26/10/23

اردو ادب میں چہار بیت کا تاریخی اور سماجی پس منظر:ڈاکٹر گلشن مسرت

 

چہار بیت کی ایجاد کا سہرا افغانستان کے سرحدی پٹھانوں کے سر باندھا جاتا ہے۔  پشتو میں چہار بیت کا آغاز اردو سے پہلے ہوا لیکن زمانہ وہی ہے جو اردو کا ہے۔ چہار بیت کو پٹھانوں کا لوک گیت بھی کہا جاتا ہے۔  اسے پٹھان راگ بھی کہتے ہیں۔ چہار بیت کا رہنما یا سربراہ کوئی استاد ہوتا ہے جس کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ فی البدیہہ شعر کہہ سکتاہے۔ اگلے صف میں خلیفہ اور دائیں بائیں دو ایسے ہمنوا ہوتے ہیں جن کی آواز خلیفہ کی طرح اونچی اور حافظہ تیز ہو باقی لوگ دوسری اور تیسری صفوں میں بیٹھ جاتے ہیں۔ تیسری صف والے کھڑے رہتے ہیں۔ دف نوازی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ سارے ہمنوا کسی ایک تال پر دف بجاتے ہیں۔ چہار بیت پٹھانوں کی بستیوں میں کافی مشہور ہے جیسے بھوپال، ٹونک، رام پور، قائم گنج، احمد آباد وغیرہ۔ چہار بیت میں غزلوں کے ذریعے رچی ہوئی معیاری زبان استعمال ہوتی ہے جو عوام تک پہنچتی ہے۔

کوئی بھی زبان اپنی ابتدائی شکل میں بولی کی صورت کوچہ و بازار میں عوام کے درمیان وجود میں آتی ہے اور خواص کی نظر التفات سے قبل عوام کے لاڈ پیار کے سائے میں گلی، کوچوں اور بازاروں میں پروان چڑھتی ہے۔ زبان اردو کا لوک ادب بھی ابتدا میں چھوٹے چھوٹے علاقوں میں ہی پروان چڑھا۔ اردو زبان میں لوک ادب کو عرصہ دراز تک قابلِ اعتنا نہیں سمجھا گیا ۔اسے قابل توجہ اس لیے بھی نہیں سمجھا گیا کیونکہ اردو اپنی نفاست،لطافت اور نزاکت میں یکتائی کے سبب شہروں، درباروں، امرا اور روسا کی محفلوں میں حکومت کر رہی تھی اس لیے شہروں تک محدود تھی لوک ادب کو ناقابل توجہ جان کر ادب کے زمرے میں نہیں رکھا گیا اس کا سبب یہ بھی تھا کہ لوک ادب پر مقامی بولیوں کے اثرات بہت نمایاں تھے اس لیے  یہ عوام میں اپنی فطری حیثیت اور روایت کی شکل میں پھلتا پھولتا رہا اور ایک عوامی روایت کی صورت آج بھی موجود ہے۔

لوک ادب کا تعلق زمینی سطح پر چھوٹے چھوٹے گاؤں قصبوں میں پروان چڑھنے والے ان نغموں قصّوں،کہانیوں سے ہے جو آہستہ آہستہ کسی مستحکم روایت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ لوک ادب شہر کی بھاگ دوڑ بھری مصنوعی زندگی کے مقابلے میں فطری احساسات اور جذبات کا آئینہ ہے جس میں زندگی اپنی پوری حقیقی صورت میں جلوہ گر نظر آتی ہے۔

ہندوستان قصّوں، کہانیوں کا ملک ہے جہاں کتنی ہی قدیم کہانیاں روایت کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔  ہندوستانی آبادی کا ایک بہت بڑا حصّہ  دیہاتوں میں زندگی بسر کرتا ہے دیہی ثقافت کی اس عظیم وراثت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔لوک ادب کو بھلے ہی دہقانی  یا دیہی ادب مان کر ادب کی حیثیت سے تسلیم نہ کیا گیا ہو مگر اس کے عوامی رشتے کتنے گہرے اور اس کی تاریخی روایت کتنی مستحکم ہے اس سے انکار ممکن نہیں۔لوک ادب کی کوئی باضابطہ تاریخ  تو نہیں کیونکہ ابتدا میں یہ صرف زبانی روایت کی شکل میں فروغ پاتا رہا مگر یہ تاریخ اور روایت سینہ بہ سینہ اور بعض اوقات تاریخی بیاضوں کی صورت آج بھی موجود اور محفوظ ہے۔

لوک ادب میں پیش ہونے والا ادبی سرمایہ کسی نہ کسی صورت میں ماضی کی بازیافت بیان کرتا نظر آتا ہے۔لوک ادب کو اسی تہذیبی و ثقافتی اور  تاریخی روایت کے ساتھ سنجو یا اور سنبھالا جاتا ہے۔ دیہی معاشر میں منعقدہ میلوں، شادیوں، تیوہاروںاور تقریبات میں اسے اسی فطری رنگ میں پسند کیا جاتا ہے  اس لئے آج بھی یہ اپنی پرانی روش پر قائم ہے۔

لوک ادب کی شعری روایت کے مطالعے سے ہمیں اس کی مختلف اقسام کا پتہ چلتا ہے۔اس ضمن میں چہار بیت کا ذکر بہت اہم ہے۔اس کی ادبی روایت پیشاور سے لے کر ہندوستان کے ضلع  ٹونک تک پھیلی ہوئی ہے اور اپنی مخصوص روایت کے ساتھ ہندوستان میں بھی عرصہ دراز سے محبوب و مقبولِ عام ہے۔

چہار بیت کا رواج ہندوستان میں کب سے ہے یہ قطعی طور پر تو نہیں کہا جا سکتا لیکن چہار بیت کی صنف اردو میں فارسی شاعری کے توسط سے داخل نہیں ہوئی اور نہ فارسی شاعری میں اس فنِ شاعری کے متعلق کوئی تاریخی شواہد موجود ہیں  نہ کوئی تفصیلات موجود ہیں۔

چہار بیت کے تاریخی ارتقاپر غور کریں تو یہی صورتحال اردو کی تصانیف میں بھی نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اس کی کوئی مکتوبی تاریخ موجود نہیں ہے۔

چہار بیت انیسویں صدی کی ابتدامیں روہیل کھنڈ کے اضلاع  رامپور، سنبھل، مرادآباد، امروہہ میں رائج تھی  اس کی تصدیق معتبر روایات  اور قلمی  بیاضوں سے ہوتی ہے۔

سرحدی قبائل کے باشندگان جب کسی تقریب میں شامل ہوتے ہیں  تو غول در غول حلقے کی شکل اختیار کر کے  اپنی زبان میں ہم آواز ہو کر گیت گاتے ہیں، مخصوص انداز میں دف بجاتے اور سپاہیانہ انداز میں رقص کرتے ہیں۔  چہار بیت کی روایت مخصوص فوجی نغمے کی صورت  پشتو زبان سے اردو تک پہنچی،اردو میں چہار بیت کا فروغ فیض اللہ خان کے زمانے میں 1774 کے آس پاس ہوا جب افغانستان کے سرحدی علاقوں کے پشتو قبائل ریاست رام پور میں آباد ہوئے جب یہ قبائل ترک وطن کے بعد ہندوستان آئے اور روہیلکھنڈ اور اس کے اضلاع میں سکونت اختیار کی اس دور کی ملکی سیاسی صورتحال اور ذریعہ معاش کی خاطر فوجی ملازمت اختیار کی۔ یہ سپاہی دن بھر کی تھکاوٹ سے فرار حاصل کرنے کی غرض سے، فوجی چھاؤنیوں میں اس مردانہ رقص کو پیش کرتے جو ان کے اندر جوش و خروش پیدا کر دیتا اور ناظرین اس سے لطف اندوز ہوتے۔

ہندوستان کے مختلف قوموں اور قبائل کے اختلاط نے ان کے رہن سہن اور زبان کو متاثر کیا یا تو ان کے پشتو نغموں نے چہار بیت کی شکل اختیار کر لی  اسی زمانے میں روہیلکھنڈ میں پٹھانی ریاستوں کا قیام عمل میں آیا اور شمالی ہند میں اس عہد میں اردو شاعری اپنے عروج پر تھی ان پشتو نغموں نے بھی اردو کے دامن وسعت میں پناہ اختیار کی اور روہیلکھنڈ اس کا مرکز بنا۔چہار بیت کی روایت روہیل کھنڈ اور اس کے اضلاع کے علاوہ  اس وقت تک ملک کے کسی حصے میں  رائج نہ تھی  جب یہ روہیلی سپاہی وسط ہند سے سفر کر کے راجستھان،بھوپال  اور ٹونک تک پہنچے تو ان کے ساتھ چہار بیت کی روایت بھی ان ملکی حصّوں میں ان سپاہیوں کے ساتھ پہنچی۔

چہار بیت کے لفظی معنی چار شعر کے ہیں مگر یہ ضروری نہیں کہ چہار بیت چار اشعار پر ہی مشتمل ہو، چہار بیت مثلث، مسدس، مثنوی اور متضاد کی ہئیت میں بھی لکھی جاتی ہے۔ اس  میں ہیئت اور موضوعات کا غیر معمولی تنوع موجود ہے۔ ہیئت کے اعتبار سے یہ مثلث،مسدس،مثنوی  اور متضاد ہے تو موضوعاتی اعتبار سے اس میں عشقیہ، مذہبی، اخلاقی، تاریخی، قومی،سیاسی،سماجی اور تقریباتی موضوعات شامل ہوتے ہیں۔

ابتداً چہار بیت کو سپاہی الگ الگ گروہوں میں دف بجا کر گایا کرتے تھے جو نہ کسی ادبی معیار کے پابند تھے اور نہ کسی دبستان سے  وابستہ۔ وہ اپنے فطری اور عامیانہ جذبات، جس میں اپنی جواں مردی کی ستائش، اپنے مقابل کی بزدلی کا اظہار،محبوب کی بے وفائی کا بیان اور محبوب بے وفا کی تضحیک و تمسخر اور توہین ان فوجی نغموں کے مخصوص موضوعات تھے جسے وہ بڑی بے تکلفی کے ساتھ ادا کرتے تھے۔اکثروبیشتر یہ طنز و تضحیک، آپسی  چشمک،رنجش اور خوں ریزی کی شکل ختیار کر لیتی تھی یہی سبب ہے کہ مہذب شعرا نے چہاربیت کی ان محفلوں سے اجتناب برتا اور چہار بیت مہذب اور معیاری شاعری میں کوئی خاص مقام حاصل نہ کر سکی۔

چہار بیت کی جو ہئیت آج رائج ہے  اس میں ایک مطلع  اور اس کی بحر میں تین مصرعے کہے جاتے ہیں جن کا قافیہ مطلع سے مختلف ہوتا ہے اور چوتھا مصرعہ مطلع کا ہم قافیہ ہوتا ہے اسی ہیئت پر چہار بیت کا ایک بند مکمل ہوتا ہے۔ لیکن  یہ شرط نہیں ہے کہ چہار بیت میں چار ہی بند ہو بلکہ بند کی تعداد کم اور زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

صنف چہار بیت فوجی نغمے کی صورت روہیلی سپاہیوں  کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف خطوں کا سفر طے کر رہی تھی جہاں جہاں پشتو سپاہیوں  نے سکونت اختیار کی ان کا پشتو نغمہ بھی ان کے ساتھ گیا۔ شمالی ہند میں اردو شاعری کا چرچا تھا تو یہ علاقے  بھی اس کے اثر سے خالی نہ رہے  اور ان فوجی نغموں میں بھی اردو زبان کی حلاوت گھل مل کر اسے مختلف تہذیبی رنگ میں پیش کرنے لگی اور ان نغموں کی آواز ان علاقوں میں سنائی دینے لگی جہاں جہاں  یہ پشتو پٹھان اپنے ساتھ اس عوامی روایت کو لے گئے۔

رام پور، چاند پور، امروہہ،سنبھل، مرادآباد، مدھیہ پردیش، حیدرآباد اور راجستھان کے ٹونک ضلع میں چہار بیت کی صنف رائج ہوئی جو آج بھی قائم ہے تاہم اب تک  اس کی شناخت صرف رزمیہ تھی، یہ سپاہی حلقوں میں تقسیم ہوتے، حلقے سے کوئی ایک فرد تان دیتا اور باقی ساتھی اس کو ہم آواز ہوکر دہراتے اس طرح وہ اپنی شجاعت اور دلیری کی داستانیں گاتے اور ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے اب تک چہار بیت میں ایک بے نیازی اور  پھکڑ پن شامل تھا شاید یہی سبب تھا کہ اب تک  اس کی رسائی بزم تک نہ ہوسکی تھی  چہار بیت بزم کی رونق بخشنے کے سلسلے میں نواب محمد اسماعیل علی خان بہادر تاج کا نام  سب سے نمایاں ہے۔جن کی نظر التفات کے زیر اثر چہار بیت جیسی عوامی صنف میں بھی بلند آہنگی، رفعت و فکر اور قادر الکلامی جیسے  رنگ شامل ہوگئے جس کے سبب دوسرے شعرا کی توجہ بھی  اس طرف مبذول ہوئی، اور جلد ہی چہار بیت وسیع الخیال شعراء کی توجہ کا مرکز بن گئی۔  اب چہار بیت میں مقصدیت،معنویت،جدّتِ بیان اور وسعت افکار بھی شامل ہو گئے جس نے اسے قدرومنزلت سے روشناس کیا۔

ان تبدیلیوں کا چہار بیت کی روایت پر خاطر خواہ اثر ہوا ان کے موضوعات میں جہاں تنوع شامل ہوا تو ان کی پیشکش  کے طریقہ کار میں  بھی مہذب طریق و اطوار در آئے اور آہستہ آہستہ چہار بیت رزم  کی ہی نہیں  بزم کی بھی زینت بن گئی۔ لیکن عوامی دلچسپی کے باعث پھکڑپن کے  عناصر اس میں شامل رہے  شاید یہی وجہ رہی کہ دونوں دبستانِ فن نے اسے نہ ادبی سند عطا کی نہ دبستان دہلی اور لکھنؤ کے اساتذہ نے ادبی حیثیت سے اسے قبول کیا۔مگر عوامی تقریبات میں  ان محفلوں کا انعقاد رواج پا چکا تھا اور کثیر تعداد میں  لوگ بلا تفریقِ  مذہب و ملّت ان محفلوں میں شرکت کرتے اور لطف اندوز ہوتے۔

یوں تو چہار بیت کی صنف ملک کے دوسرے حصوں میں  رائج ہو چکی تھی مگر راجستھان کے ضلع ٹونک نے اس کی ترقی میں گراں قدر اضافہ کیا اور اسے مقبول خاص و عام بنایا۔ آہستہ آہستہ شرفا بھی ان محفلوں میں  شرکت کرنے لگے اور چہار بیت کی صنف پر طبع آزمائی بھی کی لیکن ابتدا میں یہ شعرا چہار بیت اپنے نام سے منسوب کرنے سے گریز کرتے تھے۔

ریاست ٹونک قدیم راجپوتانہ کی واحد مسلم ریاست تھی حکومت برطانیہ اور نواب امیر الدولہ بہادر کے درمیان سیاسی معاہدے کی شکل وجود میں آئی۔نواب خود سرحدی پٹھان تھے  جن کے بزرگ ترک وطن کے بعد سنبھل، مراد آباد میں آباد ہوئے تھے۔ ان کی فوج میں بیشتر وہی پشتو قبائلی شامل تھے جو ترک وطن کر کے روہیلکھنڈ میں آباد ہوئے اور جب 1817 میں ریاست ٹونک کا قیام عمل میں آیا تو چہار بیت کا نغمہ بھی ٹونک میں رائج ہوگیااور اردو کے ساتھ ساتھ چہار بیت کی صنف کو بھی فروغ حاصل ہوا۔ نواب ابراہیم علی خان بہادر کے عہد حکومت میں صنف چہار بیت کی جانب خصوصی توجہ دی گئی اور مقامی شعرا کے علاوہ  دہلی اور لکھنو کے شعرانے بھی صنف چہار بیت پر توجہ مرکوز کی۔ 1930 سے 1948 تک کا زمانہ  چہار بیت کے لیے بہت اہم ہے۔ اس عہد میں اسے غیر معمولی فروغ حاصل ہوا۔

تشکیل راجستھان کے بعد  پیدا شدہ سیاسی،معاشی تبدیلیوں کے سبب کچھ وقت کے لیے یہ صنف بھی تعطل کا شکار ہوئی مگر جلد ہی نئے جوش و خروش  کے ساتھ نئی پارٹیاں وجود میں آنے لگیں۔ اب چہار بیت کو شعرا نے  جوش و خروش سے ہی نہیں ادبی اور عصری تقاضوں سے روشناس کرایا چہار بیت کی آواز گلیوں،بازاروں گھروں اور جلسوں اور تقریبات میں پھر   سنائی دینے لگی۔

چہار بیت کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانے میں جماعت ہند کے زیر اہتمام 1978 میں منعقد ہونے والا وہ جلسہ تاریخی اہمیت رکھتا ہے جس نے ملک کے کونے کونے سے آنے والوں کو چہار بیت کی صنف سے  نہ صرف متعارف کروایا بلکہ اسے ادبی حیثیت عطا کی اس کے بعد عالمی سطح پر منعقدہ ہندوستانی لوک ادب کے حوالے سے ہونے والے پروگراموں میں بھی راجستھان ٹونک کے چہار بیت فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اور عالمی سطح پر چہار بیت کو ادبی شناخت بخشی۔ٹونک کے شعرانے چہار بیت کی روایت کو مزید استحکام بخشنے کی غرض سے اس کے موضوعات کے دائرے کو وسعت عطا کی جس میں رزمیہ،عشقیہ، سیاسی، رندی، قومی، وطنی موضوعات شامل تھے جنھوں نے چہار بیت کی فنی اور ادبی روایت کو فروغ دینے کا کارنامہ انجام دیا۔

  1930 سے 1947 تک کا زمانہ نواب سعادت علی خان سعید کے دور حکومت   میں چہار بیت کی روایت کے فروغ کا زمانہ تھا جس میں  اختر شیرانی, بسمل  سعدی،صولت ٹونکی،عرشی اجمیری،اُفق اجمیری،امیر ٹونکی،ساحل ٹونکی،صائب ٹونکی،بصر ٹونکی،مولانا عبدالحئی فائز، دل ایوبی، بزمی ٹونکی، مراد سعدی، ناظر ٹونکی، چندن بھارتی، جام ٹونکی وغیرہ کے نام صنف چہار بیت کے حوالے سے معروف شعراء کی حیثیت سے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان شعراء کی چہار بیت کے چند  بند دیکھیں۔

 چندن  بھارتی کی چہار بیت کا ایک بند کچھ اس طرح ہے

مطلع

دل لگانا ہی پڑے گا مجھے معلوم نہ تھا

خاک اڑانا ہی پڑے گا مجھے معلوم نہ تھا

بند

 بحر الفت کو میں سمجھا کہ ہے اک راہ گزر

تھی یہ امید کے بھر لوں گا میں دامن میں گہر

میں نے آغاز میں انجام پے ڈالی  نہ نظر               ڈوب جانا ہی پڑے گا مجھے معلوم نہ تھا

چندن بھارتی کی ایک چہار بیت کا بند جس میں حب الوطنی کا اظہار ہے کچھ اس طرح ہے

مطلع

بڑی مشکل سے طوفاں غمِ حرماں سے نکلے ہیں

کہ ہم آزاد ہو کر خانہ زنداں سے نکلے ہیں

بند

وطن کو کس لیے سمجھیں نہ اب اہل وطن اپنا

گل اپنے شاخ تر اپنی بہار اپنی چمن اپنا

بگاڑے گا نئے بھارت میں کیا چرخ کہن اپنا

کہ ہم با عزم و ہمت گردشِ دوراں سے نکلے ہیں

مولانا عبدالحئی فائز کی چہار بیت کا ایک بند ملاحظہ ہو۔

مطلع

 دکھائی دیتا ہے یوں آفتاب شیشے میں

کہ جیسے تیرا رُخ پر عتاب شیشے میں

بند

وہ مست ناز وہ شوخی کا ایک حسیں پیکر

وقار حسن، سراپا شباب، رشکِ قمر

جب آئینے کے مقابل وہ آیا بن ٹھن کر

سمٹ کے آ گیا سارا شباب شیشے میں

ان شعرا کے علاوہ صنف چہار بیت کی مختلف لوگوں کا قیام عمل میں آیا جنھوں نے نہ صرف چہار بیت کے قدیم رنگ کو قائم رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ اسے مذاق زمانہ سے ہم آہنگ کر کے اس کی ترقی کی راہیں ہموار کیں۔ ان گروہوں میں شامل ہونے والے لوگوں کی تعداد تو متعین نہیں تاہم ان گروہوں میں عموماً 11 اور 13 افراد شامل ہوتے ہیں۔

یہ گروہ ملکی اور عالمی سطح پر وقتًافوقتًا منعقدہ اجلاس میں شرکت کرتے ہیں اور اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں، شان ہند، شان ایمان، شان چمن، شان وطن، آفتاب ہند، تاج ہند وغیرہ کا شمار صنف چہار بیت کی مقبول پرفارمنس پارٹیوں میں ہوتا ہے۔ ان کے درمیان باہمی مقابلے بھی ہوتے ہیں۔ صنف چہار بیت کی بقاء اور ترقی میں ان کا  بھی نمایاں کردار ہے۔

 

Dr. Gulshan Masarrat

347/161/16 Ka,

Old Tikait Ganj

LUCKNOW-26017(U.P)

25/10/23

ابن کنول : بحیثیت خاکہ نگار :ڈاکٹر آفرین شبر

ابن کنول کی پہچان اردو ادب میں ایک نمایاں افسانہ نگار کی ہے۔اس کے علاوہ معاصر ادب میں اُن کے تجزیاتی مضامین تحقیقی کاوشات اور مرتبین کی حیثیت سے بھی ابن کنول کو اردودنیا جانتی اور مانتی ہے۔ دوران ِ کووڈ ابن کنول کے کئی ایپی سوڈ یو ٹیوب اور فیس بُک پر ویڈیو کے روپ میں منظر عام پر آ ئیں جن میں وہ اردو ادبا پر خاکے پڑھتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ ادبی شخصیات پر لکھیں یہ خاکے کتابی شکل میں’کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی‘ کے روپ میں منظر عام پر آ ئی ۔ جس میں کل 25 خاکے شامل ہیں۔ان میں سے ایک خاکہ ادارتی خاکہ ہے جو’ منٹو سرکل ‘کے نام سے اس میں موجود ہے۔اس کے علاوہ سبھی خاکے اشخاص پر مبنی ہیں۔ابن کنول نے اس مجموعے میں ان سبھی اشخاص کے خاکے قلم بند کیے ہیں جن سے ان کی دلی وابستگی تھے ۔ ان خاکو ںکے لیے وہ اس کے دیباچے میںفرماتے ہیں  :

’’اس نظر بندی میں مجھے میرے اپنے یاد آئے ،جن سے میرا خون کا رشتہ نہیں لیکن دل کا رشتہ تھا اور دل کا رشتہ کبھی ختم نہیں ہوتا ۔میں نے انھیں قلم کے ذریعہ یاد کرنے کا فیصلہ کیا۔12اپریل کو ’’داستان کی جمالیات ‘‘کا پیش لفظ لکھ کر کتاب مکمل کی اور 14 اپریل سے خاکے لکھنا شروع کر دیے۔سب سے پہلے اپنے پرائمری اسکول کے استاد کو یاد کیا،پھر اسکول کے ہم جماعت کی یاد آئی ۔پھر علی گڑھ اور دہلی کے اساتذہ اور دوستوں کو یاد کیا ۔‘‘

(کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی،ابن کنول،ص 9)

         اس مجموعے میں قاضی عبدالستار،پروفیسر قمر رئیس ،تنویر علوی،گوپی چند نارنگ ،حیات اللہ انصاری،عصمت چغتائی،محمد عتیق صدیقی ، قرۃ العین حیدر جیسی قدآور شخصیات پر قلم اُٹھانے کے ساتھ ساتھ اپنے ہم عصروں کو بھی اپنی فکرو نظر کا حصہ بنایاجن میں علی احمدفاطمی،فاروق بخشی ،پیغام آفاقی،پروفیسر ارتضیٰ کریم،خواجہ محمد اکرام الدین ،پروفیسر اے رحمٰن ،محمد زماں آزردہ کی شخصیات شامل ہیں۔ابن کنول نے نئی نسل کے لکھنے والوں کو بھی اپنے اس مجموعے میں قلم بند کیا ہے - محمد کاظم اور نعیم انیس کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی علمی و ادبی فعالیت کا اعتراف کیا ہے ۔

        ابن کنول نے اول تو اپنے اساتذہ کے خاکے بڑی ہی عقید ت مندی سے تحریر کیے ہیں۔ان کی تصویر کو اس طرح ابھاراہے کہ وہ ایک خوبصورت شکل اختیار کرلیتی ہے۔خاکوں کا عنوان اشخاص کے نام سے ہی ہوتا ہے ۔ان کے پرائمری اسکول کے استاد کا نام منشی چھٹّن تھا ۔اسی نام سے ان کا خاکہ تحریر کرتے ہیں ۔اس میں خاکہ نگار نے اپنے بچپن کی بہت سی یادوں کو قلم بند کیا ہے ساتھ ہی اپنے استاد کی شخصیت کو ایک خوبصورت رنگ دے کر ابھارا ہے ۔راقم الحروف کا خیال ہے کہ یہ خاکہ ابن کنول کے دل کے بہت قریب ہوگا،جس میں ان کے بچپن کی بہت سی یادیں موجود ہیں ۔اپنے استاد کا حلیہ کچھ اس انداز میں پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں  :

        ’’چوڑی موری کا پاجامہ اس کے اوپر بوشرٹ پہنتے تھے۔ سردیوں میں اس کے اُپر کوٹ پہن لیتے تھے اور گلے میں مفلر ڈال لیا کرتے تھے ۔پاس ہی کسی گاؤں کے رہنے والے روز سائکل سے آیا کرتے تھے ۔درازقد سانولا رنگ ،گھنے بال، پرانی فلموں کے ہیروجیسے لگتے تھے ،دوسرے استاد سے مختلف تھے ۔‘‘  (ایضاً،ص14)

        اس اقتباس میں اپنے استاد کا حلیہ اور ان کے رنگ و روپ پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے پہناوے کا ذکر کیا ہے ۔وہ اپنے استاد سے بے حد متاثر تھے اس لیے ان کی چھوٹی سے چھوٹی باتوں کا ذکر بھی اس میں کرتے ہیں ۔اس خاکے کی ابتدا خاکہ نگار علی گڑھ اور دہلی سے اپنے گاؤں کی دوری بتاتے ہوئے کرتے ہیں۔اس میں ایک خوبصورت تمہید موجود ہے جس کے بعد اپنے استاد کا ذکر کرتے ہوئے ان سے قاری کو متعارف کرواتے ہیں۔خاکہ کے آخر میں خاکہ نگار کا عقیدت مندانہ رویہ دکھائی دیتاہے۔ ملاحظہ ہو :

’’دہلی آئے ہوئے بھی چار دہائیوں سے زیادہ وقت گزر گیا لیکن چھٹن جی کا چہرہ اور ان کی باتیں اب بھی یاد ہیں ۔سنا ہے وہ بہت بوڑھے ہو گئے ہیں ۔میرے ذہن میں وہ ا بھی بوڑھے نہیں ہوئے ہیں ۔ان کی وہی صورت اور وہی مشفقانہ باتیں مجھے یاد دلاتی رہتی ہیں۔ انسان بچھڑ جاتا ہے لیکن اس کا کردار اسے زندہ رکھتا ہے ۔‘‘ (ایضاً،ص16)

        یہ ایک شاگرد کا اپنے استاد سے بے پناہ محبت کا ثبوت پیش کرتا ہے ۔خاکے اکثر شخصیات کے لکھے جاتے ہیںادارتی خاکے بہت کم لکھے گئے ۔ابن کنول نے ادارے پر بھی خاکہ لکھا یہ خاکہ ان کی ابتدائی درسگاہ کا ہے ۔یہ علی گڑھ کی وہ درسگاہ ہے جہاں سے ان کی زندگی کا ایک نیا آغاز ہوتا ہے ۔ ابن کنول نے اس میںاپنے طالب علمی کے زمانے کو قلم بند کرنے کی پوری کوشش کی ہے جو ان کو ناصر محمود سے ’’ابن کنول ‘‘بناتا ہے ۔اس لیے اپنے دوست اساتذہ سب کا ذکر ہے ۔اس میں کئی ایسے واقعات کا ذکر بھی ہے جو طالب علمی کے زمانے میں پیش آتے ہیں جن کے صرف یاد کرنے سے ہی فضا خوشگوار ہو جاتی ہے ۔ابن کنول ایسے ہی چند واقعات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ   :

’’علی گڑھ میں بعض اساتذہ اور سینئرطلباء کی شخصی صفات کی بنیاد پر اُن کے نئے اصنافی نام بھی رکھنے یا خطابات سے نوازنے کا بہت رواج ہے۔مثلاًمنٹو سرکل میں وصی اباّ،تقی پوتڑا ،افضال تھیلاجی ، یونیورسٹی میں جب حسرت موہانی پان کا بٹوا لے کر آئے تو طلبا ء نے انھیں خالہ جان کہنا شروع کر دیا بعد میں مولانا کے نام سے مشہور ہوئے ۔دیگر نامور شخصیات میں مسعودٹامی، مختار گھوڑا ،بصیر گٹّا،نفیس بکرا ، اقبال،برولا،کمال انڈا،وسیم بھنڈی وغیرہ شامل ہیں ۔ ‘‘ 

(ایضاً،ص20)

        اس اقتباس سے اس وقت کے علی گڑھ کے رواج کی معلومات ہوتی ہے ۔ساتھ ہی اپنے طالب علمی کے زمانے میں کس طرح کا وقت ابن کنول نے گزارا اس پر بھی روشنی پڑتی ہے ۔یہ اپنے طالب علمی کے زمانے کی وہ یادیں ہیں جوخاکہ نگار کو بھی جاننے اور علی گڑھ کو سمجھنے میں مدد کرتی ہیں ۔

        ’’داستان گو قاضی عبد الستار ‘‘کے نام سے اپنے استاد قاضی عبد الستار کا بھی خاکہ قلم بند کیا ہے جس میں ان کا سراپااس قدر پیش کیا ہے جیسے کسی بادشاہ کی آمد ہو ۔ملاحظہ ہو :

’’نقیبوں کی رعب دار آوازیں بلند ہوئیں ۔سب سے دولت مند اسلوب کے سب سے جلیل الشان شہنشاہ کے طلوع کا اعلان کیا۔میانہ قد ،چھریرہ بدن ،کشادہ پیشانی ،دراز زلفیں ،کتابی چہرہ ،گندمی رنگ ،بادامی رنگ کی شیروانی چوڑی دار پاجامہ ،پشاوری سینڈل ،شاہانہ انداز کے ساتھ جیسے ایک ایک قدم سلطنت پر پڑ رہا ہو ۔‘‘ (ایضاً،ص24)

        اس سے ایک بادشاہ کی آمد محسوس ہوتی ہے جب کہ یہ صرف اپنے استاد کو قاری سے متعارف کروانے کی ابتدا تھی ۔ یہ خاکہ نگار کا موضوع شخصیت پر اپنے ذاتی مشاہدات کا ہی ثبوت ہے جو اس اقتباس میں محسوس ہوتا ہے ۔قاضی عبدالستار کے علاوہ’’ قمر رئیس ،تنویر احمد علوی ،گوپی چند نارنگ ، عنوان چشتی ‘‘جیسے اساتذہ کو خاکہ نگار نے اپنا موضوع قلم بنایا ۔

        ان اساتذہ کے خاکوں میں سب سے طویل خاکہ’ قمر رئیس‘ کا ہے جو 19 صفحات پر مشتمل ہے۔یہ ایک طرح کا سوانحی نوعیت کا خاکہ ہے جس میں خاکہ نگار نے اپنے استاد سے متعلق بیشتر واقعات کا ذکر کیا ہے ۔ایک شاگرد کی اپنے استاد سے محبت جا بجا اس میں نظر آتی ہے ۔اس خاکے کی اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں خاکہ نگار نے اپنے استاد کی اس عام شخصیت سے بھی قاری کو روبرو کروایا ہے جو ایک بڑے انسان میں چھپی ہوئی ہے۔

        قمر رئیس کی پر کشش اور فعال شخصیت ،ان کے عادات واطوار اور ان کی ادبی شخصیت کا ذکر بھی اس خاکے میں ملتا ہے ۔ابن کنول رقم طراز ہیں  :

        ’’اردو میں قمرصاحب واحد نقاد تھے جو پریم چند تنقید کے لیے پہچانے جاتے تھے ۔پریم چند سے انھیں عقیدت سی ہو گئی تھی ۔انھوں نے علی گڑھ میں پروفیسر رشید احمد صدیقی کی نگرانی میں پریم چند کے ناولوں پر تحقیقی مقالہ لکھا تھا ۔جو اسی زمانے میں علی گڑھ سے شائع بھی ہوا ۔آج تک اردو میں اس کتاب کی بڑی اہمیت ہے ۔علی گڑھ میں قمر صاحب اساتذہ اور طلباء میں بہت مقبول رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔     قمر صاحب علی گڑھ میگزین کے مدیر بھی رہے 1959 میں دہلی یو نیورسٹی کا شعبہ اردواپنی انفرادی شکل میں قائم ہوا اورپروفیسر خواجہ احمد فاروقی صدر شعبہ اردو مقرر ہوئے تو انھوں نے گوپی چند نارنگ اور قمر رئیس کا شعبہ میں تدریسی خدمات کے لیے انتخاب کیا۔ 1997 میں اسی شعبہ سے سبکدوش ہوئے ۔‘‘

        (ایضاً،ص47)

اس اقتباس سے موضوع خاکہ کی ادبی شخصیت پر روشنی پڑتی ہے ۔ ان کی ادبی خدمات اور ادبی زندگی سے قاری روبرو ہوتے ہیں ۔اس میں خوبیاں اور خامیاں دونوں کا ذکر ملتا ہے ۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ابن کنول نے اپنے استاد کی پوری زندگی ان چند صفحات میں قیدکرنے کی کوشش کی ہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی نظر آتے ہیں ۔

        اپنے دوسرے اساتذہ میں گوپی چند نارنگ کا خاکہ اہم ہے یہ خاکہ بھی قمر رئیس کے خاکے کی طرح طویل و تفصیلات لیے ہوئے ہے۔خاکہ نگار کے دہلی آنے کے بعد گوپی چند نارنگ سے بھی تعلقات بڑھتے گئے اور یہی وجہ ہے کہ اپنے دلی تاثرات کو ابن کنول نے قلمی رنگ دیا۔نارنگ صاحب کی شخصیت سے متعارف کروانے سے پہلے جو تمہید باندھی اس میں قلم کے جوہر کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے ۔ابن کنول فرماتے ہیں :

’’جب اسکول سے نکل کر علی گڑھ کے شعبہ ٔ اردو میں آئے تو اردو اور اردو والوں کی سیاست کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگی ۔اور1978 میں دہلی آکر تو اردو کا پارلیمینٹ ہی دیکھ لیا۔یہاں تو باقاعدہ آزادانہ حکومتیں قائم تھیں ۔کہیں پانی پت کا میدان تھا کہیں پلاسی کی جنگ تھی ۔کہیں بکسر کی لڑائی۔ہمارے لیے بڑی مشکل تھی ۔ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر ‘‘۔ (ایضاً،ص72)

        اس اقتباس سے ادبی دنیا کی سیاست کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔جو ایک سچائی ہے اور اسی سچائی کو ایک قلمی روپ دے کر خاکہ نگار نے بہت سی باتیں کہہ دیں ۔جب کوئی خاکہ نگار اپنے دلی تاثرات کو قلمی روپ دیتا ہے تو اس شخصیت کے بیان کے ساتھ ساتھ اپنا بیان بھی کرتا ہے جس سے ا س کی خود کی شخصیت پر بھی روشنی پڑتی ہے ۔گوپی چند نارنگ کے خاکے میں خاکہ نگار کی شخصیت پر روشنی پڑتی ہے کہ قمر رئیس کے خیمہ کا ہونے کے باوجود بھی گوپی چند نارنگ سے تعلقات کا ذکر اس میں ملتا ہے ۔ لکھتے ہیں  :

’’ابا نے کہا تھا تینوں کا احترام کرنا ،حالات کہہ رہے تھے کسی ایک کا ہوجا ۔ہم ٹھہرے اصل کُل پر چلنے والے آدمی ۔یعنی کُل سے صلح رکھو۔نظریہ اپنا رکھونہ کا ہو سے بیر رکھو ،نہ کاہو سے دشمنی ۔ اساتذہ کے اختلافات میں اکثر طلباء کا نقصان ہوجاتا ہے ۔ہم نے ابّا کا کہنا مانا اور تینوں کا احترام کیا اور تھے بھی لائق احترام ۔‘‘ (ایضاً)

        اس مجموعے میں عصمت چغتائی کا خاکہ ایک مختصر اندازلیے ہوئے ہے ۔جس میں عصمت چغتائی سے چند ملاقاتوں کا ذکر کیا گیا ۔اسی فہرست میں عینی آپا کا خاکہ بھی آتا ہے ۔            

        ابن کنول نے اس مجموعے میں اپنے کئی دوست اور احباب کے خاکے بھی لکھیں ہیں جن میں فاروق بخشی ، علی احمد فاطمی ،پیغام آفاقی،ارتضیٰ کریم کے خاکے اہم ہیں ۔ پروفیسر علی احمد فاطمی کا خاکہ غضنفر نے بھی لکھاہے۔مگر ابن کنول نے جس دیدہ ریزی اور شعور کی کارفرمائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے علی احمد فاطمی کے ادبی سفر میں اُن کے نظریات ،ان کی فہم، ترقی پسند تحریک اور نظریے سے علی احمد فاطمی کی وابستگی اور ان کے تنقیدی رجحان کے اوصاف کے باہم اُن کی زندگی کا مقصد و منصب ،وژن اور مشن وغیرہ کو ابن کنول نے اپنے خاکہ میں اس طرح سے بیان کیا ہے کہ پروفیسر علی احمد فاطمی کے سوانحی حالات ،تعلیم و تربیت ،ادبی محرکات اور مکافات ِ عمل کا ایک خوشنما نقشہ تصور میں اُبھر آتا ہے ۔جس کے تمام نقوش واضح اور پُر لطف نظر آتے ہیں ۔اس کے ساتھ اگر شخصیت میںکہیں ابن کنول کو جھول نظر آتا ہے تو وہ خاکے میں اس کو ظاہر کرنے سے بھی گُریز نہیں کرتے مگر یہ جھول اس قدر سبک سری لہجہ اور نرم رو فضا کے باہم ان کے قلم سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ تو قاری کو اور نہ ہی شخصیت کو گراں گزرتا ہے۔گویا بات کہیں بھی ہو سچائی کتنی ہی کڑوی ہو بہ حسن وخوبی اگر بیان کرنا آتی ہے تو وہ خاکہ نگار کا امتیازی وصف ہے کیونکہ خاکہ مبالغہ سے دور حقیقت کے قریب اور جمالیات سے پُر ہونا لازمی ہے۔یہ تینوں اوصاف ابن کنول کے اس خاکے میں موجود ہیںاور اُن کے ہر خاکے میں اس طرح کی ادبی فضا ملتی ہے جو خاکہ نگاری کے لیے اہم اور ضروری ہے۔

     ان کے علاوہ کچھ نئے دور کی ادبی شخصیات بھی اس مجموعے میں نظر آتی ہیں جن میں خواجہ محمد اکرام الدین،محمد کاظم ،عظیم صدیقی ،نعیم انیس ،محمد شریف قابل تعریف ہیں۔

        ’’نصف صوفی :خواجہ محمد اکرام الدین ‘‘ کے عنوان سے خواجہ محمد اکرام الدین کا خاکہ تحریر میں لاتے ہیں جس میں کہیں کہیں مزاح کے رنگ بھی نظر آتے ہیں جو اس کی خوبصورتی اور بڑھا دیتے ہیں۔اس میں خواجہ اکرام الدین کے خواجہ ہونے کا ذکر لطیفانہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔فرماتے ہیں :

’’ہمارے ایک عزیز ہیں کہ جن کا نام خواجہ اکرام الدین ہے۔دین داری اور دنیاداری دونوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ یوں تو عمر میں ہم سے کافی چھوٹے ہیں ۔لیکن نام ایسا رکھ لیا کہ بلا وجہ احترام کرنا پڑتا ہے ۔والدین نے محمد اکرام الدین نام رکھا آپ نے دور اندیشی دکھائی اور اس میں ہوش سنبھالتے ہی خواجہ کا اضافہ کر لیا ۔اب ہر چھوٹے بڑے کو خواجہ صاحب کہنا پڑتا ہے ۔اور جو ان سے نہیں ملا ہے وہ بزرگان دین کی طرح احترام کرتا ہے ۔‘‘  (ایضاً،ص216)

                ابن کنول بخوبی جانتے ہیں کہاں کس طرح سے کیسے قاری سے مخاطب کروانا ہے۔اسی لیے اپنے عزیز کا بیان اس خوبصورتی اور لطف اندوز طریقے سے کرتے ہیںکہ ایک خوشنما ماحول پیدا ہو جاتا ہے اور قاری آخر تک خاکہ نگار کے ساتھ رہتا ہے ۔اس خاکہ میں موضوع خاکہ کا بیان تہہ در تہہ اس سلیقہ مندی سے کرتے ہیں کہ خواجہ کی بااخلاق شخصیت ، اپنے سے بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے محبت ان کو اپنے دوسرے ہم عصروں میں منفرد کرتی نظر آتی ہے۔

        ابن کنول نے اکرام الدین کے خواجہ بننے سے پہلے ، اس کے بعداور ادبی دنیا میں آنے تک کا سفر بڑی ہی ہنرمندی سے پیش کیاہے ۔کہیں بھی بھرتی کی تحریروں سے شخصیت کو خواہ مخواہ ابھارنے کی کوشش نہیں کی۔اس کے برعکس چھوٹے چھوٹے واقعات اور بظاہر معمولی نظر آنے والی عام باتوں کے حوالے سے جو کردار ابھارا ہے وہ واقعی قابل تعریف ہے۔

        ابن کنول نے سبھی موضوع شخصیات کے ساتھ انصاف کیا ہے جہاں ان کی خوبیوں کو بتایا ہے وہیں ان کی خامیوں پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔لیکن کہیں کہیں واقعات طویل ہو جاتے ہیں اور خاکہ نگار موضوع سے ہٹ جاتاہے ۔جس سے ایک افسانوی رنگ پیدا ہو جاتا ہے ۔باوجود اس کے خاکہ نگار نے اپنے قلم کے جوہر بتاتے ہوئے بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ خاکے پیش کیے ہیں ۔جن میں خاکے کی تمام تر خوبیاں موجود ہیں۔بلا شبہ اپنے دور کے ،اپنی زندگی کے اپنے ادبی میدان کے شہسواروں پر ابن کنول نے اپنے قلم و ذہن کا حق ادا کرتے ہوئے اگر خاکہ نگاری میں ایک اہم اضافہ کیا ہے تو یہ قابل ستائش ہے ۔

Dr. Afreen Shabbar

Guest faculty

Department of Urdu

Mohanlal Sukadia University

Udaipur-313001(Rajasthan)


23/10/23

نحویات کیا ہے؟:سید یحی نشیط


انسان کو حیوان ناطق کہا گیا ہے۔یعنی اسے قوت گویائی بخشی گئی۔وہ اپنے جذبات اورخیالات کا اظہار کرنے کے لیے زبان کو بطور آلہ (Tool )  استعمال کرنے کا ہنر جانتا ہے۔یہ زبان انسانی تہذیب کے دور اول میں صرف اشاروں اور آوازوں کا باربط و با معنی مجموعہ تھی۔رفتہ رفتہ اشاروں کے بغیر آوازالفاظ میں ڈھلی اوراسے معنی کا ملبوس عطا ہوا۔ پھر ان بامعنی الفاظ سے جملے بنے اور زبان کا ہیولیٰ تیار ہوا۔اس طرح آواز (صوت) کی نمو سے جملے (تکمیل خیال )کی وسعت تک ز بان کے ادراکِ معنی کادائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے۔ زبان کے ماہرین نے زبان کے اس موضوع کو علم کا درجہ دیا اور تحلیل و تجزیے اور اصول و ضوابط کے سہارے علم زبان کی مختلف شاخیں وجود میں آئیں۔ان میں لسانیات (Linguistic)اور قواعد (Grammer)  دو اہم شاخیں ہیں۔ 

لسانیات کی ایک شاخ علم الصوت (صوتیات۔ (Phonology بھی ہے۔اس کے ذریعے منہ سے نکلنے والی آوازوں کے مخارج اور دہن کے مستعمل اجزائے نطق  پر غور کیا جاتا ہے۔یہاں آواز کی معنویت پر توجہ نہیں دی جاتی۔قواعد کی ابتدا تفہیم لفظ سے ہوتی ہے۔اس میں آواز کے با معنی ٹکڑوں پر غور کیا جاتا ہے۔یہ مطالعہ صرف الفاظ کی حد تک محدود ہوتا ہے۔ اسےعلم الصرف(صرفیات۔ (Morphologyکہتے ہیں۔ قواعد کی دوسری شاخ علم النحو (نحویات) syntacticہے۔اس میں بامعنی الفاظ،ان کے جوڑ سے بنے فقرے اور جملے کی ساخت نیز ان کے معنویاتی نظام کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

قواعد میں زبان کو تشکیل دینے والی آواز وں کے جوڑسے بنے با معنی الفاظ کی جملوی نشست کے اصول و ضوابط طے کیے جاتے ہیں۔

نحویات کیا ہے؟

کسی بھی تحریری یا تکلیمی زبان کی قواعد کا خاص مقصداس کے لسانی ا ظہارکی مکمل اکائی یعنی جملے کی معنوی وضاحت ہوتا ہے۔اس وضاحت کے لیے جملے کی بامعنی اکائیاں(الفاظ) جنھیں قواعد میں اجزائے کلام کہا جاتا ہے، ان کا صرف استعمال ہی نہیں ان کے باہمی انسلاکات کا جاننا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اجزائے کلام کی بحث  صرف کہلاتی ہے اور اس کے علم کو صرفیات کہا جاتاہے۔ ان اجزائے کلام کی جملے میں محل اوقاف کے مطابق صحیح بامعنی خطی Linear ترتیبی نشست،دیگر صرفی اجزا سے ان کی ہم رشتگی یا انسلاک اور ان کے تعاون سے تشکیل پانے والے با معنی جملے کی ہیئت ؍ ساخت کا تجزیہ نحو کا موضوع ہوتا ہے۔ نحو کے اس علم کو نحویات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

جملے میں الفاظ کا باہم تعلق سمجھنے کے لیے ان کاباہمی ربط، تنظیم اور ترکیب کا جاننا ضروری ہوتا ہے۔

(الف) باہمی ربط :

باہمی ربط سے مراد جملے میں جنس (تذکیر و تانیث)تعداد (واحد،جمع)صیغۂ شخصی (متکلم،حاضر،غائب)اورزمانہ (ماضی، حال، مستقبل ) کے اظہار کے لیے فعل اور فاعل میں مطابقت کاپایا جانا ہے۔مثلاً’’چھو ٹا لڑکا ضد کر رہا ہے‘‘۔ ’چھوٹا‘اس لفظ کا ربط ’لڑکے‘کی جنس اور تعداد سے ہے نیز ’رو رہا ہے‘ یہ فقرہ لڑکے کی جنس، تعداد،صیغۂ شخصی اور زمانے کا مظہر ہے۔ چھوٹی لڑکی ضد کر رہی ہے۔چھوٹے لڑکے ضد کر رہے ہیں۔ لڑکا ضد کرے گا۔لڑکے نے ضد کی۔ ان مثالوں میں فاعل (لڑکا) اور فعل (ضدکرنا)کے صرفیوں میں جنس، تعداد اور زمانے کے مطابق فعلی توافق پایا جاتا ہے۔ یعنی ’لڑکا(ضد)کر رہا ہے ‘میں فاعل کا صرفیہ’۔َا‘ ہے تو فعل کا صرفیہ بھی’۔َا‘ ہی ہوگا۔اگر فاعل کا صرفیہ’۔ِی‘ ہے تو فعل کا صرفیہ بھی ’۔ِی ‘ہی ہوگا۔اسے ہی فعلی توافق کہا جاتا ہے۔(جیسے لڑکا= کر رہا، لڑکی = کررہی)یہ توافق،ربط کلام کی بامعنی اکائی کی لسانی ساخت سے لے کر جملے کے تمام تر ساختی تعملات کے منسلکات اور ان کی جزئیات میں پایا جاتا ہے۔نحویات ان روابط کی باریکیوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔نثر میں اجزائے کلام کا مربوط رشتہ تلاش کرتے وقت لے ،آہنگ اور سر تال پر توجہ نہیں دی جاتی لیکن شاعری میں الفاظ کے مرکباتی روابط میں ان باریکیوں کا بالخصوص خیال رکھا جاتا ہے وگرنہ شعر، عروضی قواعد سے ہٹ جاتا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شعری نحویات میں عروضی نکات پر بھی غور کیا جاتا ہے۔ ذیل میں اردو اشعار میں استعمال ہوئے چند نحوی مرکبات کا شعری(عروضی) ضابطوں کے تابع ہونا واضح کیا گیا ہے   ؎

ع:    سردیِ ّ حنا پہنچے ہے عاشق کے جگر تک (سردی ئِ حنا)

ع:    کروں گر عرضِ سنگینیِّ کہسار اپنی بے تابی        (سنگینی ئِ کہسار)

ع :      سرخیِّ رنگِ رخ سے چمک اور بڑھ گئی (سرخی ئِ  رنگ)

یہاں تینوں مصارع کے مرکبات کا تجزیہ قوسین میں کردیاگیا ہے۔ان تینوں الفاظ کے مضاف؍موصوف (سردی،سنگینی اور سرخی)کے آخری حروف یا ے مجہول ہیں۔ نثر میں ان کی اضافی ترکیب بالترتیب سردیِ حنا، سنگینیِ کہساراور سرخیِ رنگ زیرِ اضافت کے ساتھ درست سمجھی جاتی ہے لیکن اشعار میں ان مرکبات کاغیر مشدد استعمال کر دیا جائے تو شعر بحر سے خارج ہوجائے گا کیونکہ یہ تینوں مضاف (سردیِّ، سرخیِّ اور سنگینیِّ) بلا تشدید، اوزان ِعر وض کا حق ادا نہیں کر سکتے۔اس لیے شعری نحویات میں مذکورہ مرکبات کومندرجۂ بالا مثالوںکے مطابق مشدد کرنا لازمی و لابدی ہوتا ہے۔ غالب نے اس ضمن میں تفتہ کو لکھے اپنے خط میں کہا تھا :

’’ یاد رکھو! یاے تحتانی تین طرح پر ہے :

جزوِ کلمہ :(مصرع)ہماے بر سرِمرغاں ازآںشرف دارد

(مصرع)اے سرِ نامہ نام تو عقل گرہ کشای را

 دوسری تحتانی مضاف ہے۔صرف اضافت کا کسرہ ہے۔ہمزہ وہاں بھی مخل ہے، جیسے آسیاے چرخ یا آشناے قدیم

 تیسری دو طرح پر ہے : یاے مصدری اور وہ معروف ہوگی،جیسے ’آشنائی ‘یہاں ہمزہ ضروربلکہ ہمزہ نہ لکھنا عقل کا قصور

یاے توحید ی: جیسے : ’آشنائے‘ یعنی ایک آشنا یا کوئی آشنا۔ یہاںجب تک ہمزہ نہ لکھوگے،دانا نہ کہاؤگے۔"

(غالب[مرتبہ : خلیق انجم ] ’غالب کے خطوط‘ غالب انسٹی ٹیو ٹ،نئی دہلی 1993،جلد اول :ص247)

غالب نے یاے تحتانی کو ان تین طرح سے لکھنے کی سفارش کی ہے وہاں اپنے اشعار میں یاے معروف سے بنی اضافت کو مشدد بھی کیا ہے۔اوپر کے اشعار میں یاے مشدد کی مثالیں دی جا چکی ہیں۔ظاہر ہے کہ اس نوع کے مرکبات،جن کا تعلق نحوسے ہے عروضی ضوابط کی پابندی کی وجہ سے شعری نحویات کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔ صفت۔ موصوف، مضاف۔ مضاف الیہ و غیرہ جتنے بھی مرکبات کے دائرے میں آتے ہیں (جیسے اضافتِ مطلق،اضافتِ تملیکی،اضافتِ نسبی،اضافتِ ظرفی، اضافتِ مصدری،اضافتِ سببی، اضافتِ بیانی،اضافتِ مقلوب،اضافتِ تخصیصی وغیرہ )ان دو یا تین الفاظ کی باہمی مربوط نسبت کا رشتہ نحویاتی نظام کی سب سے چھوٹی  اکائی سے جڑ جاتا ہے۔یاد رہے کہ دو تین سے زیادہ اضافی تراکیب بیک مقام تواتر کے ساتھ نثر و نظم میں مستحسن سمجھی نہیں جاتیں۔ نحویات میں ان تراکیب کی باہمی نسبت پر بھی غور کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ جملے میں اجزائے کلام کے مابین پائی جانے والی نسبتوں اور ان کے قواعدی روابط کا تجزیہ بھی نحو میںکیا جاتا ہے۔ گویا دو بامعنی الفاظ کے معنوی ربط سے لے کرلسانی اظہار کے طویل بامعنی ساختی تعملات کے مابین پائے جانے والے ربط پر نحویات غور کرتا ہے۔

(ب)        تنظیم:

جملے میں الفاظ کی با معنی خطی ترتیب کو تنظیم کہا جاتا ہے۔’’ چھوٹا لڑکا ضد کرتا ہے ‘‘۔یہ مکمل جملہ الفاظ کی صحیح محلی؍مقامی نشستوں کا خیال رکھنے کی وجہ سے بامعنی بنا ہے۔ اگر ان کی نشستی تنظیم بگڑجاتی تو یہ جملہ الفاظ کا مجموعہ تو ہوتا لیکن اس کے کوئی معنی نہ ہوتے۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ جملے یا شعر میں معنویت صرف مجرد الفاظ کے مجموعے کی بدولت پیدا نہیں ہوتی ان الفاظ کی بہترین تنظیم بھی اس کی متقاضی ہو تی ہے۔یوں بھی کہا جاتا ہے کہ معنی الفاظ کے بطن سے پیدا ہوتے ہیں،ان میں انفصال،انفشار یا بد نشستگی پیدا ہو جائے تو معنی خبط ہو جاتے ہیں اور ترسیل خیال میں رکاوٹ آجاتی ہے۔ اس لیے جملے یا شعر میں لفظی تنظیم بہت ضروری ہوتی ہے۔  نحو یات میں جملے کی اس طرح کی خطی تنظیمی نشست کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

(ج)ترکیب:

  اضافی مرکبات سے ہٹ کر ترکیب میں باہمی ربط کا سلسلہ دراز ہوتا ہے۔یہاں صرف درمیانی ربط ہی ملحوظ نہیں رہتا بلکہ ساختی تعملات کے آگے اور پیچھے کے ربط پر بھی غور کیا جاتا ہے۔ان کے معنی اور مفہوم کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔سب سے اعلیٰ و ارفع امر یہ ہے کہ نحویات میں ا لفاظ کی بامعنی ترکیب یعنی الفاظ کی نشست و برخاست کا برمحل تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس ترکیب کا چھوٹا سانچامبتدا اور خبر سے بنتا ہے،جیسے زید آیا۔اس جملے میں زید مبتدا ہے اور آ یا خبر ہے۔ان دونوں الفاظ کو جوڑ کر معنی تک پہنچا جاتا ہے اور انھیں توڑ کر ان کے لسانی انسلاکات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔جملے میں معنی کی توسیع کے امکانات طویل ساختی تعملات پر منحصر ہوتے ہیں۔کبھی کبھی الفاظ کئی فقروں سے منسلک ہو کر جملہ بنتے ہیں۔ یہ مفرد جملہ بھی ہو سکتے ہیں یا مرکب یا پھر مخلوط بھی ہو سکتے ہیں۔ان میں فقروں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی نحویاتی مطالعہ اتنا وسیع ہوگا اور ان کی معنویاتی توسیع میں اضافہ ہوگا۔الفاظ کے انسلاکات کا انحصارترکیبی ضابطوں اور قواعدی اصولوں پر ہوتا ہے۔ان کی بنیاد پر جملے کی کئی قسم کی ترکیبیں بنتی ہیں، جیسے: اسمی ترکیب،توصیفی ترکیب، اضافی ترکیب،فعلی ترکیب،متعلق فعلی ترکیب  وغیرہ۔ جملوں میں ان کے استعمال سے ان کی قسم پہچانی جا سکتی ہے، جیسے زید لڑکا ہے۔(اسمی ترکیب) وہ کرسی پر بیٹھا ہے۔ (فعلی ترکیب)زید کالا ہے۔(توصیفی ترکیب) زید  کی کتاب (اضافی ترکیب )تیزدوڑتا گھوڑا (متعلق فعلی ترکیب ) زید اورگھوڑا( عطفی ترکیب) ان تمام تراکیب میںمتعلقہ اجزائے کلام کی مختلف فروعات استعمال ہو سکتی ہیں۔نحویات میں تراکیب کی ان باریکیوں پر بحث کی جاتی ہے۔                                                             

نحوی ترکیب کے مطالعے کے دوران جملے کے اجزائے متصلہ (Immediate Constituents) پر غور کیا جاتا ہے۔یعنی ایک جملے میں کتنے جزو ایک دوسرے سے متصل ہیں۔ان اجزائے متصلہ سے ترکیب بنتی ہے اور ایک بامعنی جملہ وجود میں آتا ہے۔مثلاً’’ وہ کتاب جو کل گم ہو گئی تھی،دیوانِ غالب تھی۔‘‘اس جملے میں دو اجزائے متصلہ ہیں: ’’ وہ کتاب جو کل گم ہو گئی تھی ‘‘اور ’’دیوانِ غالب تھی۔‘‘اس کے علاوہ،’’ وہ کتاب ‘‘ بھی ’’جو کل گم ہوگئی تھی ‘‘کا جزو متصل ہے۔اب اس جملے کی جتنی بھی ترکیبی توسیع کی جائے گی،اجزائے متصلہ میں اضافہ ہوتا جائے گا اور نئی نئی تراکیب کے استعمال سے ان کی اقسام وجود میں آئیں گی۔

نحویات اور معنیات

نحویاتSyntactic اور معنیات Semantacs میں چولی دامن کا رشتہ دکھائی دیتا ہے۔شعر یا جملے کی تفہیم اسی رشتے پر منحصر ہوتی ہے۔نوم چامسکی نے اپنی کتاب Syntactic Structures کے آٹھویں اور نویں باب میں ان دونوں کے رشتے کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ ’کیا معنی کے تصور کے بغیر قواعدGrammer تیار کیا جا سکتا ہے ؟وہ کہتے ہیں۔

’’میں گرامیٹیکل ڈھانچے کے نظریہ کو جزوی طور پر سیمنٹک اصطلاحات میں تیار کرنے کی کسی تفصیلی کوشش یا گرامر کی تعمیر یا تشخیص میں معنوی معلومات کے استعمال کے لیے کسی خاص اور سخت تجویز سے واقف نہیں ہوں۔‘‘ (ص 93)

اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ گرامر جس سے زبان کے اصول و ضوابط بنائے جاتے ہیں،معنیاتی نظام کے بغیر ممکن ہی نہیں۔نحوی تجزیے میںجملے کے تمام لسانی ساختی تعملات کی قوت معنوی کو آنکتے وقت بے معنی حروف ( ربط،عطف،تخصیص،فجائیہ وغیرہ)کو ان کے اجزائے متصلہ کے سہارے معنی فراہم کیے جاتے ہیں لیکن بعض اوقات ناقص لسانی مرکبات کے سہارے بنے فقرے جوعرف عام میں محاورہ کہلاتے ہیں، سماجی روز مرہ اور سماجی لسانیات کے زیر اثر اپنے ان معنی  کے متحمل نہیں ہوتے جو نحویاتی تجزیے سے برآمد ہوسکتے ہیں، جیسے: ’’جان میں جان آنا‘‘، ’’گل کھلانا‘‘۔ ان دونوں محاوروں کے نحوی اور روایتی معنی میں فرق ہے۔ ایسے ناقص مرکبات سے بنے فقروں میں ضرب المثل کا بھی شمار ہوتا ہے کہ اس میں فقرے کے ساختی تعملات کے نحوی معنی کچھ اور ہوتے ہیں اور روایتی معنی علاحدہ۔اس سے نو آموزافرادترسیل معنی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض وقت شعر اور جملے کچھ اس طرح بھی لکھے جاتے ہیں جو ذو معنی ہوتے ہیںاور مبہم معنی بہم پہنچاتے ہیں۔ شاعری میں یہ بطور صنعتِ ایہام کافی مشہور ہے، لیکن نثر میں اس کی وجہ سے نحوی تجزیہ دشوار ہو جاتا ہے۔ایسی حالت میںلسانی اظہار کی جملوی ترکیب اور اس کے ساختی تعملات کے اجزائے متصل پر ایک طرف غور کیا جانا لازمی ہے تو دوسری جانب اس کے معنیاتی پہلو پر بھی نظر رکھنی ہوتی ہے۔ چامسکی نے اپنی کتاب میں صنائع لفظی والے ا یہام پر نہیں بلکہ فقرے اور جملے میں در آئی ذو معنوی نحوی تراکیب پر بحث کی ہے جن سے تفہیم میں ابہا م پیدا ہو جاتا ہے۔مثلاً’’میں روزی  سے زیادہ برفی پسند کرتا ہوں۔‘‘اس جملے کے دو معنی برآمد ہوتے ہیں۔ایک یہ کہ روزی کے مقابلے میں مجھے برفی زیادہ پسند ہے اور دوسرے معنی یہ ہوں گے کہ میں اور روزی دونوں برفی پسند کرتے ہیں مگر اس کی پسند سے بھی زیادہ مجھے برفی پسند ہے۔دراصل ابہا م پیدا ہونے کا سارا فتور جملے کی فہمائش پر انحصار کرتا ہے وگرنہ جملے کی نحوی ساخت اپنی جگہ درست ہوتی ہے۔البتہ ولیم امپسن کے نزدیک اظہار کے طریق کار کی وجہ سے ابہا م پیدا ہوتا ہے۔ غالب کے یہاں ذو معنی الفاظ کے علاوہ مکمل مصارع میں بھی ابہام کی مثالیں مل جاتی ہیں، مثلاً ایک شعر کی تفہیم کچھ اس طرح ہو سکتی ہے محبوب نے بیمار کو دیکھا تو بیمار کے چہرے پر رونق آ گئی دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں بیمار نے جیسے ہی محبوب کو دیکھا،اس کے چہرے پر رونق آگئی۔ظاہر ہے کہ پہلے مفہوم میں محبوب فاعل ( دیکھنے والا)اور بیمار مفعول ( جسے دیکھا گیا)ہے اور دوسرے مفہوم میں بیمار فاعل (دیکھنے والا)اور محبوب (ان) مفعول ( جسے دیکھا گیا)ہے۔نثر میں اظہار کا یہ طریق کار نحویات میں مبہم ساخت Constructional  )تعمیراتی ابہام  Ambiguity) کہلاتا ہے۔

نحویات میں تنظیم،ترتیب اور ترکیب کے بعدنشان گر Markers پر بھی غور کیا جاتا ہے۔عرف عام میں یہ حروف کہلاتے ہیں۔بالعموم وہ اپنے کوئی انفرادی معنی نہیں رکھتے مگر جملے میں اجزائے کلام کو ایک دوسرے سے جوڑنے کا کام کرتے ہیں۔مثلاً’’زید اور اکرم ‘‘ِآدمی اور عورت‘‘۔ ان دونوں فقروں میں ’’اور ‘‘عطفی نشان گر ہے۔ اس کے علاوہ ’’ کا،کی کے‘‘اضافی نشان گر، ’’پر، لیکن، مگر‘‘استدراکی نشان گروغیرہ۔یہ نشان گر اپنے ذاتی معنی نہیں رکھتے مگر اجزائے کلام سے جڑ کر فقرے کو بامعنی بننے میں معاونت ضرورکرتے ہیں،گویا الفاظ کے منظم سلاسل میں معنی کی رو دوڑانے کا کام نشان گر بخوبی کرتے ہیں۔

علم النحو الفاظ کے سلسلوںسے تشکیل پانے والے فقرے اور جملے کے تجزیے پر منتج ہوتا ہے۔ا س تجزیے میں الفاظ کی تمام اقسام،ان کے انسلاک کی وجہ سے معنوی توسیع، ان کا خطی دروبست Linear orderاور ان کی تفہیم و ترسیل کی سرگرمیوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ یہاں الفاظ سے مراد اجزائے کلام سے ہے جو اسم،فعل اور حروف کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ان کے صحیح دروبست اور مناسب ربط سے فقرہ ؍ جملہ تشکیل پاتا ہے جو کسی مُظہرِ خیال کا لفظی پیکر ہوتا ہے۔نحویات میںلفظ سے جملہ بننے تک الفاظ کی کارگذاری کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ان میں انسلاکِ معنی کو تلاش کیا جاتا ہے۔قواعدِ زبان کے اعتبار سے ان کے جزئیاتی عناصر کے اثرات سے الفاظ میں ہونے والی معنوی تبدیلیوں کا تجزیہ بھی نحویات کا موضوع ہوتا ہے۔ الفاظ کے جزئیاتی عناصر سے الفاظ پر ہونے والی تبدیلیاںذیل کی طرح ہوتی ہیں :

 

الفاظ /

 اجزائے کلام  

جزئیاتی عناصر

ہونے والی تبدیلیاں

1                  اسم

2                  ضمیر

جنس (مذکر،مونث)تعداد (واحد جمع)

وہ لڑکا ہے (مذکر،واحد)وہ لڑکی ہے (مونث، واحد) وہ لڑکے ؍ لڑکیاں ہیں (مذکر،  مونث،جمع)

3                  صفت

وہ اچھا لڑکا ہے،وہ اچھی لڑکی ہے،وہ اچھے لڑکے ہیں،وہ اچھی لڑکیاں ہیں۔

4                  فعل

زمانہ،حالت،شخص

(متکلم،حاضر،غائب)

ان تینوںعناصر کی وجہ سے فعل کی مبدّلہ صورتوں کا تجزیہ گردان کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

امدادی افعال ؍

 مرکب افعال،طور  

شیر،بکری کو کھا رہا تھا،بکری کھائی جا رہی تھی۔

5                  متعلقِ فعل

فعل کی کیفیتوں کو واضح کرتے ہیں۔جیسے تیز رفتار،دھیمی رفتار

6                 متعلقِ فعل

ربط،عطف،تخصیص،فجائیہ  وغیرہ

بالعموم اجزائے کلام پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ 

الفاظ سے جملہ بننے تک کے عمل میں مارفیم ؍الفاظ کے درمیان باہمی روابط کا جو سلسلہ پایا جاتا ہے اس کا تجزیہ مختلف انداز میں کیا جاتا ہے۔مثلاًجب جملے میں فاعل کا ربط فعل کے ساتھ ہوتا ہے تب فاعل کے جنس،تعداد اور شخص کے مطابق فعل کی جنس، تعداد اور شخص میں تبدیلی واقع ہوتی ہے،جیسے لڑکا گاتا ہے۔لڑکی گاتی ہے۔لڑکے گاتے ہیں۔ لڑکیاں گاتی ہیں۔تعظیم و تکریم والے جملے میں البتہ فعل جمع کے صیغے میں استعمال ہوتا ہے،جیسے بھائی آئے ہیں۔یہاں بھائی فاعل اور واحد ہے لیکن ان کے آنے کے عمل کو جمع کے صیغے میں لایا گیا۔ بعض اوقات اسمائے جمع فاعل ہوں تو ان کا فعل واحد ہی رکھا جاتا ہے،جیسے فوج آرہی ہے۔ان کے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

فاعل ایک سے زیادہ ہم جنس اسما ہوں تو ان کا فعل جمع کے صیغے میں درج ہوگا، جیسے  لڑکا اور اس کا کتا ایک ساتھ کھیل رہے ہیں۔کسی جنگل میں ہرن اور خرگوش رہتے تھے۔لیکن ایک ہی جنس کے دویا دو سے زیادہ اسمائے کیفیت یا اسمائے ظرف واحد کے صیغے میں آئے توفعل بالعموم صیغۂ واحد ہی میں ہوگا،جیسے زید کی باتیں سن اکرم کو خوشی اور حیرت ہوئی۔کنویں سے گھڑا اورلوٹا نکلا۔

اگر متضاد جنس و تعداد کے ایک سے زیادہ اسما فاعل ہوں تو فعل کی تعداد و جنس، آخر کے فاعل کے مطابق ہوگا،جیسے غصے میں منہ،آنکھ اور رخسار سرخ نظر آتے ہیں۔ اگرضمیر شخصی کے فاعل متکلم اور حاضر ہوں تو فعل متکلم کے مطابق ہوگا،جیسے ہم اور تم ساتھ چلیں گے۔اور اگر فاعل حاضر اور غائب ہوں تو فعل حاضر کے مطابق رہے گا،جیسے تم اور وہ کل آنا۔  تو اور وہ گیا تھا۔

اگر مضارع کے ساتھ فاعل ومفعول دونوںآتے ہیں تو مفعول کی جنس،تعداد اور شخص کے مطابق فعل کی جنس بدل جاتی ہے،جیسے لڑکے نے کتاب پڑھی۔لڑکی نے تصویریں بنائیں۔لیکن دو یا زائد مفعول اگرالگ الگ ہوں تو ان کا فعل اسی جنس کے صیغۂ واحد میں آئے گا،جیسے میں نے ایک گائے اورایک بیل خریدا۔میں نے ایک بیل اور ایک گائے خریدی۔وغیرہ۔

یہ ساری مثالیں جملے میں جزو متصل کے نحوی عمل کی مظہر ہیں۔یہی اجزائے متصلہ سے الفاظ سے فقرے اور فقروں سے بامعنی جملے تشکیل پاتے ہیں۔شاعری میں بعض جگہ اجزائے متصلہ کے درمیان میںشعری ضرورت کے تحت ا نفصال پیدا کیا جاتا ہے نحوی ترتیب کے مطابق اگرچہ یہ غیر قواعدی عمل ہے لیکن شاعری میں اسے اباحت کے دائرے میں رکھا جاتا ہے۔مثلاً:   نثری جملہ  :نقش، کس کی شوخیِ تحریر کا فریادی ہے ؟

ع:   نقش، فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا   (سوالیہ  مصرع)

یہاں جملے کا نثری تصریفی عمل کچھ اس طرح ہوگا:نقش ( اسم مجرد،فاعل)کس (ضمیرِاستفہام )کی( حرف ربط،اضافی واحد)شوخی (صفت)۔ِ(کسریٰ اضافت) تحریر (اسم مجرد مفعو ل،و احد) کا(حرف ربط،اضافی،مذکر،واحد) فریادی (صفتِ ذاتی،واحد)ہے( فعل ناقص)اس  جملے میں نحوی ترکیب کے مطابق ’نقش‘ مبتدا ہے اور باقی الفاظ  استفہامیہ خبر ہیں۔اس استفہامیہ فقرے کے لفظی ارتباط سے جو معنی نکل کر آتے ہیں وہ قاری کے لیے محولہ مصرع کے با وصف سریع الفہم ہیں،کیونکہ مصرع میں شعری ضرورت کے مطابق اجزائے کلام کے قواعدی نظام کو بد لنے کی وجہ سے قاری کی قوت مدرکہ متأثر ہو جاتی ہے اور اس کے سمجھنے کی رفتار کسی حد تک سست ہو جاتی ہے۔

ساخت کے اعتبار سے جملہ دو جزو سے بنتا ہے۔(1) مبتدا اور (2) خبر۔خبر کی لفظی وسعت کی بنیاد پر جملہ مفرد،مرکب اور مخلوط جملے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔جملے میں فعل کی عملی شکل بھی مختلف ہو کر جملے کی ہیئت متبدل کر دیتی ہے اسے طور کہا جاتا ہے۔طوری اعتبار سے جملے طور معروف،طور مجہول اور طور معدولہ کہلاتے ہیں۔رہا لہجے کے اعتبار سے جملے کی اقسام،تو اس کی گیارہ اقسام تسلیم کی گئی ہیں۔(1) ایجابی یا اقراری (2) توثیقی (3) انکاری یا منفی (4) استعجابی یا فجائیہ(5) استفہامی (6) تعارفی یا تمہیدی(7) دشنام آمیز (8) خوشامدانہ (9) استبعادی (10) استہزائیہ اور (11) امریہ۔لہجے کے اس طور طریقے سے جملے کی نحوی ساخت معنیاتی نظام کو متأثر کرتی ہے۔شاعری میں تو ایسی کئی مثالیں مل جاتی ہیں کہ نحوی ساخت تو جوں کا توں رہتی ہے مگر لہجے سے مفہوم بدل جاتا ہے۔مثلاً  ؎

کون ہوتا ہے حریفِ مے مرد افگن ِ عشق؟

ہے مکرر لبِ ساقی پہ صلا میرے بعد

غالب خود اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے پہلے مصرع کو دو مختلف لہجوں میں پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔حالی یاد گار غالب میں رقم طراز ہیں :

’’اس میں ایک نہایت لطیف معنی پیدا ہوتے ہیں۔اور وہ یہ کہ پہلا مصرع ہی ساقی کے صلا کے الفاظ ہیں۔اور اس مصرع کووہ مکرر پڑھ رہا ہے۔ایک دفعہ بلانے کے لہجے میں پڑھتا ہے،’’ کون ہوتا ہے حریف مے مردِ افگن عشق یعنی کوئی ہے جو مے مرد افگن عشق کا حریف ہو؟پھر جب اس آواز پر کوئی نہیں آتا تو اسی مصرع  کو مایوسی کے لہجے میں مکرر پڑھتا ہے کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق،یعنی کوئی نہیں ہوتا۔اس میں لہجہ اور طرز ادا کو بہت دخل ہے کسی کو بلانے کا لہجہ اورہے،اور مایوسی سے چپکے چپکے کہنے کا اورانداز ہے۔جب اس طرح مصرع مذکور کی تکرار کروگے،فوراًیہ معنی ذہن نشین ہو جائیں گے۔‘‘     ( حالی : یادگار غالب  ص 126-27)  

غالب کا ایک اور شعر اسی نوع کا ہے۔اسے بھی اگر تبدیلیِ لہجے کے ساتھ پڑھا جائے تو معنی میں فرق واقع ہوتا ہے        ؎

یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخِ مکتوب

مگر ستم زدہ ہوں ذوقِ خامہ فرسا کا

 شاداں بلگرامی نے مصرع اولیٰ کو استفہام انکاری کے طور پر پڑھنے کا مشورہ دیا ہے۔جیسے ’ تو اور پاسخ مکتوب؟ اس طرح کے لہجے میں ایک طرح کا طنز چھپا ہوتا ہے،کہ تو ایسا کر ہی نہیں سکتا یعنی یہ بات مستبعد ہے۔اس شعر کا بیانیہ انداز تو یہ ہے کہ ’’میں جانتا ہوں کہ تو خط کا جواب نہیں دے گا لیکن شوق تحریر مجھے خط لکھنے پر مجبور کرکرتا ہے۔شاداں بلگرامی کے مشورے کے مطابق شعر کی قرأت کی جائے تو مصرع میں طنز و استبعاد کا پہلو نکل آتا ہے۔پس ثابت ہوا کہ لہجہ نحوی ساخت کے جملے کے معنوی پہلو پر اثر انداز ہوتا ہے۔

نحویات میں رموزاوقاف اور اعراب پر بھی غورکیا جاتا ہے۔عبارت؍ شعر میں پائے جانے والے ابہام کو دور کرکے متن کے معنی تک صحیح و سریع رسائی حاصل کرنے میں رموز اوقاف نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ولیم ایمپسن نے اپنی کتاب میں ابہام کی سات قسمیں بیان کرتے ہوئے اوقاف کی علامتوں کے غیر قطعی استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والے ابہام کی وضاحت کی ہے۔نثر میں ان کے استعمال سے متن کا مفہوم بآسانی سمجھا جا سکتا ہے اورابہامی کیفیت ختم ہو سکتی ہے لیکن شاعری میں رموز اوقاف کی قطعی گنجائش نہیں ہوتی صرف فہم و ادراک کی قوت ہی معنی تک پہنچانے میں معاونت کر تی ہے۔ایسی حالت میںاوقاف کے عدم استعمال سے ابہام کے پیدا ہونے کا احتمال رہتا ہے۔ اوقاف کے استعمال کی اسی اہمیت کے پیش نظر قواعد کے ماہرین نے متن کی تفہیم کے لیے اوقاف کے استعمال پر زور دیا ہے۔ان کے استعمال سے الفاظ اور جملوں کے درمیان کے انسلاک اور انقطاع کے ذریعے معنی تک پہنچنے میں سہولت ہوتی ہے۔شمس الرحمن فاروقی نے غالب کے مصرع ’لاف تمکیں فریب سادہ دلی‘ کو اعراب و اوقاف کے ساتھ، آٹھ طریقوں سے پڑھا  ہے،جیسے:

1      ع:    لافِ تمکیں،فریب،سادہ دلی

   2      ع:    لافِ تمکیں،فریب،سادہ دلی     

3      ع:    لافِ تمکیں،فریب ِ سادہ دلی

   4      ع:    لاف، تمکیں فریب سادہ دلی

5      ع:    لاف،تمکیں فریب سادہ دلی

     6      ع:     لافِ تمکیں فریب سادہ دلی

7      ع:   لاف تمکیں،فریب سادہ دلی

      8      ع:     لاف تمکیں فریب،سادہ دلی

اس ایک مصرع میں اوقاف کے مقام بدلنے کی وجہ سے معنی میں خاصا فرق آگیا ہے لیکن اس سے بھی پیشتر لہجے کی تبدیلی معنی پر اثر انداز ہوتی دکھائی دیتی ہے۔اوقاف کے استعمال کے بعد فاروقی کے بتائے ہوئے معنی طباطبائی،سہا مجددی اورحسرت کے یہاں بھی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔طباطبائی اس مصرع کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں :

’’اے لافِ سادہ دلی تیرا وصف تو یہ مشہور ہے کہ تو تمکیں فریب ہے۔‘‘          

 سہا کہتے ہیں : ’’ہمارے ضبط و خود داری کے دعوے،سادہ دلی کے فریب پر مبنی تھے۔‘‘

حسرت اس مصرع کی تشریح یوں کرتے ہیں:’’ہم بربنائے سادہ دلی ابھی تک یہی سمجھے جاتے ہیں کہ عشق میں دعوائے صبر و تمکین کا نباہناممکن ہے۔‘‘

یہاں طباطبائی کی تشریح فاروقی کی قرأت نمبر 6 سے لگا کھاتی ہے۔ان کی قرأت نمبر7 کی تشریح سہا کی شرح میں نظر آتی ہے اورحسرت کی تشریح فاروقی کی قرأت نمبر 7 اور8کی ۔  ۔   وضاحت کرتی ہے۔اس وضاحت سے منکشف ہوتا ہے کہ اوقاف و اعراب کا استعمال شعر یا متن کے ابہام سے بچنے میں معاونت کرتا ہے اورجملے کی نحوی ساخت کی معنیاتی تفہیم میں آسانی پیدا کرتا ہے۔

شاعری میں اعراب کے استعمال کی غلطی سے بھی معنوی اسقام پیدا ہو سکتے ہیں۔ گیان چند جین نے اپنی کتاب ’رموزِ غالب‘میں اوقاف و اعراب ہی پر سیر حاصل بحث کی ہے۔مثلاً  نسخۂ عرشی کے درج ذیل مصارع میں انھیں بعض جگہ زیر اضافت کی غلطیاں نظر آئیں،جیسے ع:

ع:   ’مرگِ شیریں ہوگئی تھی کوہ کن کی فکر میں ‘اس مصرع میں جین صاحب ’مرگ شیریں‘کو بلا اضافت پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ع:   ’’مجھ میں اور مجنوں میں وحشت، سازِ دعواہے اسد ‘‘اس مصرع میں وہ وقف اور اضافت دونوں کے استعمال کو مباح نہیں سمجھتے۔

  ؎       ’’زلفِ سیہ،افعی نظر بد قلمی ہے       ہر چند خطِ سبز زمرد رقمی ہے

دیوانِ عرشی کے اس شعرمیں اوقاف و کسرۂ اضافت کے متعلق عرشی اور گیان چند جین کے یہاں کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔دونوں کی قرأت کے اختلاف کی وجہ سے شعرکی معنوی حیثیت بھی مجروح ہوئی ہے۔عرشی افعی نظر اور بدقلمی (ٹیڑھی میڑھی تحریر) زلفِ سیہ کے دو اوصاف مانتے ہیں جبکہ جین صاحب لفظ’نظر‘کو کسرۂ اضافت کے ساتھ تسلیم کرتے ہیں۔    دوسرے مصرع میںدونوں ’سبز اور زمرد کے درمیان واو عطف یعنی ’سبز و زمر د‘کو موزوں گردانتے ہیں۔ دراں حالیکہ واو عطف کے بغیر شعر کے معنی بالکل صاف ہیں۔

معشوق کی کالی زلفیں ( کان ا ور رخسار کے قریب والی بالوں کی لٹ)سانپ اور ٹیڑھی میڑھی تحریر کی طرح ہیں۔

اگرچہ اس کے رخسار پر خطِ سبز،زمرد کی طرح ر قم ہوگیا ہے یعنی اُگ آیا ہے مگر اس زمرد کا اثر ان زلفوں کے سانپ پر مطلق نہیں ہوا۔ مانا کہ زمرد دیکھتے ہی سانپ اندھا ہو جاتا ہے لیکن یہ خط ِ سبز تو معشوق کی زلفوں کا کچھ بگاڑ نہیںپا رہا ہے۔

 غالب کے ایک اور شعر میں اس کی وضاحت مل جائے گی   ؎

سبزۂ خط سے ترا کاکل ِ سرکش نہ دبا

 یہ زمرد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا

ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نحویات میں اوقاف و اعراب کی ان باریکیوں پر بھی غور کیا جاتا ہے۔اگر اوپر کی مثال والے’ ز لفِ سیہ‘ والے شعر کے دوسرے مصرع میں ’سبز و زمرد رقمی‘ کی ترکیب کو واو عطف کے ساتھ پڑھا جائے تو رقمی کی صفت معدوم ہو جائے گی۔اس لیے یہاں واو عطف کے بغیر بلکہ کاما کے ساتھ اسے پڑھنا ہی درست ٹھہرے گا۔ بعض جگہ اضافی تراکیب میں کسرۂ اضافت ایک سے زیادہ ہوںاور درمیان میں اوقاف بھی موجود ہوں تو مضاف و مضاف الیہ کی نحوی ساخت کو درست کرنے کاکام نحویات کے اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے۔جیسے   ؎

ع:      صدرہ آ ہنگِ زمیں،بوسِ قدم ہے ہم کو         (غالب)

اس مصرع کو نحوی اعتبار سے دو طرح سے پڑھا جاسکتا ہے۔(1) آہنگِ زمیں بوس، یعنی کاما کے بغیر [قدم چومنے کا ارادہ ]اور(2) بوسِ قدم[یعنی قدم چومنا]نسخۂ عرشی کے ایک اور شعر میں اوقاف واعراب کے استعمال سے پیدا ہونے والے ابہام کا نحوی تجزیہ کیا گیا ہے۔

کھینچوں ہوں آئنے پر خندۂ دل سے مسطر

نامہ،عنوانِ بیان ِ دل آزردہ نہیں

شعر کے مصرع ثانی کی قرأت گیان چند جین نے یوں کی ہے،  ع: نامہ عنوان،بیانِ دلِ آزردہ نہیں۔ان کے مطابق ’ نامہ عنوان‘ کی ترکیب میںاضافتِ مقلوب ہے،یعنی عنوانِ نامہ۔جین کے مطابق،’’میرے نامے کا عنوان دل آزردہ کا بیان نہیں بلکہ دل شگفتہ کا بیان ہے ‘‘اس ترکیب کے اعتبار سے بیانِ دل ِ آزار کی مراجعت ’نامہ عنوان‘کی طرف ہوتی ہے۔ اس کے علی الرغم عرشی کے مطابق ’بیان دل آ زردہ کا مرجع ’’ نامہ‘‘ قرار پاتا ہے۔                                                                            

اس طرح نحویات میں اجزائے کلام کی تصریفی درجہ بندی، اجزائے متصلہ یا الفاظ کے عمل سے لے کر فقرے کی تشکیل، جملے میں تکمیل خیال کی معنیاتی قوت اورجملے کی ہیئت، مواد کی تنظیم اوراس کے Syntactic Structures کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔

Dr. Syed Yahya Nasheet

24, Kashana  KALGAON

Dist. Yavatmal 445203 (MS)

Mob.:…

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...