26/7/23

بھکاریوں کی ہڑتال: احسان عبدالقدوس، مترجم قطب الدین


 

آزادیِ نسواں اور رومانوی ادب کے علم بردار احسان عبد القدوس(1919-1990) بیسویں صدی کے مایۂ ناز عربی افسانہ نویس اور ناول نگار ہیں۔ان کی پیدائش 1919میں مصر کے شہر قاہرہ میں ہوئی۔1942میں قاہرہ یونیورسٹی کے فیکلٹی آف لا سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی،مگر صحافت سے خاص دل چسپی کے باعث انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی بحیثیت ایک سیاسی تجزیہ نگار اور عربی مجلہ’روزالیوسف‘جسے ان کی والدہ فاطمہ الیوسف نے جاری کیاتھا، کی ایڈیٹر شپ سے شروع کی۔اپنے بے لاگ صحافیانہ تجزیوں کے سبب بے باک صحافیوں میں شمار کیے جانے لگے جس کی وجہ سے انھیں دوبرسوں تک قیدو بند کی زندگی بھی گزارنی پڑی۔علاوہ ازیں میدانِ صحافت میں مختلف مناصب پر فائز ہوئے اور آخر میں جریدہ ’الأھرام‘ کے ایڈیٹر بھی منتخب ہوئے۔

احسان عبد القدوس نے بعد میں تصنیف و تالیف کے لیے خود کو وقف کردیا اور تادمِ حیات اسی میں مشغول رہے۔انھوں نے سینکڑوں افسانے اور متعدد ناول تحریرکیے جن میں اکثروبیشتر ٹیلی ویژن،سنیما اور ریڈیو کے ذریعے پیش ہوئے۔ موصوف نے اپنی تحریروں میں اجتماعی زندگی اور معاشرتی خرابیوں کو اجاگر کرکے سماج کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھاہے۔ان کے مشہور ناولوں میں ’أنا حرۃ‘(میں آزاد ہوں)’الطریق المسدود‘(بند راستے)’شئی فی صدری‘(دل کا بھید)’لا انام‘(میں نہیں سوتی)’لا تترکونی ھنا وحدی‘( مجھے تنہا چھوڑ نہ جانا)وغیرہ ہیں۔نیز افسانوں میں ’زوجات ضائعات‘(لاچار بیویاں)’سیدۃ فی خدمتک‘( خانم حاضر ہے)’البنات والصیف‘ (دوشیزائیں اور موسمِ سرما)’فوق الحلال والحرام‘(حلال و حرام سے پرے)’بئر الحرمان‘(تشنگی)اور ’عقلی و قلبی( دل و دماغ)وغیرہ بہت مشہور ہیں۔پیشِ نظر افسانہ کا عربی عنوان ’اِضراب الشحاذین‘ ہے جواحسان عبدالقدوس کے آخر الذکر افسانوی مجموعے سے ماخوذ ہے۔ 

ایک نہایت دین دار شخص تھا جس کی عادت تھی کہ وہ ہرسال رمضان کے مہینے کی پہلی رات میں’ ختم قرآن‘ کا اہتمام اور ’سیدہ زینب‘ کے مقبرے پر جمع ہونے والے تمام بھیک منگوں کی دعوت کرتا تھا۔ان کی ضیافت کے لیے وہ دو بچھڑے ذبح کرتااور کافی مقدار میں پکا ہوا چاول اور چپاتیاں ان میں تقسیم کرتا تھا۔

ہرسال کی طرح امسال بھی اس نے اس کا پورا بندوبست کرلیا تھا۔ چنانچہ وہ اپنے ہاتھوں میں تسبیح لے کر اللہ کا ذکر کرنے لگا اور اس کے اردگرد کچھ لوگ قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول تھے اوروہ شخص بھیک منگوں کا انتظار کررہا تھا۔

روزہ افطاری کے اعلان کے لیے توپ کے ذریعے گولہ داغے جانے میں محض ایک گھنٹہ باقی تھا، تاہم ابھی تک کوئی بھکاری وہاں نہیں پہنچا تو اس دین دار شخص نے صورت حال کا جائزہ لینے اپنے نوکر کو بھیجا۔

تھوڑی دیر بعد نوکر ہانپتا کانپتا آیا اور اس دین دار شخص سے کہنے لگا

’’تمام بھکاری آج آنے سے انکار کررہے ہیں!‘‘

اس شخص نے حیرانی سے آنکھیں اوپر اٹھائیں اور پوچھا

’’انکار کررہے ہیں؛مگر کیوں ؟!‘‘

نوکر نے جواب دیا

’’ان لوگوں نے اپنی ایک یونین بنالی ہے اور ایک ٹانگ سے معذور محمد نکلہ اور مفلوج و خارش زدہ ابورابیہ کو اپنا لیڈرچن لیا ہے!‘‘

اس شخص کو یقین نہیں ہورہا تھا،پھر بھی اس نے پوچھا

’’ان کے لیڈروں نے تم سے کیا کہا؟‘‘

نوکر نے بدستور ہانپتے ہوئے جواب دیا

’’ان لوگوں نے کہا کہ وہ بغیر کچھ شرطیں منوائے آپ کی دعوت قبول نہیں کریں گے۔‘‘

اس شخص نے چلا کر کہا

’’شرطیں۔۔۔ خدا کی ذات بزرگ و برتر ہے،ان لوگوں کی اوقات بھکاری کے سوا کچھ نہیں ہے۔۔۔ ہم تو انھیں اللہ کے واسطے کھانا کھلاتے ہیں اور وہ ہمارے ہی اوپر شرطیں لگاتے ہیں۔۔۔وہ بھاڑ میں جائیں،انھیں کھانا کھلانا تو گھاٹے کا سودا ہے!‘‘وہ بڑبڑانے لگا۔

نوکر اس شخص کے سامنے سے پیچھے کھسکتا ہوا چلا گیا۔

دین دار شخص تھوڑی دیر تک سوچوں میں گم رہا،ہر سال اس’ختم قرآن ‘اور دعوت کے اہتمام کی اسے عادت سی ہوگئی تھی،اپنے کاروبار کے لیے اسے وہ نیک فال تصور کرتا تھا اور اسی کے دم پر محلے بھر میں نیک نام و دین دار شخص کی حیثیت سے معروف تھا،نیز اس کا رعب و دبدبہ بھی قائم تھا۔ چنانچہ ’ختم قرآن ‘کی یہ رسم بھکاریوں کی شرکت کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی تھی۔۔۔یہ کتّے!

اس نے اپنے نوکر کو دوبارہ بلایا اور پوچھا

’’بھکاریوں کی شرطیں کیا کیا ہیں!؟‘‘

نوکر نے جواب دیا

’’ان کا مطالبہ ہے کہ کھانے کے ساتھ ساتھ ہر ایک کو دس’ قِرش‘ (ایک سکہ جو مختلف عرب ممالک میں مختلف قیمتوں میں چلتا ہے) بھی دیے جائیں۔!!‘‘

دین دار شخص یہ سنتے ہی اٹھ کھڑا ہوا اور تیز آواز میں کہنے لگا

’’وہ ہماری سخاوت کا غلط فائدہ اٹھارہے ہیں اور وہ میرا گھر برباد کرنے پر تلے ہیں، کتے!‘‘

نوکر نے ڈرتے ہوئے کچھ کہنے کی جرأت کی

’’وہ کہتے ہیں کہ آپ کافی مال دار ہیں،اگرایک ایک بھکاری کودس دس قرش دیدیں تو آپ کا کوئی نقصان نہ ہوگا۔‘‘

وہ شخص پھر چیخنے لگا

’’ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں مل سکتی،بھاڑ میں جھونکو سب کو!‘‘

نوکر ابھی واپس پلٹناہی چاہ رہا تھا کہ اس شخص نے اسے روک لیا اور حکم دیا

’’جاؤ ان بھکاریوں کو بلا لاؤ جو’جامع الحسین‘کے پاس کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘

نوکر نے مایوسی کے عالم میں جواب دیا

’’ان میں سے کوئی بھی نہیں آئے گا، مجھے پتہ چلا ہے کہ بھکاریوں نے آپس میں علاقے بانٹ لیے ہیں۔ ’جامع الحسین‘ علاقے کا بھکاری’سیدہ زینب ‘کے علاقے میں نہیں داخل ہوسکتا۔‘‘

دین دار شخص نے ہاتھ ملتے ہوئے اپنا سرہلایا،اس کی زبان پر بار بار یہی فقرہ آتا تھا

’’لاحول ولا قوۃ۔۔۔ساری دنیا خسارے میں ہے، اب اس دنیا میں بھلائی کی کوئی جگہ نہیں بچی!‘‘

اس شخص نے اپنا سر جھکا لیا اور گہری سوچوں میں گم ہو گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اب تو پورے سال نحوست چھائی رہے گی۔۔۔اس کے کاروبار میں بھی نقصان کا اندیشہ ہے، مزید وہ اپنا رعب و دبدبہ اور پرہیز گار شخص کی حیثیت سے اپنی شناخت بھی گنوا بیٹھے گا۔ وہ کہیں آجا نہیں سکتا۔لوگ اسے دیکھ کر طعنہ ماریں گے کہ یہ وہی شخص ہے جس کی دعوت بھکاریوں نے ٹھکرا دی تھی۔

اچانک وہ سوچوں کے حصار سے باہر نکلا اور اپنے نوکر سے سرگوشی کے انداز میں کہنے لگا

’’جاؤ اور انھیں بتادو کے تمھاری شرطیں منظور ہیں۔ فوراً جاؤ،میری کار لے جاؤ،افطار کے اعلان میں اب صرف آدھا گھنٹہ بچاہے۔‘‘

نوکر تقریباً بھاگتا ہوا گیا۔

اس شخص کو اب بھی کَل نہیں پڑ رہی تھی، اسے خدشہ تھا کہ نوکر کہیں خالی ہاتھ ہی نہ لوٹ آئے۔اس لیے اپنے بیٹے کو بلایا اور اس سے کہا

’’یہ نوکر بے وقوف ہے۔۔۔۔اس کے بس کا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔تم خود جاؤ اور سارے بھکاریوں کو لے کر آؤ۔۔۔۔‘‘

صاحبزادہ ’سیدہ زینب‘مسجد گیا، وہاں دیکھا تو سارے بھکاری ایک جگہ جمع ہیں،وہاںایک ٹانگ سے معذور محمد نکلہ اور اپاہج و خارش زدہ ابورابیہ بھی تھا۔

صاحبزادہ انھیں دیکھتے ہی اپنے باپ کے سے لہجے میں کہنے لگا

’’اب تمھیں کس چیز کا انتظار ہے ؟! میرے والد صاحب نے کھانے کے ساتھ ساتھ اپنی تجوریاں تم پرکھول دی ہیں اور ہر شخص کو پانچ قرش بھی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

یہ سنتے ہی ایک بھکاری بلند آواز میں بولا

’’ہاں۔۔۔ہاں۔۔۔چلو، یہ بہت اچھا موقع ہے اور نعمت خداوندی ہے۔‘‘

دفعتاً چھوٹے پہیے والے لکڑی کے تختے پر بیٹھے ایک ٹانگ سے معذور محمدنکلہ نے اپنی گردن اونچی کرتے ہوئے کہا

’’نہیں۔۔۔ہم اسی وقت جائیں گے جب ہمارے سارے مطالبات اور شرطیں مانی جائیں گی۔‘‘

اپاہج اور بغیر بازو والے ابو رابیہ نے اپنا سرہلاتے ہوئے ہانک لگائی

’’ہمیں ایک جٹ رہنا چاہیے۔۔۔ہماری ایکتا زندہ باد!‘‘

دوسرے بھکاریوں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور زور زور سے دہرانے لگے

’’ہماری ایکتا زندہ باد۔۔۔۔ہماری ایکتا زندہ باد!!‘‘

ایک اور مفلوج و خارش زدہ بھکاری نے ہانک لگائی

’’مال داروں کے مال سے ہم اپنا حق مانگ رہے ہیں۔۔۔ مال داروں کو بھی ہماری اتنی ہی ضرورت ہے جتنی ہمیں مال داروں کی۔۔۔ اگر بھکاری نہ ہوتے تو سخاوت کرنے والے بھی نہ ہوتے، لہٰذا تم اپنی مانگوں پر ڈٹے رہو۔۔۔تمھاری مانگیں جائز ہیں۔‘‘

اس کی بات سن کر بھکاریوں نے بھاری اور سمع خراش آوازوں میںنعرہ لگانا شروع کردیا

’’ہماری مانگیں جائز ہیں۔۔۔انصاف زندہ باد!!‘‘

یہ ہنگامہ دیکھ کر دین دار شخص کا صاحبزادہ ڈرسا گیا۔۔۔ بھکاریوں کے بدن سے پھوٹنے والی بدبو سے اسے زکام ہوگیا اور اس کا جی متلانے لگا۔چنانچہ وہ وہاں سے نکل کر چند قدم چلا۔۔۔وہ ڈرا،سہما اور ناکردہ غلطی کے احساس میں مبتلا تھا۔۔۔ابھی وہ چند قدم ہی چلا تھا کہ دین دار شخص کا سکریٹری دوڑا دوڑا آیا اور ان بھکاریوں سے کہنے لگا

’’آؤ۔۔۔ جناب نے تمھارے سارے مطالبات مان لیے ہیں، اب ہر شخص کو منھ مانگی مراد ملے گی۔‘‘

یہ سنتے ہی خوشی کے مارے بھکاریوں کی آوازیں بلند ہوگئیں اور وہ نعرہ لگانے لگے

’’مردم نواز آقا زندہ باد۔۔۔بندہ پرور زندہ باد۔۔۔اے نیکی کرنے والے اللہ تعالیٰ تمھارا گھر آباد رکھے!!۔۔۔۔

پھر بھکاریوں نے ایک ساتھ گرج دار آواز میں نعرہ لگایا

’’ہماری یونیٹی زندہ باد۔۔۔ہماری ایکتا امر رہے!!‘‘

 

Dr. Md. Qutbuddin

Associate Professor of Arabic

Centre of Arabic and African Studies

School of Language, Literature and Culture Studies (New Building)

Jawaharlal Nehru University

New Delhi- 11006

25/7/23

آزادی کے بعد ہندوستانی سنیما کے 75 سال: واثق الخیر


سنیما، پردۂ سیمیں پر متحرک تصاویر کا ایک سلسلہ ہے۔ جو کسی واقعے یا کہانی کو بیان کرتا ہے۔ ٹامس ایڈیسن (Thomas Edison) نے 1889 میں ایک مشین ایجاد کی جس سے متحرک تصاویر دیکھی جاسکتی تھیں۔ 1894 میں دیوار کے ساتھ پردہ لگا کر اس پر متحرک تصاویر دیکھی گئیں۔ یہ سلسلہ مقبول ہوا تو اوپین ائیر تھیٹروں اور بڑے ہالوں میں اسکرین پر متحرک تصاویر دکھائی جانے لگیں۔ یہ خاموش تصاویر کسی مربوط کہانی پر مشتمل نہیں ہوتی تھیں اور ان کے ساتھ آواز شامل نہیں ہوتی تھی۔ آہستہ آہستہ مربوط کہانیاں شامل ہونے لگیں۔ 1903 میں The great train robbery نامی فلم ایک مکمل کہانی کی صورت میں پیش کی گئی۔ دنیا کی پہلی بولتی فلم 1926 میں بنائی گئی۔

ہندوستانی سنیما 100 سال سے زیادہ پرانا ہے۔ ان سو سے زیادہ برسوں میں بہت سے لوگوں نے کئی طریقوں سے ہندوستانی سنیما میں اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ تاہم اگر اس سفر کے آغاز کا سہرا دادا صاحب پھالکے اور اردشیر ایرانی کو دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ تاریخ کی نظر میں پہلی ہندوستانی فلم بنانے کا کریڈیٹ دادا صاحب پھالکے کو 3مئی 1913کو ’راجہ ہریش چندر‘ کی وجہ سے ملا، جبکہ اس دور میں دوسرے ہدایت کار بھی فلم بنارہے تھے۔ راجہ ہریش چندر ایک خاموش اور سیاہ و سفید (Black & White)  فلم تھی۔ اس وقت سنیما بولتا نہیں تھا۔ بولنے والا سنیما 14مارچ 1931 میں اردشیر ایرانی کی ’عالم آرا‘ سے بنا۔ 1931 میں ’عالم آرا‘ سے فلمی جگت میں کرانتی آئی۔ فلمیں بولنے لگیں۔ اس کے ہدایت کار ایمپیریل فلم کمپنی کے مالک اردشیر ایرانی تھے۔ 1929 میں انھوں نے ایک بولتی امریکن فلم دیکھی جس کا نام تھا ’میلوڈی آف لائف‘ جو ان کے لیے مثال بنی۔ وہ اپنے دو دوستوں کے ساتھ امریکہ گئے تین مہینے بولتی فلم کی ٹریننگ لی۔ 1930 میں فلم ’عالم آرا‘ کی شوٹنگ شروع کی۔ اس فلم میں اس وقت کے مشہور اسٹار پرتھوی راج کپور، ماسٹر جے رام ویتھل، زبیدہ اور ایم ڈبلیو خان نے کام کیا۔ ہندوستانی سنیما میں ’دے دے خدا کے نام پر بندے‘ پہلا ہندوستانی سنیما کا گیت رہا۔ ساتھ ہی ساتھ اردشیر ایرانی نے ہندوستانی سنیما میں رنگ بھرنے کا کام بھی کیا۔ ہندوستانی سنیما کو 1937 میں پہلی رنگین فلم کا تحفہ دیا گیا تھا۔ فلم کا نام ’کسان کنیا‘ تھا۔ اپنے آپ کو 1913 سے 1931 تک لے کے جائیے اور اس جادو پر حیرت کیجیے جب چلتی پھرتی فلم بولنے لگی۔ بولنے ہی نہیں بلکہ گانے بھی لگی۔  ہندوستانی سنیما نے 1913 سے 2023 تک کئی رنگ بدلے، جہاں ایک طرف فلمیں بنانے کا انداز بدلا، وہیں دوسری طرف فلمیں دیکھنے کا انداز بھی بدلا۔ ہندوستانی سنیما کے اس سفر میں نہ صرف فلم سازوں نے بلکہ ناظرین نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

جب ہندوستان آزاد ہوا تو اداکاری کی دنیا پر دلیپ کمار، دیو آنند اور راج کپور کا اسٹارڈم ابھر رہا تھا۔ وی شانتارام، گرو دت، راج کپور، بمل رائے، بی آر چوپڑا جیسے فلمساز سماجی عزم کے ساتھ فلمیں بنا رہے تھے۔ اس وقت سنیما ناظرین کو آگاہ کرنے کا بہترین ذریعہ تھا کیونکہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو کی اتنی رسائی نہیں تھی۔ سنیما کے جادوئی اثر نے ناظرین پر گہرا اثر ڈالا۔ پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائی کو ہم ہندوستانی سنیما کا سنہرا دور مان سکتے ہیں اگرچہ فلمیں تکنیکی طور پر اس وقت کمزور تھیں لیکن کہانی، اداکاری اور گیت و موسیقی پہلے سے زیادہ بہتر تھی۔ بہت سے فلمساز اپنی فلموں کے ذریعے عوام میں تفریح کے ساتھ شعور بیدار کرنے کا کام بھی کر رہے تھے۔ شری 420، کاغذ کے پھول، مدھومتی، مغل اعظم، مدر انڈیا، پیاسا، حقیقت، نیچا نگر، چلتی کا نام گاڑی جیسی ثقافتی اور کلاسیکی فلمیں اس عرصے میں تیار کی گئیں۔ ہندوستانی سنیما سیاہ و سفید کی جگہ رنگین بھی اسی دور میں ہوا۔ اس دور میں فلموں کا کاروبار خوب پھلا پھولا اور بہت سے نئے سنیما ہال بنائے گئے۔

سینما تفریح کا سستا ذریعہ تھا۔ ایک ہی فلم ایک ہی شہر میں کئی بار سنیما ہالوں میں لگائی جاتی تھی۔ ستر کی دہائی کے اواخر اور اسّی کی دہائی کے اوائل سے تجارتی سنیما معیار کے لحاظ سے پستی کی طرف جا پہنچا۔ ان بیس بائس برسوں میں بننے والی زیادہ تر فلمیں متوازی اور سطحی تھیں۔ کہانی اور اداکاری کے نام پر ایکشن اور اشتعال انگیز مناظر کی بھرمار تھی۔ وی سی آر سنیما ہال کے سامنے ایک چیلنج بن کر ابھرا۔ امیر طبقے نے گھر بیٹھے وی سی آر پر سنیما دیکھنا شروع کیا۔ اس لیے اس طبقے کی پسند کے مطابق سنیما بننے لگے۔ اس دوران وی سی آر کے طوفان کی وجہ سے کئی سنیما ہال بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے اور فلم ڈسٹری بیوٹر معاشی مشکلات کا سامنا کرنے لگے۔

سنیما نے ستر اور اسّی کے دور میں ایک نئی شناخت بنائی۔ شیام بینیگل، مرنال سین، ستیہ جیت رے، منی کول، گووند نہلانی، کیتن مہتا، گوتم گھوش جیسے فلمسازوں نے تجارتی فلموں کے علاوہ مختلف قسم کی فلمیں بنا کر عالمی سنیما میں ہندوستان کا نام بلند کیا۔ بھلے ہی ان کی فلمیں پورے ہندوستان میں ریلیز نہ ہوپاتی ہوں لیکن یہ فلمیں فلم سوسائٹی کے ذریعے ناظرین تک پہنچتی رہیں اور ناظرین میں سینما دیکھنے کی سمجھ کو بیدار کرتی رہیں۔ یہ عمل گرچہ سست رہا لیکن آج اس کا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہندی سنیما میں علاقائی فلموں نے بھی حصہ لینا شروع کیا۔ بنگالی، مراٹھی، ملیالم، آسامی اور دیگر زبانوں کے فلمسازوں نے بھی یادگار فلمیں دیں۔ لیکن ہندی سنیما نے اپنی پہچان کو باقی رکھا، یہ ضرور ہوا کہ اس میں علاقائی زبانیں داخل ہونی شروع ہوئیں جس کی وجہ سے ناظرین ہندی سنیما سے مزید جڑتے چلے گئے۔ 1947 سے 2000 تک ہندی سنیما کا جھنڈا بلند ہوتا رہا۔ اس دور میں ہندی سنیما میں بہترین ہدایت کار، فنکار، تکنیکی ماہرین آئے اور یادگار فلمیں دیں۔

نئی صدی شروع ہوتے ہی ہندوستانی سنیما جو اپنے کانٹینٹ کی وجہ سے زوال کی طرف جا رہا تھا، دوبارہ عروج پر پہنچ گیا۔ نئی صدی کے آغاز کو دو دہائی گزر چکے ہیں اور ان دو دہائیوں میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ انٹرنیٹ نے دنیا میں انقلاب برپا کر دیا اور چیزوں کو آسان بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ کچھ روایات وقت کے ساتھ ساتھ دم توڑ چکی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی تبدیلی کی وجہ سے بہت سی چیزیں اپنی اہمیت کھو چکی ہیں۔ لیکن ان دو دہائیوں میں سینما زیادہ ایڈوانس ہو گیا ہے۔ ہندوستان میں جب ٹی وی آیا تو سینما کو ختم تصور کیا جانے لگا تھا لیکن سینما نہ صرف مضبوطی سے کھڑا رہا بلکہ آج ٹی وی کے لیے ایک مضبوط بیساکھی ثابت ہوا۔ یہاں تک کہ جب او ٹی ٹی پلیٹ فارم وجود میں آیا تو سنیما کے سامنے ایک چیلنج کھڑا تھا، لیکن اس میڈیم کو بھی سنیما کی ضرورت ہے۔ دراصل سنیما، ٹی وی سیریلز اور ویب سیریز میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ ویب سیریز بھی سنیما کا ہی ایک میڈیم ہے جو ایک طویل فارمیٹ میں ہوتا ہے۔

انٹرنیٹ نے سنیما کو نئی بلندیاں دیں۔ فلموں کو معاشی طور پر مضبوط کیا۔ آج یوٹیوب کے ذریعے 50 سال پرانی فلموں سے بھی پیسہ کمایا جا رہا ہے۔ برسوں پہلے سنیما ہال فلمیں دیکھنے کا واحد ذریعہ تھے۔ ٹیلی ویژن میں فلموں پر اتنا زور نہیں تھا، لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں سنیما دیکھنے کے کئی میڈیم نے جنم لیا ہے۔ موبائل ایک شاندار انقلاب لایا۔ ساڑھے پانچ انچ کے اس ہینڈ سیٹ میں پورا سنیما ہال موجود ہے۔ انٹرنیٹ نے سنیما کو ذاتی بنا دیا ہے۔ ٹی وی پر جو بھی فلم دکھائی جا رہی ہے وہی آپ کو دیکھنی ہوتی ہے لیکن انٹرنیٹ کی وجہ سے آپ اپنی پسند کے مالک بن گئے ہیں۔ آپ جو بھی فلم دیکھنا چاہتے ہیں دیکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹی وی کی مقبولیت کم ہو رہی ہے اور انٹرنیٹ پر دستیاب سائٹس کی ڈیمانڈبڑھ رہی ہے۔ ویب سیریز سامنے آئی ہیں۔ یہ بھی سنیما کی ایک شکل ہے۔ سنیما کو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ پروڈیوسر نے اپنے ہدف کے ناظرین کے مطابق فلمیں، ٹی وی سیریل اور ویب سیریز بنانا شروع کر دی ہیں۔ اب سینما ہمارے لیے مختلف شکلوں میں دستیاب ہے۔

اگر ہم دو دہائی پہلے کے سینما پر نظر ڈالیں تو سینما فارمولوں میں بندھا ہوا تھا۔ پانچ فائٹ سین، پانچ گانے، پانچ کامیڈی اور پانچ جذباتی مناظر اور فلم تیار، لیکن آج ایسی فلمیں دیکھنے والے بہت کم ناظرین ہیں۔ اب اگر فارمولا فلمیں بن رہی ہیں تو اس میں ناظرین کے لیے بہت کچھ نیا مواد دینا ہوتا ہے۔ اگر دو دہائیوں میں سنیما کے موضوعات اور ہیئت میں بہتری آئی ہے تو اس کی بڑی وجہ انٹرنیٹ ہے۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے شائقین دنیا بھر کی فلموں سے باخبر ہو چکے ہیں۔ جیسے ہی ناظرین سمجھدار ہوئے، ہندوستانی سنیما بھی سمجھدار ہوگیا۔ میرا ماننا ہے کہ اگر ہندوستانی سنیما نے پچھلی دو دہائیوں میں بہتری کی راہ لی ہے تو اس کی وجہ ناظرین کی سمجھ بوجھ اور انٹرنیٹ کا اہم کردار ہے۔ اگر دیکھا جائے تو متوازی اور کمرشیل سنیما کے درمیان کی لکیر دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔ عام سینما برسوں پہلے بنتا تھا لیکن ان فلموں کے شو صرف بڑے شہروں میں دکھائے جاتے تھے۔ فلم سوسائٹیاں اپنے شوز کا انعقاد چھوٹے شہروں میں کرتی تھیں۔ لیکن اب ہر قسم کی فلموں کو سنیما ہال مل رہے ہیں کیونکہ ناظرین ان فلموں کو دستیاب ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مواد پر مبنی فلموں کا بازار بڑھ رہا ہے۔

آج ناظرین ستاروں کی بجائے مواد کو اہمیت دینے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹار نے بھی مواد کے ساتھ فلمیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ انھیں یہ بھی پتہ چل گیا ہے کہ اگر وہ کچھ نیا نہیں دیں گے تو شائقین ان کی فلم بھی دیکھنے نہیں آئیں گے۔ عامر خان دنگل، تھری ایڈیٹس، پی کے جیسی فلمیں کرتے ہیں۔ سلمان خان بجرنگی بھائی جان کرتے ہیں یا سلطان؟ اکشے کمار ٹوائلٹ ایک پریم کتھا اور پیڈ مین جیسی فلمیں کرتے ہیں۔ دو دہائی پہلے اگر کوئی ان فلموں کا سکرپٹ لے کر ان ستاروں تک پہنچتا تو وہ انھیں فوراً باہر کا راستہ دکھا دیتے۔ چنانچہ نئی صدی میں سینما میں جو بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ان میں سے ایک یہ تھی کہ اسٹار کی فلموں میں بھی کہانی، اسکرپٹ اور پیغامات کو اہم سمجھا جاتا تھا۔ بڑے اسٹار نے یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لی کہ اگر اسے زندہ رہنا ہے تو سامعین کو کچھ الگ اور منفرد دینا ہوگا۔

اس وقت ہر کوئی روزانہ فلمیں دیکھتا ہے۔ چاہے یہ ٹک ٹاک پر آنے والی 15 سیکنڈ کی فلم ہو۔ مختصر فلمیں ہوں، ٹی وی پر دکھائی جانے والی فلمیں، او ٹی ٹی پر دکھائی جانے والی فلمیں، ویب سیریز، سنیما ہال میں دکھائی جانے والی فلمیں، یوٹیوب پر دستیاب فلمیں، مختلف کمپنیوں کی لائبریریوں میں دستیاب فلمیں، ہالی ووڈ کی فلمیں، عالمی فلمیں ہوں۔ اگر آپ اس سے بھی مطمئن نہیں ہیں تو پھر بھی Tiktok جیسی ایپس موجود ہیں جہاں لوگ ویڈیو بنا کر پوسٹ کر رہے ہیں اور کچھ بہترین کام کر رہے ہیں۔ کہنے کا مطلب ہے کہ فلمیں چاروں طرف دستیاب ہیں۔ جس کی وجہ سے ناظرین سنیما سے بہت زیادہ امیدیں لگائے ہوئے ہیں۔

اگر ہم کمرشل سینما کی بات کریں تو گزشتہ دو دہائیوں میں ایسا سینما بنایا گیا ہے جو پہلے کبھی نہیں بنا تھا۔ آنند کمار جیسے عام نظر آنے والے انسان پر بائیوپک بنی۔ بیس سال پہلے اتنے عام آدمی پر فلم بنانے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہ نئی صدی کا سینما ہے۔ ہمیں ایک سے زیادہ بایوپک دیکھنے کو ملی ہیں۔ سربجیت، نیتا جی سبھاش چندر بوس دی فارگوٹن ہیرو، پان سنگھ تومر، مانجھی دی ماؤنٹین مین، نرجا، رنگ رسیا، پیڈمین اور علی گڑھ آج کے دور کی فلمیں ہیں۔ آج کے دور میں کھیل اور کھلاڑی بھی سینما میں داخل ہو چکے ہیں اور شائقین نے انھیں  ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ میری کوم، ایم ایس دھونی دی ان ٹولڈ اسٹوریز، بُدھیا سنگھ بورن ٹو رن، بھاگ ملکھا بھاگ، چک دے انڈیا، دنگل اور 83 جیسی کھیلوں پر مبنی فلموں نے شائقین کو مسحور کیا ہے۔

اس صدی سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہیروئن پر مبنی فلمیں نہیں چلیں گی۔ اگر ہیروئن پر مبنی فلمیں بنتی بھی تو وہ انتقامی موضوع پر فلمیں ہوتیں۔ مگر یہ تصور ٹوٹنے لگا۔ تنو ویڈز منو ریٹرنز اور رازی جیسی ہیروئن پر مبنی فلمیں بھی سو کروڑ کلب میں شامل ہونے لگیں۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں نے ان فلموں کو قبول کرنا شروع کر دیا۔ دپیکا پدوکون، کرینہ کپور، پرینکا چوپڑا، تاپسی پنو اور عالیہ بھٹ نے بھی اپنے طور پر کامیاب فلمیں دینا شروع کر دیں۔ نرجا، کہانی، تمھاری سولو، عشقیہ، بیگم جان، نو وَن کیلڈ جسیکا، مردانی، ویر دی ویڈنگ، سات خون معاف، گنگو بائی کاٹھیاواڑی، بدلہ، پنک جیسی فلمیں ریلیز ہوئیں۔ گزشتہ بیسں بائس برسوں میں راجکمار ہیرانی جیسے فلمساز نے سب سے زیادہ کامیاب فلمیں دیں۔ منا بھائی سیریز کی دو فلمیں، پی کے اور تھری ایڈیٹس کسی بھی زاویے سے کمرشل فلمیں نہیں لگتی ہیں۔ رشی کیش مکھرجی، گلزار اور باسو چٹرجی جس طرح کی فلمیں بنا رہے تھے راج کمار ہیرانی نے اسی سلسلے کو آگے بڑھایا اور کامیابی حاصل کی۔ تفریح کے مناظر میں ہیرانی نے سماج کے تلخ حقائق کو ناظرین کے سامنے پیش کیا۔ ناظرین نے اسے قبول کیا اور ظاہر کیا کہ وہ ایسی فلموں کے لیے تیار ہیں۔

نئی صدی میں فلموں کی پیشکش میں بھی کافی تبدیلی دیکھی گئی۔ کہانیاں سنانے کا انداز بدل گیا ہے۔ جب ہم انوراگ کشیپ کی دیو ڈی، انوراگ باسو کی برفی، نیرج پانڈے کی اسپیشل 26، سری رام راگھون کی اندھادھن دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تکنیکی صلاحیت کی وجہ سے کہانی کو بالکل مختلف انداز میں پیش کرتے ہیں۔ رنگوں کا تال میل، سنیماٹوگرافی، ایڈیٹنگ، ساؤنڈ کا طریقہ بہت بدل گیا ہے۔ اگرچہ مواد اب بھی ٹیکنالوجی پر بھاری ہے اور یہ ہمیشہ ہونا چاہیے کیونکہ مواد کے بغیر سنیما کی روح مر جاتی ہے۔

ہندی اور علاقائی زبان کے سنیما کے درمیان فاصلہ بھی کم ہوا ہے۔ آج ساؤتھ انڈین اسٹار فلمیں جیسے پربھاش، اَلو ارجن، یش، رام چرن تیجا، جونیئر این ٹی آر جیسے جنوبی ہند کے ستارے کی فلم باہوبلی، کے جی ایف، آر آر آر، پشپا کے طور پر پورے ہندوستان میں کامیابی ملتی ہے۔ ان فلموں کی ریلیز ہندی فلموں کی طرح ہوتی ہے۔ ملٹی پلیکس کا بھی اہم کردار ہے۔ ملٹی پلیکس کی متعدد اسکرینوں کی وجہ سے ہندی بولنے والے علاقوں میں دیگر زبانوں کی قابل ذکر فلمیں بھی دکھائی جارہی ہیں اور اس کی وجہ سے اچھی فلموں کی تلاش میں بھٹکنے والے شائقین کی پیاس کسی حد تک بجھ جاتی ہے۔

آج کا سنیما حقیقت کے قریب تر ہے۔ ناظرین اب نامکمل کرداروں کو زیادہ پسند کرنے لگے ہیں۔ فلمیں روایتی ناظرین اور نئے شائقین میں توازن رکھ کر بنائی جا رہی ہیں۔ ٹی وی روایتی ناظرین کے لیے پروگرام بنا رہا ہے اور ویب سیریز نئے شائقین کو راغب کر رہی ہیں۔ فنکاروں اور تکنیکی ماہرین کے لیے مواقع بڑھ گئے ہیں۔ نئے لکھنے والوں کو بھی مواقع مل رہے ہیں۔ اسّی اور نوے کی دہائی ہندوستانی سنیما کے لحاظ سے بہت اچھا تصور نہیں کیا جاتا ہے۔ آج ہمیں اس دور سے آزادی ملی ہے۔ وکی ڈونر، مدراس کیفے، آئی ایم، انگلش ونگلش، پان سنگھ تومر، گینگ آف واسے پور، علی گڑھ، برفی، لنچ باکس، کوئین، حیدر، پیکو، پنک، مسان، این ایچ 10، اڑان، نیل بٹے سناٹا، نیوٹن، مکتی بھون ہمیں آنکھیں دیکھی جیسی بہترین فلمیں دیکھنے کو ملیں۔ ان کے موضوعات اتنے منفرد تھے کہ 20 سال پہلے کوئی ان پر فلم بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ہندوستانی سنیما نے چین سمیت کئی ممالک میں اچھا بزنس کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔


Dr. Wasiqul Khair

Flat No. 302, Third Floor

Plot No. R 213/1, Sir Syed Road

Joga Bai Extention, Jamia Nagar

Delhi-110025 

24/7/23

تعلیمی مسائل کی سماجی اساس: محمد شاداب عالم

 

تعلیم انسان کی ہمہ جہت ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے کیونکہ تعلیم ہی ایک ایسی شے ہے جس سے انسانی فلاح و بہودی ممکن ہے۔ دنیا میں کوئی بھی ایسا ملک نہیں جس نے تعلیم کی ترقی کے بغیر منازل طے کیے ہوں تحقیقات اور اعدادوشمار بتلاتے ہیں کہ دنیا میں جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں ان میں سے بیشتر ممالک نہایت ہی تعلیم یافتہ ہیں۔ حالیہ Human Development Index 2022 یہ بتاتی ہے کہ جن ممالک کی شرح خواندگی دنیا میں بہتر ہے ان کی زندگی کا معیار بھی بلند ہے۔ ان کی سماجی ، سیاسی معاشی حالت ان ملکوں کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے جن کی شرح خواندگی مناسب نہیں ہے۔ معیاری تعلیم انسانی زندگی کو سنوارنے اور بہتر سے بہتر بنانے میں کافی اہم رول ادا کرتی ہے۔ اچھی تعلیم سماج میں معاشی مساوات اور سماجی ہم آہنگی کو قائم و دائم رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ متوازن اور صحت مند معاشرے کے فروغ کے لیے اچھی تعلیم وتربیت کا ہونا نہایت ضروری ہے۔

ابتدا سے ہی انسانو ںکو طرح طرح کے مسائل کا سامنا رہا ہے وہ قسم قسم کی مشکلات سے دو چار ہیں۔ مختلف شعبے سے جڑے ہوئے لوگوں کے مسائل مختلف ہوا کرتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر کوئی شخص بینک سے جڑا ہے توممکن ہے اسے بینک کو اچھی طرح چلانے میں بسا اوقات مالی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے۔اسی طرح اگر کوئی انسان محکمہ سراغ رسانی یا پولیس یا پھر محکمہ دفاع سے جڑا ہوا ہے تو اسے دفاعی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔غرض جو انسان جس شعبے سے جڑا ہوتا ہے عین ممکن ہے کہ اسے اس شعبے سے متعلق امور کی انجام دہی میں کچھ نہ کچھ مسائل کا سامنا ہو جو کہ ایک فطری بات ہے۔ٹھیک اسی طرح اگر کوئی انسان شعبہ تعلیم و تربیت سے منسلک ہے تو بہت ممکن ہے کہ اسے تعلیمی امور کی انجام دہی میں تعلیمی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے۔

یہ بات الگ ہے کہ دشواریوں کی سطح کیا ہے اس حساب سے دشواریوں کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے لیکن یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ ہر انسان کو اپنے اپنے میدانوں میں امور کی انجام دہی کے وقت کچھ نہ کچھ مشکلات اور مسائل پیش آتے ہیں جن کا ادراک یا تدراک ناگزیر ہو جا تا ہے۔ پیچیدہ مسائل بسا اوقات سرگرمی میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔

یہاں پرتعلیمی دشواریوں کا سماجی تناظر میں جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس مضمون کا اہم مقصد تعلیمی دشواریوں کا سماجی تناظر میں تجزیہ ہے اس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ تعلیمی دشواریوں کاتعلق سماج سے کس طرح سے ہے۔ تعلیمی دشواریوں کی سماجی اساس سماج کی وجہ سے پیش آنے والی تعلیمی دشواریاں ہیں۔

تعلیمی مسائل

تعلیمی مسائل سے مرادطلبا و طالبات کوتعلیمی میدان میں سماج کی وجہ سے ہونے والی دقت یا پریشانی ہے۔

تعلیمی مسائل کی وجوہات

 تعلیمی مسائل کی بہت ساری ممکنہ وجوہات یا عوامل ہو سکتے ہیں یہاں پر چند کو قلم بند کیا جا تا ہے۔

(1)   سماجی محرک(Social Factors of Academic Diffculties)  سماجی محرکات طلبا و طالبات کی تعلیمی سر گرمیوں کو بڑی حد تک متاثر کر سکتی ہیں یہ وہ محرکات ہیں جوطلبا و طالبات یہاں تک کہ اساتذہ کے درس و تدریس کو بھی متاثر کر سکتے ہیں تعلیمی میدان میں بڑھتے ہوئے صنف، ذات، ثقافت اور مذہب کی بنیاد پر کیے جانے والے منفی امتیازات کو سماجی محرکات کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔

(2)   سیاسی وجوہات (Policital Factors of Academic Difficulties)   حکومتیں اپنے شہریوں کو خواندہ یعنی تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتی ہیں لیکن بسا اوقات حکومت اپنے شہریوں کے لیے ایسے قوانین وضع کرتی ہے جوطلبا و طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں کومنفی انداز میں متاثر کرتی ہیں قدیم زمانے میں غلاموں اور نچلے طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پڑھنے لکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ اسی طرح امریکہ میں ایسے قوانین بنائے گئے جس کے تحت کالے اور گورے لوگوں کے لیے اسکول (Seprated School System) بنائے گئے ۔ایسے قوانین تعلیمی میدان میں بچوں کے لیے دشواریاں پیدا کرتے ہیں۔

3      معاشی محرکات(Eocnomic Factors) معاشی طور پر کمزور طبقہ کے لیے اپنی تعلیم کو جاری رکھنا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا سمجھا جا تا ہے۔غیرمستحکم معاشی صورت حال سے بچوں کی تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ گاؤں و دیہات یعنی دیہی علاقوں میں زیادہ تر بچے فصلوں کی کٹائی اور بوائی کے وقت اسکول نہیں جاتے ہیں۔ ہندوستان کے دیہی علاقوں میں اس کا مشاہدہ عام ہے۔ اچھی تعلیم وتربیت کے لیے مناسب مقدار میں سرمایے کا ہونا نہایت ضروری ہے۔

4      ماحولیاتی محرکات(Envorinmental Factors of Academic Difficulties) مؤثر تدریسی عمل کے لیے پرسکون ماحول کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ مخدوش حالات اور غیر موافق صورت حال با مقصد اور مؤثر تدریسی سرگرمی کے لیے مانع ہے۔ بہتر تعلیم وتربیت کے لیے سازگار ماحول کا ہونا نہایت ضروری ہے۔غیر مناسب ماحول (Adverse Environment) طلبا و طالبات کی تدریسی واکتسابی سرگرمی(Teaching Learning Activities)  کومنفی انداز میں متاثر کرتا ہے۔ جنگ زدہ علاقوں میں یا پھر مخدوش علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کو انجام دینا آسان نہیں ہوتا ہے۔ نامساعد حالات اور ناساز موسم میں بھی تدریسی عمل عام معمولات کے حساب سے نہیں چل سکتا ہے۔ پہاڑی علاقوں اور بر فیلے علاقوں میں سطحی علاقوں کے مقابلے تعلیمی سرگرمیاں قدرے دشوار کن ہوتی ہیں۔اسکولی ماحول اور اسکول کی تعلیمی سرگرمیاں ،طلبا واسا تذہ کا شرح تناسب (Pupil Teacher Ratio)اسکولی عمارت، اساتذہ کا تدریسی طریقہ کار اور تدریسی اشیا اور کا ساز و سامان بھی ماحولیاتی عوامل میں شامل ہیں۔

5      حیا تیاتی مسائل(Biological Factors of Academic Difficulties) ایک عام بچہ ایک خاص بچے سے منفر دہوتا ہے۔ان کے پڑھنے لکھنے کی رفتار بھی جدا گانہ ہوتی ہے۔ان کے پڑھنے لکھنے کے طور طریقے بھی مختلف ہوتے ہیں۔

(3)   مخصوص ضروریات کے حامل بچوں کی ضروریات (Children with special needs) عام بچوں کی ضروریات سے مختلف ہوتی ہیں۔فطری طور پر گونگے اور اندھے بچوں کی اکتسابی صلاحیت عام بچوں سے مختلف ہوتی ہے غرض حیاتیاتی محرکات بچوں کی تعلیم کو بڑی حد تک متاثر کرسکتی ہیں۔

6      تعلیمی دشواریوں کی نفسیاتی وجوہات (Psychological Factors of Academic Difficulties) نفسیاتی وجوہات بھی طلبا و طالبات کی تدریسی واکتسابی سرگرمیوں کو بڑی حد تک متاثر کرسکتی ہیں۔ دنیا میں بہت سارے ایسے بچے بھی ہیں جو نفسیاتی مریض ہیں ایسے بچوں کو نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے۔ تعلیمی دشواریوں کے بہت سارے اسباب ہو سکتے ہیں لیکن یہاں پر تفصیل سے صرف اور صرف تعلیمی دشواریوں کا سماجی اساس کے تناظر میں تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

تعلیم وتربیت کی ترویج کے لیے معاشرے کا تعاون نہایت ضروری ہے۔ معاشرے نے تعلیم وتربیت کی اشاعت وترویج میں اپنا اہم رول ادا کیا ہے۔لیکن بسا اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ کچھ عناصر نے تعلیم کی ترویج و اشاعت میں رخنہ ڈالا ہے۔ تعلیم کی فروغ میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔مثال کے طور پر قدیم زمانے کے سماج کو لے لیتے ہیں وہاں پر سماج میں ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ملتا ہے جو کمزور اور پسماندہ طبقوں کو صدیوں تک تعلیم سے محروم رکھنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھا۔ آزادی سے قبل ہندوستان میں تعلیم حاصل کرنے کے یکساں مواقع حاصل نہیں تھے۔

عورتوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے کے یکساں مواقع حاصل نہیں تھے۔ ان کے لیے اسکول یا تعلیمی مراکز نہیں ہوا کرتے تھے۔ ودیاساگر، را مابائی اور فاطمہ شیخ جیسی عورتوں کی جد و جہد کا نتیجہ ہے کہ آج ہندوستان میں خواتین بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ ہیں۔

ہندوستان میں شمولیاتی، مفت اور لازمی تعلیم کا تصور غالباً پہلی بار قومی تعلیمی پالیسی (National Policy of Education 1968)میں پیش کیا گیا۔

ہندوستان کے طرز پر اور بھی دوسرے ممالک میں سیاہ فام لوگوں کو تعلیم وتربیت سے دور رکھا گیا۔سیاہ فام لوگوں کو بھی سفید فام کی اکثریت نے صدیوں تک تعلیم سے محروم رکھا۔

امریکی شہری حقوق کی تحریک جسےCivil American Rights Moment کہا جا تا ہے۔یہ تحریک سیاہ فام لوگوں کے حقوق کی بازیابی کے لیے چلائی جانے والی ایک کامیاب اور طاقتور تحریک مانی جاتی ہے۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد (Institutional Racial Segregation) یعنی اداراتی سطح پر سفید فام لوگوں کا سیاہ فام لوگوں کے ساتھ رنگ ونسل کی بنیاد پرسماجی امتیازات ، سماجی علیحدگی اور حق رائے دہی سے محرومی کا خاتمہ تھا۔

امریکی شہری حقوق کی تحریک کا ہی نتیجہ ہوا کہ کل تک جو سیاہ فام لوگوں کے لیے اسکول اور کالج کے دروازے بند پڑے تھے وہ کھل گئے۔ سیاہ فام لوگوں تک تعلیم کی رسائی ہونے لگی بڑی تعداد میں سیاہ فام لوگ تعلیم یافتہ ہونے لگے۔ کچھ سماجی رسوم ورواج اور اداراتی قوانین بھی تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں فرانس نے ایک بل پاس کیا جس کی رو سے طلبا و طالبات مذہبی لبادے میں کسی بھی تعلیمی مراکز میں داخل نہیں ہو سکتے ہے۔ اس طرح کے قوانین کی وجہ سے روایت پسند طلبا و طالبات کا ایک بڑا طبقہ تعلیم سے محروم ہوسکتا ہے۔ دنیا میں بہت ساری قومیں ایسی ہیں جنھیں اپنے شعائر اپنی تہذیب و ثقافت حد درجہ عزیز ہے۔ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی ثقافت سے مصالحت کرنے کو تیار نہیں۔ بہت سارے عیسائی طلبا ایسے ہیں جنھیں صلیب سے حد درجہ عقیدت ہے وہ اسے اتارنہیں سکتے۔ اس طرح بہت سارے ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے طلبا ہیں جو تلک لگا نا پسند کرتے ہیں اسی طرح سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے طلبا کے لیے پگڑی بڑی اہمیت رکھتی ہے ایسے خیالات رکھنے والوں کے لیے فرانس میں تعلیم حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ تعلیم وتربیت کے دوران انھیں طرح طرح کے سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ہندوستان میں بھی تعلیمی مسائل کی سماجی بنیاد بہت پرانی ہے۔

Coeducation sysytem طلبا و طالبات کے لیے کس حد تک مفید ہے یہ ایک الگ بحث ہے اس سلسلے میں دو طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں ایک وہ طبقہ ہے جو مخلوط تعلیمی نظام کی وکالت کرتا ہے جب کہ دوسرا طبقہ اس تعلیمی نظام کی مخالفت کرتا نظر آتا ہے۔ Edward Clark کا ماننا ہے کہ’’ مخلوط تعلیمی نظام انسانیت اور خداکے روبرو ایک جرم ہے ‘‘۔روشن خیال طبقہ مخلوط تعلیمی نظام کی افادیت گناتے ہوئے تھکتا نہیں۔  بہر حال جو بھی ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ مخلوط تعلیمی نظام قدامت پرست گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے لیے تعلیمی دشواریاں پیداکرتا ہے۔ روشن خیال طبقے کو مخلوط تعلیمی نظام سے کوئی پرہیز نہیں ہے وہ اپنی لڑکیوں کو ایسے تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے لیے بھیجنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتا وہیں پر دوسرا طبقہ قدامت پرستوں کا ہے جو اپنے لڑکیوںکوایسے تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے لیے بھیجنے سے گریز کرتا ہے جہاں مخلوط تعلیم دی جاتی ہے۔ صدیاں گزرجانے کے بعد بھی آج ہر مذہب میں کثیر تعداد ہی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کا تعلق قدامت پرست طبقے سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ہند نے بذات خود پورے ہندوستان میں Kanya Vidyalaya کے نام سے سیکڑوں کی تعداد میں ایسے اسکول اور کالج قائم کیے جس میں صرف اور صرف لڑکیوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ دہلی میں Govt. Sarvodaya Kanya Vidayala کے نام سے بہت سارے اسکول قائم کیے گئے ہیں۔ Kanya Vidayalaya کا لڑکیوں کی شرح ناخواندگی کودور کرنے میں اہم رول رہاہے۔

اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کی مجموعی شرح خواندگی اوسطاً قومی سطح سے کم ہے خاص کر مسلمانوں میں عورتوں کی تعلیمی شرح خواندگی نہایت کم ہے۔ کم ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہے۔ اس میں ایک اہم وجہ سماجی اسباب بھی ہیں۔ تقریبا آج بھی50 فیصد سے بھی زیادہ مسلمان عورتیں ناخواندہ ہیں۔2011 کی مردم شماری کے مطابق51 فیصد مسلم خواتین ناخواندہ ہیں۔ 15.14 پرائمری ،5.45 میٹرک، 1.9 انٹر، فیصد ٹیکنیکل ایجوکیشن اور 2.07 فیصد مسلم خواتین گر یجوئٹ ہیں۔ کرنا ٹک ہندوستان کا ایک اہم صوبہ مانا جاتا ہے وہاں کے مسلمانوں میں شرح خواندگی بہار کے مسلمانوں سے بہتر ہے۔ وہاں کی مسلم عورتوں میں بھی شرح خواندگی بڑی حد تک بہتر ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سماجی تناظر میں تعلیمی مسائل کا مطالعہ اور ان کا تجزیہ کیا جائے تا کہ تعلیم کی ترویج واشاعت وسیع پیمانہ پر بلاتفریق قوم وملت ، ذات پات اور رنگ ونسل کے ہو سکے۔ ماہرین تعلیمات کو چاہیے کہ تعلیم کو سب کے لیے آسان بنانے اور تعلیمی دشواریوں کو کم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر اس اقدامات کیے جائیں تا کہ ہر طرح کی رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔

 

Mohd Shadab Alam

Research Scholar, Dept of Education & Training

Jamia Millia Islamia

New Delhi- 110025

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...