30/12/24

انسان بحیثیت سماجی حیوان، ماخذ: ابتدائی علم شہریت: شریف الحسن نقوی، ایس این چٹوپادھیائے

 اردو دنیا، نومبر 2024

پرانے زمانے میں آدمی غاروں میں رہتا تھا، لیکن آج وہ خلا کو بھی مسخر کرچکا ہے۔ آدمی کی ترقی کی یہ کہانی نہایت دل چسپ ہے۔ اس کہانی کا لب لباب یہ ہے کہ انسان تنہا نہیں رہ سکتا۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ انسان کا بچہ دوسرے جانداروں کے مقابلے میں بہت کمزور اور لاچار ہوتا ہے اور اس کے پلنے، بڑھنے اور اپنی مدد آپ کرنے کی عمر تک پہنچنے میں اچھا خاصا عرصہ لگتا ہے۔ وہ ایک کنبے میں پیدا ہوتا ہے اور کنبے ہی میں اس کی پرورش ہوتی ہے۔ عمر کے ابتدائی ایام میں والدین ہی اس کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں، اس کی تربیت کرتے ہیں، اس کو اس قابل بتاتے ہیں کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں کامیاب ہوسکے مثلاً وہ بالغ ہوکر اپنی اور اپنے کنبے کی پرورش کے لیے روزی پیدا کرسکے۔ قدیم سماج میں بچوں کی پرورش کی تمام تر ذمے داری والدین پر ہوتی تھی، لیکن دورِ حاضر کے ترقی یافتہ سماج میں مختلف دوسری ایجنسیاں بھی ہوتی ہیں جو بچوں کی تربیت اور ان کو اپنے مستقبل کے لیے تیار کرنے کی ذمے داری لیتی ہیں۔ یہ ایجنسیاں آہستہ آہستہ زمانے کے ساتھ عالم وجود میں آئیں۔ جیسے جیسے رہنے سہنے کے طریقے پیچیدہ ہوتے گئے ویسے ویسے ایجنسیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ ان ایجنسیوں کا مطالعہ انسان کی زندگی اور انسان کی کہانی کو سمجھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انسان کیونکہ سماجی حیوان ہے اس کا اندازہ ان ایجنسیوں کے مطالعے سے ہوگا۔

خاندان: جس خاندانی  زندگی کا تصورجدید میں ہے، وہ انسانی سماج کی ارتقا کے اوائل میں نہ تھا۔ قدیم سماج میں بچے کا تمام تر تعلق قبیلے یا کنبے سے ہوا کرتا تھا۔ اور وہ اس کا سرمایہ متصور ہوتا تھا، خاندان کے تمام بالغان بچے کی پرورش کی کچھ نہ کچھ ذمے داری نبھاتے تھے۔

فطری طور پر بچے کا لگاؤ ماں سے ہوتا تھا، اس سے وہ پیار بھی زیادہ کرتا تھا۔ باپ تو روزی کی تلاش میں شکار گاہ وغیرہ میں چلا جاتا تھا، لیکن ماں بچے کی پرورش کی ذمے داری پوری کرتی تھی۔ وہ بچے کے لیے لازمی اور مرکزی حیثیت رکھتی تھی ، سماج بھی بچوں کی زندگی کے لیے ماں کا وجود بہت اہم سمجھتا تھا۔ اس طرح ماں کی حیثیت کنبے میں مرکزی اور ضروری تھی۔ آہستہ آہستہ ماں کی انفرادیت ابھری اور اس کو خاندان کا سربراہ تصور کیا جانے لگا۔ اس طرح کا خاندان ’مادر سری‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ قدیم سماج میں زیادہ تر ’مادر سری‘ خاندان ہوا کرتے تھے لیکن جیسے جیسے زندگی میں ٹھہراؤ آتا گیا اخلاقی قدروں میں حسن پیدا ہوا اور احساسات میں عمدگی پیدا ہوئی۔ رسمی شادی کا رواج ہوا۔ باپ کا مقام اہم ہوگیا اور خاندان کی نوعیت میں حیرت انگیز تبدیلی بھی ہوئی۔ اس تبدیلی سے بچوں کی پرورش کی ذمے داری کی تقسیم ہوئی۔ والدین کے اہم کردار کا اندازہ ہوا۔ باپ کے اہم کردار اور ا س کی نمایاں حیثیت کی وجہ سے خاندان ’پدرسری‘ ہوگئے۔ خاندان کے سب لوگ اس کی خواہش کے مطابق اس کے حکم کی بجاآوری کرتے، اس میں کوئی چوں و چرا نہ کرتا۔ عورتیں نہ صرف بچوں کی پرورش کرتیں بلکہ کھیتوں اور کھلیانوں میں مردو ںکے دوش بدوش کام کرتی تھیں۔ اس طرح ’خاندان‘ جو فطری طور پر عالم وجود میں آیا تھا، اب وہ سماج کا سب سے چھوٹا یونٹ ہوگیا۔ اس سے  خاندان کے تمام ارکان کو پرورش کا موقع ملتا تھا، اس کو ہر طرح کا تحفظ میسر ہوتا تھا۔ آج بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ بچے کا بنیادی تعلق اپنے خاندان سے ہوتا ہے۔ اس کے ہر رکن سے اس کا تعلق ہوتا ہے وہ اپنے خاندان میں بولنا سیکھتا ہے۔ خاندان کے دوسرے ارکان کے اطوار و افعال کی نقل کرتا ہے۔ یہ باتیں اس کی زندگی میں بہت اہم ہیں، اس کی زندگی میں اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وہ اظہارِ خیالات کے مختلف انداز سیکھتا ہے اور مختلف طریقے اختیار کرتا ہے۔

خاندان کی بدلتی ہوئی شکل

’مادری سری‘ خاندان میں بچے ماں کے احکام کے پابند ہوتے تھے، اس کی عزت کرتے تھے، اسی کو قابل احترام تصور کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بچوں کے نام ماں کے نام کے مطابق ہوتے تھے۔ لڑکیاں وراثت کا حق رکھتی تھیں، لڑکوں کو اس حق سے محروم رہنا پڑتا تھا۔

جیسے جیسے سماج میں ٹھہراؤ پیدا ہوا، لوگوں نے کھیتی باڑی کو اپنا پیشہ بنایا اور خاندان بڑا ہوتا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ خاندان کا کوئی فرد جو بھی کھیت میں پیدا کرتا یا کماتا وہ تمام افراد خاندان کے گزر اوقات کے لیے ہوتا۔ یعنی ایک فرد خاندان کے دیگر افراد کی کفالت کا ذمے دار ہوتا تھا۔ اس طرح سے متحدہ خاندان یا ملے جلے خاندان کا رواج عالم وجود میں آیا۔ اس طرح کے خاندان آج بھی بہت سے سماجوں میں موجود ہیں، خاص طور پر ایسے خاندان کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں، جیسے جیسے صنعتی ترقی ہوئی، خاندانوں کی شکلوں میں اور بھی تبدیلیاں پیدا ہوئیں، لڑکوں کو جب کسی دوسری جگہ پر ملازمت ملی تو انھیں اپنے خاندان سے علاحدگی اختیار کرنی پڑی۔ اس طرح انھوں نے اپنے اپنے الگ الگ خاندان بنا لیے۔ نتیجہ یہی ہوا کہ خاندان چھوٹے ہوتے گئے۔ دوسرے الفاظ میں متحدہ خاندان کا رواج شہری زندگی کے اثرات سے ختم ہورہا ہے اور اس کی جگہ ایک نیا خاندان رواج میں آرہا ہے۔

خاندان کے کام

خاندان چاہے چھوٹا ہو یا بڑا وہ بچوں کی پرورش کے لیے کچھ نہ کچھ کرتا ہے اور اس وقت تک کرتا ہے جب تک بچہ سن بلوغ کو نہ پہنچ جائے۔ ان کاموں کا ذکر نیچے کیا جاتا ہے۔

.1       جو افراد خاندان میں رہتے ہیں ان کی جسمانی ضروریات پوری ہوتی رہتی ہیں۔ وہ باہمی خوشی اور آرام کے لیے مل جل کر رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں۔ نسل کو بڑھانے اور آبادی میں اضافہ کرنے کی انسانی خواہشات بھی پوری ہوجاتی ہیں۔ ماں باپ اپنے بچوں کی پرورش کے لیے بڑی سے بڑی قربانی پیش کرتے ہیں۔ اس طرح خاندان نہ صرف نسل کی تحفظ کا ضامن ہے بلکہ کنبے کی مکمل نگرانی کرتا ہے۔

.2       خاندان ہر فرد کی معاشی ضروریات کو پوری کرتا ہے۔ اس میں تقسیم کار ہوتا ہے اور ہر فرد سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ خاندان کے جملہ کاموں میں ہاتھ بٹائے۔ خاندان کا سرغنہ خاندان کا نظم و نسق اس صورت سے رکھتا ہے کہ تمام افراد کی ضروریات اس کے ذہن میں ہوتی ہیں۔ جذباتی رشتے اس طرح استوار ہوجاتے ہیں اور خاندان کو ایک رشتے میں متحد رکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ خاندان کمسن افرا دکی تعلیم و تربیت کا بھی انتظام کرتا ہے اور اس طرح خاندان کا ہنر نسلاً بعد نسل چلتا رہتا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ خاندان کے تمام افرا دکی کوشش اور تعاون سے خاندان کے پاس کچھ پونجی بھی جمع ہوجاتی ہے۔ اس پونجی سے خاندان کے کام کو بڑھانے اور ترقی دینے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے خاندان میں جو افراد کمزور یا کسی قسم کی کمی کا شکار ہوتے ہیں ان کو بھی مدد مل جاتی ہے۔ کمزوروں اور لاچاروں کی دیکھ بھال بھی خاندان ہی میں ہوسکتی ہے۔

.3       کسی بھی خاندان کے کچھ نسلی اصول اور قدریں ہوتی ہیں۔ یہ اصول اور قدریں بغیر کسی کوشش اور جدوجہد کے ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ یہ ایک فطری امر ہے۔ اس سے نہ صرف بچوں کی انفرادیت اور شخصیت کی نشو و نما میں مدد ملتی ہے بلکہ ان کے خاندان کی تہذیب، اخلاقیات اور تمدن میں جو بھی خوبیا ںہوتی ہیں وہ آنے والی نسل کے پرامن اور ہم آہنگ ماحول میں اثباتی طور پر اثرانداز ہوتی ہیں۔

.4       خاندان بچوں کو سماجی حیثیت دینے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ افراد خاندان کے آپسی سلوک اور برتاؤ سے سماج کی اعلیٰ خوبیوں کو اجاگر کرتا ہے اور بچے کے اندر سماجی قدروں کا احساس خودبخود پیدا ہوجاتا ہے۔ ان کے اندر فرائض اور حقوق کا احساس بھی خودبخود پیدا ہوجاتا ہے۔ کوئی فرد اس کو بتانے یا سمجھانے کے لیے خصوصی توجہ نہیں دیتا۔  ایک بچہ خاندان ہی میں رہ کر محبت، قربانی، آپس میں ایک دوسرے سے ہمدردی اور وفاداری کے جذبات سے ہمکنار ہوسکتا ہے یعنی یہ جذبات خاندان کے اندر ہی بیدار اور اجاگر ہوتے ہیں۔ ایک شہری کے کردار کی تعمیر کے لیے یہ خوبیاں نہایت ضروری ہیں۔ میزنی کا قول ہے ’’شہریت کا پہلا سبق بچہ ماں کے بوسوں اور باپ کے دلار میں سیکھتا ہے‘‘ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ گھر شہری خوبیوں کا گہوارہ ہے۔

خاندان کے رکن کی حیثیت سے فرد کا رول

موجودہ سماج میں فرد کے کردار و اعمال کی بڑی اہمیت ہے۔ صنعتی وسعت اور ترقی نے سماجی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی پیدا کردی ہے۔ گاؤں کے باشندے صنعت یا کارخانوں میں کام کرنے کے لیے دوسری بستیوں اور شہروں میں رہنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ شہری خاندان ایک اکائی والا خاندان ہوگیا ہے۔ تعلیم کے رواج پکڑنے کے ساتھ ساتھ خاندان مختصر سے مختصر تر ہوتا جاتا ہے لیکن ان افراد میں خوف و ہراس کا احساس رہتا ہے۔ ان کا معاشی تحفظ نہیں ہوتا، بے روزگاری کی وجہ سے چھٹنی ہوتی رہتی ہے۔ خاندان کے اکثر ممبر زیادہ سے زیادہ آزادی چاہتے ہیں۔ اور اس کو حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے خاندان کے لیے جو جذبۂ وفاداری تھا، اس میں دور حاضر میںنمایاں کمی پیدا ہوگئی ہے۔ طلاق کے سلسلے میں قانون بن جانے کے بعد خاندان میں انتشار پیدا ہوا اور اس انتشار سے چھوٹے بچوں پر بہت بر اثر پڑا وہ مجبور و لاچار ہوگئے۔ گندی بستیوں میں رہنے والوں کی حالت نہایت خراب ہے۔ ان کے اخلاق اور طریقہ زندگی میں بھی پستی ہوتی ہے۔ کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ خاندان کے اخراجات کی کفالت کے لیے کچھ افراد سماجی جرائم کرنا شروع کردیتے ہیں۔ذخیرہ اندوزی، چوربازاری، اسمگلنگ اور عوام کے سرمائے کا غلط استعمال وغیرہ ایسے سماجی جرائم ہیں جن کے اکثر لوگ مرتکب ہوتے ہیں۔ ہمیںاس بات کا پورا پورا خیال رکھنا ہے کہ خاندان کی ضروریات اور اس کی محبت اور احساس ذمے داری کا شکار ہوکر سماج کے عظیم مقصد سے روگردانی نہ کریں۔ ہر فرد کو سماج کے عظیم فوائد کے لیے اپنے فوائد کو ترک کرنا چاہیے۔

خاندان اسی وقت سماج میں اپنا صحیح رول ادا کرسکتا ہے جب اس کی آمدنی اتنی وافر ہو کہ خاندان کی تمام ضروریات بہ آسانی پوری ہوسکیں۔ خاندان کے ماحول کو بچوں کی پرورش اور تربیت کے لیے سبھی سازگار ہونا چاہیے۔ ایسے خاندان میں والدین اپنے بچوں کی صحیح پرورش کرسکتے ہیں اور ان کے عادات و اخلاق کو بہتر بناسکتے ہیں۔ ان کے اندر آپسی لین دین کا جذبہ اجاگر کرسکتے ہیں، ان میں قوتِ برداشت پیدا کرسکتے ہیں اور باہمی تعاون کا جذبہ پیدا کرسکتے ہیں۔ مندرجہ بالا دلائل سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ خاندان میں رہ کر افراد اپنے ذاتی فوائد کو دوسرے افراد کے فائدے کے لیے قربان کرنا سیکھتے ہیں۔ اپنی ضرورت کو پس پشت ڈال کر، دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دینا سیکھتے ہیں۔ خاندان کے ممبر آپس میں ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک ہوتے ہیں، پھر محلے کے خاندانوں میں تعلقات وسیع تر ہوجاتے ہیں۔ جب بہت سے خاندان ایک دوسرے کی ضروریات کو محسوس کرنے لگتے ہیں اور ان کے افراد تمام خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ طور پر جدوجہد کرتے ہیں تو سماج عالم وجود میں آتا ہے۔

سماج

ہم نے سیکھا ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے اور وہ الگ یا تنہا نہیں رہ سکتا۔ انسان خاندان میں پیدا ہوتا ہے اور سماج میں رہتا ہے۔ خاندان سماج کا بنیادی حصہ ہے۔ ’سماج‘ کا وجود کب ہوا؟ یہ سوال مشکل ہے اور اس کا صحیح جواب دینا بھی مشکل ہے۔ ہاں، اتنا کہا جاسکتا ہے کہ انسان کبھی تنہا نہیں رہا۔ اس طرح زمانہ قدیم سے انسان کسی نہ کسی طرح کے سماج میں رہا ہوگا۔ کسی نہ کسی طرح کے ’سماج‘ کا وجود ابتدائے آفرینش سے ہوا ہوگا۔ زیادہ مناسب سوال یہ ہے کہ سماج کی ارتقا کیسے ہوئی اور اس نے کس طرح ترقی کی؟ متعدد مفکرین کا خیال ہے کہ سماج اور اس کے ملحقہ ادارے خدا کی تخلیق ہیں۔ یہ اصول کسی منطق یا تاریخی حقائق پر مبنی نہیں معلوم ہوتے ہابس، لاک اور روسو جیسے مفکرین کا خیال ہے کہ سماج کے عالم وجود میں آنے سے قبل انسان فطری ماحول میں زندگی بسر کرتا تھا۔ بعدہ ایک معاہدے کے نتیجے کے طور پر سماج عالم وجود میں آیا۔ اس بات کو بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ آبادی بڑھنے کے بعد آپسی جھگڑے لڑائی کی وجہ سے رہنا مشکل ہوگیا ہوگا۔ ان ناقابل برداشت حالات سے بچنے کے لیے عوام نے آپس میں عہد و پیمان کیے ہوں گے۔ کچھ ایسے بھی مفکرین ہیں جن کا خیال ہے کہ سماج آہستہ آہستہ بتدریج ترقی پزیر ہوتا گیا۔ انسان شکاری تھا اور شکار کرکے اپنی گزر اوقات کرتا تھا، کچھ زمانے بعد اس نے جانور پالنے شروع کردیے۔ جب اس نے شکا رکے زمانے سے نکل کر جانوروں کی پرورش کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی تو خاندان میں سرمائے اور ملکیت کا تصور پیدا ہوا۔ یعنی خاندان چیزوں کا مالک ہونے لگا۔ جب کھیتی باڑی شروع کی تو انسان نے گروہ بنا کر کھیتوں کے کنارے رہنا شروع کیا۔ اس طرح ایک نئی سماجی تنظیم کا آغاز ہوا، اسی کو ہم سماج کہتے ہیں۔ اس کے نئے قانون، قدریں اور رسم و رواج تھے۔ کھیتی کی ترقی اور نئے نئے تجارتی ذرائع کے عالم وجود میں آنے کی وجہ سے سماج کی شکل میں تبدیلی ہوئی۔ صنعت کی ارتقا نے سماج کو نیا موڑ دیا، جب عوام گاؤں سے نکل کر صنعتی قصبوں اور شہروں میں گئے تو کچھ اور نئے مسائل پیدا ہوئے ان کی نوعیت سماجی تھی، جیسے جیسے صنعت زیادہ ترقی کرتی گئی، یہ مسائل پیچیدہ تر ہوتے گئے۔ اب ایک نیا سماج اور اس کا نیا نظام عالم وجود میں آرہا ہے اور یہ ریاستی حدود سے تجاوز کررہا ہے۔

اس طرح شکاری زمانے سے صنعتی سماج قطعی مختلف ہے۔ آج افراد مختلف انجمنوں کے ارکان ہیں۔ ان انجمنو ںکی تشکیل متعد اور مختلف اغراض و مقاصد کی بنا پر ہوتی ہے۔

سماج میں انسان کی حیثیت

اس طرح واضح ہوتا ہے کہ انسانی زندگی اور وجود سماج میں رہ کر ہی ممکن ہے۔ سماج کی تعمیر اس کے متعدد افراد کے باہمی تعاون سے ہی ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ بچے کی بالیدگی کامدار بھی سماج پر ہی ہے۔ جب وہ بڑھتا ہے تو اس کی تمام تر ضروریات کی تکمیل محض خاندان ہی میں ممکن نہیں۔ ان ضروریات کے لیے وہ سماج کا بھی رہین منت ہوتا ہے۔ انسان نے فطرت پر باہمی تعاون سے قابو پالیا ہے جوکام ایک نسل کے لوگ کرتے ہیں وہ سماج کی قدروں کی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں، اور ان کے محاصل ہوتے ہیں، یہ قدریں اور محاصل دوسری نسل کو ملتے ہیں اور وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دوسری نسل کے افراد ان محاصل اور قدروں کا تحفظ کرتے ہیں اور ان میں اضافے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح محاصل اور قدروں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور سماج کا ارتقا ہوتا رہتا ہے۔ یہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ اب مختلف ممالک کے افراد و ارکان کے مابین تعلیمی رشتے قائم ہو گئے ہیں۔ ایک دوسرے کے درمیان سیکھنے سکھانے کا سلسلہ جاری ہوا ہے، اس سے علم کی ترقی ہوئی ہے اور مختلف ممالک کے عوام کے علوم میں اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح دیکھنے میںآتا ہے کہ سماج کے افراد بڑے پیمانے پر ایک دوسرے سے تعلقات اور معاہدے کے ذریعے مستفیض ہورہے ہیں۔ جب فرد اپنے سماج کی کوششوں کے ثمرے سے فائدہ حاصل کرتا ہے تو اس کا بھی فرض ہوجاتا ہے کہ وہ سماج کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہو۔ اس کا اہم فریضہ یہ ہے کہ دوسرے افراد سے تعاون کرے، سماج کے لیے کام کرے۔ اپنے بزرگوں اور اسلاف کے محاصل اور قدروں کا تحفظ کرے۔ اس کو کسی حال میں تباہ نہ ہونے دے، ممکن ہے کچھ لوگ سماج کو بے بنیاد سمجھیں۔ لیکن وہ  اس بات سے مطمئن ہوسکتے ہیں کہ سماج کے متعدد ارکان کے مابین معاہدے اور تعلقات ہوتے ہیں۔ یہ انجمنوں کی شکل میں سامنے  آتے ہیں، ارکان ان رشتوں کو بہت مضبوط سمجھتے ہیں اور انھیں مکمل تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔

ان انجمنوں کے متعدد اغراض و مقاصد ہوتے ہیں۔ کچھ عارضی اورکچھ مستقل، اپنے کاموں کے انجام دینے کے لیے ان کے کچھ اپنے اصول و ضوابط ہوتے ہیں۔ انجمنوں کی رکنیت رضا کارانہ ہوتی ہے اس میں ارکان کا اپنا فائدہ ہوتا ہے۔ جن بنیادوں، اغراض و مقاصد کے لیے انجمن کی تشکیل ہوتی ہے اس کو پورا کرنے، ترقی دینے اور اونچا اٹھانے کے لیے اس کے ارکان جدوجہد کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ انجمن کا کوئی رکن اتنا کمزور ہو کہ وہ اپنی فلاح و بہبود کے لیے کوئی کام نہ کرسکتا ہو لیکن اس سے انجمن کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ وہ بہرحال کامیاب ہوتی ہے کیونکہ اس کے دوسرے ارکان بھرپور کوشش کرتے ہیں اور ان کی جدوجہد سے انجمن کو فیض پہنچتا ہے۔ اس کے متعدد ارکان کی قوت، ادراک، فہم اور مقصد کی یکسانیت اس کی کامیابی کا باعث ہوتے ہیں۔ اہل اور قابل ارکان کے مقابلے میں کمزوروں کو زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کیونکہ نفع کی تقسیم برابر ہوتی ہے۔ انجمن کے اغراض و مقاصد کی طرف زیادہ توجہ دی جاتی ہے، نفع کی طرف کم اس لیے ارکان میں قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ان میں شائستگی اور توازن سبھی پیدا ہوتا ہے انجمن کسی بھی رکن کو حتی الامکان مدد دیتی ہے۔ ایک رکن انجمن کے دوسرے ارکان سے تعاون کرنا سیکھتا ہے اور جو بھی توقعات اس سے وابستہ ہوتی ہیں وہ ان کو انجام دیتا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی فرد متعدد انجمنوں کا رکن ہوتا ہے۔ کہیں وہ لیڈر ہوتا ہے اور کہیں تقلید کرنے والا رکن ہوتا ہے۔ ان حالات میں وہ دوسروں کی خواہش کا احترام کرنا سیکھتا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنے حکم کی دوسروں سے پابندی کروائے، اس کو دوسروں کے نظریات کا احترام کرنا ہوتا ہے۔ اس کے اندر قوت برداشت بھی ہوتی ہے۔ وہ اس بات کی امید نہیں کرسکتا کہ دوسرے اس کے نظریات و خیالات کی موافقت کریں ۔ وہ اپنے نظریات و خیالات کے لیے دلائل پیش کرتا ہے۔ دوسروں کے اندر اعتماد اور یقین پیدا کرتا ہے اور اپنا ہمنوا اور موافق بناتا ہے۔ دوسروں کی بات ماننا، ان پر اعتماد کرنا، اور ان کے خیال سے اتفاق کرنا سیکھتا ہے۔ مختلف انجمنوں کی رکنیت سے وہ اپنے اغراض و مقاصد کے لیے پرخلوص طریقے اور وفاداری سے کام کرنا سیکھتا ہے۔ کبھی کبھی متعدد ذمے داریوں اور وفاداری میں ٹکراؤ ہوجاتا ہے۔ رکن ہونے کی حیثیت سے وہ یہ سیکھتا ہے کہ ان ذمے داریوں اور وفاداریوں میں سے کسے پہلے انجام دے یعنی اس میں قوت انتخاب اجاگر ہوتی ہے۔ اس کے اندر قوتِ فیصلہ پیدا ہوتی ہے۔ وہ یہ جانتا ہے کہ اس کی وفاداری ریاست کے حق میں سب  سے اہم اور لازمی ہے کیونکہ ریاست تمام چیزوں کا مخرج اور مخزن ہے۔

ہم نے سیکھا:

.1       اپنی حفاظت کے لیے اور باہمی امداد کے لیے انسان کی اجتماعی اور منظم حیثیت نہایت ضروری ہے۔

.2       اجتماعی زندگی انسان کو متمول اور غنی بناتی ہے۔

.3       انسانی زندگی اور وجود کو کامیاب بنانے کے لیے فر د اور سماج مل کر کام کرتے ہیں۔ چاہے وہ انفرادی زندگی ہو یا طبقاتی۔

 

ماخذ: ابتدائی علم شہریت: شریف الحسن نقوی، ایس این چٹوپادھیائے، دوسرا ایڈیشن: اگست 2002، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

 

فرد کی قدر شناسی اور اثبات اقدار کی صلاحیت، ماخذ: انسان اپنی تلاش میں، مصنف: رولومے، مترجم: زاہدہ زیدی

 اردو دنیا، نومبر 2024

دورِ جدید میں اقدار کی شکست و ریخت اور زوال کے مباحثے کے سلسلے میں ہوسکتا ہے کہ کچھ لو گ اس خیال کا اظہار کریں کہ اصل مسئلہ کچھ نئی اقدار کی دریافت ہے اور کچھ اور لوگ شاید یہ سوچیں کہ ماضی کی اکثر اقدار مثلاً محبت، برابری اور انسانی بھائی چارہ وغیرہ بہت اچھی اقدار ہیں اور مسئلہ صرف انھیں واپس لانے کا ہے۔

لیکن ان دونوں صورتوں میں ایک بات نظرانداز کردی ہے اور وہ یہ کہ بڑی حد تک جدید انسانی اقدار میں یقین اور ان کے اثبات کی صلاحیت بھی کھوبیٹھا ہے۔ ایک قدر اپنی جگہ اہم، گہری یا مناسب ہوسکتی ہے لیکن ایک فرد کے لیے جو بات سب سے زیادہ اہم ہے وہ خود اس کی ’قدرشناسی‘ اور اقدار کی یافت کی صلاحیت ہے۔ ہٹلری فاشزم میں بربریت کی فتح کی وجہ صرف یہ تھی کہ لوگ اخلاقی روایت اور اقدار کو بھول گئے تھے۔ آزادی اور عوامی خوشحالی کی انسانی اقدار اور عیسائیت اور یہودیت کی اجتماعی ذمے داری اور محبت کی اقدار اس وقت بھی کتابوں میں موجود تھیں اور مذہبی اسکولوں میں ان کی تعلیم دی جاتی تھی۔لوگوں میں ان اقدار کو اپنے تجربے میں سمونے اور ان کا اثبات کرنے کی صلاحیت مفقود ہوگئی تھی۔

اسی طرح ’اقدار کے مرکز‘ کی تلاش کے تصور میں بھی ایک قسم کا مصنوعی پن ہے اور یوں بھی اقدار کے کسی خارجی مرکز کی تلاش کا لازمی نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ انسان اجتماعی تصورات اور گروپ کی توقعات کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالے اور اسے ہر وقت یہ فکر لاحق رہے کہ اس سلسلے میں نو بہ نو فیشن کون سا ہے گویا اقدار بھی کوئی سامان آرائش ہوں جس میں جدید فیشن کی پابندی ضروری سمجھی جائے اور یہی رویہ جیساکہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں، سوسائٹی کے کھوکھلے پن اور فرد کے خالی پن کے احساس کی جڑ ہے۔

ہمارا تو یہ خیال ہے کہ ’اقدار کی بحث‘ بھی ایک گمراہ کن تصور ہے کیونکہ نظریاتی اور علمی بحث اقدار میں یقین کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ ہر وہ چیز جس کی ایک انسان قدر کرتا ہے مثلاً اپنے بیوی بچوں سے محبت اور اپنے لیے ان کی محبت، ڈرامہ، موسیقی، کوئی خاص کھیل یا اپنے کام میں فخر کا جذبہ، اس کے لیے ٹھوس حقیقتوں کا درجہ رکھتی ہیں اور ان کے سلسلے میں کوئی نظریاتی بحث اسے اگر بدتمیزی نہیں تو غیرضروری یقینا معلوم ہوگی۔ اگر اسے اس سلسلے میں توجہ پیش کرنے پر مجبو رکیا جائے تو وہ زیادہ سے زیادہ یہی کہے گا ’’میں اپنے بچوں سے محبت اس لیے کرتا ہوں کہ میں یہ جذبہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہوں‘‘ اور اگر اسے اس سلسلے میں زیادہ پریشان کیا جائے تو شاید وہ یہ کہے کہ ’’اگر آپ خود اس جذبے سے آشنا نہیں تو اس سلسلے میں آپ سے کوئی بات کرنا بے سود ہے‘‘ اصل زندگی میں کسی چیز کی قدر و قیمت کا اندازہ ہمارے اندرونی تجربے، عمل اور ردعمل کے سیاق و سباق ہی میں کیا جاسکتا ہے اور اس کے سلسلے میں نظریاتی یا لفظی بحث کی حیثیت ثانوی ہے۔

ہم یہ ثابت کرکے کہ وہ ہر چیز جس کی طرف کسی خاص شخص کا کسی خاص وقت رجحان ہے وہی ’اچھی‘ اور سچی‘ بھی ہے، قدر کو ایک نفسیاتی گورکھ دھندا بن کر پیش نہیں کرنا چاہتے۔ اور نہ ہم اقدار کی وضاحت میں فلسفہ، مذہب اور دوسرے انسانی علوم کی اہمیت سے انکار کرتے ہیں بلکہ میرا تو یہ خیال ہے کہ ان سب علوم کی مشترک کوششوں ہی سے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے کہ وہ کون سی اقدار ہیں جن کے مطابق عصر حاضر کا ایک انسان اپنی زندگی گزار سکتا ہے۔

لیکن ہمارا یہ خیال ضرور ہے کہ ایک انسان کا ذاتی تجربہ، مقاصد، اخلاقی شعور اور اقدار کا اثبات ہی اس مباحثے کی بنیاد اور اس کا اولین قدم بن سکتا ہے کیونکہ ایک انسان کے اخلاقی فیصلے اس کی قدرشناسی کی قوت ہی کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ ایک شخص کا حقیقت کا ادراک اور حقیقت سے اس کا ذاتی تعلق اور اس کے ذاتی عمل اور فیصلے ایک دوسرے میں پیوست ہوتے ہیں اور اسی کی مدد سے وہ اقدار کا اثبات کرتا ہے اور ان اقدار کے بامعنی اور بااثر ہونے کا دار و مدار بھی انھیں چیزوں پر ہے اور اسی صورت حال میں وہ اپنے کردار اور فیصلوں کی اخلاقی ذمے داری بھی قبول کرسکتا ہے اور اسی طرح اس کا ہر قدم خوب سے خوب تر اقدار کی یافت کا وسیلہ بھی بن سکتا ہے کیونکہ صرف ذاتی تجربہ ہی نئے امکانات کے ادراک اور لطیف امتیازات کا وسیلہ بن سکتا ہے جب کہ رٹی رٹائی باتوں پر یقین اور دوسروں کی نقالی ایک مخصوص صورت حال کی انفرادیت اور ندرت کے احساس کو دھندلا کردیتی ہے۔ دوسرے یہ کہ ایک انسان کا عمل اسی حد تک پرجوش اور پراثر ہوگا جس حد تک وہ اس میں یقین رکھتا ہے اور اس یقین کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ وہ خود اپنے عمل کا انتخاب اور شعوری طور پر اپنے نصب العین کا اثبات کرسکتا ہو۔

زرتشت کے خیال کے مطابق انسان کو ’قدرداں‘ یا ’قدرشناس‘ کہنا مناسب ہوگا۔ اس کے الفاظ میں ’قدرشناسی کے بغیر کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی‘ او راس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ قدرشناسی دوسرے لوگوں اور قومو ںکی قدرشناسی سے مختلف ہو کیونکہ قدرشناسی ایک تخلیقی عمل ہے۔ قدر شناسی ہی اس چیز کا جوہر ہے جس کی قدر و قیمت متعین کی گئی ہے۔ قدرشناسی ہی اقدار کی خالق ہے، اس کے بغیر زندگی کھوکھلی ہے۔‘‘

اب ہم زیادہ ٹھوس طریقے سے اس بات پر غور کرنا چاہتے ہیں کہ ایک انسان کس طرح ایک اخلاقی انتخاب کرتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہر صورت حال میں ان گنت جبری پہلو بھی ہوتے ہیں لیکن ذاتی فیصلے کے لمحے میں انسان کو ایک ایسا اندرونی تجربہ ہوتا ہے جو اس جبریت کا پروردہ نہیں بلکہ ایک نئی جست ہے۔

مثال کے طور پر فرض کرلیجیے کہ ایک شخص کو ایک کشتی میں بیٹھ کر کسی جگہ جانا ہے جہاں  اس کو تقریر کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔ مقررہ مقام پر پہنچنے پر اسے معلوم ہوتا ہے کہ مزدوروں کی اسٹرائک ہے اور ایک خاص مقام پر اسے آگے جانے سے روکا جاتا ہے۔ اس اسٹرائک کی وجہ بھی انصاف یا مساوات کا کوئی مسئلہ ہے لیکن اس وقت اس شخص کے سامنے ایک اخلاقی مسئلہ ہے جو اس کے لیے زیادہ اہم ہے اور وہ یہ کہ وہ اس لائن کو پار کرے یا نہ کرے۔ ہوسکتا ہے کہ اس وقت وہ اسٹرائک کے حق بجانب یا غیرضروری ہونے کے سوال پر غور کرے اور اپنی تقریر کی اہمیت اور وعدہ پورا کرنے کی ضرورت سے اس کا مقابلہ کرے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اس بات پر غور کرے کہ آیا کسی اور طریقے سے اس خاص مقام پر وقت مقررہ پر پہنچنا  ممکن ہے یا نہیں۔لیکن فیصلے کے لمحے میں اسے اس خطرے کے احساس کے ساتھ جو کسی بھی فیصلے کے لیے ناگزیر ہے اسے تمام تر ذمے داری خود لینی ہوتی ہے اور یہ فیصلہ گویا ایک قسم کی جست ہے جو کسی ادھورے پن کی تاب نہیں لاسکتی۔ اس میں شک نہیں کہ یہ مثال کسی قدر مبالغہ آمیز ہے کیونکہ اس صورت میں غالباً بیشتر لوگ تو کسی خارجی اصول کے سہارے سے یہ فیصلہ کریں گے۔ ہوسکتا ہے وہ یہ کہیں ’اسٹرائک توڑنا میرے اصول کے خلاف ہے‘ یا یہ کہ ’چولھے میں ڈالو اس اسٹرائک کو اور اسٹرائک کرنے والوں کو یہ لوگ تو کوئی نہ کوئی جھگڑا کھڑا ہی رکھتے ہیں اور اس طرح گویا وہ اپنے فیصلے کی ذمے داری کسی خارجی چیز پر ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن جو شخص اس انتخاب کے وقت شعور ذات کے تقاضوں کی روشنی میں اپنی انسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے اس کے لیے یہ فیصلہ ایک اضافی قدر کا حامل ہوگا جس نے وقتی طور پر اس کی قوتوں کو یکجا کردیا ہے اور یہ صرف ذاتی سالمیت کا احساس نہیں (گوکہ شعور کی پختگی کے ساتھ یہ احساس بھی حاصل ہوسکتا ہے) بلکہ یہ اس حقیقت کا انکشاف ہے کہ اس قسم کا کوئی فیصلہ ایک قسم کی کمٹ منٹ جس کا ماخذ ایک ’جست‘ ہے گویا کہ وہ شخص خود سے کہہ رہا ہو ’اپنے علم اور شعور کی روشنی میں، میں اس وقت یہی فیصلہ کرسکتا ہوں کہ یہ عین ممکن ہے کہ آئندہ میرے علم و شعور میں اضافہ ہو اور اس قسم کی صورت میں، میں کوئی دوسرا فیصلہ کروں۔‘‘

اس کے ساتھ ساتھ اس انتخاب نے صورت حال میں بھی ایک تبدیلی پیدا کی ہے خواہ وہ ایک خفیف تبدیلی ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس طرح ایک شخص نے ایک مخصوص نقطۂ نظر یا طریقۂ کار کی تائید کرکے اسے مضبوط بنایا ہے اور یہی ایک فیصلے کا فعال اور تخلیقی پہلو ہے۔

جیسا کہ ہر ایک جانتا ہے، ایک شخص لاشعوری قوتوں سے بیشمار طریقوں سے اثر پذیر ہوتا ہے لیکن یہ بات اکثر نظرانداز کردی جاتی ہے کہ شعوری فیصلے بھی، بشرطیکہ وہ جلد بازی میں یا باغیانہ انداز سے نہ کیے گئے ہوں بلکہ صحت مند انداز سے سوچ سمجھ کر کیے گئے ہوں۔ اکثر لاشعوری قوتوں کے تنددھارے کا رخ موڑنے میںکامیاب ہوتے ہیں۔ اعصابی علاج کے دوران اکثر اس بات کی بڑی اچھی مثالیں دیکھنے میں آتی ہیں۔ مثلاً ایک شخص جو کافی عرصے سے اپنے والدین کو خدا حافظ کہنے اور ایک خاص نوکری کرنے کا فیصلہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس دوران میں اکثر کچھ اس قسم کے خواب دیکھتا ہے کہ جن میں اس بے یقینی کی جھلک ہے۔ان میں سے کچھ خواب اسے گھر چھوڑنے کے خلاف آگاہ کرتے ہیں اور کچھ اس کے روشن پہلو پر روشنی ڈالتے ہیں اور پھر آخرکار وہ گھر چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے اور پھر یکایک اس کے خوابوں میں بھی ایک تبدیلی رونما ہوتی ہے اور وہ اس کے گھر چھوڑنے کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ گویا کہ اس کے شعوری فیصلے نے لاشعوری قوتوں کے رکے ہوئے دھارے کے بند توڑ دیے ہوں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری شخصیت ہی وہ صحت اور توانائی کے کچھ ایسے امکانات ہیں جنھیں بروئے کار لانے کے لیے ایک شعوری فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمثیلی طور پر انفرادی فیصلہ یہودیوں اور سیسراکی فوجوں کی آپسی لڑائی میں یہودیوں کی یاد دلاتا ہے۔ ’آسمان کے تاروں نے اس لڑائی میں یہودیوں کا ساتھ دیا‘ لیکن یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب یہودیوں نے خود لڑنے کا فیصلہ کیا۔

اس لیے ایک اخلاقی عمل کو اس قسم کا عمل ہونا چاہیے جس کا فیصلہ اثبات ایک انسان خود کرے اور جو اس کے گہرے اندرونی مقاصد اور رجحانات کا آئینہ دارہو، اگر وہ فیصلہ پر خلوص ہوگااور ایمانداری سے کیا گیا ہوگا تو نہ صرف اس کے شعوری خیالات بلکہ اس کے خواب اور وجدانی بصیرت بھی اس کی تائید کرے گی۔ اس طرح ایک اخلاقی بصیرت رکھنے والے شخص کے فیصلے اور اعمال شعوری اور غیرشعوری طور پر ہم  آہنگ ہوتے ہیں اور اس کا امکان بہت کم ہوتا ہے کہ وہ شعوری طور پر تو کسی انسان سے محبت کرے اور لاشعوری طور پر اسی سے نفرت کرے۔ گوکہ اس میںبھی شک نہیں کہ اس طرح کی سالمیت شاید کبھی بالکل مکمل نہیں ہوتی۔ انسانی مقاصد کبھی بھی پورے طور سے پاک صاف اور یک طرفہ نہیں ہوتے اس لیے انسانی عمل میں بھی کچھ نہ کچھ تضاد ضرور ہوتا ہے۔ ایک اخلاقی عمل کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اس میں مکمل اتحاد اور ہم آہنگی ہو اور شک و شبہے کا کوئی شائبہ بھی نہ ہو اگر ایسا ہوتا تو غالباً انسان کے لیے کوئی قدم اٹھانا یا فیصلہ کرنا تقریباً ناممکن ہوتا کیونکہ اس قسم کے موقع پر رشک و شبہ،کشمکش اور اندرونی جدوجہد تو ایک لازمی امر ہے لیکن اس فیصلے اور اس قسم کے اقدام میں یہ بات ضروری ہوتی ہے کہ اسے انسان اپنے پورے خلوص کے ساتھ کرتا ہے اور وہ اس کی ذات کے مرکز اور گہرائیوں کے آئینہ دار ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ اس میں یہ اعتراض بھی شامل ہوتا ہے کہ اس شخص کے مقاصد پوری طرح واضح اور صاف نہیں ہیں اور آئندہ اپنے علم اور نئے تجربے کی مدد سے انھیں زیادہ روشن بنانے کی ذمے داری خود اس کی ہے۔

اخلاقی عمل میں اندرونی مقاصد کی اہمیت کے سلسلے میں جدید نفسیات  کی دریافتیں اور حضرت عیسیٰ کے اخلاقی تصورات اور ارشادات ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ کی اخلاقیات میں خاص بات یہ تھی کہ انھوں نے ’دس عظیم احکامات‘ کے خارجی اصولوں کے بجائے اندرونی مقاصد کو اخلاقیات کا مرکز  اور سرچشمہ قرار دیا اور فرمایا کہ ’زندگی کے مسائل کا سرچشمہ انسانی دل ہے‘ اخلاقی مسئلہ اس طرح طے نہیں کیا جاسکتا کہ ’قتل نہ کرو‘ ’چوری نہ کرو‘ بلکہ اس کے لیے دوسروں کی طرف اندرونی رجحانات مثلاً غصہ،نفرت، مخالفت، رشک وحسد، دوسروں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی ہوس وغیرہ سے عہدہ برآ ہونے کی ضرورت ہے جو عام طور پر اس قسم کے برے اقدام کا باعث بنتے ہیں۔ جب لوگوں کے خارجی عمل اور اندرونی مقاصد اور رجحانات ایک دوسرے سے بالکل ہم آہنگ ہوں، ان کی زندگی مذہبی الفاظ میں رحمت الٰہی‘ کا نمونہ ہے اور جب لوگوں پر ’رحمت الٰہی‘ ہے ان کے قلب پاک اور مصفیٰ ہیں۔ کیرکے گارڈ نے اپنی کتاب کا عنوان ’خواہش اور ارادے کی ہم آہنگی پاکیِ قلب ہے‘ رکھا ہے اور اس کی بنیاد بائبل کے  اس ارشاد پر ہے ’اے دوغلے انسانو! اپنے دل کو پاک کرو۔‘

شاید کچھ لوگ اخلاقیات کے  اس داخلی تصور سے خائف ہوں کیونکہ اس کی بنیاد ایک اندرونی آزادی پر ہے جو انسان کو خود اپنے اعمال کا ذمے دار بناتی ہے۔ وہ شاید ان خارجی اصولوں ’دائمی قدروں‘  سخت گیر قدیم اخلاقی نقطۂ نظر کی تمنا کریں کونکہ یہ ہمیں ’آزاد فیصلوں کے پریشان کن بارگراں‘ سے نجات دلا سکتے ہیں اور یہ تمنا شاید انھیں یہ کہنے پر اکسائے کہ آپ کے اندرونی مقاصد اور ذاتی فیصلوں والی اخلاقیات بے راہ روی کا جواز ہے کیونکہ اس کے مطابق ہر شخص اپنی من مانی کرسکتا ہے لیکن اس قسم کی دلیلں ہمیں ’آزادی‘ کے مسائل سے آزاد نہیں کرسکتیں کیونکہ جو چیز ایک شخص کے لیے ’اچھی‘ اور ایماندارانہ ہے وہ اس کے بالکل برعکس نہیں ہوسکتی جو دوسروں کے لیے ’اچھی‘اور ایماندارانہ ہے۔ ڈاکٹر ٹلس نے اس سلسلے میں یہ کہا ہے کہ ’’اگر تم ان اصولوں کو دریافت کرنا چاہتے ہو جن کی بنیاد پر کائنات کی تخلیق ہوئی ہے تو انھیں انسان کی ذات میں تلاش کرو‘‘ اور اس تصویر کا دوسرا رخ بھی درست ہے وہ یہ کہ وہ جو سچائی انسانی تجربے میں منعکس ہے وہ بڑی حد تک ایک کائناتی حقیقت کا عکس ہے۔‘‘

یہ بات فن کی دنیامیں زیادہ نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ اگر ایک تصویر میں خلوص او رایمانداری نہ ہو یعنی وہ فنکار کے گہرے، ذاتی اور منفرد تجربات مشاہدات اور تاثرات پر مبنی نہ ہو تو اس کے حسین ہونے کا بھی امکان نہیں، لیکن اگر وہ اس معنی میں پرخلوص ہے تو اس میں حسن کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور موجود ہوگا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بچوں کا فن جہاں تک کہ وہ ان کے سیدھے سادے پر خلوص تجربات اور جذبات کا آئینہ دار ہے، ہمیشہ حسین ہوتا ہے۔ آزادی  اور بے ساختگی معمولی خطوط میں بھی لطافت اور آہنگ پیدا کردیتی ہے۔ سر، تال اور توازن جو کائنات کے بنیادی اصول ہیں اور جن کی کارفرمائی ستاروں کی گردش سے لے کر ایٹمی ذرات کی حرکات و سکنات تک ہر چیز میں دیکھی جاتی ہے، حسن کے بنیادی عناصر ہیں اور انسانی جسم اور شخصیت کے دوسرے پہلوؤں کا حسن بھی انھیں اصولوں کا مرہون منت ہے لیکن جیسے ہی بچہ بے ساختگی سے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے بجائے دوسروں کی نقل کرنا شروع کرتا ہے یا تعریف و ستائش کی خاطر تصویریں بناتا ہے۔ ان تصاویر کے خطوط کرخت ہوجاتے ہیں اور ان کا حسن اور لطافت غائب ہوجاتی ہے۔

’داخلی تنویر‘ کی مذہبی روایت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر شخص کے لیے نقطۂ آغاز  خود اس کی ذات ہے جیسا کہ مائسٹر ایکہارت نے کہا تھا ’’جس شخص نے خود کو نہیں پہچانا وہ خدا کو بھی نہیں پہچان سکتا۔ روح انسانی عظیم بلندیوں کا گہوارہ ہے اس کی طرف رجوع کرو‘‘ اس حقیقت کو سقراط سے منسلک کرتے ہوئے کیرکے گارڈ نے لکھا ہے ’’سقراط کے خیال کے مطابق انسان کی ذات ہی اس کا مرکز ہے کیونکہ تمام کائنات اسی ذات پر مرکوز ہے اور عرفان ذات ہی عرفان الٰہی ہے۔‘‘ اخلاقیات کی بحث یہاں ختم نہیں ہوتی لیکن اگر ہم اسے اس مقام سے شروع نہ کریں تو کسی منزل تک پہنچنا بھی ممکن نہیں۔

 

ماخذ: انسان اپنی تلاش میں، مصنف: رولومے، مترجم: زاہدہ زیدی، دوسری طباعت: اگست 2009، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

 

27/12/24

حیات قدیمہ اور عصر ماقبل تاریخ، ماخذ: قدیم ہندوستان کی ثقافت و تہذیب تاریخی پس منظر میں، مصنف: ڈی ڈی کوسمبی، مترجم: بالمکند عرش ملسیانی

 اردو دنیا، نومبر 2024


عہد زریں

قدیم ترین اور خالص فطری زندگی کو جو ایک طرح کی حالتِ تکمیل نصیب تھی اس سے انسان کے انحطاط و محرومیت کی داستانیں متعدد مختلف ممالک و اقوام کے اساطیر میں پائی جاتی ہیں، چنانچہ یہی حال ہندوستان کا بھی ہے۔ آج کل کے ہندو موجودہ زمانے کو نسلِ انسانی کا عہدِ تاریک (کل یگ) کہتے ہیں۔ مفروضہ طور پر اس سے پہلے تین بہتر دور گزر چکے ہیں۔ ان میں پہلا اور سب سے اعلیٰ زریں ’عہد صداقت‘ (ست یگ یا کرت یگ) تھا۔ اس زمانے میں انسانوں کو نہ کسی حاجت کا علم تھا اور نہ کسی بیماری کا۔ وہ نہ تو محنت کرتے تھے نہ کاتتے تھے کیونکہ یہ مہربان زمین خودبخود ہی بہ افراط چیزیں پیدا کرتی تھی۔ پرامن و پرسکون، سادہ و معصوم اور پاک باطن و نیک کردار مخلوق کی حیثیت سے ہر آدمی ہزاروں سال تک جیتا تھا۔ اس کے بعد انسانی حرص و طمع کی نشو و نما ہوئی۔ لوگ ذاتی املاک میں مسلسل اضافہ اور حاصل کردہ اشیا کی ذخیرہ اندوزی کرنے لگے۔ ان معصیت آمیز سرگرمیوں نے انسان کو ترتیب وار ’ترت یگ‘ ، ’دو اپریگ‘ اور ’کل یگ‘ پہنچا دیا جن میں سے ہر ایک زمانہ پہلے سے بدتر تھا۔ زندگی کے طول کم ہوگئے اور اپنی فطری و بے لوث پاکیزگی سے منحرف ہوجانے کے باعث نسل انسانی جنگ، بیماری، افلاس اور بھوک کے مصائب میں مبتلا ہوگئی۔ بدھ اور جین مذہب کی کتابوں میں بھی اسی طرح کے بیانات موجود ہیں۔ برہمنوں کی تحریروں میں جو سب سے زیادہ قریبی زمانے سے متعلق ہیں مسلسل گردشوں اور لامتناہی ادوارکا ایک مزید نظریہ پیش کیا گیا ہے۔ موجودہ ’عہدِ تاریک‘ (کل یگ) ایک عالمگیر طغیانی پر ختم ہوگا۔ اس سیلاب سے حیات کا تمام وجود تباہ ہوجانے کے بعد زمین سمندر سے پھر برآمد ہوگی اور ایک نیا سنہرا زمانہ شروع ہوگا۔ اس کے بعد اسی طرح ترقی پذیر انحطاط کے دوسرے تین دور گزریں گے اور ایک اور طغیانی پر ختم ہوجائیں گے۔ یہی کچھ ماضی میں ہوا اور یہی مستقبل کے ادوار میں ہوگا۔ تاریخ کی بے معنی تکرار کا یہ افسردہ نظریہ دراصل محض ایک عکس و پرتو ہے اس بے کیف ہندوستانی دیہی زندگی کا جو کہ جیسا پہلے کہا جاچکا ہے موسم کی گردش اور تغیر و تبدل کے تحت گزرتی ہے، اکتوبر میں فصل کی کٹائی کے بعد خوشگوار سردی، صحت اور بہتات کا موسم آتا ہے۔ اس کے بعد ایک بڑھتی ہوئی قلت کا زمانہ شروع ہوتا ہے جس کا اختتام ہوتا ہے،  ایک ایسے دور پر جب کہ خشک جھلسے ہوئے کھیتوں کو تخم ریزی کے لیے محض تیار کرنے کے لیے خراب حالات میں شدید مشققت کی ضرورت ہوتی ہے بالآخر ہولناک مانسونی بارش ساری زمین کو غرقاب کردیتی ہے جس کے بعد موسموں کا یہی دور تسلسل ایسی ہی نوعیت کے ایک اور سال کے دوران خود کو دہراتا رہتا ہے۔

اس مشہور عام اساطیری افسانے باوجود زمانہ بعد کے شاعروں اور پروہتوں کے تخیلات سے باہر نسل انسانی کے کسی حقیقی عہد زریں کا کبھی کوئی وجود نہیں رہا۔ یہ بات ہمیں ان تاریخی دستاویزا ت کی براہِ راست تفہیم و تعبیر سے معلوم ہوئی ہے جو دو ہزار پانچ سو سال قبل مسیح سے شروع ہوتی ہیں اور ہندوستان سے باہر چند مقامات پر موجود ہیں۔ اس سے آگے ماضی کی عقدہ کشائی کے لیے آثارِ قدیمہ سے مدد لینی پڑتی ہے۔ آثارِ قدیمہ کا ماہر جب ایک ایسے مقام پر کھدائی کرتا ہے جہاں حالیہ زمانے میں زمین کو بہت زیادہ الٹا پلٹا نہیں گیا تو اسے واضح طور پر ایک دوسرے سے الگ اور غیرہموار جمی ہوئی تہیں ملتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ قدیم تہیں وہ ہوتی ہیں جو زیادہ نیچے ہوتی ہیں اور اس طرح وقت کی ترتیب نمایاں ہوجاتی ہے۔ ان میں سے بہتوں میں انسانی حرکت و عمل کی علامات موجود ہوتی ہیں۔ یہ علامات جسمانی باقیات مثلاً ہڈیاں، کھوپڑی یا ایک واحد دانت کی شکل میںبھی ہوسکتی ہیں جو بڑی حد تک یہ بتا سکتی ہیں کہ ان اجزائے جسمانی کے مالک کس قسم کے انسان تھے۔ بعض خود آدمیوں کے ہڈیوں کے ساتھ اکثر ان جانوروں کی ہڈیاں بھی ملتی ہیں جن کا شکار آدمی کرتا تھا اسی طرح ان جانوروں کی ہڈیاں بھی دستیاب ہوتی ہیں جن کو وہ پالتا تھا۔ مثلاً کتا، مویشی، بھیڑ، گھوڑا، ان تہوں کا  تقابل کرکے یہ بتانا ممکن ہوتا ہے کہ کتا، گھوڑے سے بہت پہلے پالا جاتا تھا اور مویشی اور بھیڑ کسی درمیانی زمانے میں۔ مٹی کے برتن، پتھر کے اوزان دھات کی سب چیزیں ان اشیا کی قبیل سے متعلق ہیں جن کو آدمی بناتا تھا اور اسی لیے ان کو ’حقائقِ مصنوعی‘ کہا جاتا ہے، اگر مصر کی طرح آب و ہوا خشک ہو تو کلری کے آلات ہڈیاں اور ہاتھی دانت کے ہتھیار، ٹوکریاں اونی اور سوتی یا کتانی ریشے فن سے کپڑا تیا رکیا گیا ہو۔ اناج کے دانے اوراق پیپرس کے مخطوطات یا تصاویر قائم و محفوظ رہتی ہیں اور اس طرح ہم اندازاً یہ بتا سکتے ہیں کہ آدمی نے ان مختلف چیزوں کا بنانا کس ترتیب سے سیکھا۔ مزروعہ غلوں کو اگرچہ حقائق مصنوعی کی صف میں شامل نہیں کیا جاتا تاہم وہ بھی انسانی فعل و عمل کی ایسی تخلیق ہیں جیسے مٹی کے برتن۔ قدرتی گھاس کے موٹے سے موٹے بیج منتخب کرکے اور ان کو بار بار بوکر ہزاروں سال میں ان تمام نمکوں کو ارتقا یافتہ شکل میںلایا گیا تھا۔ فعل و عمل رک جاتا تو غلے کی تمام مزروعہ اقسام غائب ہوجاتیں یا پھر چند ہی نباتی نسلوں میں ان کے مضبوط تر جنگی خودرو نمونے ان کی جگہ لے لیتے۔ یہ طبق در طبق آثار ایک تاریخی سلسلے میں بعد میںاگر کوئی بھی الٹ پلٹ ہو مثلاً اوپر کی تہوں میں کوئی گڈھا کھودا گیا ہو۔ تو ایک تربیت یافتہ ماہر اس کو پہچان سکتا ہے اور نظراندازکرسکتا ہے۔ مختلف مقامات پر دریافت ہونے والی اشیا کا تقابل یہ بتلاتا ہے کہ خاص قسم کا اوزار مٹی برتن یا اناج کتنی دور تک پہنچا تھا۔ آخری بات یہ کہ اشیا فلورین کی مقدار کوئلے اور ہڈی کی تابکاری۔ ارضی مقناطیسیت کے مشاہدات، درخت کے تنے میں پڑنے والے حلقوں کی بالیدگی میں موسمی فرق (تاریخ شجری) اور اسی نوع کی دوسری چیزوں کی مدد سے تاریخوں کے تعین کا ایک اچھا خاصا نظام جدید تکنیک فراہم کرتا ہے۔ اس طرح از سر نو مرتب کیا ہوا ماضی (متعدد درمیانی خلا رکھتے ہوئے) سیکڑوں سال پیچھے تک چلا جاتا ہے تاآنکہ ہم ’انسان محض‘ کی اقسام مثلاً ’آدم جاؤ‘ اور ’آدم پیکن‘ تک اور پھر قبلِ انسانی ’عہد سے متعلق‘ ’افریقی سردار‘ کی کھوپڑی تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں سے ہم اثریات کو جوڑ کر ارضیات کے میدان میں داخل ہوتے ہیں یعنی تاریخ کا مطالعہ ختم ہوجاتا ہے اور ذرّات الثدی (دودھ پلانے والے جانور) فقاریہ (ریڑھ کی ہڈی) والے جانور مچھلیوں اور زندگی کی دوسری شکلوں کے ارتقا کا مطالعہ شروع ہوتا ہے۔

لیکن اس تمام تحقیق میں ایک گم گشتہ عہد زریں ایک قدیم اقبال و عظمت کی کوئی شہادت نہیں ملتی آدمی نے یکساں روی یا ثابت قدمی سے ترقی نہیں کی۔ لیکن مجموعی طور پراس نے ترقی ضرور کی اور ایک خاص حد تک وہ نااہل جانور سے ترقی کرکے ایک اوزار ساز اور اوزار کار مخلوق بن گیا جو اپنی کثرت تعداد اور مختلف انواع کی سرگرمیوں کے ذریعے پورے کرۂ ارض پر چھا گئی اور جس کے لیے اب صرف یہی باقی رہ گیا ہے کہ خود پر قابو رکھنا سیکھے۔ لاکھوں سال بعد کھود کر نکالی ہوئی ہڈیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم حجری عہد کے کسی بھی آدمی کے لیے چالیس سال کی عمر تک بھی جینا ایک حیرت ناک کارنامہ تھا۔ ہم سے زیادہ صحت مند ہونا تو درکنار وہ ہم سے زیادہ طفیلی کیڑوں مکوڑوں اور مفلوج کن امراض کا شکار تھا جو اس کی زندگی کو کم کردیتے تھے۔ عہد زریں اگر کوئی ہے تو وہ مستقبل میں ہے، ماضی میںکچھ نہیں تھا۔

عصرماقبل کی تاریخ اور حیاتِ قدیمہ

ماہر آثارِ قدیمہ کی دریافتیں ہمیں ازخود یہ نہیں بتاتیں کہ کسی خاص زمانے کے لوگ واقعی کس طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ اس طرز زندگی (پوری ثقافت) کا خاکہ ازسر نو مرتب کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس دنیا کے الگ تھلگ اور افتادہ مقامات پر جو بہت سے مختلف قدیم قبائل باقی رہ گئے ہیں ان کا تقابلی مطالعہ کیا جائے۔ تب رفتہ رفتہ  یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ ایک خاص زمرے کے اوزار کس طرح بنائے گئے اور استعمال کیے گئے اور اس کے بنانے والے ماضی بعید میں کس طرح زندگی بسر کرتے تھے۔ جب سماجی نظام وجود میں آگیا تو اسی طرح کچھ نہ کچھ سماجی نظام کے متعلق بھی بتایا جاسکتا ہے لیکن کم تیقن کے ساتھ۔ خود یہی حقیقت کہ آسٹریلیا اندرون برازیل میں ایک قدیم ابتدائی قبیلے کا مطالعہ ممکن ہے یہ معنی رکھتی ہے کہ اہلِ قبیلہ کا باہر کی دنیا سے اور بطورِ نتیجہ بیرونی تہذیب سے کچھ رابطہ رہ چکا ہے۔ ایسا ماننا ہی پڑے گا کہ کیونکہ کوئی رابطہ بغیر تغیر نہیں ہوسکتا۔ دوسرے کوئی انسانی گروہ کسی حد تک ایک ہی مقررہ حالت میں نہیں رہ سکتا۔ یا تو ارتقا پاکر کوئی زیادہ اہل و بہتر صورت اختیار کرتے ہیں یا پژمردہ ہوکر ختم ہوجاتے ہیں۔ قبل تاریخ کے لوگ جن کا ہم مطالعہ کرنا چاہتے ہیں روئے زمین سے مٹ چکے ہیں۔ بعض گروہ اپنے بعد ایسے اخلاف چھوڑ گئے ہیں جو آگے بڑھ کر تہذیب حاضرہ تک آگئے اور بعض صفحۂ ہستی سے یکسر غائب ہوگئے۔ دور افتادہ گوشوں میں جو تھوڑے سے باقی رہ گئے ہیں انھوں نے کچھ خیالات ذہنی انداز، توہمات، پوجا پاٹ کے طریقے اور رسم و رواج اس قسم کے پیدا کرلیے ہیں جو ان کی زندگی کے جدید طریقوں کا تجربہ کرنے سے روکتے ہیں۔ ہمارے عہد کے بیشتر وحشی گروہوں کا سماجی ڈھانچہ ایسا سخت اور بے لوچ ہے کہ ہر ایک جدت و بدعت کی ہمت فرسائی کرتا ہے حالانکہ سب کا ایک ہی سماجی ڈھانچہ نہیں ہے۔ کوئی مادہ پرست سماجی نشو و نما پر خیالات کے اثر کو نظرانداز کرنے کی قدرت نہیں رکھ سکتا۔

دنیا کے جن حصوں میں وسیع پیمانے پر کھدائی ہوچکی ہے وہاں کے اثریاتی ریکارڈ سے یہ تسلسل ظاہر ہوتا ہے۔ سب سے نیچے اور اس لیے سب سے قدیم حصے میں چھلے ہوئے پتھر کے بھدے ٹکڑے ہیں۔ یہ اوزار کے طور پر لکڑی اور ہڈی کے ساتھ ہوتے تھے جو کہ اب نابود ہوچکی ہے۔ اس قدیم حجری عہد نے ایک لاکھ سال یا اس سے بھی زیادہ مدت کے دوران پتھر کو چھیل کر اوزار بنانے کی تکنیک میں بہت سست ترقی کی۔ اس کے بعد پتھر کے صاف اور چکنے اوزاروں کا زمانہ (عہد جدید حجری) آیا۔ ان دونوں کے درمیان ’وسطی حجری عہد‘ آیا یہ اصطلاح اب استعمال نہیں ہوتی۔  اس عہد کی حد اور مدت غیرمتعین ہے۔ زمین کی زیریں تہیں جن میں صرف پتھر کے اوزار تھے اور قیاساً ہڈی لکڑی اور سینگ کے بھی وقت گزرنے پر دوسری تہوں کے نیچے دب گئیں جن میں دھات کے اوزاروں اور دھات کے ہتھیاروں کے باقیات تھے۔ سب سے پہلے جس دھات کا وسیع پیمانے پر استعمال ہوا وہ تانبا تھا جس کو ایک معمولی بھٹی کے ذریعے اس کی خام معدنی حالت سے پاک  و صاف کرکے نکالا جاسکتا ہے۔ یہ بھٹی اس آوے سے زیادہ طاقتور نہیں ہوتی جس کی مٹی کے برتن تیار کرنے میں ضرورت ہوتی۔ مٹی کے برتن اواخر عہد حجری والے پتھر کے اوزاروں کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ تانبا اتنا نرم ہوتا ہے کہ پگھلائے اور کوٹے بغیر کارآمد نہیں ہوسکتا اور اس پر بھی اس قدر خستہ و نازک ہوتا ہے کہ اگر کسی دوسری دھات مثلاً رانگ یا ٹین کی مناسب آمیزش نہ کی جائے تو کام نہیں دیتا۔ چونکہ رانگ کے ذخیرے وسیع پیمانے پر موجود نہیں اس لیے ’کانسی کا زمانہ‘ بہت کچھ تحقیق و تلاش پر دلالت کرتا ہے۔ تین ہزار قبلِ مسیح تک یا اس سے قبل ہی طویل فاصلوں پر تجارت کی سرگرمیاں پورے شباب پرآچکی تھیں۔ بہترین قسم کی کانسی نسبتاً کم یاب دھات تھی اور بہت کم لوگوں کے قبضے میں رہتی تھی۔ اس کے یہی معنی ہوئے کہ سماج متفرق طبقات میں بٹ چکا تھا۔ ’کانسی کے زمانے‘ میں خام دھاتوں کے ذخیروں اور عمدہ آبی وسائل پر قابو پانے کے لیے بہت کافی جنگ و جدل ہوئی اور طویل فاصلوں پر چھاپے مارے گئے۔ دوسرے ہزار سال دورِ قبل مسیح میں (ایک ہزار تا دو ہزار ق م) بے شمار قبائل بہت  کافی لیکن متحرک غذائی رسد (عموماً مویشی) کے ساتھ نقل و حرکت میں تھے اور یوریشیائی براعظم میں اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے۔ دریائی وادیوں کی قدیم تر زرعی ثقافتیں اس سے ایک ہزار قبل ہی مصر اور میسوپوٹامیہ میں شہری ریاستوں، بادشاہتوں معبدی پیشوائیوں اور جنگ و جدل کے اداروں کو پروان چڑھا چکی تھیں اس طرح کی ترقی و نشو و نما مقامی اور استثنائی تھی۔ موجودہ زمانہ عصریاتی اعتبار سے لوہے کا زمانہ ہے، لوہا ایک کافی ارزاں اور وسیع طور پر ملنے والی دھات ہے جو زراعت کے لیے ایک عالمی امکان فراہم کرسکتی ہے اواخر عہد حجری میں کچھ زراعت ضرور نمودار ہوئی تھی اس لیے ہم ذرائع پیداوار میں ایک جدید حجری انقلاب ’کا نام لے سکتے ہیں لیکن یہ چند مخصوص پسندیدہ علاقوں ہی تک محدود تھا، جہاں گھنے جنگلوں کو صاف کرنا ضروری نہیں تھا مثلاً میسوپوٹامیہ (عراق، مصر، وادی سندھ، ایران کے مرتفع میدان ترکی، فلسطین، ولدی ڈینوب کی چکنی مٹی کے تنگ قطعہ کے بعض حصے اور شاید چین میں زرد چکنی مٹی کے بعض علاقے اگرچہ لوہا جب پہلی بار تیار کیا گیا تو کانسی سے نرم تھا پھر بھی اس کے ذریعے جنگل صاف کیے جاسکے اور سخت تر مٹی میں ہل چلانا ممکن ہوسکا۔یہ پہلی دھات تھی جو بہت سے لوگوں کو دستیاب تھی اور ایک مضبوط جنگ جو طبقے کے اجارہ میں نہیں تھی۔ اولین کسان جنھوں نے کتاں ہیوک (ترکی) اور جیریکو (فلسطین) کے مقام پر قصبے تعمیر کیے۔ ان کا زمانہ سات ہزار ق م سے آٹھ ہزار ق م تک پہنچتا ہے لیکن ان کے غذا پیدا کرنے کے طریقے قریب کے میدان میں وسیع پیمانے پر استعمال نہیں ہوسکتے تھے۔ ان کی کاشت کاری مصر اور عراق کے برخلاف غذا اندوزی اور گلہ بانی کی محض ایک ضمیمہ اس وقت تک بنی رہی۔ جب تک دو ہزار ق م کے اواخر میں لوہا دستیاب نہ ہوگیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوہا تیار کرنے کے سب سے پہلے عمدہ طریقے حتی کہ لوگوں کے اجارے میں تھے جس کی وہ سخت حفاظت کرتے تھے۔ یہ لوگ اس علاقے میںآباد تھے جو اب ترکی کہلاتا ہے 1450 ق م میں بھی لوہا اتنا کمیاب تھا کہ فرعون، طوطن، خامن ایک ٹھوس سونے کے تابوت میں دور ایک ایسے مقبرہ کے اندر دفن کیا گیا جو کانسی، ہاتھی دانت اور دیگر اشیا سے بھرا ہوا تھا لیکن لوہے کا اس کے پاس صرف ایک تعویذ تھا۔ جو اس کی کھوپڑی کے نیچے بندھا ہوا تھا۔ سستے لوہے کی دریافت کے یہ معنی نہیں تھے کہ اس سے لوگوں کی اکثریت کو مسرت حاصل ہوگئی۔ ایشیائے کوچک کی چھوٹی چھوٹی الگ تھلگ قوموں کو کانسے کے زمانے میں بھی اکثر حملہ آوروںکا  سیلاب بہا لے گیا تھا جب زیادہ وافر نفری قوت (اکثر زرخرید اور زمین سے وابستہ زرعی غلاموں کی صورت میں) فراہم ہوسکی تو صرف اسی وقت لوہے کے استعمال کے معنی ہوئے زیادہ غذا— زیادہ جبر و ظلم— تجارتی راستوں سے دور کچھ الگ تھلگ رہنے والے قبائلی ایسے رہ گئے (اور تقریباً آج تک موجودہ ہیں) جو خود کو بدل کر غذا پیدا کرنے کی بجائے غذا تلاش و جمع کرنے کے عہد حجری پر نہایت سختی کے ساتھ قائم رہے۔ وہ تہذیب کی سمت پیش قدمی سے الگ ہوکر رہ گئے پتھر کا گاہ بگاہ استعمال قبل تاریخ کے عہد سے تاریخی دور میں کافی دور تک جاری رہا۔ شاہِ ہیر لڑکی فوج کے بہت سے سنگین لوگ 1066 میں ہسٹنگیز کی جنگ کے دوران پتھر کی کلہاڑی سے مرے تھے اگرچہ 54 ق م میں جولیس سیزر کے حملے سے بہت پہلے ہی انگلستان آہنی عہد میں داخل ہوچکا تھا۔ ایک کل کی حیثیت سے غذا جمع کرنے والے سماج کی خصوصیات بیان کرنا آسان نہیں، عہد حاضر کا رومانی مکتب انشا یقین رکھتا تھا کہ ابتدائی قدیم آدمی لازمی طور پر ایک شریف وحشی ہوگا۔ تہذیب کی آلودگیوں سے پاک فطرت کا ایک طفل معصوم، برائیوں اور حرص و آز سے آزاد، ایک فطری ارضی بہشت کا یہ افسانہ کرسٹوفر کولمبس کے ایک خط سے شروع ہوا جو اس نے کسٹیل کی ملکہ بیلا کے نام لکھا تھا۔ اس سیاح کو جب ہندوستان کے زریں شہروں تک پہنچنے میں ناکامی ہوئی تو وہ یہ ظاہر کرنے کے لیے مضطرب ہوگیا کہ اس نے بہرحال ایک غیرمعمولی چیز دریافت کرلی ہے۔ بعض امریکہ کے جنوبی جزائر کا انسان فطری حالت میں۔ اس طرح ہیجان میں آکر یورپ کی قوت تخیل ایسی چیز مل گئی جو (’باغِ عدن‘ کے بعد)نہ تو انجیل میں موجود تھی اور نہ ان یونانی لاطینی ادبیت عالیہ کی خیالی جدتوں میں جن کی دریافتِ نو ’نشاۃ ثانیہ‘ میں ہوئی تھی۔ ارسو کے سماجی نظریات اور والٹیئر کی اپنے ہم عصر سماج پر بھرپور طنزیات کو اس ’فطری انسان‘ دریافت سے بڑی تقویت ملی کچھ لوگ تو ابتدائی قدیم کمیونزم کا تذکرہ اس طرح کرتے ہیں گویا وہ معاشرے کی ایک معیاری حالت تھی جس میں سب کا حصہ برابر تھا اور سب اپنی ساری ضرورتیں امدادِ باہمی سے پوری کرتے تھے اسی چیز کو انتہا تک لے جائیں تو یہ بھی عہد حاضر کے سرخی مائل لباس میں ’عہد زریں‘ کا ہی ایک افسانہ ہے۔ غذا اکٹھا کرنے والا ابتداً سماج بڑا محدود تھا۔ ہر مقام پر اور ہر زمانے میں اس کی خصوصی نوعیت کا تعین، غذا کی قلت اور غیریقینی فراہمی سے ہوتا تھا۔ گراہم کلارک جیسا محتاط ماہر آثارِ قدیمہ بالائی قدیم عہد حجری میں انگلینڈ اور ویلز کی مجموعی آبادی کا تخمینہ شاید دو سو پچاس نفوس انسانی بتاتا ہے جو دس چھوٹی جماعتوں میں منقسم تھے۔ اس کے اندازے کے مطابق ’وسطی عہدحجری‘ میں پورے برطانیہ عظمیٰ کی آبادی چار ہزار پانچ سو— ’جدید عہد حجری‘ کے کسی ایک دور میں  بیس ہزار اور اس کی تعداد کے دُگنے سے کچھ کم ایک ہزار ق م اور دو ہزار ق م کے درمیان تھی۔ جب کہ کانسی کا زمانہ غدائی، پیداوار کا سلسلہ کافی آگے بڑھ چکا تھا۔ ہندوستان میں اثریاتی شہادت فی الحال اس قدر ناقص ہے کہ ہندوستان کے متعلق اس قسم کے تخمینے پیش کرنا ممکن نہیں۔ بہرحال اگر ہندوستانی تحتی براعظم کے کسی بھی وسیع علاقے میں’عہد حجری‘ کی آبادی ہر دس مربع میل ایک آدمی سے زیادہ تھی تو یہ بھی ایک حیرت خیز بات ہوگی۔ وہ مقامات بھی جہاں قدرت مہربان ہے اس کا فیضان تمام موسموں میں یکساں نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی متواتر سال قلت کے آئیں۔ ایک بڑی مجموعی آبادی متعلق قائم شدہ بستیاں کسی قسم کے غذائی ذخیروں  کے بغیر کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ غذا کو محفوظ رکھنے کی منزل غذا کی تلاش و جمع کی زندگی مقابلتاً بعد میں آتی ہے۔ خشک مچھلی اور گوشت کو محفوظ رکھنے کے لیے نمک کی ضرورت پڑتی ہے جو کسی قدر فاصلے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح غذا کو رکھنے والی چیزیں مثلاً ٹوکریاں چمٹے کے تھیلے اور مٹی کے برتن وغیرہ بھی ضروری ہی تمام اقسام کی غذا کو محفوظ بھی نہیں رکھا جاسکتا۔ ذخیرہ کرنے کے لیے مغز والے میوے غلہ اور کچھ پودوں کی جڑیں بہترین چیزیںہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پکائے بغیر ہضم نہیں ہوسکتیں جس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ آگ پر قدرت حاصل ہو اور کچھ مٹی یا برتن کی دھات موجود ہوں۔ اس منزل تک پہنچنے سے بہت پہلے آدمی نے سماجی زندگی کے خاص طریقے پیدا کرلیے تھے کیونکہ وہ پہلے ہی ہزاروں سال تک اوزار استعمال کرنے والے حیوان کی حیثیت سے زندگی گزار چکا تھا۔

 

ماخذ: قدیم ہندوستان کی ثقافت و تہذیب تاریخی پس منظر میں، مصنف: ڈی ڈی کوسمبی، مترجم: بالمکند عرش ملسیانی، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...