20/5/22

زبیرالحسن غافل کی شاعری کے امتیازی پہلو - مضمون نگار: فاطمہ خاتون

 



 

 

اجنبی شہر میں داخل ہونے سے پہلے لوگ کافی محتاط رہتے ہیں، پتہ نہیں وہاں کی سرزمین ہمیں کیا رنگ وبو دکھائے، لیکن جب اس کی سیرکی جاتی ہے توہمیں کئی نئی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ وہ شہر ہمارے لیے اجنبی تھااور وہاں کی ہر چیزسے ہم ناآشنا تھے، چونکہ ناآشنا چیزیں ہمارے شعور ولاشعورکو بہت جلد متاثر کرتی ہیں، لہٰذا ہم نئی کیفیت اور ناآشنا چیزوں سے لطف اندوز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے، کم وبیش یہی حالت میری بھی ہوئی جب میں نے مجموعہ ’اجنبی شہر‘ کے حوالے سے زبیر الحسن غا فل کی شاعری کا مطالعہ کیا تو ان کی متنوع خوبیوں سے روشناس ہوئی قبل اس کے اتنی جہتوں سے آشنا نہیں تھی، گویا ان کے اس مجموعے نے مجھ پر سحر کاسا اثر کیا۔ زبیر الحسن غافل نے اپنے اس مجموعے میں زندگی کے کئی رنگ بکھیرے ہیں۔اس میںحمد اور نعت کی شکل میں، اللہ اور ہمارے پیارے نبی حضورؐ سے محبت کااظہار ملتاہے، تو ’سوزجگر‘ کی غزلیں ان کے جگر کا درد آشکار ا کرتی ہیں، کبھی وہ ’شوخیِ نظر‘ کا تیرچلاتے ہوئے مزاحیہ انداز میں ملک کی سماجی وسیاسی حالت پر چوٹ کرتے نظرآتے ہیں تو وہیں وہ ’رنگ دگر‘ کے ذریعے اپنی طرحی غزلوں سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ ’سلک گہر‘ کے متفرقات موضوعات کے ذریعے وہ اپنی ادبی صلاحیت کا لوہا منواتے ہیں، وہیں جب ہم ’دیدہ تر‘ کو دیکھتے ہیں تو ہماری آنکھیں غافل صاحب کے دردمندانہ اظہار کے ذریعہ نم ہوجاتی ہیں، آخرمیں اس ’اجنبی شہر‘ کی منزل ’نقش ہنر‘ پر ختم ہوتی ہے، جہاں معزز شخصیات نے ’اجنبی شہر‘ اور اس کے خالق زبیر الحسن غافل کے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار کرکے ہماری معلومات میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ زبیر الحسن غافل کی شاعری کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر بھی کیاہے۔ ’اجنبی شہر‘کے آغازِ سفر میں بھی مختلف قلم کاروں نے ’نقد ونظر‘ کے ذریعے زبیر الحسن غافل کی شاعری کو ادب کی کسوٹی پر پرکھ کران کی شاعرانہ بصیرت اور ان کی انفرادی صلاحیت کا برمحل اظہار کیاہے۔

 زبیر الحسن غافل کا تعلق بہار کے ضلع ارریا سے ہے، ان کا شمار ارریا کے معتبر شعرا میں ہوتاہے۔وہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں، ان کے کام اور مزاج میں مجھے بڑا تضاد نظرآیا، جو ڈیشیل مجسٹریٹ جیسے سنجیدہ  عہدے کا انسان اتنے اعلیٰ پایے کی ظریفانہ شاعری کرسکتاہے، یہ کافی متاثرکن ہے۔ ظریفانہ شاعری انھیں ورثے میں ملی تھی۔ ان کے نانا فرزندعلی شیدا اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے، ان کے ماموں اسلام الدین مخمور وکیل ہونے کے ساتھ اچھے شاعر بھی تھے، اور ظریفانہ رنگ میں شعر کہتے تھے۔ ان کے وا لد ظہور الحسن بھی اچھی شاعری کرتے تھے۔ گویا وکالت اور شاعری مشترکہ طورپر ان کے خون میں شامل ہے۔ زبیر الحسن غافل نے اپنی وکالت کے دوران سماج کے مختلف مسائل کو قریب سے دیکھا، انھیں ظالم ومظلوم دونوں کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے کا موقع ملا۔ملک کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی پہلوؤں پر ان کی گہری نظر ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں موضوعات کا تنوع ہے۔وہ زندگی کے تلخ وشیریں تجربے کو مزاحیہ انداز میں قاری کے گوش گزار کردیتے ہیں، تاکہ موضوع کی تلخی قاری کو گراں نہ گزرے، یوں نیم کی گولی کو شوگر کوٹیڈکرکے وہ قاری کو پیش کردیتے ہیں۔

زبیر الحسن غافل کی شاعری پر غالب، اکبرالہ آبادی،  اور فیض احمد فیض کا اثر نظر آتاہے۔ ظریفانہ رنگ میں وہ غالب سے متاثر نظرآتے ہیں تو طرز فکر میں وہ اکبر الہ آبادی سے زیادہ قریب ہیں، وہیں موضوع کے اعتبار سے وہ فیض احمد فیض کی پیروی کرتے نظرآتے ہیں۔تاہم زبیر الحسن غافل کا اندازجداہے۔وہ ہلکے پھلکے انداز میں اپنی بات قاری تک پہنچاتے ہیں۔وہ زندگی کی تلخ حقیقت کوبڑے سلیقے کے ساتھ سادہ اور سلیس انداز میں شعر کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں۔ رشوت خوری ہما رے سماج کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ ہر طرف رشوت کی بدولت نااہل لوگ بھی اعلیٰ مقام پر فائز ہوجاتے ہیں۔ اسی کی بدولت مفاد پرست انسان اپنا کام آسانی سے نکال لیتاہے، جب کہ ایماندارانسان خاموش تماشائی بن کر در در کی ٹھوکر کھاتارہ جاتاہے۔ہمارے مکروہ سماج کے اس ناسور کو کریدتا ان کا ظریفانہ انداز دیکھیے       ؎

ہر بار نیا ایک کرشمہ یہ دکھائے

معصوم کو پھانسے کہیں مجرم کو بچائے

اکزام بھی کچھ لکھے بناپاس کرائے

رشوت کے مقدمے سے بھی رشوت ہی چھرائے

جاری ہے اس کا فیض ہر اک خاص وعام پر

فن وشعبدہ کا ختم اسی کے ہے نام پر

(رشوت)

 زبیر الحسن غافل کی شاعری صرف ہنسنے ہنسانے تک محدود نہیں بلکہ وہ سنجیدگی کے ساتھ سماج کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں، جو کسی بھی بالیدہ ذہن کوبیدار کرنے کے لیے کافی ہے۔ گویا ان کی نظمیں ہمیں پیغام دیتی ہیں کہ ہم خود کو کس طرح حالات سے نبرد آزما کر یں، اور اپنے سماج کی اصلاح کریں۔

موضوع خواہ سیاسی ہو یا سماجی لیکن انھوں نے شعری محاسن کو کبھی مجروح ہونے نہیں دیا۔ان کی شاعری میں فکر وفن کا حسین امتزاج نظرآتاہے۔

زبیرالحسن غافل ہربرائی کو اپنے طنز کا نشانہ بناتے ہیں، مگر کہیں بھی جارحانہ رویہ اختیارنہیں کرتے بلکہ سادگی وسلاست کے ساتھ اپنی بات رکھتے ہیں، وہ نئی تہذیب کی عریانی سے بیزار نظرآتے ہیں، مگر انھوں نے اکبرالہ آبادی کی طرح نئی تہذیب کے خلاف محاذ نہیں کھولا بلکہ دھیمے انداز میں اس تہذیب کی شکایت کی ہے کیوں کہ اس نئی تہذیب نے ہم سے ہمارا اخلاق، ثقافتی ورثہ اور شرم وحیا کوModernismکے نام پر چھین لیاہے       ؎

شرم آنکھوں سے رخ سے حیالے گئی

جانے تہذیب نو اور کیالے گئی

زبیرالحسن غافل کی شاعری میں جہاں طنزومزاح کانشاطیہ پہلوہے وہیں ان کی غزلوں میں کلاسیکی شاعری کی بیش بہا خصوصیات بھی موجودہیں۔ انھوں نے اصل زندگی کے تمام لوازمات کو اپنی شاعری میں برتا ہے۔ ان کے یہاں فلسفہئ حیات ہے تو عشق کی تپش بھی، دنیا کی بے ثباتی کا کرب ہے، توحوصلہ واستحکام بھی، غرض ان کی شاعری میں نشاطیہ کرب کا حسین امتزاج ملتا ہے۔زبیر الحسن غافل کی شاعری کی خصوصیات کے متعلق حقانی القاسمی اپنے مضمون ’صرصر سے الجھتی صبا: زبیر الحسن غافل کا تخلیقی مد و جزر‘ میں لکھتے ہیں کہ    :

’’زبیر الحسن غافل کی شاعری میں ’نشاطیہ کرب‘کی بھی بہت مثالیں ملتی ہیں۔دراصل یہی نشاطِ غم ہے جو زندگی کا اصل فلسفہ ہے اور اسی فلسفے سے انسانی زندگی میں امید اور رجا کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔تمام تر خطرات کے باوجود امید و رجا کا شاعر زندگی کو نہایت آزادہ روی کے ساتھ گزار دیتا ہے۔ دیکھا جائے تو کلاسیکی شاعروں کی طرح غافل میں بھی ایک جنون اور دیوانگی کی کیفیت ہے اور اسی مقدس دیوانگی نے ان کی زندگی کے زاویے اور حیات و کائنات کے نظریے کو اثباتی رنگ عطا کیا ہے۔ حیات و کائنات کے تضادات میں انھوں نے جو توافق تلاش کیا ہے،وہ توافق اُن کے اندرون اور ذہنی و فکری صحت مندی کا اشاریہ ہے‘‘

(مجموعہ ’اجنبی شہر‘،از،زبیر الحسن غافل،براون بک پبلی کیشنز،نئی دہلی،2015،ص:37-38)

موصوف کی زندگی کا ا شاریہ ان کی شاعری میں پوری طرح جلوہ گر ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں متنوع موضوعات پر اشعار مل جاتے ہیں۔ان کی غزلوں کے مختلف موضوع پر متفرق اشعار ملاحظہ ہو           ؎

بے نام آدمی جو سرشام ہوگیا

سورج کے شہرمیں وہ اندھیراہی کرگیا

کبھی جو گزرا تیری گلی سے چراغ یادوں کے جل گئے ہیں

نظرجوآئی تمہاری چوکھٹ جبیں پہ سجدے مچل گئے ہیں

غافل کے لبوں پر ہنسی دیکھی تھی ہم نے

کچھ لوگ مگر کہتے ہیں آنکھوں میں نمی تھی

سلیقہ جن کو تھا رنج والم میں جینے کا

غموں کی دھوپ میں وہ اور بھی نکھرآئے

’اجنبی شہر‘کے مطالعے سے بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ زبیرالحسن غافل نے اردو شاعری کی تقریباً ہر صنف میں اپنی تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کیاہے، شخصی مرثیے کی اگر ہم بات کریں تو انھوں نے اپنے والد محترم کے لیے ’والد کی وفات پر‘ اور اپنے لخت جگر کا مرثیہ بعنوان ’اپنے مرحوم بیٹے اشعر حسن آشی کی نذر‘ لکھ کر اپنے دردکا اظہار کیا ہے۔ زبیرالحسن غافل نے اپنے رنج وغم کو اس درد مندانہ انداز میں پیش کیاہے کہ ان کی شاعری کا منفرد رنگ وآہنگ آشکار ہوجاتاہے۔

زبیرالحسن غافل نے پیروڈی کے ذریعے بھی اپنی شعری صلاحیت کو اجاگر کیاہے۔ ان کی پیروڈی میں تک بندی کی خامی نہیں بلکہ فکر ومعنی کی ایک الگ دنیا آباد ہے۔  انھوں نے مشہورشعرا غالب، فیض احمدفیض، مجروح سلطان پوری اور دیگر شعرا کی زمین میں پیروڈیاں لکھ کر ان سنجیدہ موضوعات کو طنزومزاح کی دلکشی اور تازگی سے آراستہ کردیاہے۔ ان کی پیروڈی میں ’دیتے ہیں دھوکا یہ لیڈر کھلا‘ (برغزل غالب) ’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ ‘ اور ’خلد شیشے میں‘ شامل ہیں۔ ایک بند دیکھیے      ؎

میںنے سمجھا تھا جنوں عشق کا گھٹ جائے گا

تو بھی اکتا کے مرے راہ سے ہٹ جائے گا

تھا نہ معلوم کہ وہ دن بھی کبھی آئے گا

بھوت کی طرح تو مجھ سے چمٹ جائے گا

اب میںبچوں کو کھلائوںکے تجھے پیار کروں

تیری زلفوں کو سنواروںکہ میں بازار کروں

 کیا دیا تو نے مجھے شادی کی جھنجھٹ کے سوا

  حاصل عشق ہے کیا روز کی کھٹ پٹ کے سوا

  مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ

   (پیروڈی’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘)

 زبیرالحسن غافل کی طرحی غزلوں کی خاصی تعداد بعنوان ’رنگ دگر‘ ان کے مجموعے ’اجنبی شہر‘ میں شامل ہیں۔ ان کی طرحی غزلیں درجہ کمال کی ہیں، جن میں ان کی شاعری کے سنجیدہ گوشے نظرآتے ہیں، ان میں سلاست وفصاحت اور غنائیت کی حسین رنگا رنگی ہے جو ان کی شاعری کو پر اثر وپرلطف بناتی ہے۔ شعرملاحظہ ہو       ؎

کہیں یادوں کے کانٹے تھے کہیں تھے درد کے پتھر

تمھارے شہر میں کتنی پریشانی سے ہم گزرے

شاعری میں صنف ماہیاوہ صنف شعر ہے جس میں تین مصرعوں میں شاعر اپنی بات کہتا ہے، اس کا پہلا اور تیسرا مصرعہ ہم وزن جب کہ درمیانی مصرع کے دو حروف پہلے اور آخری مصرع کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔یہ پنجاب کی مشہور صنف ہے جو بنیادی طورپر گائی جانے والی صنف ہے، زبیرالحسن غافل نے نہ صرف اس صنف میں طبع آزمائی کی بلکہ کامیاب بھی ہوئے مثال دیکھیے     ؎

گجرا ابھی تازہ ہے

ایسے میں آجاؤ

موسم کا تقاضہ ہے

مجموعہ ’اجنبی شہر‘ میں زبیرالحسن غافل کی شاعری کی الگ دنیا آبادہے، جس میں سنجیدہ ذہن کا انسان ظریفانہ انداز میں سماج کے مسائل، انسانی نفسیات، سیاست کی بے حسی، ثقافت کا بکھرتا شیرازہ اور زندگی کے گوناگوں پہلوؤں سے پردہ اٹھاتاہے۔ان کی شاعری کا نشاطیہ کرب ہمیں احساس دلاتاہے کہ زندگی کی حقیقت پرہنسنے والا اندر سے ٹوٹا اور بکھرا ہوا بھی ہوسکتاہے۔ تاہم یہ زبیرالحسن غافل کی شاعری کا امتیازی پہلوہی ہے، جوہماری آنکھوں میں نمی لاکر بھی ہونٹوں پر مسکان بکھیر دیتا ہے۔

 

Dr. Fatma Khatoon

B-40/8, 3rd Floor, Iron Gate

Garden Reach

Kolkata - 700024 (West Bengal)

Mob.:9831726195

Email.: fatmakhatoon2809@gmail.com

 

 



 

 


19/5/22

پروفیسر ابوالکلام قاسمی کی تنقیدی بصیرت اور خسرو شناسی - مضمون نگار : ریاض توحیدی

 



پروفیسرابوالکلام قاسمی (1950-2021)  ایک استاد  ہونے کے علاوہ ادب میں تنقید نگار کی حیثیت سے بھی اپنا ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔علاوہ ازیں کئی رسائل کے ساتھ عملی طور پر منسلک رہے، جن میں’ تہذیب الاخلاق‘ خصوصی طور پر شامل ہے اور اپنا ایک رسالہ ’امروز‘ بھی نکالتے تھے جس نے کم وقت میں سنجیدہ قارئین کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی۔ ان کی اہم کتابوں میں کثرت تعبیر، شاعری کی تنقید، تخلیقی تجربہ، مونوگراف مرزا غالب۔۔۔ شخصیت اور شاعری، مشرقی شعریات اور اردو تنقید کی روایت اور ’معاصر تنقیدی رویے‘ وغیرہ شامل ہیں۔ ساہتیہ اکادمی سے کتاب’معاصر تنقیدی رویے‘ کو 2009 میں ایوارڈ بھی ملا تھا۔ ان کی ترتیب  وترجمہ کردہ کتابوں میں آزادی کے بعد اردو فکشن، آزادی کے بعد اردو طنز و مزاح، انتخاب کلام فراق گورکھپوری‘، کلیات رشید احمد صدیقی، مشرق کی بازیافت، ناول کا فن اور’ڈاکٹر ذاکر حسین ‘ شامل ہیں۔

مجموعی طور پر اردو تنقید کااحاطہ کریں تواردوتنقید کا معتدبہ حصہ تبصراتی، تشریحی،  توصیفی یاتنقیحی نوعیت کا خاکہ معلوم ہوتا ہے، اور بہت کم ناقدین ہیں جن کی تحریرات میں تفکیری اور تجزیاتی فکر و پرکھ کا تکنیکی مکالمہ نظر آتا ہے، ان میں پروفیسر ابوالکلام قاسمی بھی شامل ہیں، کیونکہ موصوف کسی بھی شعری متن پر گفتگو کرنے کے دوران تنقیدی اسالیب کے پیش نظرتجزیے و تحلیل کے ماہرانہ عمل کا ثبوت جگہ جگہ فراہم کرتے ہیں جو ان کی تصنیفات خصوصاً ’شاعری کی تنقید‘ اور ’معاصر تنقیدی رویے‘ کے بیشتر مضامین سے ظاہر ہوتاہے۔اردو تنقید کے رسمی اور مکتبی انداز کا احساس خود ابوالکلام قاسمی کو بھی تھا کیونکہ ان کی نظر اردو کے علاوہ کئی اور زبانوں کے ادب پر بھی تھی، چونکہ دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران عربی اور فارسی سے شناسائی اور پھر عصری تعلیم کے میدان میں آکر اردو ، انگریزی اور چند دیگر زبانوں کے شعر و ادب سے بھی انھیں استفادہ کرنے کا موقع ملاتھا، اس لیے اپنی عدم اطمینانیت کا اظہار کرتے ہوئے کتاب ’معاصر تنقیدی رویے‘ میں فرماتے ہیں:

’’اردو تنقید کی عام فضا ہنوز تاثراتی اور عمومی نوعیت کی تحریروں کو ادبی تنقید کا نام دینے میں مصر نظر آتی ہے۔ اس ماحول میں ادبی تنقید کی منطقی زبان اور معروضی  طرز بیان پر کوئی مفاہمت نہ کرنا ہماری سب سے بڑی ناقدانہ ذمے داری بن گئی ہے۔ ناچیز نے شاعری اور نثر دونوں طرح کے ادب پاروں میں تنقیدی مضامین لکھے ہیں لیکن بالعموم کوشش رہی ہے کہ شاعروں اور ادیبوں کو مرکز میں رکھنے کے بجائے ان کی تخلیقات کو بنیادی محور بنایا جائے اور متن پر سارا ارتکاز رکھنے کے نتیجے میں تحریک پانے والے ناقدانہ عمل کواستدلال کی مددسے سامنے لایا جائے۔‘‘   (ص6)

مذکورہ اقتباس میں جو اہم بات کہی گئی ہے وہ بنیادی متن پر ارتکاز کرکے ناقدانہ تجزیہ پیش کرنا ہے اور یہی ادبی تنقیدکا بنیادی کام ہے۔اگرچہ ابوالکلام قاسمی کی تحریرمیں یہ طریقہ کار جگہ جگہ نظر آتا ہے تاہم ان کے علاوہ اردو کے کئی اور ناقدین  بھی نہ صرف اس قسم کے تنقیدی اپروچ پر زور دیتے آئے ہیں بلکہ عملی طور پر ان کی تنقیدی نگارشات میں یہ چیزیں نظربھی آتی ہیں، جس سے اردو تنقید کی معیار بندی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔اس حقیقت کی جانب موصوف بھی اشارہ کرتے  ہوئے اپنے تنقیدی طریقہ کار کے مقصد سے متعلق لکھتے ہیں:

’’مجھے اس بات کے اظہار میں کوئی تکلف نہیں کہ معاصر تنقیدی منظر نامے میں سنجیدہ اور قابل اعتنا کاوشیں بہت کم دکھائی دیتی ہیں اس لیے اردو میں تنقید کے نام پرلکھی جانے والی عام تحریروں سے بے اطمینانی کااظہار کیے بغیر کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔میں اگر تنقید لکھتا ہوں تو اس کاسبب اس بے اطمینانی کے ازالے کی بساط بھر کوشش کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ‘‘                           

ادبی تنقید کے اصول و ضوابط کو پیش نظر رکھیں تو کسی بھی تخلیقی متن کے تجزیاتی عمل کے دوران تخلیق کار کے زمانی ماحول کے برعکس تخلیق کے متنی ماحول پر ارتکاز کرنا تنقیدی بصیرت کہلاتا ہے تاہم دوران تجزیہ اگر کہیں کہیں متن، تخلیق کار کے زمانی یا ثقافتی ماحول کی بھی عکاسی کرتا ہے اور یہ معاملہ اکثر شعر وفکشن میںسامنے آتا رہتا ہے تو بھی تنقیدی نقطہ نگاہ سے متن(Text) اور بین المتن (Inter text)  میںپوشیدہ لسانی، صوتی، ہیئتی، موضوعی، اسلوبیاتی، ساختیاتی اور جمالیاتی وغیرہ جیسے فنی اور تکنیکی عوامل کے زیر نظر ہی توضیحی امکانات کا سلسلہ چلتا رہے گا اور اس دوران حسب ضرورت تخلیق کار کی شخصیت اور اس کی تخلیق میں عصری اثرات کوپیش نظر رکھ کر بھی بات کی جاسکتی ہے، کیونکہ متن میں الفاظ کے ذریعے ہی معنیاتی فضا بندی قائم ہوتی ہے جو بقول سوسیئر’’صوتی طور پر’ معنی نما‘ (Signifier) اور تصور یا مفہوم کے طور پر ’معنی‘ (Signified)  کے ساختیاتی نظام پر استوار ہوتا ہے۔اس ضمن میں پروفیسر ابوالکلام قاسمی ادبی تنقید کے اطلاقی طریقہ کار کی اہمیت اور ضرورت پر نظریاتی انداز سے گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ادبی تنقید کا نام لیا جائے تو بالعموم اس سے اطلاقی تنقیدمراد لی جاتی ہے۔یعنی کوئی ایسی تحریر جوادبی متن کے مطالعے، تفہیم، تجزیے، تقابل، اور تعبیر جیسے وسیلوں کو استعمال کرنے کے بعد ادب پارے کی جانچ پرکھ کرے یا زیادہ واضح  انداز میں کہا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ تنقید تو دراصل وہ ہے جس کے وسیلے سے ادبی متن کے سمجھنے اور اس کی قدروقیمت کو متعین کرنے کا فریضہ انجام دیا جاتا ہے۔ اس عمل میں تحسین کے ساتھ تنقیص کے مراحل بھی آتے ہیں۔مگر نہ تحسین بلادلیل ہونی چاہے اور نہ تنقیص بغیر کسی نقص کی نشاندہی کے۔ یعنی ہرمرحلے   اور ہر فیصلے میں غیر جانبداری اور معروضی، بنیادی شرط قرار پائے گی۔‘‘

(معاصر تنقیدی رویے،ص11)

محولہ اقتباس میں ادبی تنقید کے اطلاقی پہلوؤں کا عمدہ احاطہ کیا گیا ہے کیونکہ ایک ناقد کاصاحب بصیرت ہونا ضروری ہے تب ہی وہ کسی معیاری متن کا ناقدانہ تجزیہ کرسکتا ہے نہیں تو پھر تنقید کے نام پر تبصرہ نگاری یا سطحی قسم کی خیال آرائی ہی سامنے آتی رہے گی۔

اب پروفیسر ابوالکلام قاسمی صاحب کی خسروشناسی پر توجہ دیں تو اس تعلق سے ان کی تنقیدی کتاب ’شاعری کی تنقید‘ میں شامل مضمون ’خسرو کی غزلیہ شاعری کی حرکیات‘ پر ارتکاز کرنا مفید رہے گا۔ اس کتاب کے تنقیدی مباحثہ پر غور کریں تو اس میں قدیم وجدید تخلیقی متون کا تجزیہ ۔۔۔لسانی، ہیئتی، صوتی، ساختیاتی، نفسیاتی، جمالیاتی، معنیاتی اورماحولیاتی نظام کے اندر معنی خیز انداز سے کیا گیا ہے۔ ان میں روایتی انداز کی معنیاتی تشریح کے برعکس تخلیق کی توضیح میں اپنا خیال بھی شامل کیا گیا ہے جو کہ تجزیاتی عمل کی دلچسپ غمازی کرتا ہے۔جس کا اندازہ شامل کتاب مضامین کے عنوانات خسرو کی غزلیہ شاعری کی حرکیات، ولی دکنی کا شعری طریقِ کار، خواجہ میر درد ـ ماورائے تصوف، غالب کا شعری لہجہ، ذوق کی غزل گوئی :ایک بازیافت، اردو غزل کی روایت میں اقبال کی انفرادیت،  فراق کی غزل کے امتیا زات،  جدید تر غزل کی صورت حال سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ان مضامین کے مباحث اتنے اہم ہیں کہ ہر مضمون کا الگ الگ جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

ابتدا میں ’میرا تنقیدی موقف‘ میں اپنی تنقیدی کارگزاری کے اسلوب کی صراحت کرتے ہوئے قاسمی صاحب فرماتے ہیں:

’’۔۔۔کوئی تنقیدی رویہ میرے لیے اس وقت تک قابل قبول نہیں بن پایا جب تک شعری متن کے براہ راست مطالعے نے اس کی توثیق نہ کردی ہو۔ چناچہ میرے لیے تنقید نگار کا منصب بنیادی طور پر ایک ایسے باذوق قاری کا منصب ہے جو شاعرانہ تدبیر کاری سے باخبر ہونے کے باوجود شاعری کی بھرپور تفہیم، تحسین اور  جمالیاتی قدر کے تعین کے عمل سے، سب سے پہلے گزرنا چاہتا ہے۔ اس موقعے پرمجھے اس تنقیدی طریق کار سے بے اطمینانی ظاہر میں کرنے کوئی تکلف نہیں، جس کا تعلق محض تنقیدی نظریات کے انطباق سے ہوتا ہے یا جس میں شعری متن سے حاصل ہونے والی توثیق سے ماورا ہوکر صرف تنقیدی پیمانوں کی کھتونی سے سروکار رکھا جاتا ہے۔ ‘‘(ص: Viii)

 ان تنقیدی تصریحات کے پیش نظر کتاب میں شامل مضمون ’خسرو کی غزلیہ شاعری کی حرکیات‘ پر نظرڈالیں تواس مضمون میںامیر خسرو کے غزلیہ کلام کی شعریات کے لسانی، صوتی اور استعاراتی نظام کے حرکیاتی رنگ و آہنگ کا معنی خیز اور دلچسپ تجزیہ پیش ہوا ہے۔ مضمون کی شروعات میں خسرو شناسی کے مطالعے کے بارے میں کہاگیا ہے کہ ’’۔۔۔تاہم یہ مطالعے بھی خسروکے فکری رویّے کی طرف بعض اشاروں سے آگے نہیں بڑھتے، اور خسرو کے پیرایۂ بیان اور شعری طریقِ کار کی تفہیم میں ہماری کوئی مدد نہیں کرتے۔‘‘(ص3)

اور اس کے بعد خسرو کی غزلیات کے تنقیدی عمل اور اپنی ترجیحات کا احاطہ یوں کیا گیا ہے:

’’اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی شاعری کے بارے میں خسرو کے بیانات اور تنقیدی آرا کو درمیان میں حائل کیے بغیر ان کی غزلوںکے متن کا براہ راست سامنا کیا جائے اور اس متن کے وسیلے سے خسرو  کے شعری طریقِ کار کو سمجھا جائے۔‘‘    (ص4)

خسرو کی غزل کی امتیازی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ’’ان کی غزل اپنے پیرایۂ اظہار کے اعتبار سے فعالیت‘حرکت اور محرک قوتوں کی کشمکش کا ایسا تاثر قائم کرتی ہے جس کی تشکیل میں استعارہ سازی ‘پیکر تراشی اور قول محال (Paradox) کی موجودگی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔‘‘(ص5)

خسرو کی غزل میں مستعمل استعارے کا روایتی استعمال معنوی یا تکرار کے طور پر کلیشہ نہیں بلکہ متحرک بن کر معنی آفرینی کے کئی در وا کرتا ہے تو خسرو کی استعارہ سازی کے حرکیاتی عمل کا مدلل احاطہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’’خسرو کی شاعری میں جب استعارہ سازی کا عمل،  معنی آفرینی کے ذریعے پیدا کیے گئے تنوع سے دوچار ہوتا ہے تو لغوی معنی ‘استعاراتی معنی اور مستعارمنہ اور مستعار لہ کے مابین جو محرک قوتیں کارفرما نظر آتی ہیں، دراصل وہی، خسرو کے استعاروں کی حرکیات کاتعین کرتی ہیں۔‘‘ جیسے منتخبہ اشعار میں پہلے شعر کا تجزیہ دیکھیں:

ہمہ  آہوانِ  صحرا  سرِ  خود  نہادہ  برکف

بہ  امید آں کہ   روزی  بہ  شکار  خواہی  آمد

’’(یہ) شعر ظاہری معنی کے اعتبار سے شکار ہونے کی خواہش اور شکار کرنے کے عمل پر مبنی معلوم ہوتا ہے مگر غور کیجیے تو پتہ چلتا ہے کہ اشتیاق ملاقات کی شدید کیفیت ، اس شعر میں خود سپردگی ہی نہیں بلکہ شوقِ شہادت کی حدوں کو پہنچی ہوئی ہے۔چنانچہ اس شعر کی محرک قوت شوقِ ملاقات بن جاتی ہے۔‘‘(ص7)

اس طرح کا تجزیہ نہ صرف شعر کی معنوی جہت کا ایک نیا پہلو سامنے لاتا ہے بلکہ قرات کو بھی نئی لطافت سے نوازتا ہے۔

خسروکی شعری کائنات میں اسلوب شعرکے متنوع پہلو نظر آتے ہیں جو فکری و فنی بنیاد پرسوچ وفکر کے کئی در وا کرتے رہتے ہیں۔ ان میں قولِ محال (Paradox) کی اصطلاح  خاص طور پر شاعرانہ تدبیرکاری (Poetic Devices) میں اہم رول ادا کرتی ہے۔خسرو کے غزلیہ کلام پر ارتکاز کرتے ہوئے ان کی غزل میں قول محال کے فنی استعمال کو ’اجتماع النقیضین‘یا’ تضاد کی حرکیات ‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’خسرو‘ قول محال کی تخلیق کرنے اور تضادات کو ابھارنے کی غرض سے ایک سے زیادہ شاعرانہ تدبیر کاری(Poetic Devices)کو روبہ عمل لاتے ہیں۔ کبھی وہ لفظی تضاد کو ابھارتے ہیں ‘کبھی لغوی اور استعاراتی معنی کے تضاد کو نمایاں کرتے ہیں۔ کبھی صورت حال کے تضاد سے قول محال کا تناؤ پیدا کرتے ہیں اور کبھی ایک سے زیادہ پیکروں کے درمیان پائے جانے والے تناقض کو آمنے سامنے  لاکھڑا کرتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس قسم کے قول محال یا (Paradox) کی تمام صورتوں میں جو چیزیں ہمیں مشترک دکھائی دیتی ہیں،  اس کو ’تضاد کی حرکیات‘کے علاوہ کوئی اورنام نہیں دیا جاسکتا۔‘‘

مجموعی طور پر دیکھیں تواس مقالے میںامیر خسرو کی غزل کی حرکیات کا مطالعہ پیش کرتے ہوئے خسرو کی شاعرانہ تدبیر کاری، ڈکشن،  امیج سازی، پیکر تراشی، استعارہ سازی وغیرہ پر فکرانگیز مکالمہ باندھا گیا ہے ‘جو نہ صرف خسرو شناسی کے باب میں ایک اہم اضافہ قرار دیا جاسکتا ہے بلکہ خسرو کے کلام کی فکری اور معنوی جہات کی تفہیم و تعبیر کے نئے اکتشافات کے لیے دعوت فکر بھی دیتاہے، کیونکہ بقول قاسمی صاحب:

’’خسرو کی غزل کی یہی حرکیات (Dynamics) فارسی شاعروں کی بھیڑ میںان کے امتیازکی ضمانت ہے‘اور خسرو  کی یہی افتاد طبع صوفی ہونے کے باوجود انھیں وحدۃالوجودی انفعالیت سے دور رکھتی ہے اور اپنے ہم مشرب صوفیوں سے اس نوع کے تخاطب کا حوصلہ عطا کرتی ہے      ؎

اے صوفیانِ  مست  یکے  رقص  عاشقاں

تا  ایں  کبودِ  کہنہ   بساط   شما   کنیم‘‘

(ص12)


 

Dr. Reyaztawheedi

Wadipora Handwara

Kupwara - 193221 (Kashmir)

Mob.: 7006544358

Email.: drreyaztawheedi777@yahoo.com





17/5/22

حسین الحق: فکشن کے ایک روشن باب کا خاتمہ - مضمون نگار: محمد شارب

 



حسین الحق کو پہلی بار دسمبر2016  میں قریب سے دیکھنے کا موقع میسر آیا جب ونوبا بھاوے یونیورسٹی، ہزاری باغ(جھارکھنڈ) کے شعبۂ اردو میں ’اردو شاعری میں قومی یکجہتی کے عناصر‘ پریک روزہ سمینار کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس تقریب میں ان کے ساتھ ساتھ اسلم جمشید پوری، شاہد رضوی، پروفیسر فاروق، ڈاکٹر کہکشاں پروین، احمد بدر (صدور) وغیرہ نے شرکت کی تھی۔ اس میں بحیثیت ریسرچ اسکالرز مقالہ نگار کے راقم الحروف کی بھی رانچی سے شرکت ہوئی تھی۔جب حسین الحق کو دعوت سخن دی گئی تومیں نے دل ہی میں اراکین بزم (ڈاکٹر عامر مصطفی صدیقی، ڈا کٹر زین رامش، ڈاکٹر ہمایوں اشرف وغیرہ) کا شکریہ ادا کیا۔ اس دن کی تقریب میرے لیے تاریخ رقم کرنے جیسی تھی کہ جن کا نام اب تک میں نے ناول ’بولو مت چپ رہو‘ اور ’فرات ‘ کے حوالے سے سنا تھا آج انھیں اپنی آنکھوں سے اور دن کی روشنی میں دیکھ رہا ہوں۔رنگ گورا چٹا، قد درمیانہ، آنکھوں پر عینک، خشخشی داڑھی اور زبان و بیان میں بلا کی روانی تھی۔ جب موصوف نے تمہید کے بعد اپنی تقریر کا سلسلہ شروع کیا تو نظیر اور اردو ادب کے حوالے سے ایسی معلومات افزا باتیں سامنے آئیںجن سے اب تک میں نابلد تھا۔ دوران تقریرمعلوم یہ چلا کہ انھیں نظم و نثر دونوں اصناف ادب میں ید طولیٰ حاصل تھا۔ انھوں نے کوئی سو سے زائد غزلیں بھی لکھیں ہیں۔شاعری میں اپنا تخلص حسین استعمال کرتے تھے۔ وہ کلاسیکی اردو شعریات کے احیا کے آرزو مند تھے اور اسی بنیاد پر بر صغیر کی مقامی زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو، عربی اور فارسی زبان کے کلاسیکی ادب کے مطالعے سے اردو شاعری کو وقار و عظمت عطا کرنے کے خواہاں تھے، لیکن اسے بھی محض ایک اتفاق ہی کہا جائے گا کہ موصوف کا ایک بھی شعری مجموعہ ہنوز منظر عام پر نہیں آسکا ہے۔ اگر شعری تصنیف کے پس منظر میں بات کی جائے تو ایک کتابچہ ’آخری گیت‘ جو ایک طویل نظم تھی تقریباً 30-32  صفحات پر مشتمل تھا شائع کرایا۔جہاں تک اردو فکشن کی بات کی جائے تو اس صنف میں انھیں زبردست عبور حاصل تھا جس کے تعلق سے صوبۂ بہار کی سر زمین کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے جہاں سے جید فکشن نگاروں اور دانشوروں نے جنم لیا۔ایسے ہی ناموں میںایک معروف نام موصوف کاہے۔

حسین الحق جو 72 برس کی عمر گزار کراس دار فانی سے 23 دسمبر 2021 کو اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔  انھیں اب مرحوم لکھتے کلیجہ منھ کو آتا ہے گزشتہ ایک سال سے گلے کے کینسر میں مبتلا تھے۔ علاج و معالجے میں کوئی دقیقہ باقی نہ تھااور علاج کے دوران ہی پٹنہ کے میدانتا ہسپتال میں داعیِ اجل کو لبیک کہا اور آبائی وطن سہسرام میں سپرد خاک ہوئے۔ وہ مختلف اصناف ادب میں مہارت رکھتے تھے۔ وہ ہمہ جہت شخصیت تھے جن کی شخصیت کے کئی گوشے روشن ہیںجہاں یہ بیک وقت ایک غیر معمولی فکشن نگار تھے، وہیں ایک مشفق و مہرباںاستاذ کی حیثیت سے مختلف جامعات میں درس و تدریس کا کام انجام دیا توعلم تصوف میں بلا کی مہارت حاصل تھی، مصلح ایسے کہ کسی کو ان کی تجاویز سے کوئی اختلاف نہ ہوتا، فلسفیانہ گفتگو میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا،خود احتسابی اور نقد ونظر کے سارے احوال پر اظہار خیال ان کا کمال سمجھا جاتا تھا اور ساتھ ہی عالمی ادبیات کے ماہرین میں بھی ان کا شمار ہوتا۔ ان کے معاصرین فکشن نگاروںمیں عبدالصمد، پیغام آفاقی، غضنفر، مظہر الزماں خاں، شوکت حیات،شموئل احمد،  سلام بن رزاق، نورالحسنین، انجم عثمانی کے نام نامی شامل ہیں۔

حسین الحق کی پیدائش 2نومبر 1949 کو محلہ املی آدم، سہسرام، بہار میں ہوئی۔ ان کے والد مولاناانوارالحق شہودی نازش سہسرامی تھے جو ایک عالم، صوفی صفت انسان تھے اور والدہ کا نام شوکت آرا تھا۔خود موصوف بھی متصوفانہ فکر رکھتے تھے۔ انھوں نے سیاسی، سماجی اور معاشرتی تغیرات پر بھی خامہ فرسائی کی ہے لیکن عام انسانی زندگیوں پرجیسی غائرانہ نگاہ انھوں نے ڈالی ہے ویسی ان کے معاصرین میں کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ان کی شادی 1977   میں نشاط آرا خاتون سے ہوئی جن کے بطن سے دو بیٹیاں اور دو بیٹے تولد ہوئے۔برسوں قبل بسلسلۂ ملازمت ان کی فیملی سہسرام سے گیا، نیوکریم گنج آکر آباد ہو گئی تھی لیکن اپنے آبائی وطن سے ان کا رشتہ ہمیشہ برقرار رہا۔

 ان کی ابتدائی تعلیم ان کے آبائی وطن سہسرام میں ہی ہوئی۔ کبیریہ مدرسے سے مولوی کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد آرا ضلع اسکول سے 1963  میں میٹرک کے امتحان میں کامیاب ہو کر1968  میں S.P. Jain collegeسہسرام سےB.A. کی ڈگری امتیازی نمبرات سے حاصل کی۔ 1970 میںM. A.کے امتحان میں بھی پٹنہ یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کی۔ اس کے بعد 1972 میں مگدھ یونیورسٹی سے بھی فارسی میں ایم۔ اے کیا۔پھر عارضی طور پر گورو گووند سنگھ کالج، پٹنہ میں بحیثیت لیکچرار ملازمت بھی کی۔اسی دوران انھیں U.G.Cکی جانب سے جونیر فیلوشپ عطا ہوئی اور 1974 تک بطور ریسرچ فیلوشپ کی حیثیت سے پٹنہ یونیورسٹی میں تحقیقی وتدریسی کام انجام دیا۔بطور لکچرار ان کی پہلی تقرری S.P.Collegeدمکا(موجودہ جھارکھنڈ) میں ہوئی لیکن یہاں انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد 1976 میں ان کی پہلی تقرری گیا کالج، گیا میںبحیثیت لکچرار عمل میں آئی۔ بعد ازاں 1981 میں شعبہ اردو، مگدھ یونیورسٹی بودھ گیا میں ان کا تبادلہ ہوا جہاں سے 2014 میں سبکدوش ہوئے۔ انھوں نے’ اردو افسانوں میں علامت نگاری ‘کے موضوع پر 1985میں پروفیسر افصح ظفر کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی۔

اگر ان کے ادبی اسفار کا ذکر کریں تو وہ تقریباًدو سو سے زائد افسانوں کے خالق ہیں۔ ان کی پہلی کہانی ’عزت کا انتقال‘صوفی بلیاوی کے نام سے ماہ نامہ ’کلیاں‘ لکھنؤ سے 1965 میں شائع ہوئی۔ اسی زمانے میں ان کا پہلا افسانہ ’پسند‘ ماہ نامہ’ جمیلہ ‘دہلی میں شائع ہوا۔ان کے منتخب افسانوں میں نیو کی اینٹ، ندی کنارے دھواں، زخمی پرندے، مردہ راڈار، چپ رہنے والا کون، لڑکی کو رونا منع ہے،جلیبی کا رس، کریلا، گونگا بولنا چاہتا ہے،کُہاسے میں خواب،سبحان اللہ، وقنا عذاب النار،ایندھن، ناگہانی وغیرہ ہیں جو اردو فکشن میں لازوال مقام رکھتے ہیں۔  ان کے طویل تخلیقی سفر میںسات افسانوی مجموعے ہیں۔ پہلامجموعہ ’پسِ پردئہ شب‘ (1981)، دوسرا مجموعہ’صورت حال‘ (1982)، تیسرامجموعہ ’بارش میں گھرا مکان‘ (1984)، چوتھا مجموعہ ’گھنے جنگلوں میں‘ (1989)، پانچواں مجموعہ ’مطلع‘(1995)،چھٹا مجموعہ ’ سوئی کی نوک پر رکا لمحہ‘ (1997) اور ساتواں مجموعہ ’نیو کی اینٹ‘ (2009) ہیں جو شائع ہو کر مقبول خواص و عام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے جب افسانے لکھنے کا آغاز کیا تووہ عہد جدید تجربات اور علامت نگاری کا تھا جہاں نئے نئے افسانے وجود میں آرہے تھے جن پر شعور کی رو کی تکنیک کے واضح اثرات تھے لیکن انہوں نے روایت سے انحراف نہ کیا بلکہ اس میں اپنے منفرد اسلوب و زبان کے حسین امتزاج سے اپنی فکشن فہمی کا ثبوت پیش کیا۔آگے چل کر ان کا یہی لب و لہجہ اور انداز بیاںجدید افسانہ نگاری میں ایک دستخط کاحامل بنا۔فکشن کا قاری اس بات کو کیسے فراموش کر سکتا ہے جب عالمی تنقید نگار وارث علوی نے کبھی مشہور فکشن نگار عبدالصمد بشمول رضوان احمد کی افسانوی زبان پر سخت اعتراضات کیے تھے اور ساتھ ہی خطئہ بہار کے نئے واردان کی زبان واسلوب پر سوالیہ نشان قائم کیا تھا۔ اسی زمانے میں حسین الحق اور شوکت حیات نے اپنی تخلیقیت کے ذریعے باور کرایا کہ ان کی زبان فکشن کے تئیں نہ صرف موافق ہے بلکہ معتبر بھی ہے۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر کہانیاں لکھیں جو قابل ستائش و تحسین ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے تنقیدی و صوفیانہ و مذہبی موضوعات پر بھی گراں قدر مضامین لکھے ہیں جن کا تعلق مطالعے سے ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے مزاج میں تصوف آمیزسادگی ہے۔

حسین الحق بنیادی طور پر افسانہ نگار تھے لیکن بحیثیت ناول نگار بھی ان کی انفرادیت مسلم ہے۔ تین ناول اشاعت کی منزل سے ہمکنار ہو چکے ہیں جن میں ان کا پہلا ناول ’بولو مت چپ رہو‘ ہے جو 1990 میں شائع ہوا۔ اس ناول میں موصوف نے آزادی کے بعد تعلیمی نظام میں جو تبدیلیاںآئیں اور کس طرح افسر شاہی نے اس مقدس پیشے سے وابستہ افراد کی عزت کاکھلواڑ بنایا ہے اس کا بیان ہے۔اس کے ساتھ ہی نکسلیوں کی تحریک کو پیش کیا ہے۔ اس ناول کا ایک کردار سابق انقلابی اور موجودہ ہیڈماسٹر افتخارالزماں معاشرے سے کٹاہوا فرد ہے۔اس نے آزادی کی تحریک میں جمہوریت،مساوات اور معاشی عدل کے خوابوں کی تکمیل کے مقصدسے حصہ لیا تھا لیکن آزادی کے بعد اس کے دیکھتے ہی دیکھتے اس کے یاران ہم پیالہ وہم نوالہ کامیاب دنیادار بن جاتے ہیں۔ ماسٹر چونکہ ایماندارہے اس لیے اپنے چاروں طرف پھلنے پھولنے والی بدعنوانی،ہوس اور لوٹ کھسوٹ کے درمیان وہ اپنے آپ کو قائم کردہ اسکول کے قلعے میں محفوظ کر لیتا ہے۔یہ ایک ایسا کردار ہے جوانسانیت،رواداری اور خدمت خلق کو اپنا شعارسمجھتاہے۔تحریک آزادی کے زمانے کی حب الوطنی،انسان دوستی،فرقہ وارانہ یگانگت اور قربانی کے جذبات آزادی کے بعد کے چند ہی سالوں میں ہوس پرستی،لالچ،استحصال اور فرقہ واریت کی مہیب شکل میں تبدیل ہو گئے اور ماسٹر افتخار الزماں جیسے لوگ پرانی اور فرسودہ اقدار کے امین بن کررہ گئے۔

موصوف کادوسرا ناول ’ فرات‘ 1992 میں شائع ہوا۔یہ 296 صفحات پر مشتمل وسیع کینوس کا ناول ہے جس میں نئی نسلوں میں کس طرح ذہنی، جذباتی اور اخلاقی تبدیلیاں رونماں ہوتی ہیںاسے مصنف نے صداقت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہ ناول اپنے اسلوب اور موضوع کے حوالے سے اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اس میں نسلوں کے تصادم کو بڑی ہنر مندی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس کا مرکزی کردار وقار احمد کی ساری زندگی مجاہدے میں گزرتی ہے۔ یہ ناول ایک کرداری ناول ہے جس میںمصنف نے اس ناول کے مرکزی کردار کے توسط سے پانچ نسلوں پر مشتمل ایک حقیقی کہانی قاری کے سامنے پیش کی ہے ساتھ ہی غوروفکر کرنے کے اوقات بھی فراہم کیے ہیں۔ الماس فاطمہ اپنے تحقیقی مقالے میں رقمطراز ہیں کہ:

’’ حسین الحق نے اپنے ناول میں دو تہذیبوں کے تصادم کے علاوہ جنسی، نفسیاتی اور معاشرتی پیچیدگیوں کی سچی تصویر کو پیش کیا ہے۔ انھوں نے اس ناول میں لفظوں کے ذریعے ایسی فضا کی تخلیق کی ہے جس کی آرائش و زیبائش، حسن و جمال، دلکشی اور دلفریبی، سادگی اور روانی کے سحر میں قاری ناول ختم کرنے کے بعد بھی گرفتار رہتا ہے۔ حسین الحق نے ہمارے آس پاس کی زندگی کو جس طرح محسوس کیا ہے ویسا ہی اس ناول میں بیان کیا ہے۔‘‘

(مشرف عالم ذوقی کے ہمعصر ناول نگار: کشمیر عظمیٰ)

مصنف نے فلیش بیک کی تکنیک کے ذریعے اپنے بچپن، والد کی زندگی، نظریۂ حیات اور تہذیبی و معاشرتی اقدار کی تصویرکشی کی ہے۔مرکزی کرداروقار احمد پٹنہ یونیورسٹی کا طالب علم ہے جہاں کلیم عاجز جیسے استاد کی صحبت ملی۔ ایم اے کے بعد نوکری لگ گئی۔اپنی محنت اور لگن سے ترقی کرتے ہوئے اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتے ہیںاور پرانی بستی کو خیر باد کہہ شہر کی ایک پوش کالونی میں ذاتی خوبصورت مکان ’ سہسرام ہائوس‘ بنواتے ہیں۔ یہاں دو نسلوں اور دو تہذیبوں کے تضادو تصادم رونما ہوتے ہیں۔ اس میں وہی تکنیک استعمال کی گئی ہے جو اکثر فلموں میں دیکھنے کو ملتی ہے کہ کسی کردار کا ہمزاد اس کے مد مقابل اگر محو گفتگو ہوتا ہے ٹھیک اسی طرح وقار کا ہمزاد بھی اس سے باتیں کرتا ہے۔ یہ تین نسلوں کے اقدار کا احوال بیان کرتا ہے جو آسان کام نہیں ہے۔ اس میں تمام رشتے جبلتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے کردار اس کریہہ صورت حال کو جھیلتے ہیں۔ روحانی، اخلاقی تعلقات کی پامالی کھل کر سامنے آتی ہے۔تبریز اور شبل کے کردار کے مابین بڑا فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔ شبل تعلیم یافتہ اور روشن خیال لڑکی ہے۔ لیکن وہ تبریز کی مانند اپنی زندگی کو تعفن بھرے ماحول کا حصہ نہیں بننے دیتی۔اس کی روشن خیالی اور آزاد خیالی اس کی فکر سے جھلکتی ہے لیکن عملی طور پر وہ ان غلاظتوں میں ملوث نہیںہوتی جسے تبریز اپنی زبان میں تہذیب کے ختنہ کا خون سمجھتا ہے۔ ناول کے متعلق انور پاشا رقمطراز ہیں:

’’حسین الحق’کا فرات‘معاصر ناول میں موضوعی اعتبار سے قدرے الگ جہتیں رکھتا ہے۔ یہ ناول جنریشن گیپ (Generation Gap) اور بدلتے تہذیبی و معاشرتی اقدار سے پیدا شدہ صورت حال کو موئثر انداز میں لاتاہے۔ تین نسلوں کے درمیان موجود ذہنی اور معاشرتی تہذیبی و اخلاقی قدروں کے تصادم سے ناول کا ہیولیٰ تکمیل پاتا ہے۔ زبان و اسلوب میں رچائو اور چاشنی بیانیہ کو تازگی عطا کرتی ہے۔‘‘ 

(معاصر اردو افسانے کے تہذیبی و سماجی سروکار، کتابی سلسلہ 7، نیا سفر، دہلی)

جہاں تک اسلوب بیان کامعاملہ ہے تو اس میں اظہار کی بے باکی، فکر کی ندرت اور لہجے کا توازن ناول کو ایک الگ انداز دیتاہے۔اس کے علاوہ مصنف شعری آہنگ سے اپنی نثر کو پراثر بنانے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی تشبیہات و استعارات کے استعمال سے نثر میں بے ساختگی اور بے تکلفی بھی پیدا ہوئی ہے۔ بقول ڈاکٹر احمد صغیر:

’’یہ تشبیہات واستعارے زیب داستاں کے لیے نہیں لائے گئے ہیں بلکہ ناول کی داخلی ضرورت بن کر سامنے آئے ہیں جن کے بغیر وہ جذبہ یا احساس قاری تک پہنچ ہی نہیں سکتا جو پہنچانا شاید ناول نگار کا مقصد ہے۔‘‘(اردو ناول کا تنقیدی جائزہ 1980کے بعد، ص 120)

عام طور پر حسین الحق اسلامی استعاروںسے کام لیتے ہیں۔ اس ناول میں بھی فرات زندگی اور خوش حالی کی علامت ہے اورایک طرف انسانیت اس کے کنارے کھڑی پیاس سے نڈھال ہے۔ موصوف کے طرز نگارش کے ضمن میں یہ کہنا درست ہوگا کہ انہوں نے اس ناول میں اظہار کے ان تمام وسائل سے کام لیا ہے جن سے اسلوب کو منفرد اور فن کو عظیم بنایا جا سکتا ہے۔ناول کی اثرپذیری کی بحث سے قطع نظراس ناول میں معنوی اور اسلوبیاتی سطح پرتنوع کے ساتھ ساتھ وسعت بھی دکھائی دیتی ہے، جس کے حوالے سے قاری کو معلوم ہوتا ہے کہ عہد حاضر میں ہندوستانی معاشرتی تہذیب پر مغربیت کا کافی گہرا اثر ہے اور سیاسی وضع قطع تو بالکل فرنگی نقطئہ نظر سے مملو ہے۔اور انھیں وجوہات و علل سے انسانی اخلاقی اقدار کی پامالی رونما ہوئی ہے۔جدید مغربی تصورات و تفکرات نے انسانی فلاح و بہبود کے لیے فلسفیانہ موشگافیوںکی دقتیں بھی سہیںمگر کوئی بھی فلاحی فلسفہ انسانی معاشرے کے لیے حیات کا درماں نہ بن سکا۔اور تیسر ا ناول ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ ’اماوس میں خواب ‘ (2017)  ہے۔ اس ناول کا موضوع ملک کے موجودہ سیاسی و سماجی حالات تھے۔اس کا کینوس وسیع ہے جس میں آزادی کے بعد مسلمانوں کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی حالات و انقلابات کی ترجمانی کی گئی ہے۔

حسین الحق اپنے دوررکے ان تخلیق کاروں میں سے تھے جن کے بغیراردو فکشن کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔بحیثیت ناول نگار ان کی انفرادیت مسلم ہے۔ تنقید پر بھی انہوں نے گہری نظر ڈالی ہے اور ان کا اسلوب بھی اپنے ہم عصروں سے مختلف ہے۔ ان کی تحریروں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے عہد اور ماحول کے تضادات کی ترجمانی کرتی ہیں جس میں افسانوی انفرادیت کے ساتھ ساتھ فکشن کی نئی جمالیات بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹرشہاب ظفر اعظمی کو دیے ایک انٹر ویو میں وہ اپنے وسیلہ اظہار کے طور پر فکشن کے انتخاب کے ضمن میں کہتے ہیں کہ:

’’میرے خیال میں لکھنے والا خود کسی صنف کا انتخاب نہیں کرتا۔شاید صنف لکھنے والے کا انتخاب کرتی ہے کیونکہ اختر اورینوی، آل احمد سرور، کلیم احمد، احتشام حسین، شمس الرحمن فاروقی سب نے شاعری کے انتخاب کی کوشش تو کی اور اس کے نمونے بھی پیش کیے مگر جس صنف نے مذکورہ بالا حضرات کا انتخاب کیا وہ حضرات شاعر نہیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں لکھنے والے کی مرضی نہیں چلتی۔ خود میرا بھی یہی معاملہ ہے۔ شاعری کی ہے اور جم کے کی ہے۔ میری کاپیوں میں کم از کم سو غزلیں اور ڈیڑھ سو نظمیں موجود ہیں۔ مضامین بھی لکھے اور چھپے بھی، واہ واہ بھی ہوئی مگر وہ مولوی مدن کی سی اگر افسانوں میں ہی پیدا ہوئی تو اس کا مطلب یہی ہے کہ شاعری اور مضمون تو میرا انتخاب تھا مگر میں دراصل فکشن کا انتخاب ہوں۔‘‘

(ایک انٹرویو، ماہنامہ ’اردو دنیا‘ نئی دہلی، دسمبر 2003)

حسین الحق کو دیر سے ہی سہی ان کے ناول ’اماوس میں خواب‘ کے لیے ساہتیہ ا کادمی ایوارڈ 2020 سے نوازا گیا۔ ان کی ادبی کاوشوں کے مد نظر انھیں غالب ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا۔ان کے جانے سے اردو فکشن میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کی بھر پائی اس صدی میں مشکل ہے۔

 

Dr. Md. Sharib

Vill.: Masihani, Tola Mandeya

P.S.- Chhatarpur- 822113

Dist.- Palamu- Jharkhand

Mob.: 9835938234

 

 



 

 

 

 

 

 


تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...