائل کی کمی سے دوچار ہے اس کے باوجود بھی اس ادارے نے اپنے بنیادی مقصد اور علمی وقار سے کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ملک میں مشرقی علوم ، تاریخ اور ادب کی تحقیقات کے لیے جو چند ادارے جانے جاتے ہیں ان میں دارالمصنّفین آج بھی سر فہرست ہے۔ دارالمصنّفین کا سارا ادبی اور تحقیقی لٹریچر اردو زبان میں ہے ماسوائے علامہ شبلی اور سید سلیمان ندوی کی چند فارسی کتب اور عربی رسائل کے۔ اگرچہ شبلی اکیڈمی کی تمام تر تصنیفات اعلیٰ پائے کی تحقیق اور اس کے مسلمہ اصولوں پر کھری اترتی ہیں نیز اپنے موضوعات اور مخصوص زبان و ادب کے زمرے میں عالمی شہرت کی حامل ہونے کے باوجود ان تمام تصنیفات کے تراجم اور دیگر ملکی یا غیر ملکی زبانوں میں ان کی اشاعت و توسیع پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔

آج کے جدید ترقی یافتہ دور میں جب کہ دنیا کے مخصوص زبان وادب کے علوم، منظوم لٹریچر، فکشن، خاکوں اور سفر ناموں کے ساتھ اعلیٰ پائے کی سائنسی تحقیقات دیگر علمی و ادبی تصنیفات اور علم کے ذخائر کا ترجمہ دنیا کی تمام زندہ زبانوں میں ہوکر اپنی اپنی سطح پر قبولیت حاصل کرنے کے علاوہ معیاری علوم و تحقیقات میں اضافے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی نے دنیا بھر میں ترجمہ اور علوم کی دیگر زبانوں میں منتقلی کے کام کو آسان تر کر دیا ہے لیکن جس سطح اور طرز پر تراجم کا کام دنیا کی دیگر زبانوں میں ہورہا ہے، دنیائے اردو ابھی اس سطح پر پہنچنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ دارلمصنفین نے اردو اور فارسی زبان وادب کے مشرقی علوم اور تاریخ پر جس طرح کا علمی اور محققانہ کام کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے، لیکن اتنے اعلیٰ پائے کی علمی تصانیف کا ترجمہ انگریزی یا دنیا کی دیگر زندہ زبانوں میں کرنے پر بھر پور توجہ نہیں دی گئی اور آج بھی ادارہ ترجمے کی صنف میں بہت زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہا ہے۔ تمام تر تکنیکی سہولتوں کے باوجود بھی ترجمے کے بنیادی اصولوں اور اوریجنل تصنیف کے معیار و مقصد اور مصنف کی منشاکے مطابق کام کرنے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی بہت اہم ہے جس کی وجہ سے بھی ادارہ اس طرح کے کام کو بہت آگے تک لے جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

دارالمصنّفین نے علامہ شبلی کے علمی کارناموں کی اشاعت کا کام بڑے پیمانے پر کیا ہے اور علامہ شبلی کی کچھ مخصوص کتابوں کے تراجم بھی ہوئے ہیں۔ علامہ شبلی کی تصنیف کردہ سیرت النبی کی پہلی دو جلدیں اپنے آپ میں ایک شاہ کار کا درجہ رکھتی ہیں اور سیرت کی یہ کتاب اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کا ترجمہ انگریزی کے ساتھ دنیا کی دیگر زبانوں میں بھی کیا جائے لیکن شبلی اکیڈمی کی جانب سے اس سمت میں کوئی قابل ذکر کوشش نظر نہیں آرہی ہے۔ سیرت النبی کی ان دو جلدوں کا ترجمہ ہندوستان میں طیب بخش بدایونی نے کیا تھا جسے قاضی پبلی کیشنز نے شائع کیا تھا۔ آج کی جدید تکنیکی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امیزن جیسے تجارتی ادارے بھی سیرت النبی کا انگریزی ترجمہ شائع کرکے فروخت کررہے ہیں، لیکن یہ کتنا مستند اور قابل اعتبار ہے اس پر کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ علامہ شبلی کی دیگر تصانیف میں الفاروق کا ہندی زبان میں ترجمہ ادارے کی جانب سے جناب عبد اللہ دانش نے کیا ہے اور دوسرا ترجمہ بہ زبان ہندی اعظم گڑھ کی معروف شخصیت فیض احمد ایڈوکیٹ نے اپنے شوق، علم دوستی اور علامہ شبلی سے اپنی عقیدت کے اظہار کے طور پر کیا ہے جو ایک عمدہ گٹ اپ اور جلد و جیکٹ کے ساتھ 2019میں لکھنؤ سے شائع ہوئی ہے۔ الفاروق کا عربی ترجمہ ڈاکٹر سمیر عبدالحمید ابراہیم نے کیا ہے جو ریاض سے شائع ہوا ہے۔ الفاروق جیسی مایۂ ناز کتاب کے کسی انگریزی یا دیگر یوروپین زبان میں ترجمے کی کوئی جانکاری شبلی اکیڈمی سے نہیں مل سکی۔ اس کے علاوہ علامہ کی مشہور تصنیف اورنگ زیب عالمگیر پر ایک نظر کا انگریزی زبان میں ترجمہ عالمگیر کے نام سے شبلی اکیڈمی کے سابق ناظم جناب صباح الدین عبدالرحمن نے کیا ہے۔ علامہ شبلی کی دیگر مایۂ ناز کتب کا دیگر زبانوں میں ترجمہ شبلی اکیڈمی کے محدود وسائل اور انتظامی دشواریوں کے سبب ابھی ممکن نہیں ہے، ہوسکتا ہے مستقبل میں اس اہم کام کی کوئی سبیل پیدا ہو جائے۔

علامہ شبلی کے بعد دارالمصنّفین کی دوسری اہم شخصیت ان کے شاگرد رشید جناب سیدسلیمان ندوی کی ہے جنھوں نے علامہ کے بہت سارے ادھورے علمی کاموں کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ سید سلیمان ندوی کا سب سے منفرد اور اعلیٰ کارنامہ علامہ شبلی کی تصنیف ’سیرت النبی‘ کی تکمیل ہے، جس کے لیے ان کی خدمات کو کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ ’سیرت النبی‘ کے بعد کی پانچ جلدیں انھیں کے زور قلم کا نتیجہ ہیں۔ ان کا دوسرا وقیع علمی کارنامہ حیات شبلی اور مکاتیب شبلی کی ترتیب و تدوین ہے۔ سید سلیمان ندوی کی کتابوں میں کچھ کے تراجم ہندی زبان میں ہوئے ہیں جن میں خطبات مدراس کا ترجمہ اکیڈمی کی جانب سے جناب عبداللہ دانش نے کیا ہے، اسی کتاب کا ہندی ترجمہ ڈاکٹر ڈی این چترویدی نے اپنی جانب سے کیا ہے جسے ستیہ مارگ پرکاشن لکھنؤ نے شائع کیا ہے۔ سید صاحب کی دوسری اہم کتاب عرب و ہند کے تعلقات کو بھی عبداللہ دانش اور بابو رام چندر ورما دہلی نے الگ الگ ہندی کا جامہ پہنایا ہے۔ ’سیرت عائشہ‘ ہندی میں عبد اللہ دانش اور عربی زبان میں عمر رضا کحالہ نے ترجمانی کی ہے۔ اسی طرح رحمت عالم جو سید سلیمان ندوی کا ایک مختصر کتابچہ ہے اسے محمد الیاس الاعظمی نے ہندی میں منتقل کیا ہے جبکہ عربوں کی جہازرانی، جو سید صاحب کی مشہور کتاب ہے، کا ترجمہ Arab Navigation کے نام سے سید صباح الدین عبد الرحمن نے کیا ہے۔ سید صاحب کی دو مشہور تصانیف تاریخ ارض القرآن اور بہادر خواتین اسلام کا ترجمہ دارالمصنّفین کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق اب تک کسی زبان میں نہیں ہوا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں کتابیں اس پائے کی ہیں کہ ان کا یوروپین زبانوں میں ترجمہ اور اشاعت ہونی چاہیے۔ مولانا عبدالسلام ندوی نے شبلی اکیڈمی میں رہتے ہوئے بہترین تصنیفی کام کیا جس میں اقبال کامل، حکمائے اسلام اور ابن خلدون خاص طور سے قابل ذکر ہیں لیکن ان کا بھی کسی دیگر ہندوستانی، عربی اور یوروپین زبان میں اب تک ترجمہ نہیں ہوسکا اور علم کا اتنا بڑا اور نایاب کام صرف اردو جاننے والے قارئین تک محدود ہے۔ مسلمان حکمرانوں کی مذہبی رواداری سید صباح الدین عبد الرحمن کی مشہور زمانہ کتاب ہے جس کا ہندی ترجمہ عبد اللہ دانش نے کیا ہے اور جسے دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی نے شائع کیا ہے جبکہ اسی کتاب کا دوسرا ہندی ترجمہ رضا لائبریری رامپور سے شائع ہوا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ پر ان کی دیگر کتب بھی اس پائے کی ہیں کہ ان کا ہندوستانی یا دنیا کی دیگر زبانوں میں ترجمہ ہو لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر دارلمصنفین کے ذریعے یہ کام اب تک نہیں ہو سکا۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا کہ اگرچہ دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی مشرقی علوم اور مستشرقین پر تحقیقی کام کرنے کے لیے نہایت مناسب اور مثالی جگہ ہے، لیکن محدود مالی وسائل اور جدید سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے یہ ادارہ اب اس پائے کا تحقیقی کام نہیں کر پارہا ہے جو ماضی میں اس کا طرۂ امتیاز ہوا کرتا تھا۔ موجودہ دور کی علمی ضروریات اور تحقیق کے جملہ لوازمات کی تکمیل کے لیے تکنیک کا استعمال اب بالکل عام ہوچکا ہے۔ اداروں اور کتب خانوں میں علمی اشتراک، حواشی کی تلاش، لٹریچر سروے اور اسی ضمن کی دیگر علمی ضروریات کے لیے انٹر نیٹ ، لیپ ٹاپ ، کمپیوٹر، پرنٹر اور فوٹو کاپی مشینوں کی سہولت کے بغیر اب کسی طرح کا تحقیقی یا ترجمہ نگاری کا کام نہیں ہوسکتا۔ مالی وسائل اور جدید سہولیات کے فقدان کی وجہ دارالمصنفین بھی انھیں مسائل سے نبرد آزما ہے۔ شبلی اکیڈمی کی تمام تر تصنیفات اس اعلی پیمانے کی ہیں کہ ان کا دنیا کی سبھی ترقی یافتہ زبانوں میں ترجمے کے ذریعے منتقل کیا جانا چاہیے لیکن محسوس ہوتا ہے کہ اس طرز کا علمی کام شبلی اکیڈمی کے دائرہ کار میں نہیں ہے، اسی لیے اس پر کام بالکل نا کے برابر ہو رہا ہے۔ترجمہ نگاری کا کام اب تجارتی بنیاد پر بھی کیا جارہا ہے جس میں مغربی علوم کی محققانہ کتابوں کا مشرقی زبانوں میں ترجمہ کرکے شائع کیا جارہا ہے۔ تجارتی بنیاد پر ان کتب کو فروخت کر کے آمدنی بھی پیدا کی جارہی ہے۔ شبلی اکیڈمی میں ان خطوط پر بھی ترجمہ نگاری کا کام فروغ دیا جا سکتا ہے۔

 

Mohd Khalid Azmi

Dept of Economics

Shibli National College,

Azamgarh- 276001 (UP)

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...