16/2/23

اردو شاعرات کی نظموں میں اساطیری کردار: محد حسین


 اردو میں جدید نظم نگاروں نے جدید افکار و نظریات اورجحانات سے سروکار رکھتے ہوئے موضوعاتی سطح پر بھی تخلیقیت کا مظاہرہ کیا ہے۔جدید نظموں کے موضوعات میں حیات و کائنات کے وہ مسائل بھی جگہ پاتے ہیں جو ایک زمانے تک شجر ممنوعہ تسلیم کیے جاتے تھے۔اسی طرح جدیدنظموں میں صارفی زندگی کی کھردری حقیقتیں بھی نظر آتی ہیں۔سماجی حقیقتوں کے تخلیقی وادبی اظہار کے لیے نظم کے سانچے کو ہی مناسب سمجھا گیا۔اس لیے جدید نظموں کے موضوعات میں ہمیں تنوع نظر آتا ہے۔جدید نظم نگاروں میں خواتین کی بھی خاصی تعداد ہے۔لیکن اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جدید نظم نگاروںکی نمائندہ نظموں کا انتخاب شائع کیا جاتا ہے تو شاعرات کے کلام کوشاذ ونادر ہی جگہ دی جاتی ہے۔ حالانکہ جدید نظم نگار شاعرات بھی اس صف میں ایک مقام رکھتی ہیں۔شاعرات نے بھی اردو شاعری کے میدان میں اپنی منفرد نظموں سے ایک اہم اضافہ کیا ہے۔ شاعرات کی نظموں کے توسط سے اردو میں خواتین سے وابستہ مسائل کا اظہار ہونے لگا۔کیوں کہ اردو نظم نگار شعرا کی توجہ اس جانب نہیں ہوتی تھی اس طرف خواتین نے ہماری توجہ مبذول کرائی۔ تانیثی مسائل کے اظہار میں خواتین نے سب سے زیادہ نظم کی ہیئت کو قبول کیا ہے۔کیوں کہ نظم میں غزل جیسی ہیئتی اور میکانکی بندش واقعاتی تسلسل کے اظہار میں رکاوٹ نہیں پیدا کرتی۔ خواتین نے جہاں مرد اساس معاشرے کو بے نقاب کرنے والی بے باک نظمیں لکھی ہیں وہیں خواتین سے وابستہ مخصوص جذبات کو بھی اپنی شاعری میں جگہ دی ہیں، اس لیے اردو نظموں میں نسائی شاعری کے ایک الگ رنگ کا اضافہ ہوا۔ادا جعفری سے لے کر پروین شاکر، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض،شفیق فاطمہ شعریٰ،بلقیس ظفیر الحسن، فاطمہ حسن اور شہناز نبی جیسی نمائندہ شاعرات نے جدید نظموں کی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔

جدید نظم نگار خواتین نے پدرسری معاشرے میں عورت کے وجود اور مقام و مرتبے کی رد تشکیل کا کام کیا ہے۔ہمارا سماجی نظام جس میں عورت کا وجود ایک ثانوی حیثیت کا حامل تصور کیا جاتا رہا ہے اس کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے شاعرات نے ایسی نظمیں لکھی ہیں جن میں اس حقیقت کا برملا اظہا رملتا ہے۔شاعرات کی نظمیں یہ اعلان کرتی نظر آتی ہیں کہ عورت بھی ایک مستقل بالذات وجود ہے اور اسے بھی اختیارات حاصل ہیں جس طرح آزاد انسان کو حاصل ہیں۔پابندیوں اور ذمے داریوں کا بوجھ صرف اس پر کیوں لادا جائے۔عورت کے ساتھ سماج میں برسوں سے ہورہی ناانصافی کو شاعرات نے اپنی تخلیقات میں نظم کیا ہے۔اسی رجحان کے تحت تخلیق پانے والی نظموں میں سیتا، مریم،عائشہ،دروپدی اور اقلیما جیسے اساطیری کرداروں کو بھی شاعرات نے شاعرانہ تخیل کے ساتھ برتا ہے۔ ان اساطیری کرداروں کو شاعرات نے بڑی معنویت کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ شاعرات نے ان کرداروں کو نظم کرتے ہوئے واعظانہ انداز اختیار نہیں کیا بلکہ ان اساطیری کرداروں کے بارے میں جو کہانیاں مذہبی صحائف اور مذہبی کتب میں موجود ہیں ان کہانیوں سے ہی عورت کی مظلومی کا نقشہ کھینچا ہے۔شاعرات نے ان اساطیری کرداروں سے ایک نیا معنوی جہان خلق کیا ہے۔

اردو کی ایک بے حد سنجیدہ او ر علمی شاعری کرنے والی شاعرہ شفیق فاطمہ شعریٰ کی ایک نظم ’سیتا‘ کے عنوان سے ہے جس میں سیتا کی کہانی کے ذریعے عہد حاضر کی عورت کی مظلومی کا بھی نقشہ کھینچا ہے۔نظم طویل ہے لیکن اس کا وہ حصہ یہاں درج کرنا لازمی ہے جس حصے میں سیتا کی عفت و پاکدامنی موضوع گفتگو بنی تھی           ؎

سہے جو ستم بن گئے سب فسانے

 تلافی کا  اب  آرہا  تھا زمانہ

 ہوئی آہ لیکن یہ کیسی تلافی

 دوبارہ ملا جنگلوں میں ٹھکانہ

اور آخری بند بھی دیکھیں          ؎

صلیب ایک باقی جو تھی مامتا کی

 اسے بھی تو لازم تھا تنہا اٹھانا

عجب ہیں یہ اسرار وصل و جدائی 

کہ منزل کو پا کر بھی منزل نہ پائی

یہ کیسا ستم تھا کہ عفت کی دیوی 

ثبوت اپنی عفت کا دینے کو آئی

وہ شعلے کی مانند شعلوں سے گزری 

وہ بجلی سی بن کر زمیں میں سمائی

سیتا نے رام کے ساتھ بن باس کی زندگی گزاری، ساری تکلیفیں اور اذیتیں برداشت کیں لیکن جب جنگل سے واپسی ہوئی تو لوگوں نے سیتا کی پاکدامنی پر سوالیہ نشان قائم کیا۔کیوں کہ جنگل میں قیام کے دوران راون اپنے مکر کے ذریعے سیتا کو اٹھا لے گیا تھا جس کے بعد لکشمن اور رام مل کر لنکا پر چڑھائی کرکے سیتا کو واپس لائے۔ سیتا کو راون اٹھا لے گیا تھا اس لیے وہ سیتا جو عفت کی دیوی مانی جاتی ہے اس کی عفت وپاکدامنی پر سوالیہ نشان قائم کیا گیاجس کے نتیجے میں بھرے دربار میں سیتا کی اگنی پرکشا لی گئی اور یہ کہا گیا کہ اگر سیتا پاکدامن ہوگی تو آگ اسے ہرگز جلا نہیں سکتی لیکن اگر وہ پاکدامن نہیں ہوگی تو جل جائے گی۔سیتا نے اگنی پرکشا بھی دی۔اس اگنی پرکشا میں پاس ہونے کے بعد سیتا نے دل برداشتہ ہو کر برہما سے دعا کی کہ برہما مجھے اس دنیائے فانی سے اپنی طرف بلا لے۔میں ایسے لوگوں میں کیوں رہوں جنھیں مجھ پر اعتبا رنہیں، جنھوں نے میری پاکدامنی پر شک کیا اور مجھے امتحان سے گزار کر مطمئن ہوئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ برہما نے سیتا کی دعا قبول کر لی اوروہیں بھرے دربار میں زمین پھٹی اور سیتا وہیں زمین میں سما گئی۔تبھی شفیق فاطمہ شعریٰ نے کہا ہے کہ           ؎

یہ کیسا ستم تھا کہ عفت کی دیوی

 ثبوت اپنی عفت کا دینے کو آئی

 وہ شعلے کی مانند شعلوں سے گزری

 وہ بجلی سی بن کر زمیں میں سمائی

عفت کی دیوی سیتا کواپنی عفت کا ثبوت دینے کے لیے شعلوں سے گزرنا پڑا لیکن اس کے بعد وہ بجلی بن کر زمین میں سما گئی اور لوگ دیکھتے رہ گئے۔

 ماضی کے علاوہ آج کے جدید اور متمدن عہد میں بھی بعض مقامات پر عورت کی پاکدامنی کے ٹیسٹ کے لیے Virginity test وغیرہ کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں وہ آج کی ہی پیداوار نہیں ہیں بلکہ عہد قدیم سے ہی پدرسری نظام نے عورت کے کردار کو شکوک و شبہات کے گھیرے میں رکھا ہے، یہاں تک کہ جو شخصیات ان کی نظر میں پوجنے والی اور عظیم ہستیاں رہی ہیں انہیں بھی پاکدامنی کا ثبوت دینے کے لیے مجبور کیا گیا ہے۔

اردو کی ایک اور اہم شاعرہ رفیعہ شبنم عابدی نے بھی اس تھیم پر ایک نظم کہی ہے جس کا عنوان ’گواہی‘‘ ہے۔نظم میں رفیعہ شبنم عابدی نے مختلف مذاہب کے اساطیری کرداروں کے نام شامل کرکے ان کے ساتھ ہونے والی واردات اور اب کی عورت کے ساتھ در پیش معاملات کا موازنہ کیاہے۔ رفیعہ شبنم نے ان اساطیری اور مذہبی کرداروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پرسوال قائم کرنے کے بجائے آج کی عورت کے ساتھ درپیش معاملات پر گفتگو مرکوز رکھی ہے         ؎

وہ کلی تھی

 اس کی قبائے عصمت چاک نہیں ہوئی تھی

 وہ مریم تھی

 اس کے دامن پہ کوئی دھبہ نہ تھا

 وہ زمزم تھی 

 اس کو کسی نے چکھا نہ تھا

 وہ سیتا تھی 

 کوئی شعلہ اس کے جسم تک پہنچا نہ تھا

 وہ میرا تھی

 زہر اس کی رگوں میں اترا نہ تھا

 وہ آئینہ تھی 

 جس پر کوئی عکس ٹھہرا نہ تھا

 میں کہ ایک عورت ہوں

 بے حسوں کی غیرت ہوں

 میں زمین جیسی ہوں

 پھل بھی دوں تو مٹی ہوں

 پاکباز ہوکر بھی 

 دل نوازہوکر بھی

 آزمائی جاتی ہوں 

 میں جلائی جاتی ہوں

 سانس سانس کٹتی ہوں

 بھائیوں میں بٹتی ہوں

 داؤں پر بھی لگتی ہوں

 رات دنسلگتی ہوں۔          (اگلی رت کے آنے تک)

نظم پڑھتے ہوئے کوئی بھی آسانی سے محسوس کر سکتا ہے کہ رفیعہ شبنم عابدی نے سیتا،مریم اور میرا جیسے اساطیری کرداروں کی زندگی میں پیش آئے واقعات کو ویسے ہی خوش اسلوبی سے بیان کیا جیسے ان مقدس ہستیوںکوماننے والے افراد کرتے ہیں۔ کوئی سوال اور کوئی اعتراض قائم نہیں کیا، لیکن آج کی عورت کی دردناک حالت کے لیے انھوں نے جو کہا ہے اس سے وہ یہ تاثر دینا چاہتی ہیں کہ آج کی عورت نہ سیتا ہے،نہ مریم ہے اور نہ میرا جن کے دامن پہ دھبے نہیں ہوں جو بالکل پاک و صاف مانی جائیں۔کیونکہ آج کی عورت کی حالت یہ ہے کہ پاکباز ہونے کے باوجود ان کی پاکدامنی مشکوک ٹھہرتی ہے اور انہیں طرح طرح کی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔بے حسوں کی غیرت،زمین،جو لاکھ پھل دے لیکن اس کا مول تو یہی ہے کہ وہ مٹی ہے۔عورت پاکباز اور دلنوا زہو کر بھی آزمائی اور جلائی جاتی ہیں، کبھی جہیز کے نام پر کبھی غیرت کے نام پر، اس کا وجو دسانس سانس کٹتا ہے بھائیوں میں تقسیم ہوتاہے اور اسے داؤں پر بھی لگایا جاتا ہے۔ عورت کو آزمایا جاتا ہے اور آزمائش کے بعد اگرچہ وہ پاکدامن ثابت ہو جاتی ہے لیکن اس کا وجود ریزہ ریزہ ہوجاتاہے۔ کیوں کہ جس کے لیے وہ سراپا قربان ہے وہ بھی اسے لائق اعتبار نہیں سمجھتا ہے۔اس کسک اور درد کا مداواممکن نہیں ہے۔

بیسویں صدی کی نصف آخر میں ابھرنے والی شاعرات میں ایک اہم سنجیدہ نام شائستہ یوسف کا بھی آتا ہے۔ ان کے دو شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ ’سونی پرچھائیاں‘ اور ’گل خود رو‘۔ شائستہ یوسف بڑی شائستگی سے اردو شاعری میں اپنا مقام بناتی ہیں ان کی شاعری میں شائستگی،سنجیدگی اور متانت ہے۔ انھوں نے ایک نظم میںہر عہد کی عورت کا کرب بیان کیا گیا ہے۔ جب عورت کی عفت و پاکدامنی شک کے گھیرے میں آتی ہے تو اس پر کیا گزرتی ہے۔ نظم کا عنوان ’تطہیر‘ ہے جو ان کے شعری مجموعے ’سونی پرچھائیاں‘ میں شامل ہے         ؎

ان کے مبارک ہاتھوں نے / میرے نام کا قرعہ نکالا/ میں اپنی قسمت پر نازاں / ان کے ساتھ غزوے میں چل دی / صحر اکا سفر،/ اونٹوں کاقافلہ،/ ان کی سرداری،/ میرے عروج کا ستارہ چمکا۔…میر انازک حسین بدن/ لطافت میں اپنی مثال آپ راہ/ وہ سفر میں اپنی سرداری/ اپنی دیانت داری،اپنے فرائض میں مصروف رہے/ قافلہ رکا / میری طبیعت میں بسی آزادی /کھلے میدان میں / اپنی پہچان میں گم ہو ئی/ ان کی محبت،ان کا ساتھ/ دونوں عالم میں اپنا مقام / میں تمام باتوں کو سوچ کر ۔/ لہراتی رہی / جانے کب کو چ کا اعلان ہوا/ میرے ہار کے موتی ٹوٹ کر بکھر گئے / میں ان کو چنتے چنتے جانے کہاں/  نکل گئی / نیند کا غلبہ،صحرا،تنہائی،اندھیرا/ سب نے بے بہرہ اپنا کا م کیا۔/ رات نے دن کا لباس پہن لیا/ تقدیر نے مہربان کو رہبر کیا/ اونٹنی نے اگلے گھٹنے ٹیکے/ میں اس کی پشت پر سوار ہوئی / رہبر مہار تھامے ساتھ چلتا رہا/ سورج سر پر آگیا/ قافلے میں طوفان مچ گیا/ اور میری قسمت کے  چاندکو گہن لگا/ ان کی نظریں / میرا چہرہ پڑھ نہ سکیں/ لطف وا لتفات کی کمی/ مجھے زندہ در گور کر گئی/ بیماری میرا بستر ہوئی / میں دریائے عمیق میں ڈوب گئی/ اندھیرا ہی اندھیرا پھیلا/ میں گہرائی میں اترتی چلی / انگلیوں کی حرکت،دل کی دھڑکن/ دھن کی آواز/ ہر شے کو سیاہی کھا گئی/ میرے دل نے اس نو ر کی تمنا کی / جس کی معمولی سی لکیر/ اس سیاہ دائمی عذاب سے نجات دلاسکتی / میری سمجھ میں کچھ نہ آیا/ میں کیا کروں ؟/ میں کہاں جاؤں؟/ میں اس طاق کو کیسے ڈھونڈھوں / جہان قندیل میں جلتے چراغ سے/ نوربکھر رہاہے / میرے اللہ میں نہیں جانتی / کون سا مبارک تیل / تیرے چراغ کو روشن کرتا ہے ؟/ میں اس اندھیرے سے کیسے نکلوں؟/ کہیں لگاتار بہتے آنسوؤں نے / میری بصارت کا حال/ اولاد سے بچھڑے باپ کا سا تو نہیں ہو گیا!/ محبت اور جدائی کا الم/ مجروح جذبات، سینے سے اٹھتی ٹیس / ذہن میں سسکتی کربناک سلوٹیں/ میں کیسے پکاروں؟/ کہیں کوئی دریچہ کھلے!/ کہیں سے ہوا کا جھونکا آئے / میری بدنامی کے اندھیرے کو / سچ کی روشنی میں دیکھے / میرے بے بس والدین کی گواہی / اتنے بڑے قافلے کے آگے بے بس ہوئی / ان کے مبارک قدم / میری اجڑی زندگی میں/ امید کی ایک کرن لے کر آئے / لیکن مجھ سے حق کا تقاضا نہ ہوا/ دن رات میرے / ساتھ رہنے والوں نے / یقین کی مہر ثبت کردی / مجھے اس کی عدالت اور انصاف پر/ یقین کامل تھا/ ایک ندا،ایک صدا نے میری برأت کردی/ ایک روشن آیت میرے نام کے ساتھ/ تا قیامت جڑ گئی / میری تطہیر ہوگئی/ ان کے لب مسکرائے / بادل چھٹ گئے / رات اور دن پھر/ اپنے دائر ے میں تیرنے لگے /لیکن میرے دل نے کہا/ کاش انھوں نے / میر ی محبت پر یقین کیا ہوتا/ میرے خالق نے ثبوت دیا/ ’’عالم الغیب‘‘ صرف ایک ہے۔

شائستہ یوسف کی یہ نظم ہر عہد کی عورت کا بیانیہ ہے کہ جب اس کی عفت اور پاکدامنی پر تہمت لگتی ہے تو ساری دنیا تو اس کے خلاف ہوتی ہی ہے لیکن سب سے زیادہ تکلیف اسے اس وقت ہوتی ہے جب اس کا ساتھ وہ بھی نہیں دیتا جسے وہ سب سے زیادہ چاہتی ہے۔ اس لیے کسی بھی عورت کی پاکدامنی پر سوال قائم ہو تو اگر چہ اس کی برأت اور پاکدامنی ثابت ہوجائے لیکن اس کے دل میں یہ کسک ضرور رہ جاتی ہے کہ اس سے بے انتہامحبت کرنے والا اسے اس وقت تنہا چھوڑ دیتا ہے جس وقت اسے اس کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔

ان شاعرات کے علاوہ فہمیدہ ریاض کی اقلیما،شفیق فاطمہ شعریٰ کی بانوئے فرعون جیسے متعدد اساطیری کرداروں کے ذریعے عورت کی مظلومی کا نقش اردو شاعری کے صفحے پر ابھارا گیاہے۔ اساطیر ی کرداروں کے ذریعے شاعرات نے عہد جدید کی عورت کو بھی نظم کیا ہے۔ان کے ساتھ پیش آنے والے مسائل،ان کی ثانوی حیثیت اورپدر سر ی سماج میں اس کے مقام و مرتبے اور شناخت کو ظاہر کرنے والی نظمیں بھی لکھی ہیں۔ایسی نظمیں بھی لکھی ہیں جن میں اساطیری کرداروں کے ذریعے  عورت کے وجود پر چھائے بادل کی سیاہی کو مزید نمایا ں کیاگیاہے۔


 

Md Hussain

Ward No: 01, Bhewa Chowk Jayanagar

Distt.: Madhubani- 847226 (Bihar)

Mob.: 9811985005

15/2/23

میر غلام رسول نازکی: ایک غزل دو ‍‍قرات: مضمون نگار شاکر علی صدیقی




 

ادبی دنیا  میں میر غلام نازکی ایک غیر معروف شخصیت کا نام ہے، لیکن ان کا کلام اپنی اصابت فکر و فن کی بنیاد پر معرفت کا حق دار ہے۔مناسب ہے کہ پہلے ان کی شخصیت سے متعارف ہوا جائے،کیونکہ بدون شخصیت کسی کے فکر و فن کو سمجھنا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ بقول آل احمد سرور ’’ شخصیت کااتنا مطالعہ ناگزیر ہے جو فن کی تفہیم میں معاون ہو۔‘‘ شخصیت کا پرتو تخلیق پر کبھی تند اور کبھی مدھم منعکس ہوتا ہے۔کبھی تو شخصیت کی بنیاد پر متن کا مفہوم واضح ہوتا ہے اور کبھی متن کی اساس پر شخصیت نمایاں ہوتی ہے۔ لہٰذا شخصیت اور فکر و فن میں ایک عمیق ربط ہے۔

نازکی سری نگر( کشمیر) کے ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے ان کے والد ماجد میر غلام مصطفی نازکی اپنے وقت کے ایک جید عالم اور سخن شناس تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم والد محترم کے زیر سایہ ہوئی۔ اس کے بعد بانڈی پورا کے لوور مڈل اسکول،اسلامیہ ہائی اسکول سری نگراورپنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔منشی عالم 1931، میٹرک 1933،منشی فاضل 1935، ادیب فاضل 1937، ایف اے 1939 اور بی اے 1949 میں سندیاب ہوئے۔حصول تعلیم کے دوران معاشی تنگی کے باعث کئی ملازمتوں سے منسلک رہے۔ بالآخر ناظم تعلیمات خواجہ غلام السیدین نے 1943 میں انھیں لٹریری اسسٹنٹ کے عہدے پر فائز کیا۔مزید برآں ان کو ٹیچرس ٹریننگ کالج کااستاد اور پھر کچھ ہی مدت کے بعداسسٹنٹ ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف ا سکولز کے منصب پر مقرر کرکے 1947 تک خدمت کا موقع عنایت کیا گیا۔ اس کے بعد انھوں نے کم و بیش دو سال ریڈیو کشمیر جموں میں کام کیا۔ 1950 میں ان کا ریڈیو کشمیر سری نگر تبادلہ ہوگیا اور یہیں سبکدوشی تک اپنے فرائض منصبی میں منہمک رہے۔

نازکی کا ادبی ذوق و شوق ان کے والد کا رہین منت ہے۔بچپن ہی میں ان کی ایسی تعلیم و تربیت کا بند و بست کیا گیا کہ انھیں شعر و سخن کی نزاکتوں اور نفاستوں سے حد درجہ قلبی وابستگی پیدا ہو گئی۔شروع میں تو فارسی شعر و ادب سے گہری دلچسپی رکھتے تھے لیکن ’آب حیات‘ کے مطالعہ کے بعداردو شاعری کی طرف اس قدر مائل ہوئے کہ اپنے جذبات اور تجربات کو اردو شعر وسخن کے قالب میں ڈھالنے لگے۔ انھوں نے اپنی سخن گوئی میں غزل،قطعہ، رباعی،نظم،مناجات اورنعت و درود وغیرہ مختلف اصناف پر طبع آزمائی کی۔ان کے کلام کا مطالعہ اس بات کابین ثبوت ہے کہ وہ اپنے وقت کے ایک قادر الکلام شاعر تھے۔ ان کی شاعری سے واقف ہونے کے لیے شعری مجموعے ’نزاکت‘، ’چراغ راہ‘ اور بطور خاص دو شعری مجموعے ’دیدۂ تر‘ اور’متاع فقیر‘ کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔ ابتداً ان کی شاعری کا انداز تخاطب اور نفس مضمون روایتی تھا، لیکن بعد کا کلام ایک مخصوص طرز فکر و فن کا گلدستہ  بن گیا، جس میں شخصی تجربات و مشاہدات کی جلوہ گری ملتی ہے۔ صداقت بیانی اور خلوص و سادگی ان کے کلام کا تمغۂ امتیاز ہے۔ بہر کیف یہاں پر ان کی پوری شاعری کا احاطہ مقصود نہیں بلکہ ایک غزل کا تجزیہ آپ کے پیش نظر ہے، لہٰذا نازکی کی  مندرج ذیل غزل ملاحظہ کیجیے          ؎

آج حد درجہ اداسی ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

التجا ایک ذرا سی ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

ٓٓآج کی رات بھیانک ہے میرے ساتھ رہو

اور قیامت بھی بپاسی ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

آج اس شہر پہ نازل ہے خداؤں کا عتاب

تو بھی اس شہر کا باسی ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

آسماں برسرپیکار ہے نظریں نہ چرا

یہ زمیں خون کی پیاسی ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

میں اکیلا ہوں سمندر کا تلاطم ہے محیط

رات اک کالی بلاسی ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

کربلا آج بھی ہے دیکھ ادھر خون حسین

وہ محمد کی نواسی ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

پہلی  قرأت

یہ غزل مسلسل مجموعی طور پر ایک مطلع اور پانچ اشعار پر مشتمل ہے۔اس کے قوافی .1 اداسی، ذراسی۔ .2 بپاسی، .3 باسی، .4 پیاسی، .5 بلاسی اور.6 نواسی غزل میں غیر معمولی حسن کو محفوظ کرتے ہیں۔ جہاں تک ردیف کا تعلق ہے ’ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ‘ غزل کا خود مکتفی رکن ہے۔ کیونکہ شاعر کے عندیے کی تکمیل کی اساس ردیف پر ہی منحصر ہے۔یہ شاعر کا اپنا مخصوص ہنر ہے کہ ردیف کی تکرار ہر شعر کے نت نئے معنیاتی نظام سے مربوط ہے۔ دوسری مخصوص خوبی یہ ہے کہ یہ غزل لفظ ’آج‘ کی قطعیت سے شروع ہوکر ماضی بعید کے تلمیحی نشان ’کربلا‘ پر ختم ہوجاتی ہے۔ حالانکہ یہ غزل اپنے موضوع کے اعتبار سے تنگ ہے لیکن وسعت فکر کے لحاظ سے بہت بلند ہے۔ اس کا بنیادی موضوع ’تنہائی‘ ہے،لیکن جیسے جیسے ’تنہائی‘ کا تعین ہوتا جاتا ہے اس کی معنوعی سطح بلند سے بلند تر ہوتی جاتی ہے۔مطلع کی قرأت کیجیے        ؎

آج حد درجہ اداسی ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

التجا ایک ذرا سی ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

غزل کامرکزی کردار اپنے دل کی کیفیت ’اداسی‘کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا متمنی ہے کہ اس کا ہم نوا،ہم خیال یاہم مکتب دوست اس کے شریک حال رہے۔ حالانکہ شاعر نے ردیف ’مرا ساتھ نہ چھوڑ‘ کے ذریعے اس طرف بلیغ اشارہ کیا ہے کہ اس کا مخاطَب ساتھ دینے پر کسی طرح آمادہ نہیں۔یہی وجہ ہے کہ شاعر نے مصرعۂ ثانی میں لفظ ’التجا‘ کا التزام کرکے کردار کے خوشامدی پہلو کو نمایاں کیا ہے۔اس شعر میں شاعر کا فن عروج پر ہے۔ ایک طرف تو اس نے’حد درجہ اداسی ‘ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غزل کے کردار کی کیفیت /ضرورت کا تعین کیا ہے، تو دوسری سمت ردیف اور لفظ ’التجا‘ سے مخاطِب اور مخاطَب کے مابین کشمکش/تضاد کی صورت کو دکھلایا ہے۔ اس مطلع میںیہ نکتہ بھی قابل غور ہے شاعر نے دوسرے مصرعہ میں التجا کے ساتھ قافیہ ’ذرا سی‘کیوں کر باندھاہے ؟’التجا ایک ذراسی ہے‘سے معلوم ہوتا ہے کہ مخاطَب اپنے مخاطِب کی مسیحائی پر قادر ہے اور اس کی عدم تنہائی کی شدتوں کا وہی بنیادی سبب ہے۔اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس کا مخاطَب کون ہے اور وہ کس حیثیت کا مالک ہے؟یہ کسی قوم کا رہبر بھی ہو سکتا ہے!،یہ مذہبی پیشوا بھی ہو سکتا ہے!،یا پھر معشوق!۔بہر حال یہ کوئی بھی ہو،لیکن وہ اپنے مخاطِب کادرماں اور مسیحا ہے۔ اس لیے شاعر نے غزل کے کردار کی کلیدی کیفیت ’اداسی‘ کے اسباب و علل کو بڑے شد و مد کے ساتھ تفصیلاً بیان کیا ہے تاکہ اس کا مسیحا باعث وجوہ ساتھ چھوڑنے سے باز رہے،مثلاً      ؎

پہلا سبب

’’آج ‘‘کی رات بھیانک ہے،

دوسرا سبب

اور قیامت بھی بپاسی ہے،

تیسرا سبب

رات اک کالی بلا سی ہے،

چوتھا سبب

کربلا آج بھی ہے،

اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ آج کی رات بھیانک کیوں ہے؟،قیامت کیوں کر بپا ہے؟، رات ایک کالی بلا’سی‘ کیوں ہے؟ اور آج کربلا کیوں کر ہے؟، توشاعر نے اس کی بھی وضاحت شعر نمبر 2,3,5 میں کی ہے،ملاحظہ ہو

پہلی علت

 ’’آج‘‘اس شہر پہ نازل ہے خداؤں کا عتاب،

دوسری علت

آسماں بر سر پیکار ہے،

تیسری علت

’’یہ‘‘ زمیں خون کی پیاسی ہے،

چوتھی علت

دیکھ ادھرخون حسین،

اب مذکورہ ترتیب کی روشنی میں غزل کی ایک بار پھر قرات کیجیے اور غزل کے اس کلیدی مصرعے پر ٹھہریے

’’میں اکیلا ہوں سمندر کا تلاطم ہے محیط‘‘

 اور پھر اس کے فوراً بعد اس مصرعے کی قرات کیجیے          ؎

 ’’ تو بھی اس شہر کا باسی ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ‘‘

 توایک طرف غزل کا مفہوم بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ تودوسری طرف مخاطِب اور مخاطَب کے مابین ارتباطی نوعیت کااندازہ ہوتا ہے اور دونوں کی انتشاری کیفیت بھی نمایاں ہوتی ہے۔ یہاں پرشاعر کی فنی پختگی اور اس کی چابک دستی کی داد دینی پڑتی ہے کہ یہی دونوں مصرعے بیت الغزل ہیں،جو باقی مصرعوں کے پیش خیمہ ہیں۔ جس کو شاعر نے دو متضاد کیفیات کی ترجمانی کے ذریعہ حال کو ماضی سے روشناس /متناظرکرکے اپنے خیالات کو شعر کے قالب میں ڈھالا ہے۔

 دوسری  قرأت

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ نازکی نے اپنی شاعری میں بیشتر ان مضامین کو باندھا ہے جو ان کے تجربات اور مشاہدات کے غماز ہیں۔یہ غزل بھی اسی نوع کی عمدہ دلیل ہے۔یہ غزل عصر حاضر کی اس خاص صورت حال کی ترجمان ہے جس میں قوم انتشار پذیری کی زندگی گزار رہی ہے دوست اور دشمن میں امتیاز ختم ہوتا جا رہا ہے۔ معاشرے اور سماج میں اپنائیت نام کی چیزباقی نہیں رہی۔ بڑی تیزی سے اپنائیت غیر اپنائیت میں بدلتی جا رہی ہے اور مادی نقشوں نے قوم کو حریص الطبع بنا دیا ہے۔ اس لیے شاعر نے’آج حد درجہ اداسی‘ کے ذریعے عصر حاضر کی نامساعد کیفیات کا نقشہ کھینچاہے اور وہ متفکر ہے کہ آج قوم کے دلوں کی اداسی اور بے چینی کس طرح ختم کی جائے۔ اس نے اس کا تریاق بھی تلاش کر لیا ہے کہ اس کا واحد حل باہمی اتحاد ہے،ا س لیے وہ ملتجی بن کر اصرارکرتا ہے ’’مراساتھ نہ چھوڑ،مراساتھ نہ چھوڑ‘‘اس تکرار سے وہ ٹوٹے ہوئے رشتوں کو باہم مربوط کرناچاہتا ہے،کیونکہ شاعر ان نتائج سے با خبر ہے جو پیش آرہے ہیں یا آنے والے ہیں، اس لیے اس نے دوسرے شعر میں’’آج کی رات بھیانک ہے‘‘ اور’’ قیامت بھی بپا ہے‘‘ (یہ ظلم و جبر کی وہ علامت ہے جو اپنے انتہائی مراحل میں ہے)کا ذکر کرکے اپنے مدوعین کو بیدار کیا ہے۔دوسرانکتہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی قوم کو بھولا ہوا سبق یاد دلانا چاہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ تیسرے شعر کے مصرعۂ ثانی میں جھنجھوڑتے ہوئے کہتا ہے’’تو بھی اس شہر کا باسی ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ‘‘بہرحال وہ ہر ممکن کوشش پیہم میں ہمہ تن منہمک ہے کہ آپسی ارتباط منہدم نہ ہوں۔مزید آگے وہ اپنی قوم کو ان خدشات سے آگاہ کرنا چاہتا ہے جو ان پر دانستہ نازل کیے جا رہے ہیں         ؎

’’آج اس شہر پہ نازل ہے خداؤں کا عتاب‘‘

آسماں برسرپیکار ہے نظریں نہ چرا

یہ زمیں خون کی پیاسی ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

’’کربلاآج بھی ہے دیکھ ادھر خون حسین‘‘

پہلا مصرعہ ایک مخصوص منظر کو بیان کرتا ہے جو اس قوم کا مقدر بنا ہوا ہے، یہ حکمراں، قومی رہبر یا صاحب اقتدار ظلم و جبر کے ذریعے اپنے اغراض و مقاصد کی تکمیل میں مصروف ہیں اور اپنی وقتی طاقت کے باعث اپنے کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں، شاعر نے دوسرے مصرعے میں یہ کہہ کر’’تو بھی اس شہر کا باسی ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ‘‘قوم کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔آج اس قوم کی بدنصیبی یہی ہے کہ دوسروں پر پڑنے والے مظالم اور مصائب کووہ اپنا رنج و غم نہیں سمجھتا ہے،بلکہ حد تو یہ ہے کہ ان خداؤں نے ہمارے دل کو اس قدر منحرف اورمبتذل کر دیا ہے کہ ہم دوسروں کے ناگفتہ بہ مسائل کو یہ کہہ کر ٹال جاتے ہیں کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں۔حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس قوم کا ہر فرد دوسرے کے رنج و غم کو اپنا سمجھ کر شریک عمل رہتااور متحدومنظم ہوکرمرتب لائحۂ عمل کے ذریعے ایسے عملی اقدام اٹھاتا جس سے باطل قوت اپنے جابرانہ رویے سے باز رہتی۔

چوتھے شعر میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہماری قوم کی بد اعمالیوں کے باعث غیبی طاقت نے ہمارا ساتھ دینے کے بجائے مخالفت کاراستہ اختیار کر لیا ہے۔ یہاں تک کہ آسماں بھی برسر پیکا رہے اور زمین بھی ہمارے خون کی پیاسی ہے اور ہماری بے توجہی کی انتہا یہ ہے کہ ان تمام سانحات سے نہ تو عبرت حاصل کرتاہوں اور نہ ہی نصیحت۔بقول غالب  ’’بے دلی ہاے تماشہ کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق - بے کسی ہاے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں‘‘ نازکی نے خود طنزیہ کہا ہے کہ          ؎

ایماں بقدر طول امل بیچتا ہوں

لیکن ضمیر پہلے پہل بیچتا ہوں

اپنی سیاہ فرد عمل لے کے ہاتھ میں

پیغمبر خدا کا عمل بیچتا ہوں

توحید میرے زور بیاں سے مستفید

خلوت میں جا کے لات و ہُبل بیچتا ہوں

بہر کیف مصرعۂ اولیٰ کے اس ٹکڑے پر غور کیجیے ’ نظریں نہ چرا‘، ’نظر چرانا‘ ایک اردو محاورہ ہے۔فیروز اللغات میں یہ معنی درج ہیں (نظر بچانا،کترانا،نظر ملا کر نہ دیکھنا،کام سے پہلو تہی کرنا۔) ان سب معنی کی بنیاد اس پر قائم ہے کہ قصداً کسی فعل / عمل سے بے پرواہی برتنا۔جب کہ اس قوم کی یہ خوبیاںتھیں کہ یہی روے زمین کی خلیفہ تھی، حساس قلبی اس کی بنیادی صفت تھی،اخوت و بھائی چارگی اس کی خو تھی، اعانت و معاونت اس کی فطرت تھی،عدل و انصاف اس کی سرشت میں داخل تھا اورامن وامان اس کا عمل تھا، عبادت و ریاضت اس کے مقاصد زندگی تھے۔ جب تک یہ قوم ان تمام خصوصیات کی متحمل اور نفاذ و شیوع کی پابندرہی،تو آسماں بھی اس کی موافقت پر مامور تھا اور زمیں بھی اس کی معاونتی محکوم تھی۔ہاے! لیکن جب جملہ خصوصیات سے بے توجہی اورغفلت برتی جانے لگی اور نظریں چرائی جانے لگیں توآسماں بھی ہم سے بر سرپیکار ہو گیا اور زمیں بھی ہمارے خون کی پیاسی ہو گئی، یعنی غیبی طاقت امداد کے بجائے عتاب نازل کرنے لگی۔ بحیثیت مجموعی اس شعر میں شاعر نے داعیانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے ماضی کی طرف سر دست پلٹنے کی اہمیت بیان کی ہے۔

پانچواں شعر کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ شاعرنے اپنے عندیے کی تکمیل ’میں اکیلا ہوں‘ میں پوشیدہ رکھی ہے۔ یہاں پر ’میںاکیلا ہوں ‘ سے مرا د پوری قوم ہے۔ اور ’سمندر کا تلاطم‘ باطل قوت کی دیگر قومیںہیں جو ہر ممکن اور ہر سمت سمندر کی موجوں کی طرح مسلسل اور متواتر تھپیڑیں ماررہی ہیں۔

آخری شعر میں شاعر نے’کر بلا آج بھی ہے‘ کے ذریعے قوم کو حق و باطل کے معرکہ خیز تصادم کے نتائج سے باخبر کیا ہے،یعنی ہر زمانے اور ہر قریے میں حق اور باطل نبرد آزما رہے،آخر کار ہمیشہ حق کو فتح اور باطل کو شکست ہاتھ آئی۔ لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوا کہ حق پر باطل غالب رہا۔ جب کہ حقیقتاًحق اور حق پرست بامراد ہوئے، جس کی تمثیل شاعر نے حضرت امام حسینؓ کے واقعۂ کربلا سے پیش کی۔ اس واقعے سے ایک طرف شاعر نے قومی حمیت کو للکارہ ہے تودوسری طرف قوم کے دلوں سے بزدلی، اداسی،انتشاری اور مایوسی کی کیفیت دور کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔حضرت امام حسینؓ نے عملی اقدام کسی ذاتی اغراض و مقاصد یا دولت و حکومت کی حصولیابی کے تحت نہیں اٹھائے، بلکہ انھوں نے اپنے نانا جان حضرت محمدؐ کے دین اور ان کے ماننے والے مسلمانوںکی بقا اور حفاظت کی خاطر اپنی اور اہل بیت کی گردنیں کٹواکر اسلامی پرچم کو لہرایا تھا۔ شاعر نے مصرعۂ ثانی میں یہ کہہ کر ’’وہ محمدؐ کی نواسی ہے‘‘ قوم کے لیے لمحۂ فکریہ پیدا کر دیا، کیونکہ حضرت امام حسینؓ کی بہن حضرت زینبؓ نے تو اپنے دونوں بیٹے عون اور محمد کو ہمارے لیے قربان کر دیا تھا،اور آج ہم ایسے بزدل اور ضمیر فروش ہو گئے کہ دین اور قوم دونوں سے پہلو تہی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اسی لیے عصر حاضر میں یہ قوم نا مساعد حالات سے دو چار ہے۔

بحیثیت مجموعی زیر تجزیہ غزل قوم کے عصری منظر نامے کو پیش کرتی ہے۔نازکی نے جس مضمون کا ا نتخاب کیا ہے وہ ان کی قوت مشاہدات و تجربات کی جلوہ گری کی عمدہ دلیل ہے،اور انھوں نے فنی نقطۂ نظر کے تحت دو متضاد کیفیت کو اس سلیقے سے باندھا ہے کہ پوری غزل ایک خاص تحرک اور جمالیاتی احساس سے متصف ہو گئی ہے۔شاعر کا یہ کمال ہے کہ ایک مخصوص موضوع کی ترسیل کے لیے جو وسیلۂ اظہار اختیار کیا ہے وہ پر تاثیر ہے۔ دوسرانکتہ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ نازکی نے اپنے خیالات کی پیش کش میں نہ ہی فن کو مجروح کیا اور نہ ہی مضامین کو۔لہٰذا یہ غزل فکر اور فن دونوں لحاظ سے بلند مرتبے کی حامل ہے۔

 

n

Dr. Shakir Ali Siddiqui

Assistant Professor, Discipline of Urdu

School of Humanities,

Indira Gandhi National Open University,

New Delhi-110068

Mob.: 9891579220

Email.: sasiddiqui1@ignou.ac.in

14/2/23

برجستہ گوئی اور فن اصلاح شعرکا ماہر: سید محمود الحسن صولت: مضمون نگار: راشد میاں


 ہندوستان میں صوبۂ راجستھان (سابق راجپوتانہ) جہاں اپنے کثیر علاقۂ ریگزار کے لیے مشہور ہے، وہیں راجستھان کو پورے ہندوستان میں یہ امتیازی حیثیت بھی حاصل ہے کہ فی زمانہ یہ ملک ہندوستان کا رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔ راجستھان میں شعرو ادب کی آبادی کے لحاظ سے سابق ریاست ٹونک کی فضائیں بڑی زرخیر رہی ہیں۔ شعرائے ٹونک میں بھائی جان عاشق  ( نورتنِ داغ) اخترشیرانی وبسمل سعیدی کے علاوہ استاد سید محمودالحسن صولت کے نامِ نامی کی بڑی دھوم رہی ہے۔ حالانکہ ٹونک میں ان کے فن کی وہ قدر نہیں ہوئی جِس کے وہ مستحق تھے۔ اس سلسلے میں مشہور شاعر، صحافی و نقاد مخمور  سعیدی نے لکھا ہے کہ   

’’صولت صاحب نے اپنی تمام عمر ٹونک میں گزار دی اگر وہ باہر نکل آتے تو ان کے کمال کی قدر یقینااس سے کہیں زیادہ ہوتی جتنی وطن میں رہ کر ہوئی۔ اہلِ وطن نے صرف یہی سمجھا کہ وہ ایک منھ پھٹ انسان ہیں، اور جب جوجی میں آئے کہہ ڈالتے ہیں۔ لیکن ان کی ا س بے لاگ شخصیت کے اندر جوتعمیر ی روح مضمر تھی اسے کوئی نہ پہچان سکا۔‘‘

بحوالہ جرنل جلد 3  بابت سال  83 - 84  صولت نمبر صاحبزادہ شوکت علی خاں ڈائر یکٹر، عربک اینڈپرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ راجستھان، ٹونک ص 23)

فی البد یہہ شعر کہنے اور فنِ اصلاح شعر میں انھیں بڑی مہارت حاصل تھی خصوصاً بر سر مشاعرہ اصلاح میں انھوں نے کبھی مروت نہیں برتی خواہ کیسے ہی پائے کا شاعر ہوان کی مشفقانہ اصلاح کو بخوشی قبول کیے بنا نہیں رہتا۔

سید محمود الحسن صولت کی شروعاتی تعلیم ا ن کے گھر پر محلہ رجبن میں ہوئی۔  ا س کے بعد حفظِ قرآن کی تعلیم حافظ محمد امان صاحب اور حافِظ شمس الدین صاحب سے حاصل کی۔ فارسی زبان کی تعلیم مولوی عبدالکریم ولایتی اور مولوی علی رضاخاں سے حاصل کی توعربی زبان میں مولوی عبدالقادر، مولوی احمد مجتبیٰ اور مولوی خلیل الرحمن استاد رہے۔ مذکورہ اساتذہ کے علاوہ انھوں نے حضرت حکیم برکات احمدؒ سے بھی تحصیلِ علم کیا تھا۔ صاحبزادہ شوکت علی خاں کے مطابق اس کا اعتراف صولت صاحب نے یوں کیا تھا۔ ’’ حکیم برکات احمدؒ سے میں نے بھی ابتدائی دور میں کچھ کتابیں نکالی تھی۔ مولوی ننے  ( حضرت مولانا محمد علی خاں )  اس وقت اعلیٰ مدرا ج میں پڑھتے تھے، مجھے خوب یا د ہے کہ حکیم صاحب فرماتے تھے ’’میرے سیکڑوں شاگرد ہیں لیکن ننے  (محمد علی خاں )  جیسا ذہین کوئی نہیں ہے۔  ‘‘( بحوالہ جرنل جلد3 ص 42)

غالب کی مانند صولت  ٹونکی نے تاحیات کوئی ذاتی مکان نہیں بنوایا۔ بیشتر کرائے کے مکانوں میں ہی اپنی زندگی گزاری۔ ان کا زمانۂ بچپن ونو جوانی رجبن میں گزرا۔ اس محلے سے انھیں خصوصی لگائو تھا۔ وہاں کی گلیاں مکان فضائیں انھیں ہمیشہ یا د آتے رہے یہاں تک کہ رجبن کے علاوہ انھیں کہیں قرار حاصل نہ ہوا  بقول ان کے       ؎

کسی جگہ بھی زمانے میں اب قرار نہیں

بھٹکتے پھرتے ہیں جس روز سے چھٹا رجبن

صولت صاحب عربی النسل تھے ا ن کے والد قاری مولوی سید حامد 1896 میں بہ عہدِ نواب ابراہیم علی خاں مدینہ منورہ سے ٹونک تشریف لائے تھے۔ نواب صاحب نے انھیں ’معرفِ عرب‘  کے معزز عہدے پر فائز کیا۔ صولت صاحب کی ولادت ٹونک میں ہی 1898 میں ہوئی۔ بہ وقتِ انتقال ان کی عمر 70 سال تھی۔ صولت  صاحب کو زمانہ ٔ  طفولیت میں ہی صاحبزادہ عبداللہ خاں کی زوجہ رقیہ بیگم نے اپنا متبنیٰ بنا لیا تھا۔ تقریباً اکتیس  (31) سال کی عمر تک وہ ان کے ساتھ رہے۔ رقیہ بیگم کے انتقال کے بعد انھیں زندگی کے مختلف نشیب وفراز سے دوچار ہوناپڑا۔ جہاں ان کی زندگی کے ابتدائی ایام بڑی خوشگوار فضامیں گزرے۔ جوانی بھی بے فکری اورعیش وعشرت میں بسر ہوئی،  لیکن بعد کی زندگی خصوصاً بڑھاپے میں زندگی کے تلخ تجربات وآزمائش کے دور سے گزرنا پڑا۔ چونکہ رقیہ بیگم لاولد تھیںاور ان کی تمام جائداد سرکار نے ضبط کرلی تھی۔ اس جائداد میں سے بہت ہی قلیل و ظیفہ صولت صاحب کو ملاکر تاتھا کچھ وظیفہ والیانِ ٹونک کی جانب سے اہلِ عرب کے لیے موقوفہ جائداد سے بھی انھیں ملتا تھا۔ قلیل آمدنی کے باوجود ان کے صبر و شکر اور قناعت کا یہ عالم تھا کہ کبھی کسی سے  محتاجگی ظاہر نہ کی۔ بلکہ خداوندِ قدوس  سے یہی آرزو اور دعا کرتے رہے        ؎

ہر بلندی سے ہر نشیب سے دے

پھر نہ مجھ کو کسی کی جیب سے دے

میری حاجت برآری کرنے کو

میرے پروردگار غیب سے دے

        وہ مصائب وآلام کو در گزر کرتے ہوئے ہر حال میں شکرِ خدا کرتے رہے اور بندگی بجا لاتے رہے         ؎

جو کچھ بھی ہوا اس کی ہی مرضی سے ہوا ہے

ہر حال میں صولت تو ادا شکرِ خدا کر

 صولت  صاحب ایک مختلف الصفات شخصیت ہونے کے باوجود گمنام زندگی بسر کیا کرتے تھے۔ان کے معیارِ اخلاق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مختلف صفات سے متصف ہونے کے بعد بھی وہ خود کو انتہائی ادنیٰ اور گنہگار شخص سمجھتے، ان کے مطابق وہ          ؎

اچھا ہے ہر اک شخص میری نظروں میں صولت

میں کس کو برا جانوں کہ ہوں سب سے برا میں

شاعری میں صولت  صاحب نے اولًا امام الشعرا  حضرت ِ کیف سے اصلاح لی، بعد ازاں جانشینِ داغ وحالی بھائی جان عاشق  کی شاگردی اختیار کی۔ اس سلسلے میں ان کے شاگرد منشی عبدالحمید خاں آرزو کو دی گئی سندِ اجازت وفراغتِ اصلاح میں وہ رقم طراز ہیں 

’’پرانے رسم و رواج اور دستور کے مطابق میں نے بھی یہ فن امام الشعرا حضرت عالمگیر کیف تلمیذرشید حضرت سلیمان خاں اسد لکھنوی اور جانشینِ داغ  وحالی حضرت صاحبزادہ احمد سعید خاں عاشق ؒ سے حاصل کیا۔

یہ دونوں حضرات اردو کے دوممتاز شعری دبستانوں دہلی اور لکھنؤ کے سر خیل تھے۔ اس طرح مجھے ان اساتذۂ کرام کے واسطوں سے شاعری کے ان دونوں اسکولوں کے خوشہ چیں ہونے کا فخر حاصل ہے۔ مجھے بچپن سے ہی شعر گوئی کا ذوق ہے اور13 , 14  سال کی عمر سے ہی میں اس دشت کی سیاحی میں مصروف ہوں۔ ‘‘

صولت  صاحب صرف ایک قادرِ الکلام شاعر ہی نہیں شاعر گر بھی تھے۔ ان کے طفیل بہت سے متبدی حضرات شاعر بن گئے لیکن صولت  صاحب نے ہمیشہ شہرت و ناموس سے فاصلہ بنائے رکھا۔ مولانا منظور الحسن برکاتی نے ایک مقام پر تحریر کیا ہے 

’’صولت صاحب نے بہت کہا ہے لیکن کم اپنے لیے اور بہت دوسروں کے لیے۔ تمام ہی مشہور قدیم اساتذہ ٔ سخن کی غزلوں پر انہوں نے غزلیں لکھی ہیں۔ مشکل سے مشکل اور سنگلاخ سے سنگلاخ زمینوں میں طبع آزمائی کی ہے۔ ہزاروں نہیں لاکھوں شعر ان کی زبان و قلم سے نکلے ہیں لیکن چند غزلوں اور کچھ قصیدوں کے سِوا انہوں نے طبیعت کے استغنااور مزِاج کے لاابالی پن کی وجہ سے کلام جمع کرنے اور اس کے مرتب کرنے کا اہتمام کبھی نہیں کیا، نہ معلوم کتنا کلام ضائع ہو گیا اور نہ معلوم کتنا کلا م دوسروں کو بخش دیا۔‘‘ 

( بحوالہ جرنل جلد  3  بابت 83 - 84   ص 89)

صولت صاحب کوفی البد یہہ  اشعار کہنے پر بڑی قدرت حاصل تھی۔ان کے مہارت ِ فن کا اندازہ ا س بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اکثر مشاعروں میں فی الفور غزلیں کہہ کر پڑھیں۔  ا ن کی بدیہہ گوئی کا یہ عالم تھا کہ خواہ کیسی ہی مشکل زمین ہو  چند ساعت میں غزل مکمل ہو جایا کرتی تھی۔ اور انداز ِ بیان کا معیار بھی ایسا کہ اس پر کبھی گرفت نہ ہوسکی۔

صولت صاحب نے غزل کے علاوہ نظمیں، قصیدے، قطعات و رباعیات، سہرے سہاگ و چار بیت و غیرہ اصناف ِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ لیکن نعت گوئی پر انہوں نے خصوصی توجہ دی۔ ان کے نعتیہ اشعارسے عشق رسول کی جو والہانہ کیفیت اور وار فتگی کا اظہار ہو اہے، وہ دیگر شعرا کے یہاں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ دراصل صولت صاحب صوم و صلوٰۃ اور دینی شعار کے پابند ایک سچے مسلمان تھے۔ آنحضرت حضورِ اکرم صلی اللہ وسلم کی ذات ِمبارک سے آپ کو خصوصی عشق تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مشاعروں و دیگر محفلوں میں وہ نعتیہ شعر کو خصوصاً پسند کیا کرتے تھے۔ مشاعروں میں وہی شاعر ان کی خصوصی توجہ کا مرکز بنتا جو نعتیہ شعر پڑھتا تھا۔ وہ ایک نعتیہ شعر کو کئی بار پوری غزل پر ترجیح دیا کرتے تھے۔

صولت  صاحب کے یہاں عشق رسولؐ صرف روایت کی پا سداری یارسم ورواج کے طور پرنہیں بلکہ یہ ان کی رگ وپے اورجسم و روح میں سرایت کیا ہوا تھا۔ یہی وجہ رہی کہ ان کے کلام میں حمدیہ و نعتیہ اشعار کے ساتھ صوفیانہ رنگ غالب نظر آتا  ہے۔ وہ محافلِ میلاد النبیؐ اور مجالسِ سیرت النبی میں بڑے ذوق و شوق سے شرکت کرتے۔ صولت صاحب نے کثیر تعداد میں نعتیہ اور حمدیہ اشعار تحریر کیے ہیں۔ان کا اس نوعیت کا کلام آج بھی محافل میلادالنبیؐ اور مجالسِ چاربیت کی زنیت بنا ہوا ہے۔ میلاد و چاربیت پارٹیاں محافِل میں ان کو نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ مترنم آوازوں میں پڑھا کرتے ہیں۔

صولت صاحب نے شعری اصناف میں غزل میں ہی بنیادی طور پر اپنی فکرِ طبع کی جولانیاں دکھائی ہیں۔ ا ن کی غزلیات میں دہلوی اور لکھنوی طرز سخن کے امتزاج کے ساتھ کلا سیکی اقدار  و  ر وایت کی پاسداری و احترام موجود ہے۔مشہور واقعہ ہے کہ جگر مرادآبادی نے صولت صاحب کی موجودگی میں کسی مشاعرے میں جب اپنا یہ مخصوص شعر ارشاد فرمایا           ؎

میری و حشت کی قسم آپ اٹھائیں تو نقاب

میرا ذمہ ہے کہ جلوے نہ پریشاں ہوں گے

 صولت صاحب نے بر جستہ فرمایا کہ جگر  صاحب یوں پڑھیے یوں            ؎

طور سینا کی قسم آپ اٹھائیں تو نقاب

میرا ذمہ ہے کہ جلوے نہ پریشاں ہوں گے

ایک لفظ کی تبدیلی سے صولت  صاحب کی استادی نے شعر کو کہاں سے کہاں پہنچادیا۔ خاص بات یہ رہی کہ جگر  جیسے بڑے شاعر نے صولت  صاحب کی مذکورہ اصلاح کو بخوشی قبول بھی کیا۔

صولت صاحب غزل کو دیگر اصنافِ شاعری پر فوقیت دینے کے علاوہ اسے اردو شاعری کی جان بھی کہا کرتے تھے۔ وہ غزل کی قدیم روایات اور تراکیب کے ہمیشہ قائل رہے۔ صولت صاحب نے اپنی بیشتر غزلیات میں سادہ، سلیس، آسان، بامحاورہ اور پختہ الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ الفاظ کی بندش اور مخصوص اندازِ بیان کی بدولت ان کے بعض اشعار جاد‘و کا سا اثررکھتے ہیں۔ بطور ِ نمونہ چند اشعار پیش ہیں          ؎

زلف و رخ ان کے سلامت کیا غم شام وسحر

شام اک میرے لیے ہے اک سحر میرے لیے

پا کے بے پردہ انھیں بام پہ رونا آیا

حسن کی اس روشِ عام پہ رونا آیا

دیکھ کر آنکھ سے تیرے رخ و گیسو کی بہار

مجھ کو اپنے سحر و شام پہ رونا آیا

عمر بھر اتنی ہنسی بھی تو نہ آئی تھی کبھی

جس قدر اس دلِ ناکام پہ رونا آیا

دو عالم بھی قیمت نہیں تیرے غم کی

میں کب یہ متاعِ گراں بیچتا ہوں

نتیجہ کیا اگر انسان جیسی شکل پائی ہے

وہ ہے انسان جو انسان کے کام آئے مشکل میں

بھلا جو چاہا تو وہ مدتوں بھی نہ ہو سکا

برا نہ چاہا بھی ہم نے تو وہ شتاب ہوا

صولت کی غزلیات میں کہیں کہیں دہلوی رنگِ سخن کا غلبہ نظر آتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ اولاً تو یہ ہے کہ وہ دہلوی استادنواب مرزا خاں داغ کے شاگرد بھائی جان عاشق   کے شاگردِ رشید تھے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ داغ  کی شاعری کا چرچا اس وقت پورے ملک میں تھا۔ داغ  کے رنگِ سخن کو اس عہد میں ایسا قبولِ عام حاصل تھا کہ کئی باکمال شعرا اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ صولت کی شاعری پر بھی اس طرزِ سخن کا اثر پڑنا لازمی تھا۔ لہذاصولت کے یہاں بھی اشعار میں طرزِ داغ کی مانند زبان دانی و محاورہ بندی،بے ساختگی و حسن پرستی جیسے موضوعات پر اشعار مِل جاتے ہیں۔ چند اشعار پیش ہیں          ؎

معمولی حسن والا جہاں میں نہیں ہے تو

لاکھوں میں جس کو ایک کہیں وہ حسیں ہے تو

کیوں آستیں چڑھائے ہے باندھے کیوں کمر

کیا قتل کر سکے گا مجھے نازنیں ہے تو

غزل اور نعت کے علاوہ صولت صاحب نے ٹونک کی مقبول عام صنفِ سخن چاربیت میں بھی بخوبی طبع آزمائی کی ہے۔ چاربیت میں ادبیت پیدا کرنے والے حضرات میںشمشیر جنگ، استاد آبرو، استاد حیراں، وبسمل سعیدی کے ساتھ صولت صاحب کا نام بھی سرفہرست ہے۔ مذکورہ شعرا کے علاوہ جوہر، صائب، بصر ، شرر، فائز اورابنِ احسن بزمی وغیرہ شعرانے بھی اس سلسلے میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ صولت صاحب کو غزل ہی کی طرح فنِ چار بیت اس کے رموز اور زبان و بیان پر بڑی قدرت حاصل تھی۔ ان کی بعض نعتیہ چاربیتیں آج بھی محافِل میں چاربیت پارٹیاں اپنے مخصوص طرز و انداز سے سنایا کرتی تھی۔ ان کی مشہور نعتیہ چاربیت کا مطلع اور بند ملاحظہ ہوں         ؎

سروری دونوں جہاں کی ہے سزاوار تمھیں

حق نے مختار کیا سیدِ ابرار تمھیں

ایسا رتبہ تو کسی اور نبیؐ کو نہ مِلا

جس کو اللہ نے محبوب بنایا اپنا

شبِ معراج میں بلواکے اٹھا کر پردہ

خوب اللہ نے دِکھلا دیا دیدار تمھیں

میں گنہگار ہوں، امت میں تمھاری تو ہوں

یہ تو ہرگز نہیں ہوگا کہ میں دوزخ میں جلوں

جاکے اَب روضۂ اقدس پہ یہ صولت کہدوں

چاہیے دھیان مِرا، اے مرے سرکار تمیں

 صولت  صاحب نے اپنے ایام شباب کے دوران احمدآباد کا سفر کیا تھا۔ وہ وہاں کی خوبصورتی اور حسنِ دلفریب مناظِر سے اس درجہ متا ثر ہوئے کہ ان کے قلم سے یہ اشعار نِکل پڑے        ؎

دم قدم سے ہے تیرے شوکت و شانِ گجرات

اے میں قربان تیرے سروردانِ گجرات

کیا کہوں میں تم سے داستانِ حسن

ہے نِرالی ہر ایک شانِ حسن

تازگی یہ ہے گلستانِ حسن

احمدآباد ہے جہانِ حسن

مذکورہ اشعار کے علاوہ بعض چاربیت گو حضرات کے مطابق ان کی ایک مشہور چاربیت کا شانِ نزول بھی گجرات ہی کا ایک حسین منظر تھا۔ چاربیت میں صولت  کے مظاہرۂ کمالِ فن کے ساتھ ان کے مخصوص جذبات واحساسات کی ترجمانی دل نشیں انداز میں ہوئی ہے۔ چاربیت کا مطلع یوں ہے        ؎

فریاد و فغاں کیا کرے تاثیر کسی کی

تدبیر سے برگشتہ ہے تقدیر کسی کی

کیا کوئی کہے سوزِ محبت کی کہانی

کس طرح دکھائے کوئی اشکوں کی روانی

مغرور ہے وہ حسن پہ اللہ رے جوانی

سنتا ہی نہیں وہ بتِ بے پیر کسی کی

چار بیت کا آخری بند اس طرح ہے        ؎

قسمت سے نظر آتا ہے انساں کو وہ منظر

صولت بخدا سانپ سے لہراتے ہیںدل پر

جب کوئی لبِ بام کھڑا ہوتا ہے آکر

بل کھاتی ہے جب زلفِ گرہ گیر کسی کی

یہاں سراپا نگاری کے علاوہ حسنِ بے پروا کی مغروریت و دلفریبی کے ساتھ شاعر کی قلبی کیفیت کا اظہار ہواہے۔

جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے کہ صولت صاحب کوفی الفور اور برجستہ اشعار کہنے پر بڑی قدرت اور ملکہ حاصل تھا۔ ان کی بدیہہ گوئی اور برجستہ شاعری سے متعلق کئی واقعات مشہور ہیں۔تاج الادبا فصیح الملک مولانا منظور الحسن برکاتی مرحوم نے اپنے ایک مقالے بعنوان’صولت صاحب اور ان کی شخصیت ‘  میں ایسے متعدد واقعات قلم بند کیے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ ’شفامنزل‘ سے متعلق ہے۔وہ لکھتے ہیں 

اکتوبر66 کی بات ہے کہ ایک روز صولت  صاحب میرے غریب خانہ ’ شفامنزل‘ تشریف فرما تھے۔ مختلف موضوعات زیرِ بحث تھے۔ باتوں باتوں میں  ’ شفا منزل‘ موضوعِ سخن بن گئی۔ صولت صاحب قبلہ مرحوم نے فرمایا۔ یہ بڑا تاریخی اور علمی مقام ہے ...  پھر خودہی ذیل کا شعر ارشاد فرمایا          ؎

جس کو تم کہتے ہو شفا منزل

مرکزِ علم ہے یہ اے صولت

 اس مجلس میں صولت صاحب کے شاگرد  رشید جناب مراد سعیدی اور ٹونک کے ایک صاحبِ دیوان شاعرحافظ عبدالرحیم حافظ بھی شریک تھے۔ کچھ دیر کے بعد منشی احمد رضا خاں رضا  بھی آگئے۔تو صولت صاحب نے برجستہ فرمایا           ؎

مراد اور حافظ تو پہلے سے تھے

ہوا اور لیجے رضا کا اضافۂ

اس کے بعد گفتگو  کا رخ سجع گوئی کی طرف ہوگیا۔ صولت  صاحب نے فرمایا  میں نے قاضی الاسلام صاحب کا سجع بڑا ہی خوب اور پر معنی کہا ہے۔ اہلِ مجلس نے سننے کی خواہش کی تو فرمایا

خود محمد قاضی الاسلام ہے

...سجع گوئی کا سلسلہ جاری تھا کہ صاحبزادہ شوکت علی خاں صاحب اور محبوب عالم صاحب ایڈوکیٹ بھی آگئے۔ قاضی جی نے کہا میاں ! محبوب عالم کابھی سجع ارشاد فرمادیں۔     صولت صاحب نے فرمایا کہ محبوب عالم صاحب کا سجع تو بعدمیں کہوں گا۔ لوتم شوکت علی خاں کا سجع سن لو وہ ہوگیا         ؎

بابِ دیارِ علم کہا ہے حضورؐ نے

در اصل قصرِ علم کی شوکت علی سے ہے

اس کے بعد صولت صاحب نے محبوب عالم صاحب کے لیے ذیل کا سجع فرمایا    ع

اپنے حسنِ خلق سے محبوبِ عالم ہوگیا       

 طے ہوا کہ جِن حضرات کے اس وقت سجع ہوئے ہیں کل ان کی جانب سے پارٹی کا انتظام کیا جائے۔ چنانچہ پروگرام کے مطابق دوسرے دن پارٹی منعقد ہوئی۔ پارٹی میں دارالعلوم خلیلیہ کے مدرس جناب حافظ محمد حسین خاں اور جناب قاری محمد علی بیگ صاحب بھی شریک تھے۔ اس موقع پر صولت صاحب نے ان دونوں حضرات کے بھی فی الفور سجع ارشاد فرمائے۔

حافظ محمد حسین خاں           ؎

رکھتے تھے اپنے دوشِ مبارک پہ آپ کو

کرتے تھے کتنی قدر محمدؐ حسین کی

 قاری محمد علی بیگ          ؎

بہت چاہتے تھے محمد علی کو

( بحوالہ جرنل  3،  ص  - 117  115)

اسی نوعیت کے ایک اور واقعہ کا بیان اس طرح ہے کہ 

’’اکتوبر  66 کی بات ہے حضرت صولت صاحب میرے غریب خانہ ’شفامنزل‘ میں تشریف فرماتھے۔ اتفاقاً اسی وقت میری تازہ تالیف ’ بسمل سعیدی اپنے وطن میں ‘ زیورِ طبع سے آراستہ ہوکر پریس سے آئی۔ اس کتاب کی طباعت و اشاعت کے جملہ مصارف حضرت مراد سعیدی نے برداشت کیے تھے۔ حضرت صولت کی فرمائش پر میں اس کتاب کے چیدہ چیدہ حصے سنانے لگا، وہ بڑی دلچسپی اور انتہائی ذوق و شوق کے ساتھ سماعت فرمانے لگے... بڑے خلوص و محبت سے تعریف و توصیف کے الفاظ سے ہمت افزائی فرمائی اور بے ساختہ و برجستہ خلوص ومحبت میں ڈوبا ہوا یہ دعائیہ شعر ارشاد فرمایا         ؎

تا ابدقائم رہیں یارب تہہِ چرخِ کہن

قاضی الاسلام صاحب اور منظور الحسن

(  بحوالہ جرنل  3  ص  117  )

صولت  صاحب کو ان کی زندگی کے آخری زمانے میں ان کے چہیتے فرزند احمد حسین عرف پیارے میاں داغِ مفارقت دے گئے۔ پسر کی اچانک موت نے انھیں جھنجھوڑ ڈالا۔ اس المناک حادثے نے نہ صرف ان کی کمر توڑی بلکہ زندگی میں ہی ان کی موت واقع ہوگئی۔ اب وہ صرف ایک کاغذی پیکر اور ہڈیوں کا مجسمہ رہ گئے تھے         ؎

دیکھ لو اب صرف کاغذی پیکر

مجھ میں اب دم و درود کچھ بھی نہیں

یہ زخمِ کاری کبھی نہ بھرنے والا تھا، لہٰذافرماتے ہیں         ؎

یہ زخم کبھی بھی نہ بھریگا مرے دل کا

بس کام یہ پورا ہی کرے گا مرے دل کا

یہ کیا بتاؤں تم کو کہ کیا رنگ ہوگیا

اب عرصۂ حیات مرا تنگ ہوگیا

اِن قطعات میں انھوں نے پیارے میاں کی موت سے خود کی زندگی ختم ہونے، زندگی کے موت سے بدتر ہونے کا ذکر کیا ہے، فرماتے ہیں         ؎

شادمانی ختم ہو کر رہ گئی

کامرانی ختم ہو کر رہ گئی

تیرے جاتے ہی مرے پیارے میاں

زندگانی ختم ہو کر رہ گئی

بے مرے اس غم سے چھٹکارا نہیں

زندگی کا اب کوئی چارا نہیں

موت سے بدتر ہے صولت زندگی

کیا جیوں گا جب مرا پیارا نہیں

مشہور اردو رسالہ شانِ ہند دہلی، اپریل 1968 کے شمارے میں مدیر سرور تو نسوی  صولت صاحب کی وفات سے متعلق ایک تعزیتی تحریر میں یوں بیان کرتے ہیں 

’’ دراصل صولتؒ  کی قلبی موت تو اسی روز ہو چکی تھی جس روز ان کے چھوٹے صاحبزادے پیارے میا ں اللہ کو پیارے ہوئے تھے۔ اور یہی غم انھیں چلتے پھرتے، کھاتے پیتے، سوتے جاگتے اندر ہی اندر کھائے جارہا تھا اور وہ اپنے جواں مرگ صاحبزادہ کی قبر سے لپٹ کر فرماتے تھے کہ بیٹا بہت جلد تیرے پاس آرہا ہوں۔‘‘

صولت صاحب کی برجستہ گوئی اور فی الفور شعر کہنے کا سلسلہ تادمِ آخر جاری رہا۔ شدید بیماری اور عالمِ نزع میں بھی اشعار کہتے رہے۔ اسی عالم میں اپنی آخری رباعی انھوں نے اپنے محبِ خاص وخلیفۂ عزیز صاحبزادہ شوکت علی خاں کو لکھوائی تھی۔رباعی سے ظاہر ہے کہ موصوف کو عالمِ نزع میں بھی راحتِ جنت ملی تھی۔ یقینا یہ ثمرۂ خداوندی تھا جوانھیں حاصل ہوا        ؎

ہر قطرہ ہے پانی کا ثمر خلدِ بریں کا

صدقہ ہے یہ صولت بخدا سرورِ دیںِ کا

ہے نزع کے عالم میں مجھے راحتِ جنت

ثمرہ ہے یقینا یہ میرے حسنِ یقیںکا

ان کی وفاتِ پر ملال پر متعد د ہم عصر شعرا نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان گنت تعزیتی و تاریخی اشعار قلمبند کیے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے ہم عصر و دیرینہ رفیق مشہور کلا سیکی شاعر بسمل سعیدی نے جو اشعار بطورِنظم تحریر کیے ہیں وہ ان کی شخصی و فنی عظمت کے آئینہ دار ہیں        ؎

بستے تھے دِل کے دیس میں دو چار پانچ لوگ

پھر کیا رہا جو ان میں بھی دو چار مرگئے

اونا مراد اَب نہ کسی کی غم سے کھیلنا

اے دِل بہ ہوش باش کہ غم خوار مرگئے

ذی علم و فہم، صاحب فنِ، قادر الکلام

نباضِ فکر، ناقدِ اشعار مرگئے

دل دادۂ قدامت و خلق و خلوص و خیر

ساتھ اپنے لے کے کتنی ہی اقدار مرگئے

تھا دشمنوں کی موت کا بھی ذکر ناگوار

یہ کیا کیا کہ خود ہی مرے یار مرگئے

بسمل ہم اپنی خیر منائیں گے کب تلک

اکثر ہمارے ساتھ کے بیمار مرگئے

صولت  صاحب کے کلام کا بیشتر حصہ امتداد زمانہ کی نذر ہوگیا۔ زود گوشاعر ہونے کے باوجود ان کا کلام بہت کم دستیاب ہے کیونکہ انھوں نے خود کے لیے تو کم کہا اور دوسروں کے لیے بہت زیادہ ان کی اس وسیعالظرفی کے سبب بہت سے متبدی نہ صرف شاعر بلکہ صاحب دیوان تک بن گئے۔ استغنائے طبیعت کے باعث آپ نے کبھی اپناکلام یکجا بھی نہیں کیا۔ اس طرح ان کے درہائے سخن خذف ریزوں کے مول بکے۔ ان کی بعض غزلیات اور چاربیت ٹونک کے ان سے منسلک چند باذوق حضرات میں سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے شاگردِ رشید تاریخ گو شاعرمنشی عبدالبصیر بصررقمطراز ہیں 

’’آپ کا ذخیرۂ کلام گنتی کی غزلیں ہیں۔ ابتدائی دورکی غزلیں چاربیتیں ان کے اس دور کے ساتھیوں کے پاس ہیں۔ ان غزلوں اور چاربیتوں میں جو سقم و نقائص ہیں۔ وہ طالبِ علمی کے زمانے کی یادگار ہیں، ان کی اصلاح و درستی ممکن بھی نہیں وہ لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں۔اور زبانوںپر چڑھی ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات کہنا ضروری ہے کہ جب زمانہ طالب ِ علمی کی غزل، چاربیت کوئی سناتاتو آپ دشمن کے شعر کی طرح سنتے اور تنفید فرماتے تھے اچھے کو اچھا برے کوبراہی کہتے تھے۔‘‘ 

(بحوالہ جرنل جلد  3  ص 59)

البتہ صولت ٹونکی کے خلیفہء عزیزصاحبزادہ شوکت علی خاں سابق ڈائریکٹر مولانا آزاد عربی وفارسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ٹونک  (ادارۂ راجستھان سرکار)  نے مذکورہ ادارے کے سالانہ مجلہ ’جرنل‘ 3 کو نہ صرف ’صولت نمبر‘  کی حیثیت سے شائع کروایا۔ بلکہ اس میں صولت  ٹونکی کی حمد،نعت ومنقبت کے علاوہ غیر مطبوعہ 22، غزلیات کو جمع ویکجا کر کے شائع کیا۔ مذکورہ جرنل میں راجستھان و بیرونِ راجستھان کے متعدد ادبا و شعر اکے صولت صاحب سے متعلق تاثرات بھی شامل ہیں جو یوم صولت کے موقع پر ان حضرات نے تحریر کیے تھے۔

صولت صاحب کے آخری زمانے میں وفات سے کچھ ہی دن قبل قاضی شہر ٹونک کی تاریخ ساز حویلی میں خود ان کی صدارت میں شاعر سالک عزیزی کے اعزاز میں ایک مشاعرہ منعقد ہواتھا۔ یہاں انہوں نے اپنی غزل کے مقطع میں تقاضائے ملک الموت کا اظہار نہایت جذباتی انداز میں کیا تھا۔

سخت جاں تو بھی وہ صولت ہے کہ پرواہ ہی نہیں

کر رہا ہے ملک الموت تقاضا کب سے

 اختتامِ مقالہ سے قبل بطور ’ مشتے نمونہ ازخروارے‘ صولت کی ایک غزل ملاحظہ فرمائیں          ؎

مضطر ہجومِ رشک سے ہیں بزمِ یار میں

کانٹوں پہ ہم تو لوٹ رہے ہیں بہار میں

کمبخت لازمی ہے محبت میں بدظنی

پیوست نوکِ خارِ خزاں ہے بہار میں

وہ مسکراکے دیکھ رہے ہیں میری طرف

ہے آج کائنات مرے اختیار میں

اونچی نظر بھی کجیے تبسم کے ساتھ ساتھ

فرمائیے کچھ اور اضافہ بہار میں

گیسو وہ رخ پہ ڈالے ہوئے محوِ خواب ہیں

گویا چمن ہے سایۂ ابرِ بہار میں

حق گوئی میں کسی کا ہمیں کوئی ڈرنہیں

صولت جو بات کہنی ہو کہہ دیں ہزار میں

مآخذ 

  1.         ’جرنل‘ جلد3، صولت نمبر بابت سال83-84، مرتبہ صاحبزادہ شوکت علی خاں ڈائریکٹر وحکیم محمد عمران خاں
  2.        میرے عہد کی صدائیں    مخمور سعیدی 2000
  3.        شانِ ہند (رسالہ) دہلی، اپریل 1968 مدیرسرور تونسوی
  4.        ریاست ٹونک اور اردو شاعری    مختار شمیم1976
  5.        تذکرہ شعراے ٹونک    شمیم ٹونکی 1993
  6.        چار چاند    محمدالحئی فائز  1994
  7.        انجمن (دیوناگری میں ) ہنومان سنگل 1994
  8.        ٹونک میں اردو کافروغ    سید ساجد علی ٹونکی  2011
  9.        راجستھان میں شعری گلد ستوں کی روایت    ڈاکٹر نادرہ خاتون   2011
  10.      راجستھان میں اردو نعت گوئی ( غیر مطبوعہ تحقیقی مقالہ ) ڈاکٹر قائد علی خاں
  11.      راجستھان کے موجودہ اردو شاعر (دیوناگری میں ) پروفیسر پریم شنکر  شریواستو 1965
  12.      راجستھان کے موجودہ اردو شاعر (اردو میں ) مترجم و مرتب    ڈاکٹرعزیزاللہ شیرانی 2022

Dr. Rashid Miyan

Assistant Professor (Urdu)

Govt. P. G. College

Tonk- 304001 (Rajsthan)

Mob.: 7240302056                                         

Email : rashidmiyan356@gmail.com

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...