16/10/17

حجاب امتیاز علی از اسماء ارم


بیسویں صدی کے اوائل میں اردو فکشن میں رومانیت ایک رجحان کے طو رپر ابھری جسے سرسید کے عقلیت پسند تحریک کی ضدماناجاتا ہے اس رومانی دورمیں کئی آفاق گیرادبی شخصیتیں منظرِعام پر آئیں۔جن میں ایک نمایا ں نام حجاب امتیاز کا ہے۔

مدراس کے ضلع آرکاٹ (وانم باڑی) میں 1907ءمیں پیدا ہوئیں ۔ والد محمد اسماعیل مدراس کے معزز و معروف شخصیتوں میں سے تھے۔ او روالدہ عباسی بیگم ایک ادیبہ تھیں۔ ابتدائی تعلیم گھر پر والد کی زیر نگرانی ہوئی اورحیدر آباد کے ایک مشن اسکول میں ا نگریزی کی تعلیم حاصل کی ۔والدہ چوں کہ اردوکی پر وردہ تھیں۔ اس لئے انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو کی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔1930ءمیں اردوکے مشہور ڈرامہ نگارامتیاز علی تاج سے بلہاری میں  شادی ہوئی جس کے بعد لاہور کو اپنا گھر بنایا ۔جہاں پر خانگی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ تہذیب نسواں کی ادارت کی ذمہ داری بھی نبھانے لگیں ۔

حجاب نے کافی کم عمری میں لکھنا شروع کیا ۔ساڑھے گیارہ سال کی تھیں جب ا نہوں نے اپنا پہلا افسانہ”میری ناتمام محبت“ تحریر کیا۔جو بعد میں نیر نگِ خیال میں شائع ہوا۔ نابالغ ذہن کے تراش شدہ اسی بت کی ساخت میں کئی جگہ بت تراش کی نوعمری او رجذ بات کی ولولہ انگریز ناہموار یاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لیکن زبان وبیان ،فکر و فن ایک عمدہ افسانہ نگار کی آمد کا پتہ دیتے ہیں۔

ان کا دوسرا افسانہ ” ظالم محبت “تھا جو 1940ءمیں شائع ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے کئی افسانے اورناول لکھے۔ جیسے”صنوبر کے سائے“٬ ”نغمات محبت“ ٬ ”لاش‘‘وغیرہ جو اُن دنوں تہذیب نسواں، عالم گیر ، اور نیر نگِ خیال وغیرہ میں شائع ہوئے۔

حجاب نے زیادہ ترافسانے ہی لکھے ہیں ۔مگر اپنے کینو یس اورکردار وں کے دائرہ عمل کے اعتبار سے یہ افسانے ناول ناولٹ کے ذیل میں آتے ہیں ۔ہلکے پھلکے ان رومانی سماجی ناولوں کی بنیاد ان کے عہد کا معاشرہ او ر اس کے مسائل ہیں۔ جس میں محبت عام اخلاقی اصول و اقدار اور سماجی قوانین سے ٹکراتی ہے او ر اسی ٹکرا و میں محبت کی شکست ہو تی ہے ۔سجاد حیدر یلدرم کے زیر اثر انہو ں نے ایسی تخیلی دنیا آباد کی جو مشرق وسطیٰ او ریو رو پین طرز ِمعاشرت کا حسین امتزاج نظر آتی ہے جس میں امرا اور رؤسا ، جو اہرات اور موتیوں میں کھیلتے ہیں اور جن کی خدمت کے لئے بے شمار گل رخ کنینر یں ادھر اُدھر بھا گتی پھر تی ہیں ۔ پوری فضا داستانی رنگ لئے ہوئے ہے جس میں سب کچھ اتفاقی ہے یہا ں تک کہ مسرت اور غم بھی جو ”یاد “بن کر مسرت کا ہی منبع لگتا ہے۔

ان کی کردار نگار ی بھی تخیلی سطح پر کی گئی ہے شاعرانہ اندازمیں پیش کر دہ ان کے کردار اکثرتیسری نسل سے ہیں جن کا واسطہ ماضی کی دونسلوں سے ہے ۔ ان کے اعمال مشرقی معاشرہ کا حصّہ ہیں مگر مغربی تعلیم کے زیرِ اثریہ فرد پچھلی نسلوں سے خود کو علاحدہ کر نے کی جدوجہد کر تے نظر آتے ہیں۔

جہاں تک قصہ کی تکنیک کا سوال ہے ان کی اکثر کہانیاں ”روحی “ بیان کر تی ہے جو کبھی کہانی کااہم کرداربن کرتوکبھی ثانوی کردار کی حیثیت سے دوسروں کی کہا نی پیش کرتی ہے مثلاً ’ ’ میری ناتمام محبت“ کے آغاز میں قبرستان کی پُر اسرار فضا میں” روحی“ اپنی ناکام محبت کو یاد کرکے اس کا افسانہ سنا تی ہے۔

زبان واسلوب کا انتخاب بھی حجاب نے موضوع کی مناسبت سے کیا ہے۔ حسن وعشق چوں کہ ان کا موضوع تھا اس لئے ان کی زبان نہایت لطیف وشیریں اور اسلوب شاعرانہ ہے۔ جہاں تک مکالموں کا تعلق ہے وہ نہایت ہی دلچسپ اور بر محل ہو تے ہیں۔جوکہانی کے ارتقامیں معاون ثابت ہو تے ہیں اور ساتھ ہی کردار وں کے مزاج او رکیفیات کی ترجمانی کر تے ہیں۔

تجزیۂ نفسی کی دلدادہ حجاب نے رومانی ناولوں کے علاوہ کئی نفسیا تی مضامین اور ناول بھی لکھے جو رسالہ ساقی ”میں شائع ہو ا کر تے تھے۔”اندھیرا خوب “ان کا مشہور نفسیاتی ناول ماناجاتا ہے اس کے علاوہ تہذیب نسواں میں” لیل ونہار “ کےعنوان سے انہوں نے روزنامچے بھی لکھے جوان کی ذاتی زندگی کی ترجمانی کرتے تھے۔ نمونہ ملاحظہ فرمائیے:

”شام کو گھر پر رہی اور آسمان کو تکتی رہی، رات کو کھانے کے بعد سا ڑھے نو بجے ”ت“ اور مَیں گورنمنٹ کالج کے ڈرامہ میں چلے گئے ۔ یاسمین نے پہلی دفعہ اسٹیج دیکھا اورخوش ہوئی“....
اپنی ذاتی زندگی میں بے نیاز رہنے والی حجاب کسی اور دنیا کی مخلوق لگتی تھیں۔ ان کے جینے کا انداز اور طرزِ گفتگو وہی تھا جواُن کے افسانوں میں نظرآتا تھا ۔وہ اپنے افسانوں کا خود بھی ایک پیکر تھیں ۔ان کی مختصر دنیا میں صرف تین افراد تھے وہ ،ان کی بیٹی یاسمین،اوران کے رفیق حیات اورساتھ ہی کئی درجن بلیاں ،طوطےوغیرہ بھی ان کے عجائب خانہ کا حصّہ تھے۔


حجاب کو ہو ابازی کابھی شوق تھا۔ وہ ہندوستان کی پہلی مسلمان خاتون ہوا بازتھیں۔ انہوں نے1936ءمیں نارون لاہور فلائنگ کلب سے پائلٹ کا لائیسنس حاصل کیا تھا۔اپنے آخری ایام میں وہ ادبی دنیا سے علاحد گی اختیارکر کے اپنی فیملی کے ساتھ ایک پُرسکون زندگی بسر کر نے لگیں۔ 1999ءکووہ اس دنیا ئے فانی سے کوچ کرگئی اورلاہور میں مدفون ہوئیں۔

اُردو ادب میں انہیں ایک منفرد مقام حاصل ہے ان کی کئی تخلیقات کو شاہکار مانا جاتا ہے مگر جن مطبوعات کوغیر معمولی شہرت نصیب ہوئیں ان میں” لاش“، ”صنوبر کے سائے“، ” میری ناتمام محبت “، ”ظالم محبت “، ” الیاس کی موت “، ” موت کا راگ“، ”آپ بیتی۔تصویر بتاں“ وغیرہ شامل ہیں۔

اسما ء ارم

13/10/17

مشترکہ وراثت اور جمہوری زبان از رضوانہ

اردو زبان رنگ و نسل، مزاج وا حتیاج اور دل میں اُتر جانے والے اپنے استعاروں اور کانوں میں شہد گھولنے والی اپنی شیرینی کے باوصف آج بھی تروتازہ، شگفتہ اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ اردو ہماری اور ہمارے ملک کی مشترکہ وراثتوں کی نہ صرف امین ہے بلکہ اپنے جمہوری طرز ادا، اندازِ بیان اور دلوں میں تحرک و تموج پیدا کرنے کی وجہ سے عالمی سطح پر اپنی موجودگی کا ایسا احساس جگا رہی ہے کہ عالم کاری کے اس دور میں اردو سے نابلد افراد بھی اس کی چاشنی اورمٹھاس کے دلدادہ نظر آتے ہیں۔

بحمد اللہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہندوستان میں اردو کی صورتِ حال جیسی بھی ہو سخن فہمی برقرار ہے ۔ یہاں بازاروں سے لے کر ایوانوں تک اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ہندی اور انگریزی کے الفاظ اور جملے بھی شامل ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک ہم خود کو ہر قسم کے تعصب سے پرے رکھ کر اردو کی سماجی، لسانی اور تہذیبی صورت حال کا از سرِ نو جائزہ نہیں لیتے اس وقت تک زبان کے ساتھ انصاف نا ممکن ہے اور مشترکہ تہذیبی و رثہ کا احیا بھی ممکن نہیں۔  زبانیں انسان کی امتیازی صفات کے ساتھ ساتھ سماجی اور تہذیبی عناصر کی مظہر بھی ہوتی ہیں۔ اس سے ماورا  رہ کر ہم زبان کے تعلق سے سماجی تشکیل اور اس کی معنویت کو برقرار نہیں رکھ سکتے ۔ کیوں کہ زبان ہمارے سماجی، تہذیبی، فکری اور تعلیمی رشتوں سے ہی پہچانی جاتی ہے اور یہی وہ زمین ہے جسے اساس قرار دیتے ہوئے زبان کی قدرو قیمت کا تعین کرتے ہیں۔ پس اردو زبان و ادب کی جڑوں کا ہندوستان کی فضا، فکر اور مزاج سے استوار ہونا ایک لازمی امر ہے۔

شمالی ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد اور پھر دہلی میں ان کی حکومت 1193 کے بعد ہندوستان کے مقامی باشندوں اور نو وارد مسلمانوں کے باہمی اختلاط اور میل جول سے ایک نئی زبان وجود میں آئی۔ جو مختلف ادوار میں ہندوی، ریختہ، دکنی اور پھر اردو کے نام سے مشہور ہوئی۔ چوں کہ باہر سے آنے والے مسلمانوں کی زبان ترکی، فارسی اور عربی تھی۔ آریوں نے سنسکرت کو سرکاری زبان کی حیثیت دے رکھی تھی لیکن وہ عام بول چال کی زبان کا مقام حاصل نہ کرسکی۔ اس کی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ وہ اسے پسند بھی نہیں کرتے تھے، لیکن مسلمانوں کا مسئلہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے آتے ہی اپنی ترکی، فارسی، عربی زبانوں پر ہندوستانی رنگ کا اثر قبول کرنا شروع کردیا ۔ جس سے ایک نئی تہذیب پروان چڑھنے لگی۔ اب چوں کہ زبانوں کا تعلق انسانوں کے تہذیبی ، تمدنی، معاشرتی ارتقا سے براہِ راست ہوتا ہے اور اسی تعلق کے باعث زبانیں غیر ارادی طور پر پیدا ہوتی ہیں اور رفتہ رفتہ سماجی ضرورت کے تحت پروان چڑھتی ہیں۔ مسلمانوں کے مذہبی منشور کے اصول و ضوابط عالمی سطح پر مبنی ہیں اس وجہ سے ان میں قومی اتحاد و اشتراک کی گنجائش بہت ہے۔ لہٰذا ہندوستان کی مقامی قوموں کے اشتراک اور باہمی ارتباط نیز ہندوستان کی مختلف بولیوں کے آپسی اختلاط و امتزاج نے زبانِ اردو کو جنم دیا ،اس سے متعلق ڈاکٹر تارا چند رقم طراز ہیں :
مسلم ذہن ہندوانہ رنگ وروپ قبول کرنے لگا اور اس نے فارسی و ترکی کی جگہ مقامی زبانوں کو سیکھا اور استعمال کرنا شروع کیا ۔ ہندوؤں نے عربی ،فارسی اور ترکی الفاظ کو مقامی محاوروں میں جگہ دی ۔ اس لین دین کا منافع ہماری تہذیب کے خزانے میں اردو کی شکل میں شامل ہوا۔
(ہندوستانی کلچر کا ارتقا، تاریخ کے آئینے میں ، ڈاکٹر تارا چند، اگست1967، ص: 48)

ہندوؤں اور مسلمانوں کے اشتراک اور نئی تہذیبی معاشرتی ضرورتوں کے تحت سب سے زیادہ ترقی کرنے والی زبان اردوتھی۔ تقسیم ہند 1947 کو تاریخ کا ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے ملک کے ہر چھوٹے بڑے طبقے کو سیاسی، سماجی، معاشرتی، مذہبی، ادبی اور لسانی سطح پر بری طرح سے متاثر کیا۔ انگریزوں کی پیدا کردہ منافرت نے مذہبی فرقہ پرستی کی بنیاد پر ملک کے ٹکڑے کرنے کے علاوہ صدیوں پرانی تہذیب و تمدن کو پارہ پارہ کردیا۔ قیام پاکستان کے بعد اردو زبان کے ساتھ لسانی سطح پر بہت بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ اس کی ایک وجہ مسلمانوں کی حالت زارتھی ،دوسرے برطانوی حکومت کی شہہ نے ہندوؤں میں یہ خیال اورقوی کر دیا کہ ہندی بھی دفتری و عدالتی زبان ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد لوگوں میں اردو زبان کے خلاف مخالفت کا جذبہ شدید ہوتا گیا اور یہی وجہ ہے کہ سیاست دانوں نے ہندی کو مرکزی زبان کا درجہ دے کر اردو کا دائرہ تنگ کرنے کے لیے نفسیاتی طور پر دباو ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی بلکہ اردو طبقہ کے لیے معاشی صورتِ حال ایک بڑا مسئلہ بن کر کھڑی ہوگئی اور یہی نہیں بلکہ مردم شماری میں اردو والوں کی تعداد حتی الامکان گھٹا کر دکھائی جانے لگی،لیکن وہ پژ مردگی جو آزادی کے فوراً  بعد اردو والوں پر طاری تھی دھیرے دھیرے اس کی کثافت دور ہوتی گئی لہٰذا  اردو کی بازیابی کے لیے انفرادی و اجتماعی طور پر کوششیں شروع ہوئیں۔

اس سلسلے میں جو اصلاحی تحریکیں وجود میں آئیں وہ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کے علاوہ اردو کی بقا و ترقی کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں جس کا عملی ثبوت ”انجمن ترقی اردو“ اور” قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان“ ہے۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو مرکزی حکومت کے تحت اردو کی ترقی کے لیے کام کرنے والا ادارہ ہے جب کہ انجمن ترقی اردو (ہند) نے منظم ہوکر مختلف کمیٹیاں اور ادارے قائم کرکے اردو کی ترویج کے لیے راہیں ہموار کیں۔

 اس وقت ایک طبقہ ایسا بھی تھا جس نے تقسیم کا الزام اردو کے سر لگایا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ تقسیم کا عمل اردو کی وجہ سے وقوع پذیر ہوا، مگر یہ تقسیم ہند کا ایک بے بنیاد، تعصبانہ، سطحی اور یک رُخا مطالعہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ برطانوی تسلط کی ابتدا سے ہی اردو نے ان کے خلاف جس باغیانہ رویہ کو اختیار کیا، اس کی مثال دوسری زبانوں میں نہیں ملتی۔ لسانیات کے تعلق سے نہ صرف اردو پر یہ الزام بے بنیاد ہو کر رہ جاتا ہے، بلکہ اردو کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔

ادب چوں کہ اپنے دور کے سیاسی ، سماجی اور اقتصادی حالات کا آئینہ دار ہوتا ہے اور شاعری جو کہ اس کا جزو لازم ہے اور کسی بھی انقلاب کو سامنے لانے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ اس نے غیر ملکی حکمرانوں سے نجات دلانے کے لیے احساس غلامی سے نجات دلائی۔ قومی و وطنی شعور کو بیدار کیا اور حصولِ آزادی کے لیے ہر طرح کے خطرات ، ظلم و تشدد کے خلاف نبرد آزما ہونے کا حوصلہ دیا۔ اردو نے جنگ آزادی کے دوران انقلاب زندہ باد ، ہم آزادی لے کر رہیں گے۔ جیسے پر اثر نعرے دیے، ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘  جیسا ترانہ پیش کیا۔ اپنی پرجوش نظموں اور غزلوں سے مجاہدین آزادی کا لہو گرمایا،  وہی اردو زبان آج اپنے ملک میں اجنبی ہوگئی۔جب کہ اردو ہی وہ زبان ہے جسے حب الوطنی اور تحریک آزادی کا مظہر کہا جاسکتا ہے۔ جس نے کسی نہ کسی زاویے سے اجتماعی زندگی کو متاثر کیا۔ معین الدین عقیل کے مطابق:
مسلسل سیاسی انتشارات کے نتیجے میں جب قومی تحریکیں وجود میں آئیں تو اردو نے نہ صرف تحریکوں کی جدوجہد کو بیان کیا بلکہ ان میں عملاً حصہ بھی لیا۔
(تحریکِ آزادی اردو کا حصہ، معین الدین عقیل، پاکستان کراچی 1976، ص: 111)

یہ زبان اپنی فطرت کے مطابق مخلوط سماج کا حصہ ہے۔ اس کا سیکولر کردار ہی سب سے نمایاں خصوصیت کا حامل ہے۔ وہ مشترکہ زبان جو حصولِ آزادی کے لیے چلائی گئی، تمام تحریکوں کا محور  رہی، افسوس کہ کچھ متعصب اشخاص کی وجہ سے آزادی کے فوراً بعد ہی اسے غیر ملکی زبان کے نام سے پکارا گیا اور جو وجوہات اس کے غیر ملکی ہونے کی بتائی گئیں یا جو معیار قائم کیا گیا وہ اس قدر بھونڈا اور پھسپھسا ہے کہ اگر ان کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ہندوستان کی موجودہ کسی بھی زبان کو ہندوستانی ہونے کا حق حاصل نہیں۔

آزادی کے معاً بعد یعنی 1947میں ہی آفیشل لینگویج ایکٹ پاس کرکے مرکز اور یوپی دونوں جگہ ہندی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ جب کہ اردو کو اس کی خدمات کے صلے میں دوسری سرکاری زبان تک بننے سے محروم رکھا گیا۔ اردو زبان سے متعلق آج بھی لوگوں میں یہ غلط فہمیاں رائج  ہیں کہ یہ صرف مسلمانوں کی زبان ہے۔ مسلمانوں سے وابستگی کے سبب یہ زبان ہندو اکثریت کی ناراضگی کا شکار ہوگئی۔ یعنی آزادی سے پہلے اردو تمام قوموں کی خاص طور سے مسلمانوں ،سکھوں اور ہندوؤں کی مشترکہ زبان تھی لیکن آزادی کے بعد سکھوں اور ہندوؤں نے اردو کو اپنے دائرۂ عمل سے خارج کردیا۔ لہٰذا اپنے شاندار ماضی کو کھونے کے بعد اردو صرف ”مسلمانوں کی زبان“ بن کر رہ گئی۔

ادب کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کا تہذیبی، ثقافتی، تمدنی اور مذہبی ورثہ اردو ادب میں موجود ہے، عین اسی طرح غیر مسلم بالخصوص ہندو دھرم سے متعلق کثیر مذہبی سرمایہ بھی اردو ادب میں محفوظ ہے۔ مثلاً بھگوت گیتا، پران، رامائن ، بدھ ازم، جین ازم وغیرہ سے متعلق معلومات یا تراجم! بھگوت گیتا کے تقریباً 82مطبوعہ ایڈیشن اور پرانوں کے 45 نسخے اردو زبان میں دستیاب ہیں۔اردو زبان کسی ایک مذہب، قوم کی نہیں بلکہ ہندو، مسلم،سکھ ،عیسائی سبھی قوموں کی یکساں طور پر محبوب ترین زبان رہی ہے، یہی وجہ تھی کہ ہر مذہب کے ماننے والوں نے اپنے دینی امور کی تبلیغ و ترسیل کے لیے اس زبان کا سہارا لیا ہے۔

 یہی وہ وجہ ہے کہ ہندی کے مرکزی زبان ہو جانے پر جب اسے تمام صوبوں پر مسلط کیا جانے لگا تو جنوبی ہند میں اس کا شدید ردعمل سامنے آیا جس کے نتیجے میں وہاں ہندی بولنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب کہ شمالی ہند میں جہاں اردو  دوسو برسوں سے ایک تہذیبی پس منظر میں چھائی ہوئی تھی اس کے ساتھ بے گانوں سا سلوک کیا گیا۔

 ہندوستان میں اردو کے مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ اردو ذریعۂ تعلیم کا محدود ہونا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی زبان کی بقاو تحفظ اور ترقی کا انحصار ”تعلیم یعنی (Education) پر ہوتا ہے۔ اور یہ تعلیم مادری زبان میں ہی ممکن ہے ۔ تعلیم محض چند علوم و فنون کو سیکھ کر معلومات کا ذخیرہ جمع کرلینے کا نام نہیں بلکہ یہ بچے کی صحیح ذہنی نشوو نما اور اس کی صلاحیتوں کے بالفعل اظہار و تکمیل کا نام ہے۔ اس مقصد کے بغیر تعلیم ادھوری ہے۔ اس صورتِ حال سے نپٹنے کا واحد ذریعہ مادری زبان میں تدریس ہے۔

ہندوستان کے دستور کے مطابق ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جانی چاہیے۔ (دستور کی دفعہ A530 اور حکومت کی پالیسی کے مطابق)  سہ لسانی فارمولے کو پانچویں کلاس اور اس سے اگلی کلاس پر لاگو کرنا چاہیے۔ تاکہ مادری زبان کو ابتدا ہی سے لازمی زبان کے طور پر پڑھایا جائے۔ شمالی ہند کی کئی ریاستوں میں پہلی کلاس سے ہندی کو اول زبان کا درجہ دے کر پڑھایا جاتا ہے۔ یہ سہ لسانی فارمولے کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔ اس طریق کار سے ہندی کو ان غیرہندی والوں پر تھوپا گیا ہے۔ جن کی مادری زبان اردو ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سیکولر تعلیم میں اردو کو جگہ دینے سے مسلسل احتراز اور انکار کیا جاتاجارہا ہے۔ اور افسوس اس امر پر بھی ہے کہ یہ سب خود کو سیکولر کہنے والی سیاسی جماعتیں کرتی رہی ہیں۔

وہ طلبا جن کی مادری زبان اردو یا دوسری کوئی اقلیتی زبان ہے اس کی بقا کی کیا گنجائش ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اردو کو دستور میں دیے گئے تحفظ کے باوجود قومی دھارے اور سیکولر تعلیمی نصاب سے منظم طور پر خارج کردیا گیا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اردو کی بقا و تحفظ کے لیے ایک ایسا فارمولہ تجویز کیا جائے جس سے اردو کو اسکول کی تعلیم میں لازمی طور پر شامل کیا جاسکے۔ ہندوستان کا دستور یقین دلاتا ہے کہ یہ ایک سیکولر ملک ہے۔

اردو کی مزید ترقی اور فروغ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی لسانی دستاویزات جو کہ عام لوگوں سے متعلق ہیں جیسے سرکاری نوٹس ، ووٹرلسٹ، راشن کارڈ وغیرہ دونوں زبانوں میں ہونا چاہئے۔ نیز عدالتوں میں ہر قسم کی دستاویزات اردو زبان میں بھی داخل کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ تمام سرکاری و غیر سرکاری کاموں کے لئے در خواستیں ہندی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی قبول کی جانی چاہئیں۔ تمام سرکاری اعلانات، اطلاعات، نوٹسز اور گزٹ کی اشاعت ہندی کے علاوہ اردو میں بھی ہونی چاہئے۔ ابتدائی اور مڈل سطح پر اردو کی تعلیم کا معقول انتظام ہونا چاہئے ۔ یہی نہیں بلکہ اردو داں طبقہ کے لئے اسی تناسب سے روزگار اور سرکاری سروسز میں جگہ کی فراہمی بھی ضروری امر ہے۔ اردو کو سیاسی، سماجی اور معاشی سطح پر جن تلخ حقیقتوں سے سامنا ہے وہ تو ہے ہی دستور میں دیے گئے حقوق کو ہر سطح پر نیک نیتی سے نافذ کرنے اور عملی جامہ پہنانے کی بھی ضرورت ہے۔

رضوانہ

5/10/17

سرور کی قومی و وطنی شاعری از عبدالرحمٰن


مخصوص تہذیب اور محدود زاویۂ نگاہ کی بنا پر کسی زبان میں اعلیٰ ادب تخلیق نہیں کیا جاسکتا۔ ادب آفاقیت سے قبل مقامیت سے عبارت ہے لہٰذا مخصوص تہذیب اور محدود زاویۂ نگاہ کی بنا پر کسی ادب میں آفاقیت کی تلاش بے معنی ہے۔ آفاقی ادب مشترکہ تہذیب (Composite Culture) کے بطن سے پیدا ہوتا ہے۔ اردو زبان و ادب کی شاندار تہذیب ہمیشہ سے اس طرح کے باہمی اختلاط اور آپسی رواداری کا پیش خیمہ رہی ہے۔اردو زبان اپنے ابتدائی دور سے ہی کسی ایک مخصوص مکتبۂ فکر یا کسی ایک خاص تہذیبی روایت سے سروکار نہیں رکھتی۔ مختلف مذاہب کے پیروکار شعرا  اور ادبا  ماسوا ذاتی معاملات کے سیاسی، سماجی اور مذہبی خیالات پیش کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً اس زبان کا سہارالیتے رہے ہیں۔ زبان کی یہ روایت اتنی مستحکم اور پائیدار ہے کہ شاعروں نے اپنے مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں کے علاوہ مختلف مذاہب کے رہنماؤں اور دانشوروں کو اس زبان میں نذرانۂ عقیدت پیش کرنے میں خود کو کبھی عاجز محسوس نہیں کیا۔ اردو زبان میں جہاں ایک طرف مختلف مذہبی پیشواؤں کی شان میں قصیدے لکھے گئے اور مذاہب کی تبلیغ و اشاعت اس زبان میں کی گئی، وہیں دوسری طرف مارکسی خیالات و نظریات کی تشہیر میں بھی اس زبان نے نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں۔ سیکولرزم کی جو صحت مند روایت اردو زبان و ادب کی تاریخ میں ملتی ہے، بنگالی ادب کو چھوڑدیں تو اس کی مثال ہندوستان کی ایسی کسی اور دوسری بڑی زبان میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ جس وقت ہندوستانی اقوام باطل انگریز قوم سے برسر پیکار تھی تو’انقلاب زندہ باد ‘ کا پرشکوہ نعرہ اسی زبان کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔ سیکڑوں شعرا نے اس زبان میں وطن اور قوم سے متعلق گیت لکھ کر حب الوطنی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ اردو زبان میں قلی قطب شاہ، نظیر اکبرآبادی،اقبال، جوش ملیح آبادی اور پنڈت برج نرائن چکبست کے علاوہ جن شعرا نے وطن سے متعلق جذبے کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے ان میں سرور جہان آبادی کا نام سرفہرست ہے۔

اردو شاعری میں وطن سے متعلق اشعار سب سے پہلے قلی قطب شاہ کے یہاں ملتے ہیں۔ قلی قطب شاہ نے اپنی نظموںمیں ہندوستانی پھلوں، پھولوں اور رسم و عقائد کی عکاسی بڑے خوبصورت انداز میں کی ہے۔ نظیر نے قلی قطب شاہ کی اس روایت کی توسیع کی۔ نظیر کو اپنے ماحول سے نہایت لگاؤ تھا۔ انھوں نے بلا امتیاز ملت و مذہب ہندوستان کے تمام تہواروں اور رسم و رواج کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔ ان کی نظموں میں ہندوستان ہنستا، کھیلتا اور اٹکھیلیاں کرتا نظرآتا ہے۔ مختصر یوں کہا جاسکتا ہے کہ نظیر کی شاعری میں قدیم ہندوستان اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔

نظیر کے بعد سرور جہان آبادی کے یہاں حب الوطنی کا جذبہ نسبتاًزیادہ واضح نظرآتاہے۔ انھوں نے نظم کی تعمیر و ترقی میں ہندوستانی عناصر کو شامل کرنے جیسا اہم اور نمایاں کارنامہ انجام دیا۔ان کے مجموعۂ  کلام میں نظموں کے علاوہ رباعیات بھی شامل ہیں جو ہمیں ہندوستانی رنگ میں رنگی ہوئی دکھائی دیتی ہےں۔یہ نظمیں اور رباعیات ہندوستان کے سیاسی، سماجی، اقتصادی، تاریخی اور تہذیبی نظریات کی ترجمان وعکاس ہیں۔سرور کی نظموں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے عہد کا ہندوستان سیاسی، سماجی اور اقتصادی بحران کا شکار تھا۔ ملک ایسے موڑ پر کھڑا تھا جہاں حب الوطنی کے جذبے کو ابھارنے کی اشد ضرورت تھی ،سرور نے یہ کارنامہ بحسن خوبی انجام دیا۔

سرور کو وطن اورو طن کی ہر شے سے دلی وابستگی ہے۔ نظیر نے اپنی نظموں میں جو ہندوستان پیش کیا تھا سرور کی شاعری میں ایسا ہی ہندوستان ایک بار پھر اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ہمارے روبرو دکھائی پڑتا ہے۔ ان کے کلام میں ہرجانب ہندوستان کی تصویر بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی نظریں ہندوستان کو دلہن کے روپ میں دیکھتی ہےں۔ ان کی پوری شاعری میں ہندوستان پر شباب برستا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے ہر شے کی تصویر اتنی عمدگی سے پیش کی ہے کہ اس کی مثال بعد کے شعرا میں جوش کے سوا کسی اور کے یہاں نظر نہیں آتی۔ نسیم سحر کا یہ بند ملاحظہ کیجیے:
گھونگھٹ الٹ الٹ کے رخ نازنیں سے تو
کرتی ہے چھیڑسلسلۂ عنبریں سے تو
ہونے کو ہمکنار گل و یاسمیں سے تو
چلتی ہے بس کے عطر میں خلد بریں سے تو
یوں دھیمی دھیمی آتی ہے تاروں کی چھاں میں
مہندی لگا کے جیسے چلے کوئی پاں میں

سرور کے یہاں حب الوطنی عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ انھیں وطن کے ذرّے ذرّے سے بے تحاشہ لگا ہے۔ ان کے نزدیک وطن کبھی دیوی ہے تو کبھی وطن میں انھیں ماں کا روپ دکھائی دیتا ہے۔ کچھ جگہوں پروطن کو لکشمی ،درگا اور سرسوتی بھی کہا گیا ہے۔ غرض وطن کی محبت ان کے دل کے نہاں خانوں میں گہرائی سے رچی اور بسی ہوئی ہے۔ مادرِہند کا یہ بند ملاحظہ فرمائیے:
تیرا دیو استھان دیوی دل کے کاشانے میں ہے
تیری تصویر مقدس ہر صنم خانے میں ہے
لکشمی تو ہے زمانے میں اُجالا ہے تیرا
ہر کنول کا پھول پانی میں شوالا ہے تیرا
سرسوتی کا روپ ہے درگا  کا ہے اوتار تو
نطق و دانش کی ہے دیوی مادرِ غم خوار تو
اُف یہ سندر چھب تری، یہ سانولی صورت تری
دل کے مندر کی ہے زینت موہنی صورت تری

وطن سے متعلق سرور نے جو نظمیں کہی ہیں ان میں موضوعات کی وسعت اور ہمہ گیری کے ساتھ دلکشی اور رعنائی کی جھلک بھی ملتی ہے۔ سرور کے ذریعے اردو شاعری میں پہلے پہل ایسے موضوعات پر طبع آزمائی کی گئی جو اردو شاعری کے لیے بالکل نئے اور اچھوتے تھے۔ گنگا، جمنا، پریاگ کا سنگم، نورجہاں، پدمنی، بیربہوٹی، گلِ فردوس، لکشمی جی، سیتا جی کی گریہ وزاری، پھولوں کا کنج، مہاراجہ دشرتھ کی بیقراری، نسیم سحر، فضائے برشگال، عروسِ برشگال، شفق شام ، بھنورے کی بیقراری جیسے مضامین کو اردو میں سب سے پہلے متعارف کرانے کا سہرا سرور کے سر ہے۔ متقدمین شعراے اردو نے اس سے قبل اس طرح کے موضوعات سے کبھی استفادہ نہیں کیا تھا۔ ان موضوعات کی اہم بات یہ ہے کہ ان سے متعلق نظموں کی فضا اور رنگ خالص ہندوستانی ہے۔

گنگا جمنا پر لکھی نظموں میں سرور نے قدیم ہندوستانی روایت کو بروئے کار لاتے ہوئے چھیڑ چھاڑ اور عشق و عاشقی کے پیرائے میں وطن سے اپنی محبت اور انسیت کا اظہار کیا ہے۔ اس طرح کی شاعری میں بعض جگہ جمال پرستی کے ساتھ ساتھ جنسیت کا دھوکا ہوتا ہے۔شاعرنے اپنے محبوب کے پیکر اور سراپاکا ذکر کرتے ہوئے اسے برج کی پاک دامن اور مقدس نازنین جیسے القاب سے خطاب کیا ہے اور اس کی جادوئی روش کو حسینوں سے بھی زیادہ البیلی روش قرار دیا ہے۔ جمنا کے تقدس اورپاکدامنی کا بیان بھی اسی بند میں کیا گیا ہے۔ یہاں لفظوں کا تضاد بآسانی دیکھا جاسکتا ہے  
آہ!او رنگیں ادا او دلی والی نازنیں
او دو عالم کے حسینوں سے نرالی نازنیں
دھیمی دھیمی وہ تری رفتار بل کھائی ہوئی
وہ نظرجھینپی ہوئی چتون وہ شرمائی ہوئی
وہ حسینوں سے نرالی تیری البیلی روش
دل پہ جادو کرنے والی تیری البیلی روش
برج کی او پاک دامن اور مقدس نازنیں
نقش ہے دل پر ترے اک اک ادائے دلنشیں

اسی نظم کے اگلے اشعار میں وہ جمنا سے پوچھتے ہیں کہ وہ کون ہے جو تیری لہروں میں پردہ نشیں ہوکر بیٹھا ہے، تیری موجوں سے آرہی صدائے دلفریب کس کی ہیں کون تیرے خانۂ دل میں رقص کناں ہے، اور یہ چھا گل کی صدائے جاں نواز کس کی ہے؟ (حرکت کے باعث لہروں میں پیدا ہورہی آواز کو سرور نے چھاگل کی صدائے جاں نواز کہا ہے):
کون یہ پردہ نشیں ہے تیرے دامن میں نہاں
کس کا چہرہ ہے نقابِ زلفِ پرفن میں نہاں
تیری موجوں میں ہے یہ کس کی صدائے دلفریب
گارہی ہے کون یہ غارت گرِ صبر و شکیب
خانۂ  دل میں ہے تیرے کون محوِ رقص و ناز
آرہی ہے کس کی چھاگل کی صدائے دل نواز

اسی طرح گنگا سے متعلق اشعار میں بے پایاں محبت اور خلوص کا اظہار کرتے ہوئے اس حیات آفریں ندی کو پاک نازنیں، ناز آفریں اور صدق و صفا کی دیوی کے ساتھ ساتھ بحرِ معرفت اور پاکباز ہستی جیسے الفاظ سے خطاب کرکے گنگا کے تئیں اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ درج ذیل اشعار ملاحظہ کریں: 
اوپاک نازنیں او پھولوں کے گہنے والی
سرسبز وادیوں کے دامن میں بہنے والی

او ناز آفریں اوصدق و صفا کی دیوی
اوعفتِ مجسم، پربت کی رہنے والی
حسنِ غیور تیرا ہے بے نیازہستی
تو بحرِ معرفت ہے اوپاک باز ہستی

حب الوطنی ایسا جذبہ ہے جو تقریباً ہر ذی روح میں پایا جاتا ہے۔ وطن کی محبت میں انسان بڑی سے بڑی قربانی دینے سے گریز نہیں کرتا ہے۔ سرور کا وطن ان کا پرستش کدہ ہے۔ ان کی شاعری میں وطن اس قدر اعلیٰ اور عظیم قدروں کا حامل ہے کہ یہاں تمیز مذہب و ملت کی کوئی گنجائش دکھائی نہیں دیتی ہے وطن سے عشق سرور کا ایمان ہے: 
ناقوس اور اذاں میں نہیں قیدکفر و دیں
اس کے لیے کہ جس کا پرستش کدہ ہے تو
گنگا نہانے شیخ اگر تیرا  اذن ہو
تیرا  اشارہ ہو تو برہمن کرے وضو
تیرا طریقِ عشق ہی ایمان ہے مرا
تیرے فدائیوں میں ہوں اے شوخ خوبرو
جلوہ نہ ہو کسی بت رعنا کا سامنے
وہ دن خدا کرے کہ ہو آنکھوں میں تو ہی تو

سرور کے عہد کا ہندوستان تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ملک کے آسمان پر شکست و ریخت کے بادل منڈلارہے تھے تو زمین پر ہر سو مفلوک الحالی کا دور دورہ تھا۔ سرور کو ملک کے حالات کا بخوبی علم تھا۔ وہ اپنے تہذیبی سرمائے سے بھی مکمل واقفیت رکھتے تھے۔اس شکست وریخت اور پرآشوب عہد میں ہندوستانی قوم میں بیداری کی غرض سے سرور نے انھیں ملک کی عظمتِ پارینہ کی داستانیں سنائیں اور وطن کی عظمت کے نغمے گائے۔ اسلاف کے کارناموں کاذکر ان کی نظموں میں بڑے موثر اور دلنشیں انداز میں ملتا ہے۔ ان کی نظموں کو دیکھ کر یہ کہنا بجا معلوم ہوتا ہے کہ سرور کی نظمیں ہندوستان کی عظمت کی تاریخ اور عظیم ہندوستانیوں کی داستان ہیں۔ خاکِ وطن کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
آہ اے خاکِ وطن اے سرمۂ نور نظر
آہ اے سرمایۂ  آرائشِ جان و جگر
تیرے دامن میں شگفتہ تھے کبھی قدرت کے پھول
گندھ رہے تھے تیری چوٹی میں کبھی وحدت کے پھول
جب مسلط خلق پر تھی خوابِ غفلت کی گھٹا
موتی برساتی تھی تجھ پر ابررحمت کی گھٹا
رفعت بامِ فلک تھی تیری پستی میں نہاں
عظمت خود تھی شرارِ اوجِ ہستی میں نہاں
جب تمدن کا بندھا عالم میں شیرازہ نہ تھا
شاہدِ قدرت نے جب رخ پر ملا غازہ نہ تھا
بادۂ  تہذیب سے خالی تھا جب یورپ کا خم
ایشیا  کا آہ جب بیڑا تھا تاریکی میں گم
جب نہ تھی یونان میں علم و ہنر کی روشنی
جلوہ افروزِ خرد تھی تیرے گھرکی روشنی

سرور کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے شاعری کے ذریعے عوام کے دلوں میں بغاوت کا جذبہ پیدا کرنے کی بجائے ان کے دلوں میں محبت کا جذبہ بیدار کیا۔ مزاج میں شرافت اور سادگی کی وجہ سے انقلاب کا نعرہ بلند کرنے کی بجائے انھیں مصلحت پسندی پر آمادہ کیا۔ احتجاج کے بجائے دلوں میں مادر وطن کی عظمت کا احسا س پیدا کیا۔ قومی اتحاد اور آپسی محبت کا درس دیا۔ آزاد ہندوستان کا ایسا واضح اور دل خوش  تصور پیش کیا جو دوسرے کسی اور شاعر کے یہاں قطعی نظر نہیں آتا۔ پھولوں کا کنج ان کی ایسی ہی ایک نظم ہے۔ اس نظم کے چند اشعار سے سرور کی جدتِ طبع کا احساس بخوبی ہوجاتا ہے: 
پھولوں کا کنج دل کش بھارت میں اک بنائیں
حب وطن کے اس میں پودے نئے لگائیں
خونِ جگر سے سینچیں ہرنخلِ آرزو کو
اشکوں سے بیل بوٹوں کی آبرو بڑھائیں
ایک ایک گل میں پھونکیں روحِ شمیم وحدت
اک اک کلی کو دل کے دامن سے دیں ہوائیں
فردوس کا نمونہ ہو اپنا کنج دل کش
سارے جہاں کی جس میں ہوں جلوہ گر فضائیں
مل مل کے ہم ترانے حب وطن کے گائیں
بلبل ہیں جس چمن کے گیت اس چمن کے گائیں

سرور نے سیاست میں کبھی دلچسپی نہیں دکھائی۔ ان کے عہد کا ہندوستان جس کشمکش سے دوچار تھا، سرور اس سے لاعلم قطعی نہیں تھے۔ وطن سے متعلق ان کی نظموں میں سیاسیات کی جگہ جمالیاتی عنصر زیادہ نمایاں ہے۔ ان کی بعض نظموں میں سیاسی رنگ و آہنگ ملتا ہے، لیکن یہاں بھی ان کا انداز دیگر شعرا سے مختلف اور جدا ہے۔ شہرآشوب کا ذیل بند انھیں خیالات کی نمائندگی کرتا ہے:
جگر فگار جدا دل ہے درمند جدا
کہ قومیت کے ہے پتلے کا بند بند جدا
روش جدا ہے، طریقہ جدا، پسند جدا
کہ ایک ایک کے ہے درپئے گزند جدا
یہ غیریت مرے پروردگار کیسی ہے؟
روش یہ قوم نے کی اختیار کیسی ہے؟

سرور کی قومی شاعری کا تجزیہ کرتے ہوئے گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں کہ:
”ان کی قومی شاعری کی شان دوسری ہے۔ یہ قدیم و جدید کی کشمکش سے آزاد ہے۔ ا س کے جذبے میں سادگی، خیال میں معصومیت اور محبت میں عقیدت کا عنصر ملتا ہے....ان کی وطن دوستی اور قوم پرستی بے میل، بے ریا اور بے لوث ہے۔ یہ اجتماعی احساس سے ناآشنا نہیں لیکن سیاست کے دا پیچ سے بلند اور بے نیاز ہے۔“
(ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، اردو شاعری میں ہندوستانی عناصر ،ص 277)

ان مختصر تجزیے کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ قومی اور وطنی شاعری کے لیے فکر و نظر کی جوگہرائی، تخیل کی جو بلند پروازی، جذبات کی جو آہنگی اور فطرت سے جس قدر وابستگی درکار ہے سرور کی وطنی شاعری ان تمام خوبیوں سے مالا مال ہے، نظمیہ شاعری جن حسین جذبوں اور خوبصورت احساسات سے عبارت ہے سرور کی شاعری میں وہ تمام اوصاف و عوامل پوری طرح پائے جاتے ہیں۔

اردو دنیا کے اس شمارے کے مطالعے کے لیے یہاں کلک کریں

Abdur Rahman
Tapti Hostel, JNU
New Delhi - 110067
Mob.: 9015763031
Email.: uharahman@gmail.com

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...