23/9/22

اردو زبان کی صوتی وسعت: رضاءالرحمان عاکف سنبھلی

اردو زبان یوں تو بہت سی خوبیوں کی مالک اور متعدد اوصاف سے مزین ہے۔ اس کے الفاظ کی شیرینی و لطافت، اس کا زبردست صوتی آہنگ، اس کی بے پناہ خوبصورت شاعری، دل کش و دل نواز اشعار تو دلوں کو موہ لینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کی قواعد و لسانی خوبیاں  بھی دلوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس کا ایک اور جوہر اس کا صوتی نظم ہے۔ جس کی جانب محققین کی نظر کم ہی گئی ہے۔ ان سطور میں ہم اس پر نظر ڈالنا چاہیں گے۔ جس کے تحت ہمیں یہ دکھانا ہے کہ اردو کا نظام صوت اتنی بلندیوں کا حامل اور اس درجہ وسعتوں کا مالک ہے جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی بھی زبان نہیں کر سکتی۔ وہیں ہم کو یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ اردو بولنے والا دنیا کی ہر زبان بآسانی بول سکتا ہے یہ صلاحیت قاری کے اندر اردو کی صوتی وسعت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ اردو کے اندر حروف اور ان کے مخارج کا وہ وسیع ذخیرہ ہے جس کی وجہ سے اردو بولنے والا دنیا کی ہر زبان بول سکتا ہے۔ اور اس کے مصوتوں اور مصمتوں کی بحسن و خوبی ادائیگی کرنے کی مکمل صلاحیت کا حامل ہوتا ہے۔

زیرِ نظر سطور میں انہی حقائق پر روشنی ڈالی جا رہی ہے اور اپنے موضوع کی رعایت سے اس حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ اردو زبان کا صوتی نظم کس قدر وسعتوں کا حامل اور رفعتوں کا مالک ہے۔ تو آئیے سب سے پہلے ہم اردو کے حروف،مصمتوں اور مصوتوں وغیرہ پر نظر ڈالیں گے۔ تاکہ اپنے موضوع پر مزید تحریر کر سکیں اور اپنے قارئین پر اردو زبان کی صوتی وسعت ثابت کر سکیں۔

اہلِ نظر جانتے ہی ہوں گے کہ اردو کوئی باقاعدہ زبان نہیں بلکہ کچھ زبانوں سے مل کر بنی ہے۔ بنیادی اعتبار سے تو اس میں عربی،فارسی کے ہی حروف و الفاظ ہیں۔ مگر ان کے ساتھ ہی اردو کے ماہرین لسانیات نے اس میں سنسکرت، ہندی، ترکی، پشتو، پنجابی اور دیگر زبانوں کے حروف و الفاظ بھی شامل کر لیے ہیں۔ اس کی تفصیل اس طرح ہے۔ اردو میں عربی حروف یہ ہیں؛  ث، ح، ذ، ص، ض، ط، ظ، ع، ق یہ حرف قدیم فارسی اور ہندی یا سنسکرت میں نہیں پائے جاتے۔

اردو میں یہ حروف فارسی سے لیے گئے ہیں؛  ژ۔  ہمارے یہاں عربی، فارسی کے مشترک حروف ہیں؛  ز، ف، خ،غ کی آوازیں عربی اور فارسی کی مشترک آواز ہیں۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اردو میں کچھ مخلوط آوازیں بھی ہیں۔ جو ہندی حروف کے نعم البدل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں جیسے؛ ٹ،ڈ،ڑ اور مخلوط آوازوں میں؛بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، رھ، ڑھ، کھ، گھ، لھ، مھ، نھ ہیں۔ یہ حروف کی خالص ہندی آوازیں ہیں جن کو ماہرین اُردو نے ہندی حروف کے تلفظ کے لیے وضع کیا ہے۔

یہاں کچھ لوگوں کو یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ ہندی حروف کو اردو میں مخلوط آوازوں کی شکل میں ادا کرنا اردو کی صوتی تہی دامنی کی دلیل ہے کہ اردو اپنے ایک حرف کے ذریعے ہندی مصوتوں کو آواز دینے سے قاصر ہے۔ مگر یہ اعتراض کسی طرح بھی مناسب و درست نہیں ہے کہ ایسی مثالیں دنیا کی دوسری زبانوں میں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ بطور مثال ہم انگریزی کو ہی لے سکتے ہیں۔ جس کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ہم شوکت سبزواری صاحب کی کتاب سے ایک اقتباس پیش کرتے ہیں۔ جس میں وہ رقمطراز ہیں:

’’میں کہتا ہوں اردو اندازِ تحریر رومن سے زیادہ صحیح اور معقول ہے کہ رومن میں "KH"کو ’’کھ‘‘ بھی پڑھ سکتے ہیں اور ’’خ‘‘ بھی جب کہ اردو میں ’’کھ‘‘،کھ ہے اور ’’خ‘‘،خ۔‘‘    (اردو لسانیات:ڈاکٹر شوکت سبزواری، ص 39( 

اس حقیقت کو کچھ اور وضاحت کے ساتھ سمجھنے کے لیے مزید اس تفصیل کو ملاحظہ فرمائیں کہ انگریزی میں ش کی آواز کے لیے "SH,TION" اور کہیں کہیں "CH" مل کر بھی صوتی آہنگ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ یعنی ایک مصوتے کی ادائیگی کے لیے چار حروف کا سہارا لیتا تو اگر مذکورہ بالا اعتراض کی روشنی میں ہندی کے[kکے لیے اردو کو ک+ ھ کا سہارا لینے پر صوتی تنگ دامنی کہا جائے گا۔ تو بیچاری انگریزی کو کس درجہ میں رکھیں گے؟

آئیے! اب ہم اپنی ایک اور اہم زبان ہندی کو لیتے ہیں کہ اگرچہ ہندی کی حروف تہجی (ورن مالا) ایک وسیع و عریض o.kZ ekyk ہے کہ اس میں حروفv{kj کی کثیر تعداد ہے اور بہت سی آوازیں ہیں۔ اور ایک ایک آواز کے لیے متعدد حروف ہیں۔ جیسےjکی بہت سی شکلیں ہیں اور کچھ مشترکہfefJr آوازیں بھی ہیں۔d اور'k کی مشترکہ آواز{kاورr اورj کی مشترکہ آواز=اور uاور.k]M وغیرہ۔ صوتی اعتبار سے پوری طرح مالامال ہونے کے باوجود جب دوسری زبانوں کے مصوتوں کی ادائیگی کی بات آتی ہے تو ہندی ہم کو پوری طرح تہی دامن نظر آتی ہے۔ اس سلسلے میں ہم یہاں پر کچھ مثالیں پیش کرتے ہوئے اپنے دعوے کی دلیل دینا چاہیں گے۔ دیکھیے اردو زبان میں ایک خاص آواز ہے ج۔ اب دیکھیے اس کی ضمنی و ذیلی یا قریب المخرج کتنی آوازیں اور ہیں۔ ز،ذ، ظ، ض، ژ۔ اسی طرح اصل آواز ’س‘کی بھی دوسری قریب المخرج آوازیں دیکھی جا سکتی ہیں جو اس طرح ہیں ش،ث،ص۔ اب ہم اس کی مثالیں دیکھتے ہیں۔ ہمیں ایک لفظ جہاز لکھنا ہے تو ہندی زبان اس کی آواز دینے پر قادر ہے۔ مگر اسی حرف کی دوسری آوازیں زاہد، ذلت، ظروف،ضامن لکھنا چاہیں گے تو ہندی یہاں پر پوری طرح سے محروم و مجبور نظر آئے گی۔ اسی طرح ’س‘ کو بھی دیکھ سکتے ہیں کہ اس کی ضمنی آوازیں ث،ص، کی ادائیگی بہت سے ہندی والے نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ یہ مصوتے ہندی زبان میں موجود ہی نہیں ہیں۔مزے دار بات تو یہ ہے کہ بعض حضرات مخرج کی ادائیگی میں اس درجہ کمزور واقع ہوئے ہیں کہ ج کی جگہ ز اور ز کے مقام پر ج بول جاتے ہیں۔ اسی طرح وہ ف اور پھ میں بھی امتیاز کرنے سے قاصر ہیں۔

یہاں پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ زبانوں کے صوتی نظم کو سمجھنے کے لیے اس کی کچھ تفصیل سمجھ لی جائے۔ ’صوتیہ‘ دراصل انگریزی زبان کے لفظ PHONEME کا  ترجمہ ہے۔ ڈاکٹر فرتھ کی تحقیق کے مطابق یہ اصطلاح 1879 میں وضع ہوئی اس بحث کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل اقتباس کو بغور ملاحظہ کیا جائے:

’’اس میں شک نہیں کہ ’صوتیہ‘ کا تعلق انسانی آواز سے ہے۔ صوتیہ کے معنی ہیں صوت کی طرف منسوب اور اس سے متعلق۔ صوتیہ بے شبہ صوتی اکائی ہے۔ جسے مزید اکائیوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا لیکن صوتیہ کے تصور کے بنا صوتی اکائی کی ماہیت یا اصلیت پر نہیں اس کے استعمال یا منصب(Function) پر ہے۔ الفاظ آوازوں سے ترکیب پاتے ہیں۔ آوازیں مختلف ہیں۔ الفاظ میں اختلاف یا تعدد مختلف آوازوں کی وجہ سے ہے۔ آوازوں میں کیا اختلاف ہے اور کس نوعیت کا اختلاف ہے؟ اس مسئلے کا تعلق صوت (آواز) سے ہے۔ یا یوں کہیے اس علم و فن سے ہے جس کا موضوع صوت ہے اور جسے علم الاصوات (Phonetics) کہتے ہیں۔‘‘   (اردو لسانیات:   ڈاکٹر شوکت سبزواری۔ ص 52(  

یہاں پر لفظ ’صوتیہ‘ کی بحث چل رہی ہے اور اس سے ہی ’مصوتہ‘ اور ’مصمتہ‘ الفاظ بنے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ اس کو اچھی طرح ذہن نشیں کرنے کے لیے ہم مصوتہ اور مصمتہ کو بھی سمجھتے چلیں تاکہ اس بحث کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ عصمت جاوید صاحب کے مطابق اس کی تفصیل اس طرح ہے:

’’دنیا کی اکثر زبانوں کی طرح اردو میں بھی صوتیوں کی دو قسمیں ہیں۔ مصوتہ اور مصمتہ۔ اگر کوئی کلامی آواز صرف منھ کی اندرونی شکل میں تغیر و تبدل کر کے اور زبان کو مختلف حالتوں میں اٹھا کر نیچا کر کے اس طرح ادا کی جائے کہ آواز منھ میں کسی جگہ رکے بغیر باہر آئے تو اس گلابی آواز کو’ مصوتہ‘ کہتے ہیں۔ اور جو کلامی آواز دہنی گزرگاہ میں کسی مقام پر مکمل یا جزوی طور پر رک کر رگڑ کھاتی ہوئی یا رخ بدل کر نکلے اسے’مصمتہ‘ کہا جاتا ہے۔ ‘‘

  )نئی اردو قواعد: عصمت جاوید، ص 30(  

اس بحث کو مزید بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے سطورِ ذیل میں مذکورہ بالا کتاب سے ہی ایک اور اقتباس پیش کرنا چاہیں گے تاکہ ہمارے قارئین کے ذہنوں میں یہ حقیقت اچھی طرح اتر جائے اور وہ نفسِ مضمون کو بآسانی سمجھ سکیں:

’’ یہ طے کرنے کے لیے کہ کس زبان میں کون کون سی آواز یں استعمال ہوتی ہیں یہ دیکھا جاتا ہے کہ فلاں آواز ’امتیاز‘ معنی کا کام دیتی ہے یا نہیں اگر اس آواز کی جگہ دوسری آواز استعمال کرنے سے معنی میں فرق پیدا ہو جائے تو یہ آواز اس زبان کے صوتی نظام میں شامل قرار دی جائے گی اور اصطلاح میں اسے اس زبان کا صوتیہ (فونیم) کہتے ہیں۔‘‘   ( نئی اردو قواعد: عصمت جاوید، ص 30(   

اب آئیے اس سلسلے میں کچھ اور مثالیں دیکھیے۔ فارسی زبان میں بھی چونکہ بہت سی آوازیں نہیں ہیں۔ اس لیے وہ بھی دیگر زبانوں کی حروف کی آوازوں میں قاصر نظر آئے گی۔ اس سلسلے میں کچھ حضرات کا یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ ہر زبان کی اپنی حروف تہجی اور نظام ہجا ہے۔ اور اس کے اپنے مخصوص حروف ہیں۔ اس لیے وہ اپنے تمام حروف بولنے پر قادر ہوا کرتے ہیں دوسری زبانوں سے انھیں کیا غرض۔ اس اعتراض کا جواب یہی ہے کہ ہمارے اس مضمون کا اصل موضوع ہی یہ ہے کہ اپنی زبان بولنا ہی کوئی خاص بات نہیں بلکہ دنیا کی بہت سی اہم اور قابلِ ذکر زبانوں کے حروف ادا کرنے کی صلاحیت صرف اور صرف اردو زبان میں ہی ہے۔ دنیا کی دیگر زبانیں اس صلاحیت سے پوری طرح خالی و بے زار ہیں۔ مندر جہ بالا سطور میں ان کی مثالیں پیش کی جا چکی ہیں۔ دراصل یہی اردو زبان کا حسن، خوبصورتی، قادر الکلامی اور اعجاز ہے۔ اور اسی پر اس کی وسعت اور فصاحت و بلاغت کا انحصار ہے۔ جو دیگر زبانوں میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔

ان تمام دلائل و حقائق کی بنیاد پر بلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ معلومہ حقائق کی روشنی میں اردو دنیا کی وہ واحد زبان ہے جو دوسری زبانوں کے مصمتوں اور مصوتوں کو پوری طرح ادا کرنے پر قادر ہے۔ یہاں تک کہ علاقائی زبانیں تو کیا اردو بولنے والے جاپانی، چائنیز، اطالوی اور فرانسیسی زبانیں بھی بخوبی بول سکتے ہیں۔ کہ اردو میں ان زبانوں کی آوازیں بھی موجود ہیں۔ آئیے اب ہم اردو زبان کے حروفِ ہجا پر پھر ایک نظر ڈال لیں تاکہ ہمیں اس کی صوتی وسعت کا بآسانی اندازہ ہو سکے۔

اردو حروف صحیح اس طرح ہیں:

خالص ہندی حروف۔  ٹ، ڈ، ڑ، پھ، تھ، ٹھ، چھ، کھ، بھ، دھ،ڈھ،جھ، گھ،ڑھ

خالص فارسی حرف۔   ژ

خالص عربی حروف۔  ذ، ض، ط، ظ، ث، ص، ع، ح، ء

ہندی، فارسی مشترک حروف۔  ب، پ، ت، ج، چ، د، ر،س،ش،ک،گ،ل،م،ن،و،ہ،ی

ہندی، عربی مشترک حروف۔  ب، ت، ج، د، ر، س، ش، ک،ل،م،ن،و،ہ،ی

مشترک حروف۔  ب، پ، ت، ج، چ، د، ر، ز، س، ش، ف، غ، ک، ق، گ، ل،م،ن،و،ہ،ی

ان میں بھی ز، خ، ف، غ،عربی اور فارسی میں مشترک ہیں۔ پ،چ،گ ہندی اور فارسی میں اورق عربی اور ترکی میں باقی حروف ان تمام زبانوں سے لیے گئے ہیں،  جن سے اردو نے استفادہ کیا ہے۔

اردو زبان کی صوتی وسعت کو سمجھنے کے لیے ابھی کچھ اور معلومات ہم اپنے قارئین کو فراہم کرانا چاہتے ہیں۔ جس سے بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اردو زبان کا ذخیرہ حروف تہجی دنیا کی کتنی زبانوں سے مالامال ہے۔ اس کو اس طرح سمجھئے کہ حرف ’ژ‘ جو اردو میں بظاہر تو فارسی سے لیا گیا ہے مگر جاننا چاہیے کہ یہ آواز انگریزی اور فرانسیسی بورژوا میں بھی ہے۔ اسی طرح ’ظ‘ کی آواز عربی کے ساتھ ہی اطالوی میں بھی ہے اور ث، ذ،ع اور ء کی آوازیں یونانی میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس طرح ہم اردو حروفِ تہجی کی وسیع دامانی کو ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ جس کا اعتراف ڈاکٹر شوکت سبزواری اپنی کتاب میں اس طرح کرتے ہیں:

’’ اس تفصیل سے اردو حروفِ صحیح کی جامعیت ثابت ہوتی ہے۔ اردو کی طرح جو ایک طرح سے کھچڑی زبان ہے۔ اس کے حروف بھی کھچڑی ہیں۔ چنانچہ اردو کی لفظی تعمیر میں حصہ لینے والی ہر زبان کا لفظ اپنی اصلی آواز کے ساتھ اردو تحریر میں متشکل کیا جا سکتا ہے۔ ان حروف کو اس لحاظ سے بین الاقوامی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ ‘‘ 

)اردو لسانیات: ڈاکٹر شوکت سبزواری، ص 44(

مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں اگرچہ اردو کے حروف تہجی میں دنیا کی متعدد زبانوں کے حروف شامل ہیں مگر اس حقیقت سے کسی طرح بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان میں نمایاں مقام عربی اور فارسی زبانوں کو ہی حاصل ہے۔ اور ان دونوں زبانوں کی اردو پر گہری چھاپ دیکھنے کو ملتی ہے جیسا کہ درج ذیل اقتباس سے ظاہر ہوتا ہے:

’’ لفظ کی ابتدائی، درمیانی اور آخری حالتوں کا تقسیمی سانچہ بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اردو چونکہ ایک مخلوط زبان ہے۔ اس لیے اس کی بہت سی تکلمی آوازیں اور الفاظ عربی و فارسی سے مستعار ہیں۔ ‘‘

 )مقالاتِ مسعود: پروفیسر مسعود حسین،ص 24 )

ان حروف کی روشنی میں ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ ان میں کچھ آوازیں ایسی ہیں جو دوسری زبان والے بولنے پر قدرت نہیں رکھتے۔ یہاں پر ہم تین معروف زبانوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس پر بحث کرنا چاہیں گے۔ ان زبانوں میں عربی، ہندی اور انگریزی زبانوں کو دیکھتے ہیں۔ اور کچھ حروف پر بحث کرتے ہوئے یہ ثابت کریں گے کہ کس زبان کے بولنے والے کون سی دوسری زبان یا زبانوں کے حروف کی ادائیگی کرنے پر قدرت نہیں رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم سب سے پہلے دنیا کی وسیع ترین زبان عربی( جس کے بولنے والوں کو اپنی قادر الکلامی پر اس درجہ فخر و غرور تھا کہ وہ خود کو عرب یعنی بولنے والا اور دوسرے تمام لوگوں کو عجم یعنی گونگا کہا کرتے تھے) کو ہی لیتے ہیں۔ اپنی معلومات کی حدود اور موضوع کی مناسبت سے بھی اگر ہم انگریزی زبان کو ہی عربی کے مدِ مقابل رکھتے ہیں تو عربی زبان میں اس کے کچھ حروف کو تلفظ دینے کی صلاحیت نہیں ہے۔ بطور مثال یہاں پر انگریزی کےD,G,P,T وغیرہ کو ہی لیجیے۔ تو عربی زبان ان حروف کا تلفظ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یعنی DALDA, POLICE, GUNاور TELEPHONE  الفاظ نہیں بول سکتے۔ کیونکہ عربی میں حروف پ،ٹ،ڈاورگ نہیں ہے۔مجبوراً ان کو کن یا قن، فولس، دالدا اور تیلی فون بولنا پڑتا ہے۔ اس طرح عربی داں حضرات ہندی کے بھی بہت سے حروف کے تلفظ دینے میں کامیاب نہیں ہیں۔ اب ہم انگریزی زبان کو دیکھنا چاہیں گے کہ انگریزی داں حضرات بھی عربی کے بہت سے حروف کا تلفظ نہیں کر سکتے۔ بطور مثال دولت اور تلاوت کو ہی لیجئے کیونکہ انگریزی میں حروف ’د‘ اور ’ت‘ کی آوازیں نہیں ہیں۔ اس لیے وہ ڈولٹ اور ٹلاوٹ بولنے پر مجبور ہوں گے۔ جبکہ اہلِ اردو الفاظ گن، پولس، ڈالڈا، ٹیلی فون، دولت اور تلاوت بآسانی بول سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں اگر ہندی کو دیکھا جائے تو اس کی وسیع تر حروفِ تہجی ہونے کے باوجود بھی بہت سے ہندی بولنے والے دوسری زبانوں کے بہت سے مصوتوں اور مصمتوں کا تلفظ کرنے پر قادر نہیں ہیں۔

 مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اردو زبان صوتی اعتبار سے دنیا کی بہت سی زبانوں کے مقابلے میں برتر اور اعلیٰ ہے۔ کہ وہ بہت سے تلفظ اور صوتی وسعتوں سے پوری طرح مالامال ہے۔ اور اردو خواں حضرات دنیا کی اکثر زبانوں کے حروف اور مصمتوں اور مصوتوں کی باقاعدہ ادائیگی کر سکتے ہیں۔ دراصل یہی اردو کی فصاحت ہے اور اسی کو ہی بلاغت کا نام دیا گیا ہے۔ اور یہی اردو کا حسن ہے جو اس کو مرنے نہیں دیتا اسی کی بنیاد پر یہ ابد الآباد تک قائم رہے گی۔ اور اسی کی بنیاد پر ہی تو حضرت داغؔ فرما گئے ہیں                                ؎


مآخذات

  1.         مقالاتِ مسعود: پروفیسر مسعود حسین، ترقی اردو بیورو، نئی دہلی
  2.        اردو لسانیات: ڈاکٹر شوکت سبزواری، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ
  3.        قواعدِ اردو:مولوی عبد الحق، اعجاز پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی
  4.        نئی اردو قواعد:  عصمت جاوید، ترقی اردو بیورو، نئی دہلی

Dr. Raza Ur Rahman Akif Sambhali

Miyan Sarai

Sambhal (UP)

Mob.: 9837826809

Email.: sambhali@gmail.com

یادوں کے دریچے سے (سالک دھامپوری پر تعزیتی نوٹ): ڈاکٹرعبدالرشیداعظمی


ورق ورق میں پلٹتا رہا کہانی کا

بہت طویل سفر ہے یہ زندگانی کا

پوری دنیا تین سال سے کورونا کا کرب جھیل رہی ہے۔ ہر باحیات شخص کا کوئی نہ کوئی عزیز ضرور اس وبائی بیماری کا شکار ہوا ہے۔ اگر عالمی پیمانے پر اس درد کی داستان قلمبند کی جائے تو لاکھوں صفحات کم پڑجائیں گے۔ اب تک کورونا کی چار لہریں شمار کی جاچکی ہیں۔ ہر لہر نے کسی کے عزیز کو چھینا ہے، کتنے گھروں کو ویران کیا ہے، کتنے خاندان کو ملول و مغموم کیا ہے۔ میرا دفتر تقریباً سو ارکان پر مشتمل ہے۔ لیکن کورونا کی پہلی لہر کا شکار صرف میں ہوا۔ بس خدا نے اہل و عیال اور اپنوں کی دعاؤں کے صدقے میں زندگی بخش دی۔ لیکن دوسری لہر میں میرے والد محترم یکم ستمبر 2021 کو، کورونا کی زد میں آگئے۔ اس کے بعد جانے والوں کا ایک سلسلہ بندھ گیا۔ 2021 رمضان کے پہلے عشرے میں دلی میں مقیم میرے بہی خواہ، ہمدرد، سرپرست کی حیثیت رکھنے والے میرے سینئر دوست پروفیسر اشتیاق دانش صاحب میری نظروں کے سامنے کورونا کا ہدف بن گئے۔ کتنے اپنوں کو بے سہارا چھوڑ گئے۔ اسی رمضان کے پہلے ہی عشرے میں کورونا نے میرے دوست صحافی فاروق سلیم صاحب کو نہیں بخشا، مذکورہ متاثرین، روز کے ملنے جلنے والے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے، ایک سال نہیں بیتا کہ میں دو بھائیوں سے محروم ہوگیا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ خدا جانے یہ زنجیر کب ٹوٹے گی۔

2022 کے رمضان کا پہلا عشرہ ایک ایسے یار باش شخص کے لیے پیغام اجل لایا جس کی بزم احباب میں اس کی دو نسل قبل اور دو نسل بعد کے دوست شامل تھے جسے دنیا سالک دھام پوری کے نام سے جانتی ہے۔ 11 اپریل کو علم و ادب کا یہ چراغ بجھ گیا اور اپنی بزم احباب کو سوگوار و تاریک چھوڑ گیا۔ اپنی ایک زیرترتیب تصنیف سے متعلق ناقد عصر حقانی القاسمی سے ملاقات کا پروگرام بنا رہے تھے کہ رمضان کے باعث یہ ملاقات ادھوری او رختم ہوگئی۔ رمضان سے دس روز قبل حکیم سید احمد خان اور خالص یونانی دواخانے کے مالک اویس صاحب کے ساتھ غریب خانے کو رونق بخشی تھی۔ رمضان سے دو روز قبل ایک چائے خانے میں ملاقات طے ہوئی اور تادیر گفتگو رہی۔ بیحد اصرار پر بھی گھر آنے کو تیار نہیں ہوئے۔ میں نے بہت کہا کہ میری بیگم نے آپ کو قیمے کی گجیا پر آپ کو دعوت دی ہے۔ غالباً انھیں یہ احساس تھا کہ ابھی چند روز پہلے ہی تو حاضر ہوا تھا۔ خیر!

ابوالفضل انکلیو کے دو چوک، ڈی بلاک اور ای بلاک کے احباب کو روزانہ چہرہ دکھانے والا ہر دل عزیز شخص اب دنیا سے پردہ کرگیا۔ بے شمار چہروں کو اپنی قائم کردہ ’بزم احباب‘ کے ذریعے شناخت دینے والا، سرپرستی کرنے والا، اردو زبان و ادب اور شاعری کی زلفیں سلجھانے والا، بات بات پر واقعہ بیان کرنے والا درمیان میں تلخ و شیریں باتیں کرنے والا، سدا کے لیے خاموش ہوگیا۔ حافظ عبدالقادر کے چائے خانے میں چہچہانے والا پرندہ دام دنیا سے اڑگیا۔

میرے محترم قارئین! آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں کیوں یا وہ گوئی کیے جارہا ہوں۔ درجنوں کتابوں کے مصنف کی علمی  ادبی شخصیت پر گفتگو کے بجائے میں بہکی بہکی باتیں کیو ں کررہا ہوں جن کا کوئی ربط نہیں۔ دوستو! سالک دھامپوری کی علمی و ادبی شخصیت پر گفتگو کرنے کے لیے سلجھے ہوئے مقالہ نگار، ادب کے پارکھ کافی ہیں۔ میں نے تو قلم و قرطاس کے ذریعے سالک صاحب سے متعلق اپنے احساسات  و جذبات اور درد و کرب ظاہر کیے ہیں۔ جبکہ ان کی متعدد تخلیقات و تصنیفات میں خاکسار کی آرا شامل رہی ہیں۔

دوستو! سالک صاحب کی زندگی مختلف الجہات تھی۔ وہ جماعت اسلامی سے منسلک تھے۔ جماعت کے رکن تھے، معاشرے و سماج کے تمام گوشوں سے وابستہ تھے۔ عوامی بہبود و فلاح میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے زندہ دل انسان تھے۔ زمینی سطح پر لوگوں کے کام آنے والے تھے، راشن سے لے کر دوا تک فراہم کرتے، ضرورت مندوں کا حتی المقدور ساتھ دیتے۔خدمت خلق کے جدبے سے سرشار تھے، عمر کے جس حصے میں جہاں بھی رہے، جس ماحول جس سماج میں رہے وہاں سے اپنے مشاہدے کی بنیاد پربہت کچھ سیکھا حاصل کیا۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کے اردگرد مضامین بکھرے پڑے ہیں۔  اخذ کرنے والی نظر درکار ہے۔ سالک صاحب جہاں بھی رہے وہاں سے انھوں نے موضوعات اٹھائے، مضامین منتخب کیے اور اپنے تخلیقی ذہن سے اپنی تخلیقات کے پلاٹ طے کیے۔

سالک صاحب کے والد کی عروس البلاد بمبئی میں ایک ڈائمنڈ بیکری وڈائمنڈ اسٹور تھا۔ وہ ثانوی درجات میں تھے کہ والد محترم انھیں لے کر بمبئی چلے گئے۔ وہاں سے انھوں نے ہائی اسکول ماہم آر۔ سی کرسچین اسکول سے پاس کیا۔ بچپن گزرا، لڑکپن آیا۔ ملاقاتوں کا سلسلہ دراز ہوا۔ حلقے میں وسعت آئی۔ تخلیقی ذہن تھا۔ لکھنے کا شوق تھا۔ اخباروں میں چھپنا شروع ہوئے۔ رسائل تک پہنچتے۔ بمبئی کی زندگی میں مکتبہ جامعہ، بمبئی شاخ پر آنا جانا ہوا۔ وہیں کیفی اعظمی، مجروح سلطانپوری اور ندا فاضلی وغیرہ سے ملاقات ہوئی۔ لکھنے پڑھنے کا سلسلہ مزید آگے بڑھا تحریروں میں پختگی آئی۔ اس طرح ایک عرصہ گزر گیا۔ حالات اور وقت نے والد کا سارا بزنس تباہ کردیا۔ پھر واپس دھام پور لوٹے۔

محترم قارئین! سالک صاحب کی زندگی میں چائے اور چائے خانہ ایک استعارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ چائے اور چائے خانے نے بہتوں کو بہت کچھ بنا دیا اور بہتوں کو تباہ بھی کردیا۔ میں نے مشاہدہ کیا  ہے کہ انھیں چائے سے حد درجہ شغف تھا۔ اگر ہر گھنٹے پر چائے مہیا ہو تو کوئی ہرج نہیں لیکن قلیل مقدار میں۔

دوستو! میں چائے کے ذکر پر بھٹک گیا تھا۔ دراصل مجھے یہ بتانا تھا کہ بمبئی سے دھام پور واپسی پر انھوں نے دھام پور میں ایک چائے خانہ کھولا تھا جو بہت زمانے تک رہا۔ بمبئی اور دھام پورمیں چائے خانے کے تجربات و مشاہدات نے باقاعدہ ایک تصنیف ’چائے کی دوکان‘ عطا کی۔ حالانکہ دھام پور کے دوران قیام مستقیمی صاحب کی قیادت میں ان کے گھرپر جماعت اسلامی کے پروگرام ہوا کرتے تھے۔ سالک صاحب لوکل ذمے دار بھی تھے لیکن تخلیقی ادب سے سدا منسلک رہے۔ بچپن، لڑکپن اور نوجوانی کی یاد تازہ کرنے کے لیے ملنسار تھے اس لیے اکثر اپنے ماضی کے دوستوں کویاد کرکے ان کے قصے سنایا کرتے۔ وقتاً فوقتاً بمبئی کے احباب سے ملنے جایا کرتے تھے۔ بمبئی کے دوستوںمیں ایک دوست آصف پلاسٹک والابہت مشہور ہے۔ آصف پلاسٹک والا بھی ادب و شعر اور تخلیق سے حددرجہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ سالک صاحب کی کئی کتابوں کا آصف پلاسٹک والا نے بمبئی سالک صاحب کوبلاکر  اجرا کیا وہ فلمی دنیا سے بھی جڑے ہیں۔ چائے کا دھندا اور چائے خانے کے ماحول میں طرح طرح کے افراد سے ملاقات کا سلسلہ سالک صاحب کے لیے مضر نہیں بلکہ مفید رہا۔ سماجی سطح پر گفتگو شنید سے بہت سارے عقدے حل ہوتے، بہت سارے نکات ملتے جو تخلیق میں معاون ہوتے نیز کتابوں کی زینت بنتے۔

سالک صاحب کے حلقہ احباب میںحکما و اطبا خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ سالک صاحب سے میری پہلی ملاقات اتفاقاً ابوالفضل انکلیو تین نمبر یونانی ریسرچ دواخانے میں ہوئی۔ وہ حکیم سید احمد خان کے او پی ڈی میں تشریف فرما تھے کہ میں پہنچا۔ سید صاحب نے مریضوں کی بھیڑ میں ہی سالک صاحب سے میرا تعارف کرایا کہ ’’راشد صاحب ان سے ملیے یہ سالک دھام پوری ہیں‘‘ میں نے ایک طائرانہ نظر ڈالی اور پھر ماضی میں چلا گیا کہ میں اپنے بچپن میں سالک دھام پوری کی تحریریں پڑھا کرتا تھا۔ تاہم یقین نہ آیا کہ یہ وہی سالک دھامپوری ہوسکتے ہیں حالانکہ کتابیں لکھنے والوں کو ہم کسی اور دنیا کی مخلوق سمجھتے تھے، ہمارے وہم و گمان میںبھی نہیں ہوتا تھا کہ ایسے لوگوں سے ہماری کبھی ملاقات بھی ہوسکتی ہے۔ قرطاس و کتاب پر چھپے الفاظ کو ہم دنیا کی دولت بے بہا سمجھتے تھے۔ یہ سوچتے تھے کہ آخر یہ کیسے ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں کہاں سے آتی ہیں۔

سالک صاحب سے وہیں بیٹھے بیٹھے سید صاحب نے میرا تعارف کرایا تو سالک صاحب نے بغیر کچھ سوچے کہا کہ پھر تو اگلے پروگرام میں، ان کو مہمان ذی وقار کی حیثیت سے مدعو کرتے ہیں۔ میرے استفسار پر بتایا کہ ہماری بزم احباب میں ماہانہ شعری نشستیں ہوتی ہیں۔ آپ آئندہ ہونے والی نشست کے لیے مہمان ذی وقار کی حیثیت سے مدعو ہیں۔ اس کے بعد سے میں ان کی قائم کردہ بزم احباب کا مستقل شریک رہا۔ کچھ ہی دنوں کے بعد مجھے انھوں نے سکریٹری بھی بنایا۔ میں بہت کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں لیکن بھٹک جاتا ہوں۔ باتیں بڑی بے ربط ہوجاتی ہیں۔ دراصل میں سالک صاحب کی اطبا سے قربت و صحبت پر صراحت کرنا چاہتا تھا جس کے اثرات سالک صاحب کی ادبی و تخلیقی کاوشوں پر مثبت پڑے۔ نتیجے میں ان کے قلم سے باضابطہ ایک تصنیف ’علاج و معالجہ‘ کے نام سے وجود پذیر ہوئی جسے قومی اردو کونسل کی معاونت بھی حاصل رہی۔

سنجیدہ علمی و ادبی گفتگو ان کا مزاج تھا۔ تاہم بسااوقات ظرافت سے معمور گفتگو کرتے ہوئے لطائف سناتے اور بے تحاشا قہقہے لگا کر ہنستے۔ بزلہ سنجی اور لطیفہ گوئی کے فطری ذوق نے تصنیف ’تکلف بر طرف‘ کو وجود بخشا۔ اس کتاب میں معاشرتی و سماجی شخصیات پر لطائف ہیں۔ جس میں گہرا طنز ہوتا ہے۔ خاص کر قائدین اقوام کے لیے۔

سالک صاحب کو حقانی القاسمی سے بڑی انسیت تھی۔ ملاقات کا سلسلہ کم تھا، لیکن بہت محترم تھا۔ حال ہی میں سالک صاحب نے اپنی آخری تصنیف کا مسودہ میرے بدست حقانی صاحب کو بغرض تسوید مقدمہ تفویض کیا تھا جو اب بھی حقانی صاحب کے پاس موجود ہے۔ غالباً اب اس پر کچھ کام ہوگا۔ ویسے وہ کتاب ان کی کہانیوں کا مجموعہ  ہے جو آخری مرحلے میں ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے ہر موڑ پر اپنے تجربات کو تخلیق کا جامہ پہنایا۔ ان کی زندگی کا ایک نہایت ہی اہم اور تاریخی موڑ ان کی اسیری کا زمانہ ہے۔ ایمر جنسی کا زمانہ تھا۔ کسی بھی تحریک سے تعلق رکھنے والے متحرک و فعال افراد کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا تاکہ معاشرے کی بیداری میں اپنے مثبت کردار ادا کرنے سے محروم کردیے جائیں۔ سالک صاحب بھی اس جبر کا شکا رہوگئے اور 4 جولائی 1975 کو حبس زنداں سے دوچار ہونا پڑا۔ ان کی مدت اسیری قریباً دو سال مختلف جیلوں، ضع جیل، بجنور، سینٹرل جیل، بریلی نیز سنیٹرل جیل، نینی، الہ آباد میں کاٹنی پڑی۔ جیل کے ماحول اور صعوبتوں کو انھوں نے اپنے کلام کا حصہ بنایا ہے جو بہ شکل شعری مجموعہ (کلام زنداں) کے نام سے محفوظ ہے۔ چند زندانی کلام کو انھوں نے خود ہمیں سنایا۔ وقتاً فوقتاً وہ اپنے حبسی تجربات بھی بیان کرتے ہوئے مختلف قیدیوں کے احوال سے روبرو کراتے تو کبھی ہنستے اور کبھی آبدیدہ ہوجاتے۔ جیل کے کارندوں کے سلوک و رویے پر اکثر گفتگو کرتے۔ ان کی نرمیوں اور سختیوں کو لطف لے لے کر بیان کرتے۔

سالک صاحب نے اپنی طالب علمی کے زمانے کا ایک ایسا واقعہ سنایا جس کے پیچھے ایک خاص فکر کام کررہی تھی جس سے وہ ناواقف تھے۔ بقول ان کے ہمارا امتحان ہونے والا تھا۔ ہمارے کلاس کے ایک دوست نے ہم سے کہا کہ تمھارا سینٹر فلاں جگہ ہے۔ میرا ایک سامان ہے۔ لیتے جانا ایک آدمی آکر لے لے گا۔ میں نے ہامی بھرلی۔ اس نے ایک بریف کیس لاکر مجھے دیا اور میں لے کر پرچہ دینے چلا گیا۔ لوکل ٹرین سے اترا تو اسٹیشن کے باہر چیکنگ چل رہی تھی۔ سارے مسافر ایک ایک کرکے باہر نکلتے اور چیک ہوتے۔ مجھے پیپر کی فکر تھی۔ میں لائن توڑ کر آگے بڑھا اور کہا کہ صاحب میرا امتحان چھوٹ جائے گا۔ میرا بریف کیس پہلے چیک کرلو، اس صاحب نے کہا بھاگو جلدی جاؤاور مجھے اس نے آگے بڑھا دیا۔ میں کلاس میں چھوٹا دبلا پتلا معصوم سا تھا۔میرا ساتھی کلاس فیلو لمبا تڑنگا۔ اس نے ارادتاً مجھ سے دوستی کی تھی، تاکہ اس کی معصومیت سے کام لیا جاسکتا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ لڑکا اس وقت کے نامور بزنس مین کا لڑکا تھا۔

سالک صاحب دراصل ہندی زبان کے لکھنے پڑھنے والے تھے لیکن تخلیقی ذہن ہونے کے سبب وہ شاعری بھی کرتے اور کہانیاں بھی لکھتے۔ جو مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوتی تھیں۔ اس طرح وہ ایک اچھے مترجم بھی ہوگئے اور سب سے پہلی کتاب انجم بک ڈپو کی ’محمد بن قاسم‘ کا ترجمہ ہندی میں کیا۔

سالک صاحب کا تصنیفی عمل کئی نوعیت کا ہے۔ ابن صفی کے ناول کا غالباً پورا سیٹ ترجمہ کیا ہے جو ہندی میں چھپا ہے۔ اس کے علاوہ بے شمار کتابوں کا اردو ہندی نیز ہندی اردو ترجمہ کیا لیکن سب کتابیں ترجمہ کروانے والو ںکی ملکیت ہیں انھیں صرف معاوضہ ملا۔ نام واکرام نہیں۔ اس کے علاوہ بہت سی علمی و مذہبی کتابیں ہیں۔ ناول افسانے اور شعری مجموعے ہیں۔ اخبارات سے مستقل منسلک رہے۔ مراسلے خاص کر ان اخباروں کی زینت بنتے رہے۔

سالک صاحب کی صحافتی خدمات کی ایک طویل فہرست ہے۔ آٹھ سال تک جماعت اسلامی ہند کے ہندی اخبار ’کانتی‘  میں بحیثیت اسسٹنٹ ایڈیٹر کے کام کیا۔ آٹھ سال ہفتہ وار ’بھور میل‘ میں مدیرکی ذمے داری ادا کی۔ 1984 میں اپنا اخبار ’جائزہ‘ نکالا جو قانونی گرفت میں آیا اور بند ہوگیا۔ تین سال تک اردو ماہنامہ ’دعوت و عزیمت‘ کی ادارت کی ذمے داری سنبھالی۔ نسیم حجازی کے دس معروف تاریخی ناول، مولانا اشرف علی تھانوی کا ’ترجمۃ قرآن‘ نیز مولانا ابوالکلام آزاد کے ’ترجمان القرآن‘ کی ہندی میں تلخیص کی جوان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمن صاحب کے رسالہ ماہنامہ ’جرائم‘ میں تقریباً تین سال سے مزاحیہ مضامین لکھتے رہے تاآنکہ وہ رسالہ بند ہوگیا۔

برسبیلِ تذکرہ یاد آیا کہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن صاحب ماہنامہ ’جرائم‘ کے مالک و مدیر اب بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔سالک صاحب جیسے مخلصین کی وجہ سے یہ رسالہ کسمپرسی کے عالم میں بھی نکلتا رہا۔ بدرجہ مجبوری بند کرنا پڑا۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمن صاحب سالک صاحب کی بزم احباب کے مستقل شریک تھے۔ وہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں، ترنم سے اپنی غزلیں سناتے ہیں۔ بینائی کھوجانے کے باوجود بزم احباب کی نشستوں میں پابندی سے شریک ہوتے تھے۔ بہ سبب مجبوری ایک آدمی جاتا اور ان کو اپنے ساتھ بزم میں لاتا اور اختتام پر انھیںان کی رہائش پر پہنچا دیتا۔ سالک صاحب کے گزر جانے سے بعد ان کی دنیا بھی محدودہوگئی۔ ورنہ بزم احباب کی بہت سی نشستیں ان کی رہائش پر منعقد ہوتی اور حاضرین کی ضیافت کا معقول نظم ہوتا تھا۔ بزم احباب کی بہت سی نشستیں سید اظہارالحسن صاحب کی رہائش پر اور احسن فیروز آبادی کے مکان پر منعقد ہوتی تھیں۔

سالک صاحب کے بڑے صاحب زادے جاوید اختر کا کام گرافک اینڈ ڈیزائن کا ہے۔ تاہم وہ پھر بھی پرعزم ہیں کہ ابا کی سرگرمیوں کو بزم احباب کی شکل میں جاری رکھا جائے گا۔ ابھی ہم ان کے بکھرے ہوئے کاموں کو سمیٹنے میں لگے ہیں۔ انھیں حسن ترتیب دینے کے بعد ان شاء اللہ بزم کی طرف توجہ دیں گے اور اس سلسلے کو جاری کریں گے۔

سارے اخباروں کے مدیران ذاتی طو پر ان سے واقف تھے۔ ان کی تحریریں شوق سے چھاپتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سانحہ ارتحال پر تمام اخباروں نے ان کی تصویر کے ساتھ بڑے رنج و غم سے خبریں قارئین تک پہنچائیں۔ خود قومی اردو کونسل نے اپنے رسالے ’اردو دنیا‘ میں ان کی یہ خبر وجیہ تصویر کے ساتھ خبرنامہ میں شامل کی۔ میری گفتگو غالباً طوالت اختیار کرتی جارہی ہے اور میں باتوںکو ربط بھی نہیں دے پارہا ہوں، تاہم ان کی قائم کردہ ’بزم احباب‘ کے تعلق سے کچھ وضاحت کردوں، سالک صاحب کی زندگی میں بزم احباب کی غالباً 53 یا 54 نشست ہوچکی تھی۔ آئندہ نشست رمضان کے بعد ہونے والی تھی جو نہ ہوسکی۔ اب مستقبل میں بزم احباب کا کیا ہوگا، آیا قائم رہے گی یا خود بہ خود تحلیل ہوجائے گی۔ کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔  ان کے ساتھ محفلوں میں شریک ہونے والے احباب کا عزم و حوصلہ ہے کہ اسے زندہ رکھیں، اسے آگے بڑھائیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔ کچھ دوستوں نے مجھ سے باقاعدہ اظہار کیا کہ آپ اسے آگے بڑھائیے ہم مکمل تعاون کریں گے جن میں پیش پیش بزم احباب کا سب سے کم عمر رکن الفوز زیادہ پرعزم ہے ساتھ میں معاذ ہیں۔ ان کے علاوہ سینئر شرکا میں نسیم مجیدی فلاحی، سید شہاب الدین، سید اظہار الحسن وغیرہ خاص طو پر قابل ذکر ہیں۔

میں جب سے بزم احباب کا شریک رہا، میں نے دیکھا کہ عالمی شاعر حامد علی اختر یا معروف شاعر احسن فیروز آبادی نیز دلشاد اصلاحی بحیثیت شاعر و ناظم شریک تھے اور اپنے کلام سناتے تھے۔ سالک صاحب کا وجود ایک مرکز و محو رکی حیثیت رکھتا تھا۔

سالک صاحب کی کتاب زندگی کا آغاز10 اپریل 1948 کو ہوا۔ اس وقت عربی کا کون سا مہینہ تھا علم نہیں لیکن جب ان کی کتاب زندگی بند ہوئی تو عربی کا ماہ رمضان تھا اور اتفاق دیکھیے کہ انگریزی تاریخ 11اپریل 2022 ہے۔ اللہ نے رمضان کے پہلے عشرے میں ایک فعال و متحرک شاعر و ادیب، کہانی کار اور صحافی کو اپنے پاس بلا لیا، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔

Dr. Abdur Rasheed  Azmi

Gulmarg Apts, Abul Fazal Enclave

Jamia Nagar, Okhla

New Delhi - 110025


 

22/9/22

ندا فاضلی کی آپ بیتی'دیواروں کے بیچ' میں اسلوبیا تی تنوع اور تخلیقی فعالیت: سید وجاہت مظہر


کیسلس انسائیکلو پیڈیا آف لٹریچر میں خودنوشت نگاری سے متعلق بڑی اہم بات کہی گئی ہے"آپ بیتی لکھنے والا اگر اپنی کہانی کو فن پارہ سمجھنے کا خواہش مند ہے تو جمالیاتی اسباب کی بنا پر کئی حقائق کو حذف کر دینے پر خودکو مجبور پاتا ہے۔ خودنوشت کے مصنف کے لیے یہ بات لازم ہے کہ اپنی روز مرہ کی روکھی پھیکی باتوں کو ضرورتاً دہرائے اور اپنی توجہ اہمیت رکھنے والے قصوں،کاموں اور خصوصیات پر مرکوز رکھے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو کئی کئی جلدوں والے وسیع سلسلے پڑھنے کے لائق نہ رہ جائیں گے۔"

(ترجمہ،کیسلس انسائیکلو پیڈیا آف لٹریچر،جلد 1،ص63)

انگریزی کےمعروف نقاد پروفیسر البرٹ ای اسٹون نے بجا طور پر لکھا ہے کہ فنکارانہ تخیل حقیقت سے بھی زیادہ حقیقی ہوتا ہے۔آپ بیتی میں پیش کی گئی سچائیوں کو فنی اقدار کی آمیزش کے ساتھ پیش کرنے ہی سے اس میں حسن اور تاثیر پیدا ہوتی ہے۔اگر چہ کہ سچائی اور خودشناسی انتہائی اہم لوازمات ہیں مگر ان کی پیش کش میں جذبات کی رنگ آمیزی اور خیالات کی پیکر تراشی شامل نہ ہو تو خود نوشت میں قاری کو تخلیقی تسکین کیسے ملے گی۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ خود نوشت سوانح نگار کے لیے اسلوب کی دلکشی بھی بنیادی شرائط میں شامل ہے۔

خود نوشت محض داستانِ حیات نہیں بلکہ ایک ادبی کارنامہ بھی ہے۔یہ اپنی رودادِ حیات کو بے باکی اور جرأت  رندانہ کے ساتھ پیش کرنے کا عمل ہے۔ داخلی جذبات کا اظہار دراصل فن کی اعلیٰ اقدار میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ زندگی کی کوتاہیوں کا ایسا اعتراف ہے جو مصنف کی روح کی تطہیر کرتا ہے۔

اُردو کے شعرأ و ادبا ٔ نے اپنی داستان ِ زیست بیان کرنے کے لیے کہیں قرۃ العین حیدر کی ناول نما سوانح حیات ' کار ِ جہا ں دراز ہے '  کے طرز پر شعور کی رَو کی تکنیک کا استعمال کیا ہے۔ شعور کی رو کے مطابق تخلیقات میں ترتیب یا ربط کا ہونا ضروری نہیں بلکہ انسانی شعور ایک سیال شے ہے جو منطقی ربط و ضبط کے بغیر زندگی کے ساتھ رواں دواں رہتا ہے۔اردو میں قرۃالعین حیدر نے اس تکنیک کو فنکارانہ مہارت کے ساتھ ناول'آگ کا دریا' میں استعمال کرنے کی سعی کی ہے۔ ان کی خود نوشت ' کار جہاں دراز ہے' میں بھی انھوں نے اس ہیئت کو اپنایا ہے۔ آپ بیتی کے میدان میں ناول نما  ہئیت اور فلسفیانہ و اساطیری لب و لہجے میں اپنا فسانہ ٔ  زندگی پیش کر کے خودنوشت نگاری میں منفرد پیکر تراشی، ہئیتی تجربہ کاری اور جمالیاتی اسلوب کا مظاہرہ جن دیگراہل قلم نے کیا ان میں'آشرم' کے مصنف پروفیسر شکیل الرحمٰن کا نام بھی نمایاں ہے۔انھوں نے اس آپ بیتی میں استعاراتی اور داستانوی طرزِ نگارش اختیار کیا ہے۔  علمِ نفسیات میںانسانی افکار و اعمال کو شعور سے زیادہ لا شعور کی پیداوار تسلیم کیا جاتا ہے جس میں ترتیب و تہذیب اور ربط و ضبط نہیں پایا جاتا۔ علم نفسیات اور جمالیات کے ماہرپروفیسر شکیل الرحمن نے شعوری طور پراپنی خود نوشت 'آشرم' میں اس تکنیک کا ہئیتی نظریے سے تجربہ کیاہے۔ موصوف کی آپ بیتی  'آشرم' ، قرۃ العین حیدر کی آپ بیتی 'کار ِ جہاں دراز ہے' اور  ندا فاضلی کی آپ بیتی'دیواروں کے بیچ'  کا شمار ایسی ہی ادبی خودنوشت سوانحی کتب میں کیا جا سکتا ہے جو عام نہج سے ہٹ کرلکھی گئیں اور جن میں ہئیتی تجربات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔

 جدید طرز ِ نگارش کے نمائندہ شاعر ندا فاضلی نے جب نثر نگاری کے میدان میں قدم رکھا  تو پہلے معروف شعرا اور ادبا سے اپنی ملاقات اور گفتگو کو کتابی شکل میں پیش کیا۔ یہ انٹرویوز پہلے ہفت روزہ 'بلٹز' میں شائع ہوتے رہے بعد میں انھیں 'ملاقاتیں' عنوان سے کتاب کی شکل میں شائع کیا گیا۔ اپنی دلکش نثر کی بدولت مصنف کی یہ نثری کاوش، اہل ِ اردو میں بڑی مقبول ہوئی۔ اس کے بعد ندا فاضلی نے ‘دیواروں کے بیچ‘  عنوان سے ایک ناول نما خودنوشت سوانح حیات لکھی۔

اس میں ندا  فاضلی نے اپنے سوانحی کوائف کے علاوہ اپنے عہد کے ادبی و ثقافتی مرقعے بھی پیش کیے ہیں۔ ندا  فاضلی12 اکتوبر 1938  میں گوالیار میں پیدا ہوئے۔ ان کا انتقال 8  فروری  2016  کو ممبئی میں ہوا۔  اِس کتاب میں انھوںنے اپنی پیدائش، خاندانی منظر نامہ، ابتدائی زندگی اور تعلیم و تربیت سے متعلق حقائق سے بڑی خوش بیانی کے ساتھ آگاہ کیا ہے۔ مصنف نے اپنے وطن گوالیار کا ذکر بڑی گہری وابستگی کے ساتھ کیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں واقع یہ شہر اپنے تاریخی قلعے کے سبب سیاحوں کی دلچسپی کا محور رہا ہے۔ انھوں نے اس کی نہایت دلچسپ لفظوں میں تصویر کشی کی ہے۔ ندا فاضلی نے اپنی زندگی کا آغاز گوالیار، بھوپال اور بمبئی میں بڑی جدّ و جہد کے ساتھ کیا۔ انھوں نے فلموں کے لیے کئی گیت لکھے۔ ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامہ سیریل تحریر کیے۔ وہ بڑے زیرک اور فعال قلمکار تھے۔ انھوں نے نظم و نثر دونوں میں نہ صرف طبع آزمائی کی بلکہ ہیئتی اور تکنیکی تجربات بھی کیے۔  انھیںدیگر کئی ادبی، علمی اور فلمی اعزازات کے علاوہ، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1998)اور پدم شری ( 2013)کے اعزاز سے بھی نوازا  گیا۔

ندا  فاضلی نے ہمیشہ اپنے کلام میں انسانیت کے وقار اور سربلندی کا پاس رکھا۔نثر میں انھوں نے سدا حق گوئی اور بے باکی کا مظاہرہ کیا۔ وہ ایک نہایت مستحکم شخصیت کے مالک تھے۔ وہ اپنے آپ کو عام آدمی مانتے تھے، نہ کہ ایک مثالی شخصیت کا حامل قلمکار۔ اپنے احباب و اقارب کاذکر کرتے ہوئے وہ کسی قسم کی مصلحت پسندی اختیار کرنے یا تلخ باتوں کو  یاد کرنے کے بجائے حقیقت پسند ی کے ساتھ کام لیتے ہیں۔ خواہ نظم ہو خواہ نثر، وہ بڑی سادگی کے ساتھ گہری باتیں کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اسلوبیاتی تنوع اور تخلیقی فعالیت ان کی بنیادی پہچان بنی۔ اس خود نوشت سوانح حیات میں مقامات و اشخاص و واقعات کی مرقع سازی میں فلسفیانہ نکات اور جمالیاتی پہلوؤں کی شمولیت اور اظہار میں بے باکی کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔

معروف شاعر شاہد ماہلی مرحوم نے اپنے اشاعتی ادارے  ‘ معیار پبلی کیشنز‘  سے اس کتاب کی اشاعت کی۔ وہ ندا فاضلی کی اس ناول نما آپ بیتی کا تعارف اِن الفاظ میں کراتے ہیں:

" ندا  فاضلی جدید اردو ادب کے نہایت بے باک اور زرخیز ذہن کا ایک معتبر نام ہے۔انھوںنے مختلف شعری اصناف نظم، غزل، نثری نظم، گیت اور دوہوں میں ہی اپنے منفرد اسلوب کی شناخت نہیں دی،  نثر میں بھی اُن کے اظہار کا انداز سب سے جدا نظر آتا ہے۔ ادبی دنیا میں 'ملاقاتیں'  کی طرز ِ نگارش کی پذیرائی کے بعد انھوں نے اپنی دوسری کتاب 'دیواروں کے بیچ' میں نئے سِرے سے، نثر کے نئے تخلیقی امکانات کی تلاش کی ہے۔ اپنی شاعری کی طرح وہ نثر میں بھی ایک اہم آواز ہیں۔ اُن کی جدّت پسندی نے بھولی بسری یادوں کو ناول کا روپ دیا ہے۔ یہ سوانحی ناول ایک طویل سماجی و تہذیبی دور کے منظرنامے کا حصہ اول ہیں جس میں خود ندا فاضلی بھی ایک کردار ہیں۔"    (شاہد ماہلی)

'دیواروں کے بیچ' میں ندا فاضلی نے اپنے مشاہدات و تجربات  حیات کو بڑی فنکارانہ چابک دستی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ناول نما اِس آپ بیتی میں ندا فاضلی نے اپنی زندگی کی کہانی پیش کرتے وقت'واحد متکلم' کا صیغہ استعمال نہیں کیا ہے۔ اِس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر عتیق اللہ نے اپنے مضمون بعنوان 'خودنو شت اندر ناول... ایک  بے تکلف تجزیہ' میں  واضح طور پر لکھا ہے :

"ندافاضلی نے اپنی سوانح کے لیے اس ضمیر متکلم کا سہارا نہیں لیا ہے جو بالعموم خود سوانحی ناول نگاروں کا سب سے مرغوب صیغہ کہلاتا ہے۔اس ترجیح کی پشت پر ان کا یہ منشا بھی ہو سکتا ہے کہ کہیں ‘ میں‘ کی پرداخت انا، اظہار، احتساب اور اعتراف کی راہ میں حائل نہ ہو جائے اور وہ معروضیت بھی پیدا نہ ہو سکے جو جرأتوں کو بحال رکھنے کا ایک بڑا سبب بھی ہوتی ہے۔  ندا  اپنی شاعری میںمختصر لمحوں کا شاعر ہے۔ یعنی وقت کو وسیع بساط پر پھیلانے سے اسے کوئی خاص رغبت نہیں ہے۔ جب کہ ‘ دیواروں کے بیچ‘ اور ‘دیواروں کے باہر‘ کا زمان کم و بیش 60 برسوں پر محیط ہے۔ ندا  کے یہ 60 برس کسی ایسے شخص کے 60 برسوں کا عرصہ رواں نہیں ہیں جسے اپنے ماضی پر گھمنڈ ہو، حال پر فخر اور مستقبل پر اعتماد۔ جو اخلاقیات کی نام نہاد فرہنگ کی ہر اُس برائی سے اپنے پاک ہونے کا ثبوت فراہم کرتا ہو جس سے اس کے حال کی عظمت پر کوئی حرف آسکتا ہے۔"

(اعتراف، کتابی سلسلہ نمبر 1ندافاضلی، ناشر اعتراف گُرو پ، ممبئی، اپریل 2005، صفحات 240)

ندا  فاضلی بتاتے ہیں کہ تقسیم وطن کے ساتھ انھوں نے یہیں مُلک میں رہنا پسند کیا، جبکہ نا مساعد حالات کے باعث اُن کے اہل ِخاندان نے ہجرت گوارہ کرنا بہتر سمجھا۔ شرنارتھیوں کی آمد کے ساتھ فسادات کے ماحول میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ان کے گھر کے افراد کو اپنی جان بچانے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر بھوپال کا رخ کرنا پڑا۔ شہر کے باہر ویران علاقے بیرا گڑھ میں ایسے پناہ گزینوں میں وہ اپنی والدہ کے ساتھ قیام کرتے ہیں۔ ندا فاضلی نے تقسیم وطن کے بعد برپا ہونے والے  فسادات کی بڑی سچی تصویر یں پیش کی ہیں۔         

کسب ِ معاش کے ضمن میں وہ بمبئی، دلّی اور بھوپال کے سفر کرتے رہے۔ انھوں نے شعر و سخن کے ہمعصر ستونوں سے شعوری طور پر ربط و ضبط بڑھایا۔ عشق و معاشقے کے معاملات میں بھی انھوں نے نہ صرف اپنے ساتھ پیش آنے والے قصوں کو بڑی بے باکی اور دیدہ دلیری کے ساتھ لکھا ہے بلکہ اپنے والد ِ ماجد مرتضیٰ حسن کی بے راہ روی کی بھی قلعی کھولی ہے اور اُن کے ساتھ پیش آنے والے واردات ِ قلب و نظر کوبھی قارئین کے روبہ رو بے دریغ اُجاگر کر دیا ہے۔ والد کی اپنے گھر کے تئیں بے اعتنائی سے اُن کی والدہ ذہنی اور جذباتی صدمات سے دوچار ہو کر تعویذوں، وظیفوں کے وِرد،  روزہ نماز کی پابندی  اور درگاہوں پر حاضری دینے لگی تھیں۔ اس خود نوشت میں والدہ جمیل فاطمہ کا کردار ایک آدرش مشرقی عورت کا کردار بن کر ابھرتا ہے۔ وہ خانگی ذمے داریوں میں گھری ہوئی، پاکیزہ خیالات و افکار کی حامل خاتون ہیں، جن کے مزاج واعمال میںشرافت، طہارت اور ممتا کے جذبات موجزن ہیں۔

مصنف کے اپنے عشق و معاشقے اور ازدواجی معاملات میں عشرت، وجیہہ اور مالتی جوشی کے کرداروں پر انھوں نے کتاب میں سیر حاصل روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے اِس خودنوشت میں عشرت کے کردار کا ذکر تو کیا ہے مگر اسے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا ہے، جو آپ بیتی کے لوازمات کے نقطۂ نظر سے وضاحت طلب امر کہا جا سکتا ہے۔  

معروف نقاد شمیم حنفی اپنے مضمون ' آنکھ ہوتو آئینہ خانہ ہے دہر' میں  ندا فاضلی کی  نثر و نظم کا جائزہ اور موازنہ پیش کرتے ہوئے اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ندا فاضلی کے یہاں شعری اظہار اور نثر ی اظہار کی صلاحیت تقریباََ ایک جیسی ہے۔ وہ  ندا فاضلی کی نثر کو شفاف، حساس اور بے ساختہ نثر قرار دیتے ہیں۔ بقول شمیم حنفی: 

" ندا فاضلی کی نثر ہمیشہ دھیرے دھیرے آگے بڑھتی ہے، ایک خوش خرام جوئے آب کی طرح۔ اُن کی نثر جھالر یا سجاوٹ کے سامان سے حیرت انگیز حد تک خالی ہے۔ نثر میں ندا اپنے آپ کو ذرا بھی بے قابو نہیں ہونے دیتے۔ اُن کی نثر فکری یا جذباتی مبالغے سے عاری، بہت گتھی ہوئی، رواں دواں نثر ہے۔"

(اعتراف ،کتابی سلسلہ نمبر 1ندافاضلی، ناشر اعتراف گُرو، ممبئی، اپریل 2005، ص 74 )

ندا فاضلی اِس ناول نما خود نوشت میں اپنے والدین اور آبائی گھرکا نقشہ کھینچتے ہوئے اپنے ارد گرد پائے جانے والے مختلف کرداروں کی سرگرمیاں اور ان کے نفسیاتی عوامل کے بیان اورفسادات سے پیدا شدہ دہشت اور سنسنی کے ماحول کی سچی تصویر پیش کرتے ہیں۔ ایک ایسی حقیقی دنیا کا مرقع یہاں پیش کرتے ہیں جہاں شاعر، ادیب، طوائفیں، شریف زادیاں،  ہجڑے، پہلوان، پنڈت اور لفنگے سبھی اپنی تمام تر ذات و صفات اور دکھ سکھ کے ساتھ اپنے اپنے حصے کی زندگی جی رہے ہیں۔بستیاں، محلے، شہر،بچے، لڑکیاں، درخت سبھی اپنا مخصوص کردارادا کرتے چلے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں پروفیسر شمیم حنفی یوں رقمطراز ہیں:

" جمیل فاطمہ اور مرتضیٰ حسن کے تذکرے سے شروع ہونے والی کہانی کے کرداروں میں املی اورنیم کے یہ پیڑ، محلہ، بستی، کنوا ری لڑکیا ں، بچے اورپڑوس میں آباد گولیوں کے چھپر والے گھر بھی شامل ہیں... اِس آپ بیتی میں ایک جانی بوجھی اور برتی ہوئی دُنیا آباد ہے۔ کوئی کردار کسی دوسرے کردار پر حاوی نہیں ہونے پاتا اور سب کے سب کہانی کو آگے بڑھانے میں ایک خاموش اور خودکار رول ادا کرتے ہیں۔ کہانی کے بیان میں کئی شہر آتے ہیں۔ گوالیار، بمبئی، دلّی، کراچی، شکاگو اور سکھ دُکھ کے تمام دیکھے بھالے موسم آتے ہیں اورگزر جاتے ہیں۔ اِس بہ ظاہر سیدھے سادے اور معمولی بیانیے کی تعمیر کرنے والوں میں ہر سطح، ہر طبقے، مسلک اور مزاج کے لوگ شامل ہیں۔ شریف زادیاں، طوائفیں، ہجڑے، پہلو ان، شاعر، ادیب، لفنگے اور بھاکری، مولوی اور پنڈت۔ غرض کہ خاصی رنگا رنگی اور چہلمی ہے۔ سوئی سوئی سی پر امن بستیوں کے بیان سے لے کر فساد زدہ ماحول کی سنسنی، دہشت اور درشتی تک، ندا  انسانی جذبوں، خوابوں، اُمنگوں اور احساسات تک ہر طرح کے تجربوں سے گزرے ہیں۔ کہیں اپنے شعور کی ستائش اور اپنی ہستی کا نشہ نہیں، عبارت آرائی اور فلسفہ طرازی نہیں، کسی طرح تمسخر، تحقیر اور ملامت کا اظہار نہیں۔ یہاں تک کہ اپنی طباعی اور بصیرت کے بیان سے پڑھنے والوں کو متاثر کرنے کی طلب بھی نہیں۔ تجربوں کے کھرے پن اور متعلقہ تفصیلات سے جھلکتی ہوئی دردمندی اور سوز کی ایک دائم و قائم کیفیت نے اِس کتاب کو انسانی سوچ، رویے اورطرز  ادا کی ایک موہنی شکل دے دی  ہے۔ آپ بیتیاں مصیبت بن جاتی ہیں جب بیان کرنے والا آپ اپنے وجود کی سطح سے اوپر اٹھنے اور اپنے بندھے ٹکے شعور کے دائرے سے پل بھر کے لیے بھی باہر آنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ "

(اعتراف ، کتابی سلسلہ نمبر 1ندافاضلی، ناشر اعتراف گُرو، ممبئی، اپریل 2005، ص 74-75 )

ندا فاضلی جب نئے نئے ممبئی پہنچتے ہیں تو ان کے دوستوں اور شناساؤں کے لیے مکتبہ جامعہ،روز مرہ کی ملاقات  کا مرکز بن جاتا ہے۔ اردو کتابوں کا یہ مکتبہ،ادبی حلقوں میں اس لیے ہردلعزیز ہے کیونکہ اس کے جنرل منیجر شاہد علی خاں اہل اردومیں سب کے ساتھ یکساں طور پر خندہ پیشانی سے پیش آتے رہے ہیں۔اسی لیے ممبئی کے بھنڈی بازار میں واقع مکتبہ ٔ جامعہ، اردو ادیبوں اور شاعروں کے ملنے ملانے کے نقطہ ٔ  نظر سے مرکزی بنیادی اہمیت کا حامل مقام بن چکا ہے۔ ندا فاضلی اردو کتابوں کے اس مرکز میں وقوع پذیر ہونے والے ادبی مباحث، نوک جھونک اورمعرکہ آرائیوں کا بڑا دلچسپ خاکہ پیش کرتے ہیں:

  "بمبئی کے بھنڈی بازار کے علاقے میں مکتبہ جامعہ ایک ایسا مرکز ہے جہاں بمبئی کے سارے زمینی فاصلے سمٹ کر ایک کتابوں کی دُکان بن جاتے ہیں۔ یہاں چھوٹے بڑے ہر شاعر، ادیب سے ملاقات ہو جاتی اُس کے جنرل منیجر شاہد علی خاں ہیں۔ ادیبوں کے آپسی اختلافات سے دور صبح سے شام تک ان کی مسکراہٹ سب کے لیے یکساں ہوتی ہے۔ ترقی پسند اسے اپنے لیے مخصوص سمجھتے ہیں۔ جدیدیت پسند اس میں بدلتی ہوئی قدروں کا عکس دیکھتے ہیں۔ یہ مسکراہٹ برسوں سے ایک جیسی ہے۔ گرمی، سردی،برسات ہر موسم میں اس کی لمبائی چوڑائی حسب ِ معمول رہتی  ہے۔ یہاں آنے والوں کی کئی قسمیں ہیں۔ ایک قسم ان کی ہے جو ہرشام پابندی سے یہاں آتے ہیں۔ ان میں اکثریت نئے ادیبوں اور شاعروں کی ہے۔ ندا  بھی انھیں میں شامل ہے۔ اِن میں ادب کے تعلق سے جذباتی انتہا پسندیاں زیادہ ہیں۔ ادبی بحث و مباحثہ میں ہر روز ذاتی تعلقات نئے سِرے سے ترتیب پاتے ہیں۔ یہ نوک جھوک کئی کئی دن ایک کو دوسرے سے خفا رکھتی ہے۔ یہ خفگی جو ہوش میں سماجی حدوں کو پھلانگنے سے گریز کرتی ہے، مدہوشی میں اکثر ہاتھا پائی کا سرکس بن جاتی ہے۔ ندا  کے ہاتھ سے باقر مہدی کا پھٹا ہوا کرتا، باقر مہدی کے اشتعال کا شکار نداکی عینک، سُریندر پرکاش کے غصے سے میز پر دھماکے کے ساتھ چکنا چور ہوتی بوتل، بلراج مینراکے گال پر مہیندرناتھ کا طمانچہ اِس سرکس کے کچھ سین ہیں۔ ادب و زندگی کا یہ قریبی رشتہ نئے ادیبوں کی مادی محرومیوں کا ردّ ِ عمل ہے۔ اِن میں سے بیشتر معاشی جدّ و جہد سے گزر رہے ہیں۔ اُن کے غم و غصے کا نشانہ زیادہ تر وہی کھاتے پیتے ادیب و شاعر  ہیںجیسا یہ خود بھی بننا چاہتے ہیں۔ اپنے اپنے طور پر سبھی ان کوششوں میں مصروف ہیں"       ؎

میری غربت کو شرافت کا ابھی نام نہ دے

وقت بدلا تو تری رائے بدل  جائے  گی

اِن نئے ادیبوں و شاعروں کے ساتھ کچھ ایسے بھی روز کے آنے والے ہیں جو خود لکھتے لکھاتے نہیں لیکن جن کی شام کی فرصتیں روز کی ان نشستوں کی خاموش تماشہ بین ہیں۔ ان میں کچھ تجارت پیشہ ہیں اور کچھ سرکاری و نیم سرکاری کرسیوں سے وابستہ ہیں۔ ادیبوں کی ضرورتوں کو کبھی کبھار قرض کی سہولتیں فراہم کرنا اور ہر شام کی چائے، پان اور سگریٹوں کے اخراجات اُنہی کی اخلاقی ذمے داریاں ہیں۔

     (دیواروں کے بیچ،  ندا فاضلی، معیار پبلی کیشنز دہلی،2001، ص149-150)   

زبان و بیان پر ندا فاضلی کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ وہ معمولی سی بات کو بھی غیر معمولی انداز عطا کردینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اِس آپ بیتی میں ندا  فاضلی نے خود اپنی ذات کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے اور یہ خود احتسابی اُن کی حق پرستی اور دیانت داری کی علامت بن کر اُبھری ہے۔ وہ زندگی کے حقائق کی مرقع سازی کچھ اِس انداز میں کرتے ہیں کہ قاری کے تصور کی آنکھ کے سامنے معاشرے کی متحرک تصویریں نمودار ہونے لگتی ہیں، جس میں ہوس ناکی، دہشت، بے چینی اور سفاکی دکھائی دیتی ہے۔ زندگی کے ان تاریک پہلوؤ ں کا مقابلہ مصنف اپنی طبیعت کی فراخی، بلند نظری اور وسیع القلبی سے کرتا نظر آتا ہے۔ وہ خود اپنی ذات کے خام پہلوؤں کو اُجاگر کر تے ہوئے کسی مصلحت کو ملحوظ رکھے بغیر بڑی جسارت، اعلیٰ ظرفی اور بے باکی کے ساتھ صفحہ  ٔ قرطاس پر اُتار دیتے ہیں۔یہ بات اُن کی مضبوطیٔ جگر و دل کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔ انھوں نے ممبئی کے معاشرے میں مے نوشی، عیاری،  انا پرستی، جھوٹ اور مکر و فریب جیسے عوامل کا بڑی گہرائی و گیرائی کے ساتھ مشاہدہ کیا ہے۔ جمیل فاطمہ، مرتضیٰ حسن اور ندا اِس خودنوشت نما ناول کے بنیادی کردار ہیں لیکن معاشرے میں اپنا وجود رکھنے والے بے شمار ذیلی کردار بھی حسب ِ حیثیت اُن کی زندگی کے کینوس میں اپنی مخصوص جگہ بنا لینے میں کامیاب ہیں۔ اُنہوںنے سماج کے بعض نازک پہلوؤں کی پردہ کشائی کی ہے۔                

منجملہ یہ کہ'دیواروں کے بیچ' ایک دلچسپ، فکر انگیز اور تخلیقی نثر میں لکھی ہوئی داستان ِ حیات ہے۔ اِس کا اسلوب دلکش ہے۔ ندا فاضلی کا قلم بے باک اور دھار دار ہے۔انھوں نے  185 صفحات پر مشتمل اپنی خودنوشت سوانح حیات ' دیواروں کے بیچ'  میں بچپن سے تادم ِ تحریر واقعات و احوال کی پیش کش میں جمالیاتی اسلوب ِ نگارش اِختیار کیا ہے اور اپنے بیانیے میں فلسفیانہ لب و لہجہ اپنایا ہے۔ مصنف نے خودنوشت نگاری کے میدان میں مخصوص ہئیتی تجربہ کاری اور منفرد پیکر تراشی کے توسط سے اپنی تخلیقی قابلیت کا لوہا منوایا ہے اور اس لحاظ سے  انھوں نے  ناول نما آپ بیتیوں کی صنف میں اپنی ایک مُنفرد پہچان قائم کی ہے۔

حوالہ جاتی کتب

1        اردو میں خودنوشت سوانح حیات، ڈاکٹر صبیحہ انور، نامی پریس لکھنؤ، 1982

2        انداز ِ بیاں (یک موضوعی مجلہ )،مدیر حقانی القاسمی، عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی،2016

3        دستاویز  (کتابی سلسلہ 4)، دوحہ / دہلی،2016

4        دیواروں کے بیچ،  ندا فاضلی، معیار پبلی کیشنز دہلی،2001                                      

5        اعتراف کتابی سلسلہ نمبر 1ندافاضلی، ناشر اعتراف گُروپ، ممبئی، اپریل2005

6        کیسلس انسائیکلو پیڈیا آف لٹریچر،جلد 1

Syed Wajahat Mazhar

T-116/1, 2nd Floor, Main Market

Okhla Village, Jamia Nagar

New Delhi- 110025

Mob.: 7217718943

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...